پرویز شہریار کا افسانوی سفر تین دہائیوں سے زائد پر مشتمل ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان دہائیوں میں انھوں نے اپنے افسانوی سفر میں کئی سنگ میل قائم کرتے ہوئے معاصر افسانوی منظر نامہ میں اپنی ایک خاص اور منفرد پہچان بنانے میں کامیاب ہیں۔
ان کے ابتدائی دور کے افسانوں مثلاً ’’سایہ سایہ جنگل‘‘، ’’کام ہی روشنی‘‘، ’’نئی روشنی کا آخری ڈرامہ‘‘ اور ’’شیطان‘‘ وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں ابتدائی نقوش واضح ہیں اور ذہن کے تارچھیڑنے میں کوئی خاص کامیاب نظر نہیں آتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ان کا شعور بالیدہ ہوتا گیا، فہم و ادراک کی روشنی ملنے لگی اور حیات وکائنات کو سمجھنے اور سمجھانے کی آگہی ہوتی گئی۔ فکر وفن سے بھرپور ایک خاص انداز میں ان کے افسانے سامنے آتے ہیں۔ جو بتدریج مطالعہ ومشاہدہ اور افکار ونظریات کے ساتھ نمو پاتا ہے۔ اس امر کا اعتراف پرویز شہریارکو بھی ہے، لکھتے ہیں:
’’میں نے اپنی نوجوانی میں پہلا افسانہ 1980 میں لکھا جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا،یہ افسانہ ’’پندار‘‘ پٹنہ کے 6؍ستمبر 1980 کے شمارے میں ’’چمبل کی دسویں رانی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس طرح، میرے ادبی سفر کا آغاز 1980 سے ہوتا ہے۔ آغاز سفرمیں جدیدیت کے رجحان سے بھی اثرات قبول کیے اور چند ایک علامتی اور تجریدی افسانے بھی لکھے۔ ’’قوس‘‘ کے ایک خصوصی شمارہ ’’نیا افسانہ، کچھ نئے نام‘‘ میں مختصر تعارف کے ساتھ ایک علامتی افسانہ ’’نئی روشنی کا آخری ڈرامہ‘‘ کے عنوان سے 1985 میں شائع ہوا۔ 1986 میں ’’شب خون‘‘ میں ’’سایہ سایہ جنگل‘‘ شائع ہوا تو شمس الرحمن فاروقی نے لکھا کہ پرویز شہریار جمشید پور کے نئے افسانہ نگار ہیں۔ لیکن جلد ہی افسانے میں کہانی پن، بیانیہ اور حقیقت نگاری کی فوقیت کے ادراک اور شعور کے سبب میری واپسی کہانی کی پرانی ڈگر پر ہوگئی۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں ،صvii-)
اس وقت تک پرویز شہریار نے افسانے کے فن پر تقریباً اپنی گرفت مضبوط کرلی اور متنوع موضوعات پر ایسے خوبصورت اور معنویت سے بھرپور افسانے لکھے ،جو دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتسم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایسے افسانوں میں ’’جرم ضعیفی کی سزا‘‘،’’پھول کا بوجھ‘‘،’’نیا سورج نیا سویرا‘‘ وغیرہ کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
پرویز شہریار کے پہلے افسانوی مجموعہ ’’بڑے شہر کا خواب ‘‘ میں شامل ان افسانوں کی جس طرح پذیرائی ہوئی، اس سے انھیں کافی حوصلہ ملا اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ جس سے اپنے افسانوں کے حوالے سے فکرو فن کی نئی دنیا بسانے میں وہ کامیاب ہوئے۔ (یہ بھی پڑھیں جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں۔ایک تعبیر- تفسیر حسین )
پرویز شہریار کو اپنے افسانوی سفر میں زندگی کی بہت ساری تلخ حقیقتوں سے واسطہ پڑا۔ حیات وکائنات کے نت نئے رنگ وروپ دیکھے۔جنھیں متنوع موضوعات کے تحت اپنے مخصوص کردار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے واقعات کے ارتباط وتسلسل سے معنی خیز منظر نامہ تیار کیا ۔ان کے افسانوں کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے افسانوں میں نئے تجربات، عصری موضوعات اور تہہ در تہہ زندگی کے عرفان کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔ بدلتے وقت نے جو انگڑائیاں لی ہیں ۔سیاسی، سماجی ، معاشرتی، اور اقتصادی سطح پر جو تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں اور ان تبدیلوں سے ہما ری تہذیب و اقدار جس طرح متاثر ہورہے ہیں، ان بدلتے منظر نامے پر،پرویز شہریار کی بڑی گہری نظر ہے۔ اپنے افسانوں انھوں نے شہر کی چکاچوند کو نئے ابعاد سے متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کی یہ بات پوری طرح صداقت پر مبنی ہے کہ شاہکار فن پارے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت کا ادبی دستاویز بھی ہوتا ہے۔ اپنے اعتراف میں پرویز شہریار لکھتے ہیں:
’’افسانہ نگار اپنے معاشرے کا نبض شناس ہوتا ہے۔ افسانہ نگار جس سماج میںاور جس دور میں جی رہا ہوتا ہے، اس کے فن پارے میں اُس دور کے سماج کی دھڑکن سنائی دینی چاہیے۔ اس کے فن پارے مین واقعات اور بشری محاکات بعید از امکانات نہیں ہونے چاہیے۔اس کے کردار کے حرکات وسکنات سے اس معاشرے کی تہذیب کی جھلک مترشح ہونی چاہیے۔کسی شاہکار فن پارے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت کا ادبی دستاویز بھی ہوتا ہے۔‘‘ ( شجر ممنوعہ کی چاہ میں، گفتنی،صxii-)
اس تناظر میں پرویز شہریار کے کئی افسانے ایسے ہیں ،جو شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں۔افسانہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے، جو شہر کی مادّی زندگی میں دولت مندوں کی تہذیبی اور اخلاقی انحطاط اور ازدواجی رشتوں کی پامالی کا اعلانیہ ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے:
’’میں ایک خود ساختہ انسان ہوں، تم جانتی ہو،میں سڑک سے اُٹھ کر یہاں تک پہنچاہوں۔ جہاں دُنیا کی عظیم الشان چیزوں تک آج میری رسائی ممکن ہوپائی ہے۔آج میں جب چاہوں، حسین سے حسین دوشیزہ کو اپنے بسترکی زینت بنا سکتا ہوں۔ یہ سب میں نے اپنے عزیزترین جذباتی رشتوں کو کھو کر حاصل کیا ہے۔ اس مشینی دور میں، اپنے سچے اور معصوم جذبات کا میں نے خود اپنے ہاتھوں سے خون کیا ہے۔
تم جانتی ہو،میں ایک ما بعد جدید انسان ہوں۔میں ان سب چیزوں سے کسی بھی قیمت پر تیاگ نہیں لے سکتا۔ میں سنیاسی بن کر جینا نہیں چاہتا ۔ یہ زندگی صرف ایک بار ہی ملی ہے۔ لہٰذا،میں اس سے لطف اُٹھانا چاہتا ہوں ۔ میں اپنی جنسی تشنگی کو تہہ دامن دبا کے مہا پرش اور مہاتما بننے کا آڈمبر نہیں رچ سکتا…‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص8-)
ازدواج کی عارضی ادلا بدلی، بڑے شہر میں بڑے (امیر) لوگوں کے لیے خوبصورت جنسی کھیل اور مشغلہ ہے۔ لیکن اس جنسی مشغلہ میں جس طرح سماجی اور تہذیبی رشتے تار تار ہوتے ہیں۔ ایسی حیوانیت سے حیا اور شرم لہو لہان ہوتی ہے، پاکیزگی اور نسوانیت بے حیائی میں بدلتی ہے۔بڑی خوبصورتی سے اور فنکارانہ انداز میں شہری زندگی کے اس کھیل کو افسانہ نگار نے اپنے اس افسانہ میں دکھایا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں دس سروں والا بجوکا – پرویز شہریار )
’’اوّل اوّل مرد وزن خوشنما پوشاکوں میں ملبوس یہاں وہاں گھوم ٹہل رہے تھے۔ لیکن جوں جوں موسیقی کی دھن میں تیزی آتی گئی، ان کے جسم کپڑوں سے بے نیاز ہوتے چلے جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، مادر زاد انسانوںکا وہاں ایک جم گھٹا سا نظرآنے لگاتھا۔ وہ سب کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہوئے دُم کٹے جانور معلوم ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عریانیت کو ئی معیوب چیز نہیں ہے۔ جب خدا، گوڈ اور ایشور نے ہمیں اسی روپ میں بنایا ہے تو پھر اس پر سے یہ آورن کیوں اوڑھا جائے۔ ننگے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں کی بیویوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر منفی توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا انخلا ضروری ہے۔ اس طرح سے آزادانہ رہ کر ہم جس استری سے جی چاہے سنبھوگ کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ وہ استری بھی آپ کے اندر کشش محسوس کرتی ہو۔‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں، ص4-)
بے شرمی اور بے حیائی کے اس جنسی کھیل اور تفریح میں کچھ عورتیں ایسی ضرور ہوتی ہیں، جو صرف اپنے شوہر کی خوشی کے لیے بحالت مجبوری شامل ہونے میں خود کو مجبور پاتی ہیں، ان کی روح اندر اندر زخمی ہوتی ہے۔ لیکن مغربی تہذیب کے حصہ بننے والے ایسے شوہر کو اپنی بیوی کے زخم خوردگی کا احساس کہاں ہوتا ہے۔
’’وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے بناؤ سنگھار کرکیکلب لے جاتا۔ میرے گورے گورے انگوںمیں ایک قدرتی کساؤ برقرار تھا اورمیرے جوبن کے اُبھار بھی ماند نہیں پڑے تھے ۔لیکن اندر سے میں خود کو کمزور محسوس کرنے لگی تھی۔ میں اپنے شوہر کی خوشی کے لیے وہ سب کچھ کر رہی تھی جس سے کہ وہ خوش رہے۔ مجھے غیر مردوں کے ہاتھوں میں جھولنے، ان کی بانہوں میں مچلنے اور اپنے ہونٹوں کے زوایے میں ان کی زبان کی پھسلن محسوس کرنے میںکچھ مزہ نہیں آتا تھا۔ لیکن جب اپنے شوہر کے سامنے دوسرا مرد آپ کے وجود کو جھنجھوڑتا ہے تو یقیناً آپ کے اپنے مرد کے اندر رقابت اور حسد کا ایک شعلہ سا لپک اٹھتا ہے اور وہ اس کی تپش میںجھلس کر اپنے اندر کی گرمی دوسری عورتوں کے اندر جاکر ٹھنڈا کرتاہے۔ یہ شعلوں سے کھیلنے کا ایک غیر فطری عمل ہے۔ لیکن یہی کام میرے شوہر کے اندر ہر بار جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کر دیتا تھا۔ کئی ماہ تک آنکھ مچولی کا یہ سفلی کھیل چلتا رہا۔ اُس کے اندر تیزی سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہاں تک کہ ہماری ازدواجی زندگی میں ایک ایسا بھی موڑ آیا ،جب مجھے اس کی خوشی سے نفرت اور چڑھ سی ہونے لگی۔‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص 5,6-)
’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ عصری اور شہری زندگی میں پنپ رہے مغربی کلچر کی غیر مہذب فکر وعمل کی نقاب کشائی کرنے والا افسانہ ہے۔ ایسے فکر وعمل سے احتجاج اور بغاوت کا احساس کرانے والا پرویز شہریار کا ایک دوسراافسانہ ’’سہاگ کا خون‘‘ ہے۔ جس میں بچہ کی پیدائش میں ناکام رہنے والا شوہر اولاد کے لیے، ایک تانترک بابا کے نام پر تبادلہ ازدواج کے جنسی کھیل کے لیے اپنی بیوی کی آنکھوں میںامید کی جوت جگاتا ہے اور دیویانی بچّے کے حصول کے لیے تانترک بابا کے پاس جانے کے لیے رضا مند ہوجاتی ہے۔
’’در اصل، دیویانی ماں بننا چاہتی تھی ۔یہ خواہش اُس کی فطرت کے عین مطابق بھی تھی لیکن وہ مرد کے تعاون کے بغیر ایک ادھوری عورت تھی ۔اُس کاشوہر اس کی طرف التفات ہی نہیں کر تا تھا ۔اس میں بھی وہ اپنا ہی قصور سمجھتی تھی اور یہ فکر اُسے اندر ہی اندر کسی گُھن کی طرح کھائے جا رہی تھی ۔ (یہ بھی پڑھیں ترقی پسند اردو افسانے – ڈاکٹر پرویز شہریار )
اچانک ،اس کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر اُسے اُمید کی ایک کرن سی نظرآئی، جب اُس کے شوہر نے مہمانوں سے بھری محفل میں اسے تحفے کے طور پر انڈیا کا ٹکٹ دے کر بتایا تھا کہ وہ لوگ انڈیاکے ایک ضلع گڑگائوں میں کسی تانترک با با کے پاس جارہے ہیں ۔’’تانترک بابا بہت پہنچے ہوئے مُنی تھے۔‘‘ ایسا لوگ کہتے ہیں ۔یہ بات دیویانی کے شوہر نے اُسے بتائی تھی۔تانترک بابا اپنی تپسیہ اور سادھنیہ سے رات کی رات عورت کی گودہری کردیتے تھے۔یہ سب سُن کر دیویانی بہت مسرور ہو اُٹھی تھی۔‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں ،ص33-)
لیکن تانترک بابا کے یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور تھا:
’’اُس رات دیویانی اپنے شوہر کی ہر خواہش ،ہر ارمان پورا کردینا چاہتی تھی ۔کیونکہ اُس نے اپنے دل میں ٹھان لیا تھا کہ اُس رات کی صبح کبھی نہیں آئے گی ۔ لیکن جب اُسے معلوم ہوا کہ تانترک بابا کوئی رشی منی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ڈھونگی آدمی ہے ۔انسان کے روپ میں وہ ایک حیوان ہے ۔
اُس رات بیویوں کی ادلاد بدلی ہونے والی تھی ۔
اُسے غُصّہ اس بات کا نہیں تھا کہ تانترک بابا ایک ڈھونگی او ر پاکھنڈی تھا ۔ایسی خبریں تو وہ آئے دن اخباروں میں پڑھتی رہتی تھی ۔اُسے غُصّہ تو اس بات کا تھا کہ ،اُس کے اپنے شوہر نے اُسے دھوکے میں کیوں رکھا ؟
دیویانی ویسے تو سولہ سنسکاروں پر چلنے والی پنڈتائن تھی لیکن ان سب کے با وجود وہ ایک عورت بھی تھی۔ ایک ایسی بھر پور عورت جس کا خون گرم تھا ۔وہ جینا چاہتی تھی ۔اور جینے کا حق مانگنا اُس کے نزدیک کوئی جرم بھی نہیں تھا ۔دنیا کا کوئی قانون اُسے جینے کے حق سے روک نہیں سکتا تھا ۔مگر یہاں تو اُس کے شوہر نے اُس کے ساتھ وشواس گھات کیا تھا ۔دیویانی اپنے اُجڈ شوہر کو اس گھنائونے جرم کے لیے کبھی معاف نہیں کر سکتی تھی ۔اُس رات وہ سب کچھ ہو گیا جو قطعی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں ،ص36-)
دیویانی کی عصمت زبردستی تار تار کی جاتی ہے اور المناک پہلو یہ ہے کہ دیویانی کو شوہر کی مدد سے جنسی ہوس کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اپنی آبرو ریزی اور احساس ندامت و احساس گناہ سے دیویانی اپنی عزت اور عصمت کی خاطر وہ اپنے شوہر سے انتقام لیتی اور اپنے شوہر کے سینے میں خنجر اتار دیتی ہے۔ اس افسانہ میں ایک عورت کے فطری انتقامی جذبے کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
عصری تناظر میں پرویز شہریار کا افسانہ ’’لِو اِن ریلیشن سے پرے‘‘ بھی ایک اچھا خوبصورت اور متاثر کرنے والا افسانہ ہے۔ آج کے صارفی دور میں جبکہ ہر شئے پر صارفیت حاوی ہے۔ اس کا بہت ہی عمدہ اظہار اس افسانہ میں ملتا ہے:
’’صارف سماج میں جہاں ہر چیز بکاؤ ہوتی ہے، جہاں ہر سامان کا مول بھاؤ ہوتا ہو، وہاں اگر ایک نو عمر کھلنڈرے مرد کو کسی بھرپور عورت کے ساتھ گزر بسر کرنا پڑے تو بھلا اس میں کسی کو کیا حرج ہو سکتا ہے؟‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں ،ص15)
سیاہ فام شمبھو ناتھ سنگھ اور نازک اندام پدمجا کو وقت اور حالات نے بہت قریب کر دیا اور دونوں اپنی محدود آدمی میں ایک ہی کمرے میں رہنے پر مجبور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت بھی بن جاتے ہیں۔ اس محبت اور ضرورت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے، جب پدمجا کو امریکہ سے نئی ملازمت کا آفر آتا ہے۔ شمبھو ویزا دیکھ کر جدائی کے تصور سے اداس ہوجاتاہے، لیکن پدمجا شمبھو کے پیار اور اس کے خلوص کو ویزا کے مقابلے میںترجیح دیتے ہوئے ویزا کے کاغذات کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈسٹ بین میں دال دیتی ہے۔ یہاں پر پرویز شہریار نے تکنیکی طور پر یہ غلط لکھا ہے کہ ویزا آگیا ۔ امریکہ کا ویزا متعلقہ شخص کے پاسپورٹ پر ہی پرنٹ کیاجاتا ہے۔
بہر حال اس افسانہ میں پرویز شہریار نے صارفی دور میں بھی محبت کی آفاقیت کے ساتھ ساتھ جنسی ضرورت کو حسین پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اس افسانہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ صارفیت کے اس عہد میں ذات پات، رنگ روپ اور علاقائیت کی حد بندیوں کو منہدم کر کے محبت کے فطری تقاضوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں لِو اِن ریلیشن سے پرے – ڈاکٹر پرویز شہریار )
پرویز شہریار کا ایک افسانہ ’ہم وحشی ہیں‘، بے اختیار کرشن چندر کے مشہور افسانہ ’’ہم وحشی ہیں ‘‘کی یاد دلاتا ہے۔ وقت بدل گیا، لیکن فرقہ واریت کی شدت وہی رہی ۔ 1964سے لے کر گجرات یعنی 2002تک جس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی، یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کو زہر آلود کیا گیا۔ اس سے انسانیت کراہ اٹھی۔ لیکن زہر پھیلانے والوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔انھیں تو انسانی لاشوں پر سوار ہوکر اپنا سیاسی قد بلند کرنا ہے۔ فرقہ واریت کے موضوع پر یوں تو بہت سارے افسانے لکھے گئے، لیکن پرویز شہریار کا یہ افسانہ اپنی اثر انگیزی کے باعث منفرد ہے۔
’’ اقلیتی فرقوں پر ظلم ہوتے دیکھ کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتاگویا ہم کسی پانچ ہزار سال پرانے سماج کے دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاںندی کے ایک کنارے پر بھی کسی دلت بچے کے پانی پی لینے سے دوسرے کنارے اونچائی پر کھڑے کسی دھرم اچاریہ کا پانی جوٹھا ہو جاتا ہے اور اِس ارتکاب ِ جرم کے لیے اُسے کڑی دھوپ میں کسی سوکھے درخت سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اُس کے ننگے جسم پرکوڑے برسائے جاتے ہیں۔اس کے بعد اس کے ماتھے پر سات پشتوں تک دھرم اچاریہ کے ونشوں کی غلامی لکھ دی جاتی ہے۔ میں سوچنے لگا۔ کیا ہم اس مہذب دنیا میں جانوروں سے بھی بدتر انسان ہوگئے ہیں کہ جن پر آزادبھارت کا سنودھان نہیںبلکہ اب بھی منو اسمرتی کے نی یم لاگو ہوتے ہیں؟
یہ ایک ایسا سوال بن کر رہ گیاتھا جس کا جواب کسی کے پاس بھی نہ تھا۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص43,44-)
اس افسانہ میں پرویز شہریار نے اپنے موضوع کے گرد جس قدر وسعت اور معنویت پیدا کی ہے، اگر اسے ناول کی شکل دے دیں تو فرقہ پرستی کے موضوع پر بہت اچھا اور اہم ناول ہوسکتا ہے۔
افسانہ ’’دس سروں والا بجوکا‘‘ کو افسانہ نگار نے اپنے تخلیقی فہم و فراست سے عصری معنویت بخشی ہے۔ پریم چند کا ہوری جس کی عمر پچھتر سال ہوچکی ہے۔ اس کا بیٹا گوبر دھن تعلیم حاصل کر کے آئی آئی ٹی میں پروفیسر ہوگیا ہے۔ بدلتے وقت اور حالات کا تضاد بڑے فنکارانہ انداز میں اس افسانہ میں سامنے آتا ہے۔
’’دور غلامی میں جب انگریزوں کا راج پاٹ تھا ۔لال پگڑی اور خاکی وردی والا ایک سپاہی بھی گاؤں سے گزرجاتا تو اسے دیکھ کر لوگ باگ خوف سے کانپ اٹھتے تھے۔اس قدر رعب تھا کبھی اُن کا ،ہم ہندوستانیوں پر۔
لیکن اب ہم آزاد ہیں ۔ہماری اپنی حکومت ہے۔پرشاسن بھی اپنا ہے۔اپنی عدالت ہے اور پولیس بھی ہماری اپنی ہے۔نہ مہاجن گلا دباتا ہے نہ لگان کی وصولی کا خوف ہے اور نہ ہی زبردستی ۔کیسے اچھے دن آگئے ہیں ۔جیسے جی چاہے جیئو ۔جیسے جی چاہے کھاؤ، جیسے جی چاہے پیئو!‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص63-)
دور ِغلامی کے حالات اور عصری حالات میں کس قدر فرق آگیا ہے۔ ہوری کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ اپنے کھیت کی بہت اچھی فصل دیکھ کر اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور وہ اپنی بیوی دھنیا سے کہتا ہے:
’’ میرا بڑے شہر کو ہجرت نہ کرکے گائوں میں رہنے اور اپنے پرکھوں کی زمین پر کاشت کرنے کا فیصلہ کتنا صحیح ہے۔‘‘
دھنیا گڑ کی کچھ بھیلیاں اور ایک لوٹا کنویں کا تازہ کھینچا ہوا ٹھنڈا پانی رکھ کر ایک طرف بیٹھ گئی اور حقہ کے لیے چلم تیار کرنے لگی۔
’’ایشور کی دیا سے آج ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں ۔‘‘ دھنیا نے کہا ۔’’ ہم پوتی کی شادی میں دل کھول کر خرچ کرنے کی چھمتا رکھتے ہیں ۔‘‘
’’دھنیا !تم بس دیکھتی جانا،ہم اپنی پوتی کا بیاہ کس دھوم سے دھام سے کریں گے۔‘‘
ہوری نے یہ بات چلم کا کش لگاتے ہوئے کہی ۔’’دنیا ،سماج سب عش عش کرتے رہ جائیں گے۔‘‘ (شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص64-)
لیکن ہوری کے توقعات اور اس کی خوشیاں اس وقت ٹوٹ کر بکھرجاتی ہیں، جب گاؤں میں اپنی پوری مضبوطی سے پاؤں پسارے نکسل، ہوری کی شاندار گیہوں کی فصل میں سے ایک چوتھائی حصہ تاوان کے طور پر دھمکی بھرے خط کے ذریعہ مانگتے ہیں۔ اس خط کے ملتے ہی ہوری کے سارے سپنے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ غلامی کے دور سے نکل کر بظاہر آزاد فضا میں کس قدر خوف و دہشت نے گاؤں میں اپنے پنجے گاڑ دئے ہیں، اس کا اندازہ اُسے اس وقت ہوتا ہے۔ عصری تناظر میں غیر منقسم بہار کے گاؤں کی جو صورت حال تھی اور اب بھی ہے۔ اس خوفناک ماحول کی عکاسی بڑے فنکارانہ انداز سے پرویز شہریار نے اس افسانے میں کیا ہے۔
پرویز شہریار اپنے افسانوں کے حوالے سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہیں کہ وہ عصری سماج اور معاشرت کے نبض شناس ہیں۔ فکری اورفنی محاسن نے ان کے احساسات و جذبات کو حسن ومعنی کی نئی فضا کی تعمیر و تشکیل میں اہمیت اور معنویت سے مربوط کیا ہے۔ پرویزشہریار سے امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دور میںوہ اپنے افسانوں کے ذریعے موجودہ دور کے معاشرتی، تہذیبی اور اقتصادی حالات کو مترشح کریں گے، جن کی حیثیت یقینی طور پردستاویزی ہوگی۔
پرویز شہریار کا افسانوی سفر جاری ہے اور مجھے یقین ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے اِس سفر میں وہ اپنے ارد گرد پھیلے متنوع موضوعات، کردار، واقعات اور حادثا ت کو اپنے خوبصورت اور معنی خیز اسلوب کے ساتھ ساتھ تخلیقی انفرادیت اور عصری معنویت سے بھرپورافسانے پیش کر افسانوی ادب میں قابل قدر اضافہ کریں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

