تذکرہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں:یاداشت، دستاویز،یا سرٹیفیکیٹ۔
اس لفظ کا اطلاق اس کتاب پر ہوتا ہے جس میں شعراء کے مختصر حالات اور انکا نمونۂ کلام درج کیا گیا ہو، تذکرہ نگار اس میں شعراء کے نام،تخلص، وطن اور جائے قیام علمی اور فنّی استعداد،شاگردی اور استفادہ کے روابط، مزاج و طبیعت کی افتاد تصنیفی اور تالیفی کارناموں کی نوعیت اور کلام کے مذاق و معیار کے متعلق ابتدائی قسم کی ضروری معلومات فراہم کرتا ہے، اور نمونۂ کلام کے طور پر متفرق غزلوں کے منتخب اشعار اور کبھی کبھی دوسری انصاف سخن کے اقتباسات بھی درج ہوتے ہیں ۔
بلا شبہ تذکروں کی اہمیت ادبی اور تنقیدی سے کہیں زیادہ تاریخی ہے بارہویں صدی ہجری کے نصف میں اردو شاعری اپنا راستہ اختیار کر چکی تھی،دہلی میں روز بروز شعر و سخن کی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں اور زیادہ سے زیادہ شعراء کی توجہ اس طرزِ شعر کی جانب منعطف ہو رہی تھی اور جو لوگ فارسی میں شعر و شاعری کرتے تھے اب انکی شاعری اردو زبان میں ہونے لگی،شاعری کی رمق کے ساتھ ساتھ شاعروں کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہونے لگا اور لوگ شاعروں کا کلام سننے اور پڑھنے کے لئے بے چین رہا کرتے تھے، لیکن ذرائع آمدورفت کی قلّت اور نشرواشاعت کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز کے لوگ محروم رہ جاتےتھے بعض لوگ بیاضیں مرتب کروا کے اس میں پسندیدہ شعراء کے منتخب کلام پیش کرکے بجھوا دیا کرتے تھے مگر ہر قسم کے لوگوں کی اس سے تسکین نہیں ہو پاتی تھی اور یہ کام۔صرف شعراء ہی کے تذکروں کےذریعہ ممکن تھا،ویسے تو فارسی میں تذکرہ نگاری کی روایت پہلے سے ہی موجود تھی اور فارسی شعراء کے تذکرہ برابر مرتب کئے جاتے رہے بلکہ تذکرے ہی اردو تذکرہ نگاری کے لیے نمونہ ثابت ہوئے اور اردو میں فارسی تذکرہ نگاری کی بنیاد پڑی،اور بہت جلد تذکرہ نگاری ایک مقبول صنف کی حیثیت سے جانی جانے لگی،
میر تقی میر کا تذکرہ "نکات الشعراء” اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے اگر اردو میں تذکرہ نگاری شروع نہ ہو تی تو نہ جانے کتنے شاعروں کا نام اس صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہوتا اسی لئے تذکرہ نگاری اس دور کی ایک اہم ضرورت تھی اور اس کو میر نے محسوس کیا،
میر اسکی وجہ تالیف میں کہتے ہیں:
"تا ماحول شاعران ایں فن بصفحہۂ روزگار بماند”
ماہنامہ "نگار” کراچی نے تذکرہ نمبر 54 میں تذکروں کی فہرست دی ہے لیکن ان میں تین کافی اہمیت کے حامل ہیں ۔
1۔میر تقی میر کا”نکات الشعراء”
2۔میر حسن کا "تذکرۂ شعراے اردو ”
3۔مصطفی خاں شیفتہ”گلشن بے خار”
تنقیدی نقطۂ نظر سے تذکروں کا وہ حصہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جس میں تذکرہ نگار شعراء اور اس کے کلام پر اظہار خیال کرتا ہے تذکروں کے اس حصے کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حصہ چار عناصر سے مرکب ہوتا ہے ۔
1۔شاعروں کے کلام پر اصلاح
2۔شاعروں کے کلام پر راۓ
3۔دیگر شعراء سے مقابلہ
4۔ادبی تحریکوں پر اشارے
1۔تذکرہ نویسی شاعر کے کلام پر اظہار خیاکرتے ہوۓ کبھی کبھی بعض اشاروں پر اصلاح بھی دیدیتا ہے خواہ یہ اصلاح لفظی ہی کیوں نہ ہو اس سے تذکرہ نویس کے تنقیدی شعور کا پتہ چلتا ہے نیز اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شعر پر یونہی راۓ قائم نہیں کر دیتا بلکہ اس کے فنّی اصولوں کی رو سے غور و فکر بھی کرتا ہے،
2۔بعض تذکرہ نگار شاعروں کے کلام پر جو راۓ دیتے ہیں وہ عموما ذاتی ہوتی ہے اس میں زمانے کے رواج کے مطابق لفّاظی اور عبارت آرائی کا زیادہ دخل ہوتا ہے وہ اپنے گروہ کے شاعروں کی تعریف کرتا ہے اور جس سے مخالفت ہو تی ہے اولِا تو اس کی تعریف سے گریز کرتا ہے اور اگر تعریف کرتا بھی ہے تو دبی زبان میں ۔
3۔تذکروں کی ایک اہم تنقیدیخصوصیت شاعروں سے تقابلی مطالعہ بھی ہے جس میں تذکرہ نویس ایک شاعر کا مقابلہ دوسرے شاعر سے کرتا ہے لیکن یہ صورت تذکروں میں خال خال نظر آتی ہے حالانکہ اس سے تذکروں کی قیمت دو چند ہو جاتی ہے۔
4۔ تذکرہ نگار جب کسی شاعر کا ذکر کرتا ہے تو زمانے کی ادبی تحریکات کا بھی ذکر کرتا ہے اس سے ایک طرف تذکرہ نویس کی خود اس تحریک کے سلسلے میں راۓ کا پتہ چل جاتا ہے اور دوسری طرف اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر اس تحریک سے کس قدر متاثر ہے ۔
تذکروں کا ایک اہم عنصر اشعار کا انتخاب بھی ہے اشعار کا انتخاب تذکرہ نگاروں کے تنقیدی شعور پر دلالت کرتا ہے کیونکہ تذکرہ نگار جب اشعار کا انتخاب کرتا ہے تو یونہی نہیں بلکہ اسکے پیش نظر شعر کو پرکھنے اور سمجھنے کا واضح شعور ہوتا ہے ۔
تذکروں میں پائی جانے والی تنقید بلا شبہ آج کی تنقید سے الگ ہے،تذکرے ہماری اردو تنقید کے ابتدائی نمونے ہیں انھیں تذکروں سے تنقید کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔تذکروں سے بے نیاز ہو کر تنقید ایک قدم بھی آگے نہیں جا سکتی اور انھیں تذکروں کے ذریعے ہماری رسائی دور اوّل کے شعراء تک ہوتی ہے۔
نکات الشعراء کا مختصر تعارف اور اسکی اہمیت:
نکات الشعراء اردو شاعری کا پہلا تذکرہ ہے جو فارسی زبان میں ہے اور جو احمد شاہ کے عہد میں تحریر کیا گیا یہ اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کے عہد شباب کی تالیف ہے،اس وقت میر اپنے ہم عصروں میں ایک بلند مقام و مرتبہ حاصل کر چکےتھے اور انکا حلقہ احباب نہایت وسیع ہو گیا تھا یہ تذکرہ مستند اور معتبر ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میر اس تذکرے میں شاعر کے حالات، سیرت و شخصیت اور ماحول کے بیان کے بعد اس کے کلام پر راۓ دیتے ہیں اور تنقید بھی کرتے ہیں لیکن ان کی تنقید آج کی تنقید سے بہت ہی مختلف ہے اور انکا انداز تنقید ہر جگہ یکساں نہیں ہے بلکہ وہ ہر جگہ شعراء کے مراتب کا خیال رکھتے ہیں اور جس پاۓ کا شاعر ہوتا ہے اسی مناسبت سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بزرگ شعراء پر جو تنقید کا انداز ہے اس سے ایک عقیدت سی ٹپکتی ہے لیکن دوسرےشاعروں پر صاف اور سادہ الفاظ میں شاعری کرتے ہیں۔بطور مثال ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں جا میں میر،مرزا مظہر جان جاناں کی سیرت اور ماحول کا بیان کرتے ہیں،:
"مظہر تخلص، مرد یست مقّدس ،مظہر درویش عالم ،صاحبِ کمال، شہرۂ عالم بے نظیر، معزز مکرم،اصلش ازاکبر آباد استط، پدر او مرزا جان جاں می گفت ازا ایں سبب ہمیں اش موسوم است”
یقینا اس زمانے کی تنقید ذوقی اور وحدانی ہوا کرتی تھی لیکن پھر بھی مقررہ اصول تھے اور انکے چند اہم اصول تنقید تھے اس لۓ ان کی بلند معیاری موجود ہے اور میر نے ہمیشہ صالح تنقید کو اپنا مسلک و نقطہ نظر بنایا ہے اور ہر جگہ صحیح تنقید سے کام۔لیا ہے اور انکی راۓ بھی بے لاگ ہیں اور وہ۔گروہ بندی کی لعنتوں سے اپنے آپکو بالکل الگ تھلگ رکھتے ہیں جیسا کہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں وہ عبدالحئ تاباں کے بیان میں تو یہ کہتے ہیں:
"از چندے بے سبب کم اختلافی ایں ہیچ مداں کدورت عیاں آمدہ بود”
لیکن انکی شاعری پر راۓ دیتے وقت وہ پوری صاف گوئی کا ثبوت دیتے ہیں اور لکھتے ہیں:
"ہر چند سخن او ۓہمیں در لفظہاۓ گل و بلبل تمام است بسیار بر نگین می گفت ”
ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی بغض و حسد کو اس میں دخل نہیں دیتے، معاصرین پر اور انکے کلام پر تنقید کرنا بہت دشوار کام ہے مگر پھر بھی میر نے بڑی بےباکی اور جرآت سے کام۔لیا اور انتہائی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا لیکن اسکے بعد بھی ان کے بہت سے دوست دشمن بن گئے اور انکی یہی تلخ تنقید ان کو دوسرے تمام لوگوں سے ممتاز اور بلند کرتی ہے کیونکہ انھوں نے جو کچھ محسوس کیا اس کو بیان کر دیا ۔
نکات الشعراء کی اہمیت اس لئے بھی اور بڑھ جاتی ہے کہ اس سے میر جیسے بلند پایا شاعر کے نظریات شعری پر بھی روشنی پڑتی ہے حالانکہ میر نے شاعری کی ماہیّت کوئ تنقیدی مقالہ پیش نہیں کیا ہے۔لیکن انھوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ نہایت اہم اور دقیع ہیں۔یہ نظریات نکات الشعراء میں کثرت سے بکھرے پڑے ہیں میر نے جو تنقید شاعروں کے کلام پر کی ہے اس سے انکے شعری نظریات کا اندازہ ہوتا ہے انہوں نےشاعروں کا ایک معیار اور اصول مقرر کیا ہے انھیں کے بنا پر انکے کلام پر اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں انکی اصول خود ساختہ ہیں جہاں وہ ریختہ کے مروجہ اقسام کا ذکر کرتے ہیں وہیں ان میں سے ہرایک پر اپنی رائے بھی ظاہر کرتے ہیں لہذا ان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر فارسی کی نامانوس تراکیبب پسند نہیں کرتے تھے۔
ایہام کو وہ شاعری کے لئے گھن قرار دیتے تھے وہ ریختہ کہ اس قسم کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھتے تھے جس میں تجنیس،ترصیع،صفائی،گفتگو، ادا بندی جیسے خیال موجود ہوں،میر نے جن اصولوں کی تبلیغ کی ہے وہ ہمیشہ خود اسی پر عمل بھی کرتے آۓ ہیں اس طرح شعراء کے کلام پر میر نے اصلاح بھی کی ہے اگرچہ ان اصولوں کے لیے مجموعی تعداد زیادہ نہیں ہے کیونکہ کہ اصل مقصد اصلاح شعر نہیں تھا اس لیے جہاں کہیں شعر میں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی اصلاح کردی جیسے شاہ مبارک آبرو کا ایک شعر جس کی میر نے اصلاح یوں کی ہے:
نہیں تارے بھرے ہیں شک کے نقط اس قدر نسخۂ فلک ہے غلط
اس کو نقل کر کے کہتے ہیں "اگر بجائے "اس قدر ” می گفت شعر بہ آسمان رسید۔یعنی اس قدر کے بجائے کسی قدر کہتے تو شعر آسمان پر پہنچ جاتا۔یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ جہاں میر کا تذکرہ "نکات الشعراء اپنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتا وہیں اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں جو اسکے وقار اور بلندی کے لیے مضر ثابت ہوئیں۔
نکات الشعراء کی خوبیوں اور خامیوں پر ایک نظر:-
نکات الشعراء کی سب خوبی یہ ہے کہ اس نے اردو تذکرہ نویسی پر گہرا اثر ڈالا فخر اولیّت کے علاوہ اسے اسکو یہ عظمت بھی حاصل ہے کہ اردو تذکرہ نویسی اس کے اثر سے آزاد نہ ہو سکی ۔سخت مخالفتوں کے باوجود اسکا اثر روز بروز بڑھتا جاتا ہے اور اسکے نکتہ چیں جس قدر اس کے طلسم و اثر کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے قبول عام میں ترقی ہوتی چلی جاتی ہے اس معاملے میں میر کا پہلا حریف”سیّد فتح علی حسنی گر دیزی”تھا جس نے نکات الشعراء کا جواب لکھا اور میر کی طرز تنقید کو”خردہ گیری عیب چینی” کا نام دیا ۔
مولانا شیر وانی فرما تے ہیں کہ ۔
"نکات الشعراء کے متعلق آزاد نے لکھا ہے کہ ‘آب حیات بہت کامیاب ہے، (صفحہ ۱۹۲) آب حیات،
لیکن میری بدگمانی معاف ہو تو میں کہوں گا کہ نکات الشعراء آزاد کی نظر سے نہیں گزرا قیّاص کی بلند پروازی نے طوطے مینا اڑاۓ ہیں”
بقول مولانا عبدل حق:
"انتقام لینے والا ہمیشہ گھاٹے میں رہتا ہے ۔میر کو گرانے کی کوشش بے سود ثابت ہوئی گردیزی کے علاوہ خاکسار،حکیم قدرت اللہ، قائم شفیق، اورنگ آبادی، اور آزاد بھی میر کے مخالفین میں سے ہیں”
انہوں نے ہمیشہ اپنی ضمیر کی آواز سنی اور اسکی خلاف کچھ نہیں لکھا بلکہ اپنے تاثرات کو صاف صاف لکھا انہیں صاف بیانات کی وجہ سے بہتوں کو اپنا دشمن بنا لیا وہیں ان کی صاف گوئی ہر ناقد نے سراہا بھی ہے۔
نکات الشعراء کی اہمیت ہمارے لیے اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے چند اہم مفید اور نئی معلومات کا ذریعہ بھی ہے۔مثلا میر ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے دکن کے تقدم کو تسلیم کیا اور ریختہ گوئی کی ابتدا بھی وہیں سے ہوئی اسی طرح ولی کے وطن کے سلسلے میں جو اختلافات تھے اس کو صاف طور پر سب سے پہلے ولی کو میر نے ہی ‘اورنگ آبادی(ولی) لکھا ہے۔
نکات الشعراء کی مقبولیت کی وجہ سے شاعری کی فضا ہموار ہوتی جارہی تھی۔مگر جہاں نکات الشعراءکی خوبیاں ہیں وہیں خامیاں بھی ہیں۔
اس میں میر نے جو تنقید کی ہے اس میں میر کی سب سے بڑی خامی تلخ گوئی ہے اکثر ان کا لہجہ سخت اور ان کی تنقید طنز آمیز ہو جاتی ہے ۔حاتم جیسے قد آور شاعر بھی انکی طنز اور تضحیک سے نہیں بچ سکے ۔
نکات الشعراء کے مرتب حبیب الرحمن خان شیروانی کی یہ رائے ہے کہ ۔
"تمام تذکرے میں میر نے ایک لفظ بھی میر کے قلم سے ایسا نہیں نکلا جس سے ان کی خود بینی و خود پسندی یا بد دماغی اور تعّلی عیاں ہو” درست نہیں ہے ۔
بقول حنیف نقوی:
"تذکرے ہمارے سرمایہ ادب کا گراں قدر حصہ ہیں جسے نظر انداز کرکے نہ تو ہم اردو شاعری کے مطالعے میں ہی کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ اپنے ادبی تنقیدی شعور کے آغاز و ارتقاء کی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں ہم نے اپنے قدیم شاعروشاعروں کو انھیں تذکروں کے ذریعے جانا اور پہچانا ہے یہی نہیں بلکہ ہماری ناقدانہ بصیرت بھی انھیں تذکروں کی فضا میں پروان چڑھی ہے ۔
میر نے حاتم کو مرد جاہل کہا ہے،یقین کے بارے میں میر کی راۓ ہے کہ ان میں شعر فہمی کی صلاحیت ہی نہیں تھی، خاکسار اور یک رو پر ان کی تنقید تلخ اور یک رخی ہے اسی لیے "سیّد عبداللہ نے میر کی تنقید کے بارے میں لکھا ہے کہ۔
"یقینا تذکروں میں تنقید کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ تذکروں میں تنقید موجود ہے مگر اسے نقائص سے پاک بھی نہیں کہا جاسکتا دراصل تذکروں میں ہماری تنقید کا پہلا نقوش ملتا ہے اور پہلا نقش بے عیب نہیں ہو سکتا”
درجہ بالا اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ۔
تذکرہ نگاری کے فن میں میر کی حیثیت کسی طرح کم نہیں اور تذکرہ نگاری میں ان کی اولیت سب کے نزدیک مسلم ہے جس طرح انگریزی ادب میں”جانس” کے” تذکرۃالشعراء” کو غیر معمولی قدر و منزلت حاصل ہے اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ میر کے تذکرے کو حاصل ہے۔

