تھامس الوا ایڈیسن امریکہ کا سب سے بڑا سائنسدان خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے بچپن کا ایک واقعہ ہے جو بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ اس کی ماں نے اس کا داخلہ ایک اچھے اسکول میں کرایا تاکہ وہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن سکے۔ کچھ دنوں تک وہ پڑھتا رہا، ایک دن اچانک اسکول کے پرنسپل نے ایڈیسن کو آفس میں بلایا اور اس کے سامنے کاغذ پر کچھ لکھ کر وہ کاغذ اسے تھماتے ہوئے کہا کہ اسے تم صرف اپنی ماں کو دینا۔ وہ گھر آیا اور لیٹر اپنی ماں کو دے دیا. اس کی ماں نے جب اس کاغذ کے ٹکرے پر لکھی عبارت پڑھا تو وہ زارو قطار رونے لگی. تھامس جو ابھی بچہ تھا وہ گھبرا گیا۔ اس نے اپنی ماں کو چپ کراتے ہوئے پوچھا کہ ماں اس میں ایسی کون سی بات لکھی ہے جسے پڑھ کر آپ رونے لگیں۔ اس کی ماں نے کہا کہ بیٹا اس خط میں لکھا ہے۔ "آپ کا لڑکا بہت ذہین ہے۔ یہ میرے اسکول کے معیار سے اوپر ہے۔ ہمارے پاس اس کی تعلیم و تربیت کے لئے قابل اساتذہ نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ اسے خود پڑھائیں۔”
ایڈیسن کو اس کی ماں نے پڑھایا اور خوب پڑھایا۔ وہ آگے چل کر دنیا کا عظیم سائنسدان بنا۔ اس نے برقی بلب، فونوگراف اور متحرک فوٹو کیمرہ کا ایجاد کیا. آج ہم رات کی تاریکی میں برقی بلب کی روشنی میں اسی کی بدولت پڑھتے ہیں۔ بلاشبہ وہ دنیا کے چند اہم سائنسدانوں میں سے ایک ہے۔ سائنسدان کی حیثیت سے مشہور ہوجانے کے بعد کا واقعہ ہے۔ ایک دن وہ اپنے گھر کی چیزوں کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ اسے کسی چیز کی تلاش تھی۔ ایک بکسے کے نیچے اس کو وہی خط ملا جو اس کے پرنسپل نے اسکول کے زمانے میں اس کی ماں کے لئے لکھا تھا. جب اس کی نظر خط کی عبارت پر پڑی تو وہ گھنٹو روتا رہا. اس خط میں لکھا تھا
"Your son is addled. We would not let him come to school any more.”
یعنی آپ کا بچہ دماغی طور پر کمزور ہے۔ ہم اسے اسکول میں آنے کی مزید اجازت نہیں دے سکتے۔
اس واقعہ سے متأثر ہوکر ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں جو کچھ لکھا وہ کچھ اس طرح ہے۔
"Thomas Alva Edison was a an addled child that, by a hero mother, became the genius of the century.”
یعنی تھامس الوا ایڈیسن ایک دماغی طور پر کمزور بچہ تھا جسے اس کی ذہین ماں نے صدی کا ذہین انسان بنا دیا۔
اگر ایڈیسن کی ماں منفی سوچ کی حامل نہ ہوتی تو یہ ممکن تھا کہ آج بھی پوری دنیا سورج کے غروب ہوتے ہی تاریکی میں ڈوب جاتی. ایک مثبت سوچ اور فکر صرف آپ کی زندگی میں نہیں بلکہ آپ کے آس پاس کے لوگوں کی زندگی میں بھی روشنی لا سکتی ہے. ایک پر امید(optimist) انسان نیچے سے اوپر اٹھ سکتا ہے، تاریکی میں روشنی تلاش کر سکتا ہے اور ناکامی کے دنوں میں کامیابی کے خواب دیکھ سکتا ہے۔ مثبت فکر کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔ نا امیدی کا رویہ منفی سوچ کو جنم دیتا ہے۔ منفی سوچ ہمیں عمل سے دور رکھتی ہے اس لئے نتیجتا ہم ناکام رہتے ہیں۔ اگر ہم مثبت فکر کے متحمل ہوں تو منفی حالات کو بھی اپنے فیور میں کر لیتے ہیں۔ مثبت ذہن کا آدمی خرابی میں اچھائی کا پہلو ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس کو ایک اور واقعہ سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک مرتبہ سوامی ویویکانند کو ان کے ایک یہودی دوست نے اپنے گھر پر دعوت دی۔ انہیں ایک کمرہ میں بیٹھایا۔ اس کمرے میں ایک ٹیبل پر مختلف مذاہب کی مقدس کتابیں ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی تھیں۔ کتابوں کی ترتیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے یہودی دوست نے کہا کہ سوامی جی اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ سوامی جی نے دیکھا کہ ہندو دھرم کی کتاب سب سے نیچے رکھی ہوئی ہے، جب کہ بائبل سب سے اوپر۔ ان کے دوست نے یہ حرکت در اصل سوامی جی اور ان کی دھارمک کتاب کی تذلیل کرنے کی غرض سے کی تھی۔ لیکن سوامی جی نے جو جواب دیا اس سے ان کا دوست شرمندہ ہوگیا۔ ان کا جواب تھا.
"The foundation is really good.”
یعنی اس کی بنیاد واقعی میں بہت اچھی ہے۔ بظاہر جو چیز غلط نظر آرہی تھی اس میں سوامی جی نے مثبت سوچ کی وجہ سے ایک اچھا پہلو تلاش کر لیا۔ انہوں نے اپنے دوست کو جواب بھی دے دیا، اپنی مقدس کتاب کی عظمت کو ثابت بھی کر دیا اور دونوں کے درمیان کوئی تلخی بھی پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں ایک منفی سوچ کے حامل انسان کا ردعمل ایسا ہوتا کہ وہ اپنے دوست کو دشمن بنا لیتا۔ اگر ایڈیسن کی ماں منفی سوچ کی حامل ہوتی تو وہ اپنے بچے کو پرنسپل کا خط پڑھنے کے بعد اسے کسی کام میں لگا دیتی اور دنیا ایک عظیم سائنسدان سے محروم ہوجاتی۔ مثبت سوچ میں ہماری جیت ہے اور منفی سوچ میں ہماری ہار۔ مثبت فکر دنیا کو ایک سائنسدان دیتی ہے۔ مثبت ردعمل سے آپ کے دشمن آپ کے دوست بن سکتے اور منفی ردعمل سے آپ کے دوست آپ کے دشمن ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

