جامعہ او رمطالعہ اقبال ایک ایسا موضوع ہے جس کی مختلف جہتیں اور مختلف دائرے ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو نئے نئے تناظرات فراہم کرتے ہیں۔مختلف عہد اور مختلف پس منظر میں بامعنی ہونے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ جامعہ(۱۹۲۰ء) اور اقبال(۱۸۷۷ء-۱۹۳۸ء) دونوں بیسویں صدی کے اہم اور الگ الگ مکتب فکر کی نمائندگی کرنے والے دو ڈسکورس ہیں۔ جامعہ ایک ایسا ڈسکورس ہے جس کی اساس قومیت پر استوار ہے اور اقبال کی فکری بنیادیں قومیت اور وطنیت کے برعکس آفاقیت پر مبنی ہیں۔ کیا اس مطالعہ میں تصور جامعہ کی روشنی میں اقبال کو موضوع بنائے گئے مطالعہ کا جائزہ لیا جائے گا؟ یا یہ دیکھاجائے گاکہ جامعہ کوئی ایسا مکتب فکر School of Thought تشکیل دے پایا ہے جس کے تناظر میں اقبال ڈسکورس کا مطالعہ کیا گیا ہو؟ یہ سوال بھی قائم ہوتا ہے کہ کیا مصنفین جامعہ کے ذریعہ کیے گئے مطالعات اقبال کا کوئی مخصوص پیٹرن وجود میں آتا ہے یا مصنفین جامعہ کے ذریعہ کئے گئے مطالعات کس طرح کے اقبال کو Explore کرتے ہیں، ان کے طریقے کیا ہیں؟ یہ بھی غورکرنے کا پہلو ہے کہ انھیں مصنفین جامعہ قومیت اور وطنیت کے تناظر میں دیکھتے ہیں یا صرف شاعر اقبال، صوفی اقبال، حکیم الامت اقبال فلسفی اقبال کی تشریح و توضیح پر اکتفا کرتے ہیں۔ انھیں تناظرات کے ساتھ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ اقبال کا رویہ جامعہ اور ارباب جامعہ کے ساتھ کیساتھا؟
یہ وہ نکتے ہیں جو مصنفین جامعہ کے ذریعہ کیے گئے مطالعات اقبال کا رخ متعین کرتے ہیں۔
اقبال کی دانشوری کا اہم امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے اہم علمی مراکز اور اہم سیاسی، سماجی، مذہبی اور علمی شخصیات سے منسلک رہے۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود اقبال کا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بڑاگہرا تعلق تھا اور ارباب جامعہ بھی اقبال کی خدمت میں نذرانہ مہر و وفا پیش کرتے رہے۔ جامعہ کے بنیاد گزاروں میں سے محمدعلی(۱۸۷۸ء-۱۹۳۱ء)، شوکت علی(۱۸۷۳ء-۱۹۳۹ء)، گاندھی جی (۱۸۶۹ء-۱۹۴۸ء) اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری (۱۸۸۰ء-۱۹۳۶ء) سے اقبال کے قریبی مراسم تھے۔ جامعہ کے پہلے شیخ الجامعہ محمدعلی جوہر(۱۸۷۸ء-۱۹۳۱ء) نے یہ تجویز پیش کی کہ علامہ اقبال سے جامعہ کے شیخ الجامعہ کا عہدہ قبول کرنے کی درخواست کی جائے۔ گاندھی جی نے نومبر ۱۹۲۰ء میں علامہ کو خط لکھا۔
ڈیئرڈاکٹر اقبال!
مسلم نیشنل یونیورسٹی آپ کو آواز دے رہی ہے۔ اگرآپ اس کا چارج لے سکیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کی مہذب رہنمائی میں ترقی کرسکے گی۔ حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر انصاری او ربلاشبہ علی برادران کی بھی یہی خواہش ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ قبول یابی کا کوئی راستہ نکال سکیں۔ نئی بیداری کے تقاضوں کے بقدر آپ کے اخراجات کی کفالت کی جاسکے گی۔
براہ کرم پنڈت نہرو کی معرفت الٰہ آباد کے پتے پر جواب دیجیے۔
آپ کا
ایم۔ کے گاندھی
علامہ نے معذرت کرتے ہوئے لاہور سے یہ جواب ارسال کیا:
’’مجھے بیحد افسوس ہے کہ بعض وجوہ سے جن کا ذکر اس وقت کچھ ضروری نہیں، ان حضرات کی آواز پر جن کی میرے دل میں بڑی عزت ہے لبیک کہنا میرے لیے مشکل ہے۔
خطوط سے یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ جانبین میں کیا تعلق خاطر تھا۔
ارباب جامعہ سے اقبال کی والہانہ وابستگی کا ادراک اس قطعہ سے ہوتا ہے جو انھوں نے محمد علی جوہر کے انتقال پر کہا تھا:
یک نفس جان نزار او پتید اندر فرنگ
مژہ برہم زنیم از ماہ و پروین درگذشت
اے خوشامشت غبار او کہ در جذب حرم
از کنار اندلس و از ساحل بربر گذشت
خاک قدس اورا بہ آغوش تمنا درگرفت
سوے گردوں رفت زاں راہے کہ پیغمبر گذشت
می نگنجد جز بہ آں خاکے کہ پاک از رنگ وبوست
بندۂ کو از تمیز اسود واحمر گذشت
جلوہ او تا ابد باقی بہ چشم آسیاست
گرچہ آں نور نگاہ خاور از خاور گذشت
(ترجمہ: فرنگستان میں ان کی جان بیمار ایک لمحہ کے لیے تڑپی اور اتنی دیر میں کہ ہم پلک جھپکائیں وہ ماہ و پروین سے بھی آگے نکل گئے۔ کیا کہنا ان کی ایک مشت خاک کا جو کہ حرم کی کشش کی وجہ سے لب اندلس اور ساحل بربر سے گزرگئی۔ (یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن)
بیت المقدس کی خاک نے انھیں آغوش تمنا میں کھینچ لیا وہ آسمان کی جانب اس راہ سے گئے جس سے کہ رسول پاک گزرے تھے۔ اللہ کا وہ بندہ جس نے رنگ ونسل کا امتیاز مٹادیا اس کی سمائی اس خاک کے علاوہ اور کہیں نہیں ہوسکتی، جو خاک کہ رنگ وبو سے پاک ہے۔
ان کا جلوہ چشم ایشیا میں ہمیشہ باقی رہے گا اگرچہ مشرق کا وہ نور عطرمشرق سے گزرگیا۔)
علامہ کا یہ قطعہ ارباب علم ودانش میں اس قدر مقبول ہو اکہ اس پر تضمین کا ایک سلسلہ چل پڑا۔
۱۹۱۹ء میں علی برادران کے جیل سے رہاہونے پر خلافت کمیٹی نے علی برادران کے اعزاز میں ایک جلسہ منعقد کیا تو اس میں علامہ اقبال موجود تھے۔ انھوں نے ان دونوں برادران کو مخاطب کرکے اسیری نامی اپنی نظم پڑھی۔ نظم ملاحظہ کیجئے:
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرہ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند
مشک ازفرچیز کیا ہے اک لہو کی بوند ہے
مشک بن جاتی ہے ہوکر نافۂ آہو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام قفس سے بہرہ مند
شہپر زاغ و زغن در بند قیدوصید نیست
ایں سعادت قسمت شہباز و شاہین کردہ اند
(بانگ درا)
۱۹۳۸ء میں جب علامہ اقبال کا انتقال ہوا تو جامعہ نے بھی اس عبقری کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انجمن اتحاد کی جانب سے شائع ہونے والا رسالہ ’جوہر‘(۱۹۳۸ء) کا خصوصی شمارہ شائع کیا۔ رسالہ کے آغاز میں ڈاکٹرذاکرحسین(۱۸۹۷ء-۱۹۶۹ء) نے اقبال کو قافلہ بہار کا بیش رس قرا دیا ہے۔ ذاکرحسین نے اقبال کو محض ایک شاعر کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ شاعرکے ساتھ ساتھ ایک ایسے مفکر کے طور پر دیکھا جن کے کلام سے ندرت فکر و عمل کے دریچہ وا ہوتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں: اقبال کو جب پڑھیے تو ان دونوں چیزوں کا خیال رکھیے، اس کے لفظوں سے بھی ضرور لطف اٹھائیے مگر یہ نہ ہو کہ اس کے عشق بے پروا اور فکر فلک پیما سے اپنے لیے ندرت فکروعمل کا سامان فراہم نہ کریں۔
اس رسالہ میں جامعہ سے منسلک نمایاں مصنفین میں سے سیدعابدحسین، ڈاکٹرمحمدمجیب، پروفیسر خواجہ غلام السیدین اور مولانا اسلم جیراج پوری کے مضامین شامل ہیں۔
مؤسس جامعہ میں ایک اہم نا م سیدعابدحسین(۱۸۹۶ء-۱۹۷۸ء) کا ہے۔ عابدحسین کا تعلق شعبۂ فلسفہ سے تھا۔ وہ ایک معروف دانشور تھے۔ انھوں نے اقبال پر ایک کتاب اور متعدد مضامین لکھے۔ اقبال کا تصور خودی (۱۹۴۴ء) عابدصاحب نے کلام اقبال کا مطالعہ قومیت، وطنیت اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے حل کی تلاش کے لیے کیا۔ وہ لکھتے ہیں: اقبال کا کلام فلسفیانہ اسی معنی میں ہے کہ وہ ایک کل تصور حیات پیش کرتا ہے۔ اس کا موضوع فرقہ اور ملت کی زندگی کا ایک جامع نصب العین ہے جسے ہم فلسفہ تمدن کہتے ہیں۔ (اقبال کا تصور خودی،ص:۲)
عابدصاحب قومیت اور اقبال کے تصور آفاقیت کے درمیان ایک نقطۂ اشتراک تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں اور دونوں دھاروں کو ملاکر ایک امتزاجی ہیولیٰ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ایک اقتباس دیکھئے:
’’نسل و وطن کا فرق دنیا میں ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اگر اس پر زیادہ زور دیاجائے تو نوع انسانی میں اتحاد پیدا ہونا محال ہے لیکن ایک اخلاقی او رروحانی نصب العین کا کل انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کرکے متحد کردینا کم سے کم خیال میں آسکتا ہے۔(ص:۳)
خودی کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں : فرد کا نفس یا انا گو ایک مخلوق ہے اور فانی ہستی ہے لیکن یہ ہستی اپنا ایک علیحدہ وجود رکھتی ہے جو عمل سے پائدار او رلازوال ہوجاتا ہے۔(ص:۱۰)
انھوں نے خودی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے احاطہ کیا ہے۔ اس کے مثبت ومنفی پہلوؤں اور اس کے حدود و دائرہ کار کوموضوع بنایا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اقبال کے فلسفہ خودی کا جاں بخش پیام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق و مغرب کے کل انسانوں کے لیے ہے۔(ص:۲۶)
عابدصاحب نے اپنی کتاب قومی تہذیب کا مسئلہ (بار اول ۱۹۵۵ء)میں موجودہ صورتحال، تہذیبی وحدت کے امکانات کے تحت اقبال کا ذکر کیا ہے۔ ہندومسلم تہذیب میں وحدت کے امکانات کو فلسفۂ اقبال کی روشنی میں تلاش کرنا عابدصاحب کا کارنامہ خاص ہے۔انھوں نے اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ٹیگور اور اقبال کو بنیاد بنایا ہے۔ ان دونوں عظیم شعراء اور فلسفی کے تصورات کے مابین اختلافات اور مماثلتوں کی نشاندہی کے ذریعہ تہذیبی وحدت کے خطوط کی جستجو کی ہے۔ اس ضمن میں ان کے اہم نکتے پیش ہیں:
(۱)ٹیگور نے بھی ہندو ذہن کے ایک رجحان کے مطابق عمل پر بہت زور دیا ہے لیکن یہ ایک خارجی عنصر ہے جو ان کے بنیادی فلسفے سے نامیاتی تعلق نہیں رکھتا۔ اقبال کے فلسفہ حیات میں تغیر اور حرکت، سعی و عمل کو رگ جان کی حیثیت حاصل ہے۔(۲)وحدت انسانی کے احساس کو اقبال بھی ٹیگور کی طرح اخلاقی زندگی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔(۳)اقبال بھی ٹیگور کی طرح وجدانی مشاہدہ حقیقت کو فنون لطیفہ کا مقصد سمجھتے ہیں لیکن چوں کہ ان کے نقطہ نظر سے مشاہدہ حقیقت محض انفعالی نہیں بلکہ فاعلی، محض ادراکی نہیں بلکہ تخلیقی ہے اس لیے ان کا آرٹ کا تصور ٹیگور سے بہت مختلف ہے۔ (ص:۱۹۶،۱۹۵،۱۹۴)
مطالعہ اقبال کے ضمن میں عابدصاحب کا ایک اور قابل ذکرمضمون ’عقل و عشق اقبال کی شاعری میں‘ ہے اس مضمون میں عقل و عشق کے بارے میں نہایت بصیرت افروز بات لکھی گئی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں:
’’غرض اقبال کے تصور عقل و عشق کا ماحصل یہ ہے کہ ان دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں بلکہ صرف مدارج ارتقا کا فرق ہے۔ ان میں مابہ الامتیاز آرزوئے معرفت کی وہ خاص کیفیت ہے جسے شاعر نے سوز کہا ہے اگر عقل میں یہ سوز پیدا ہوجائے تو وہ عشق بن جاتی ہے۔
چہ می پرسی میان سینہ دل چیست
خرد چوں سوز پیدا کرددل دل شد
(رسالہ جوہر، اقبال نمبر،۱۹۳۸ء،ص:۲۲)
جامعہ سے متعلق ایک اہم دانشور کا نام محمدمجیب(۱۹۰۲ء-۱۹۸۵ء) ہے جو جامعہ کے شیخ الجامعہ رہے۔ انھوں نے کلام اقبال اور ان کی فکر پر متعدد مضامین قلمبند کیے۔ ایک مضمون رسالہ جوہر میں اقبال کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے اقبال سے اپنی پہلی ملاقات کی روداد نہایت تفصیل سے بیان کی ہے اور ایک مضمون ان کی کتاب ہندوستانی سماج پر اسلامی اثر(ترجمہ شدہ ۱۹۱۱) میں شامل ہے۔ اس میں انھوں نے اقبال کی شاعری اور ان کی فکر کا تنقیدی محاکمہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ان کی مثنوی اسرارخودی نہایت واعظانہ رنگ کی ہے اور شاید ان کی سب سے کمزور تصنیف ہے۔ بانگ درا کے کلام میں سب سے زیادہ تازگی ہے اوربال جبریل میں سب سے زیادہ پختگی ان کی پیام مشرق جرمنی کے شاعر گوئٹے کے دیوان کا شاعرانہ جواب ہے اور اس میں ان کے کسی اورمجموعہ کلام کے مقابلہ میں ان کی وسعت نظر اور ان کی راسخ العقیدگی کا زیادہ اظہار ہے۔ ان کا جاویدنامہ ابن عربی کی فتوحات مکیہ اور دانتے کی طربیہ خداوندیDivine Comedy کی روایت میں فیصلوںJudgementکی کتاب ہے۔ اسلامی فکر کی تشکیل جدید Reconstruction of Islamic Religious Thoughtجو بنیادی طور پر ان کے لکچروں کا مجموعہ ہے، میں اقبال نے ابتداتو نہایت جرأت مندی سے کی ہے لیکن اس کا اختتام کمزور ہے۔‘‘ (ص۱۳۶)
جامعہ سے منسلک ایک اہم صاحب کمال کا نام یوسف حسین خاں(۱۹۰۲ء-۱۹۷۹ء) ہے انھوں نے اقبال پر تین کتابیں لکھیں:
روح اقبال (۱۹۴۲ء) حافظ اور اقبال(۱۹۷۹ء) غالب اور اقبال کی متحرک جمالیات (۱۹۷۹ء)
روح اقبال میں کلام اقبال کا تین مرکزی عنوانات کے تحت مطالعہ کیا گیا ہے۔ اقبال اور فن، اقبال کا فلسفہ تمدن، اقبال کا فلسفہ مذہب۔ اقبال کا فلسفہ تمدن کے تحت خودی، عمل اور اخلاق اور تاریخی استقرا جیسے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔ اس میں نہایت فکر انگیز بحثیں ملتی ہیں۔ اس ضمن میں انسان کامل کے تحت وہ رقم طرازہیں:
’’انسان کامل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اعجاز عمل سے تحدید حیات کرتا ہے اس کی فکرزندگی کے خواب پریشاں کی نئی تعبیر پیش کرتی ہے۔ وہ پرانی اصطلاحوں کو نئے معنی پہناتا اور حقائق کی نئی توجیہ پیش کرتا ہے وہ تاریخ کی تخلیقی رو کو اپنے حسب منشا جدھر چاہتا ہے موڑ دیتا ہے۔‘‘(ص۲۱۷)
یوسف حسین خاں کی دوسری کتاب حافظ اور اقبال(۱۹۷۶ء) ہے۔ اقبال نے اسرارخودی کے پہلے ایڈیشن میں حافظ کی شاعری کو غیرحیات بخش قرار دیا تھا، اس سے یہ تاثر عام ہوگیا تھا کہ اقبال اور حافظ کی شاعری کے درمیان ایک تصوراتی خلیج ہے۔ حالاں کہ یہ بات معروف ہے کہ اقبال نے ایک بار خلیفہ عبدالحکیم سے کہا تھا کہ ’’بعض اوقات مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حافظ کی روح مجھ میں حلول کرگئی ہے۔‘‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقبال نے حافظ سے استفادہ کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے دونوں عبقری شعراء کے مابین مماثلت او راختلاف کی جستجو کی ہے اس ضمن میں مصنف کے خیالات کی تلخیص پیش ہے۔
’’اقبال اور حافظ دونوں شعراء کے کلام میں عشق ایک حاوی موضوع ہے۔ مگر دونوں کے تصورعشق میںفرق ہے حافظ کا عشق کبھی حقیقت اور کبھی مجاز کا پیرایہ اختیار کرتا ہے اور اقبال کا عشق مقصدی ہے۔ حافظ کا محبوب مادیت کے قریب ہے، اقبال کا عشق ایک مخصوص تناظر رکھتا ہے۔ حافظ انسان کو مجبور اور مقدر کا اسیر قرار دیتا ہے۔ اقبال انسان کو اپنی دنیا آپ پیداکرنے کی تلقین کرتا ہے۔‘‘
غالب او راقبال کی متحرک جمالیات (۱۹۷۹ء)بھی یوسف حسین خاں کی اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں دونوں شعراء کے حرکی پیکروں کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس موازنے میں غالب کی ان تراکیب کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں حرکت ہے اضطراب ہے، جن میں موج، شعلہ، آتش جیسے الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’لفظ موج کے استعمال کی کثرت غالب کے متحرک ذہن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔‘‘ جہاں تک کلام اقبال میں حرکی پیکروں کا تعلق ہے تو ’’اقبال کا سارا کلام متحرک اور زندہ علامتی پیکروں او راستعاروں سے بھراپڑا ہے۔‘‘
غالب اور اقبال کے حرکی نظام کے مابین موازنہ کرتے ہوئے وہ یوں رقم طراز ہیں:
’’فکراقبال میں کائنات او رانسان دونوں متحرک اور فعال ہیں۔ اس طرح اقبال نے ذات واجب، فطرت اور انسان کے تعلق کا جو تصور پیش کیا ہے وہ حرکت وعمل پر مبنی ہے۔ اس نے اپنی فکر میں انھیں تصورات کی ترجمانی کی ہے۔ اس لیے اس پر تعجب نہیں ہے کہ وہ اپنی مقصدیت کی خاطر متحرک معانی کا علمبردار ہے، ہاں اس پر ضرور تعجب ہے کہ غالب جس کے پیش نظر کوئی واضح مقصد اور علمی مقدمات نہیں تھے اپنی شاعری میں اس قدر متحرک ہے۔ اقبال کے حرکی تصورات اس کے ذہن کی تخلیق ہیں اور غالب کا متحرک نقطہ نظر اس کی فطرت کا اقتضا ہے۔(ص۲۰۲،۲۰۱)
جامعہ کے ارباب فضل میں سے ایک اہم نام خواجہ غلام السیدین (۱۹۰۴ء-۱۹۷۱ء)کا ہے۔ اقبال پر متعدد مضامین ان سے یادگار ہیں۔ انھوں نے شاعر اور فلسفی اقبال کی تشریح اوراس کی معنویت دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میں مختصر طور پر اقبال کے کلام اور فلسفہ دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں جن کے میل جول نے ان کی شاعری میں وہ اثر اور اعجاز اور ہمہ گیری پیداکردی ہے جس کا ایک زمانہ معترف ہے۔ اس کی حیثیت مفکر کی ہے اور کیسا مفکر مقام عقل سے آسان گزرگیا اقبال۔ اور اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے اپنی فکر کے خزانوں کو شاعری کے قالب میں پیش کیا۔ حالاں کہ شعر کے لیے یہ بار اٹھانا مشکل ہے۔ اس حکیم عصر نے مشرق کی افسردہ قوموں میں حیات تازہ پیدا کرنے کے لیے اپنے فلسفہ خودی کو اپنے اثرآفریں انداز میں پیش کیا کہ ان کی منجمد رگوں میں خون حرکت کرنے لگا۔ (بحوالہ اقبال جامعہ کے مصنفین کی نظر میں، ص:۳۳-۳۲)
جامعہ کے عظیم المرتبت فرزندوں میں ایک اہم نام سید نذیرنیازی کا ہے۔ اقبال پر سید نذیرنیازی کی تین کتابیں ہیں: (۱)اقبال کامطالعہ اور دوسرے مضامین (۱۹۴۱ء) (۲)اقبال کے حضور نشستیں اور گفتگوئیں (۳)مسلمانوں پر قرآن کے حقوق اور علامہ اقبال(۱۹۳۸ء) اور ان سب سے معرکۃ الآرا کام اقبال کے لکچروں کا انگریزی زبان سے اردو میں ترجمہ ہے، انھوں نے خطبات اقبال Reconstruction of Islamic Religious Thought کا اردو میں تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ کے عنوان سے ترجمہ کیا۔ اقبال کے ان خطبات کو اسلامی نشاۃ ثانیہ کا نقیب کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا۔سیدنذیرنیازی نے ان خطبات کا ترجمہ اقبال کی ایما پر کیا۔ اس ترجمہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس کے اکثر حصے علامہ کی نظر سے گذرچکے ہیں البتہ یہ ترجمہ علامہ کی نظرثانی کے محتاج رہے جو علامہ کی خواہش تھی۔ اقبال کی نظر سے جب یہ ترجمہ گزرے تو کچھ اصطلاحات او رمسائل کی تصریح فرمائی، مترجم نے ان تصریحات کو کتاب کے آخر میں شامل کردیا ہے۔ کچھ حواشی مترجم کی طرف سے ہیں۔ علامہ کی یہ خواہش تھی کہ اس کتاب کا مقدمہ بھی لکھاجائے اور یہ بھی تاکید تھی کہ ان کی ہدایت میں لکھاجائے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور یہ موقع نہ آسکا۔ آخرکار یہ سعادت بھی جامعہ کے اسی لائق فرزند کے حصے میں آئی۔ یہ مقدمہ فکر اسلامی کی تشکیل نو کا مقدمہ ہے۔ ا س مقدمہ کے مطالعے سے خطبات کے دقیق اور فلسفیانہ مباحث کی تفہیم میں سہولت ہوجاتی ہے۔
جامعہ کے ارباب فضل وکمال میں ایک اہم نام پروفیسر مسعودحسین خاں(۱۹۱۹ء-۲۰۱۰ء) کا ہے۔ انھوں نے کلام اقبال کا مطالعہ جدید لسانیات کے تناظر میں کیا ہے۔ علامہ پر ان سے دوکتابیں یادگار ہیں۔ (۱)اقبال کی نظری و عملی شعریات (۱۹۸۳ء) (۲)کلام اقبال کا انتخاب۔ اقبال کی نظری و عملی شعریات اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے دیے گئے خطبات میں سے ایک خطبہ ہے۔ اقبال کی نظری شعریات کے تحت اقبال کے تصورفن پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان کے تصور فن کی مکمل تفہیم کے لیے اسے زمانی اعتبار سے دوحصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ تصورخودی کو علمی تجربہ بنانے سے قبل اقبال کا تصور فن کیا تھا اور اس کے بعد ان کے تصورفن میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ یورپ جانے سے قبل ان کا تصور حسن روایتی تھا۔ وہ دیگر صوفیہ کی طرح خدایا ہستی مطلق کو حسن مطلق سمجھتے تھے۔ جس کا موجودات کے تمام مدارج اور مظاہر میں بفرق مراتب ظہور ہوتا ہے۔(۱۴-۱۳)
تصورخودی کو علمی تجربہ بنانے کے بعد ان کے تصورفن میں جو تغیروقوع پذیر ہوا وہ ملاحظہ کیجئے:
’’حقیقت مطلقہ اقبال کے لیے اب حسن مطلق کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ فوق خودی ہے جو تخلیق کے کرب سے پڑی تڑپتی ہے۔ جس نے کائنات کے ہروجود کو ایک خودی کی شکل دے دی ہے جو خود اپنی جگہ تخلیقی عمل میں مصروف ہے۔ حسن و فن کا جواز اور استحقاق اب یہ ہوگا کہ وہ خودی کی بالیدگی میں مدد دیں جس طرح صاحب خودی فاتح فطرت ہے اسی طرح فن کار بھی فطرت کے حسن پر اپنے سوزدروں اورمہارت فن سے اضافہ کرتا ہے۔(ص:۳۰)
اقبال کی عملی شعریات کے تحت انھو ںنے اقبال کی لسانی صلاحیت اور شعور کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ اقبال کی شاعری پر تذکیر وتانیث، خلاف محاورہ زبان اور پنجابی لہجہ کے پس منظر میں جواعتراضات وارد کیے گئے ان سب کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اقبال زبان کے تئیں بے پروا نہیں تھے۔ وہ زبا ن کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ ان کی اسلوبیاتی خصوصیات سے بحث کرتے ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ ان کا حاوی اسلوب فارسی آمیز ہے ان کی شاعری کے صوتی آہنگ کی تشکیل میں فارسی زبان کا عمل دخل زیادہ ہے۔
عبداللطیف اعظمی(پ۱۹۱۷ء) کا شمار جامعہ کے ممتاز مصنفین میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اقبال دانائے راز (۱۹۷۸ء) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مکاتیب اقبال کے تجزیاتی مطالعہ پر مبنی ہے۔ اس میں معاصرین کے نام اقبال کے آٹھ خطوط کا ذکر ہے۔ ان معاصرین میںنمایاں نام اکبرالہ آبادی، مہاراجہ کشن پرشاد، سرشیخ عبدالقادر، راس مسعود، سیدسلیمان ندوی، ابوالکلام آزاد اور محمدعلی جوہر کے میںاقبال شناسی میں یہ کتاب بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔
اقبال کوموضوع بنانے والے جامعہ کے ارباب علم و فضل میں سے ایک اہم نام گوپی چند نارنگ (پ۱۹۳۱ء) کا ہے۔ انھو ں نے اقبال پر دو کتابیں لکھی ہیں (۱)اقبال کا فن(۱۹۸۳ء) (۲)اقبال جامعہ کے مصنفین کی نظر میں۔ اقبال کا فن ان مقالات کا مجموعہ ہے جو ۲۶؍۲۷؍مارچ ۱۹۷۵ء میں منعقدہ سمینار میں پڑھے گئے تھے۔ اس کتاب میں اس عہد کے سربرآوردہ ادیبوں اور نقادوں نے اقبال کے مختلف ابعاد پر اپنے مقالات پیش کئے تھے۔ ان منتخب روزگار ہستیوں میں یوسف حسین خاں، آل احمد سرور، مسعودحسین خاں، سید حامد، گیان چند جین، اسلوب احمد انصاری، جگن ناتھ آزاد، شمس الرحمن فاروقی، وحید اختر، وارث علوی، محمود ہاشمی، شکیل الرحمن، وہاب اشرفی، شمیم حنفی، قاضی عبیدالرحمن ہاشمی اور گوپی چند نارنگ شامل تھے۔ اقبال کا فن میں گوپی چند نارنگ کے اقبال پر دو مضامین ہیں۔ یہ دونوں مضامین جدید لسانیاتی تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ ایک کا عنوان ہے ’’اقبال کی شاعری کا صوتیاتی نظام‘‘۔ انھوں نے یہ اقبال کی نظم ذوق و شوق، مسجد قرطبہ، طلوع اسلام، لینن خدا کے حضور میں، ابلیس کی مجلس شوریٰ، شعاع امید کو بنیاد بناکر سائنٹفک انداز میں یہ مطالعہ کیا ہے کہ ان کے کلام کی صوتی آہنگ کی تشکیل کن آوازوں سے ہوئی ہے۔ انھو ں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کے یہاں صفیری او رمسلسل آوازوں کی کثرت ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:
’’اقبال کا کمال جس نے ان کے صوتیاتی آہنگ کو اردو شعریات کا عجوبہ بنادیا ہے دراصل یہ ہے کہ طویل و غنائی مصوتوں کی زمینی کیفیات اقبال کے یہاں زناٹے دار صفیری و سلسلہ وار مسلسل آوازوں کی آسمانی کیفیت کے ساتھ مربوط وممزوج ہوکر سامنے آتی ہیں۔ اقبال کے یہاں صفیری ومسلسل آوازوں اور طویل و غنائی مصوتوں کا یہ ربط و امتزاج ایک ایسی صوتیاتی سطح پیش کرتا ہے جس کی دوسری نظیر اردو میں نہیں ملتی۔‘‘(ص۱۸۴)
دوسرا مضمون ہے اسلوبیات اقبال نظریہ اسمیت اور فعلیت کی روشنی میں۔ ان کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اقبال کی بعض نظمیں مسجد قرطبہ، خضرراہ اور بعض غزلوں کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں اسما کا استعمال زیادہ ہے لیکن امرواقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ افعال کا استعمال بھی بکثرت کیا گیا ہے۔ نارنگ صاحب لکھتے ہیں:
’’تخاطب کا انداز ان کی مرکزی اسلوبیاتی خصوصیات کے طور پر ابھرتا ہے۔ تخاطب میں کام صرف کلمہ اسمیہ سے نہیں چلتا بات کو پوری طرح کہنے کے لیے یا ترسیل معنی کے لیے گفتگو میں فعلیت ناگزیر ہے۔‘‘(۳۳۵)
جامعہ سے منسلک نمایاں علمائے ادب جنھوں نے اقبال کو موضوع بنایا ان میں ایک ممتاز نام شمیم حنفی (پ۱۹۳۹ء) کا ہے۔ انھوں نے اقبال کو اپنے عہد اور اپنی ذات کے تناظر میں سمجھنے کی سعی کی ہے۔ ان کی کتاب کا نام ’’اقبال کا حرف تمنا‘‘ (۲۰۱۱ء) ہے۔ یہ کتاب وقتاً فوقتاً رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں اقبال او رجدید غزل، اقبال کے علائم، اقبال اور فکرجدید اور اقبال کے شعری تصورات جیسے عنوانات کے تحت فکرانگیزبحثیں کی ہیں۔وہ رقم طراز ہیں:
’’اقبال کا تفکر، اقبال کا جذباتی تموج، اقبال کی غنائیت، اقبال کا حسی ادراک، اقبال کی صناعی یہ سب غیرمعمولی باتیں ہیں۔ اقبال کے لہجے میں جیسا انوکھا شکوہ اور جلال ملتا ہے ان کے یہاں جو اخلاقی گہرائی ہے اس کی کوئی مثال ہمیں اردو کی شعری روایت میں دکھائی نہیں دیتی لیکن اقبال کو اپنی تاریخ، اپنے مخصوص اجتماعی ماحول اوراپنے قومی سیاق میں رکھ کر دیکھاجائے تو کہیں کہیں یہ پریشان کرنے والا تاثر بھی پیداہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات کو اس سیاق نے ایک دائرے میں گھیرلیا ہے۔ وقت اور مکان کا مخصوص حوالہ ایک عظیم الشان تخلیقی تجربے کے پاؤں کی زنجیر بن گیا ہے۔ اقبال کا ذہن اپنے ماحول کی عام کمزوریوں سے آزاد نہیں ہے اور بہت سی عملی محرومیوں کی تلافی کا سامان وہ جذبات کی دنیا میں ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘(ص:۱۶)
جامعہ سے منسلک مصنفین میں سے ایک اہم نام قاضی عبیدالرحمن ہاشمی(پ۱۹۴۷ء) کا ہے، جنھوں نے اقبال کو موضوع بنایا۔ انھوں نے شعریات اقبال(۱۹۸۶ء) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ انھوں نے کلام اقبال کے فنی امتیازات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ کلام اقبال میں تشبیہ و استعارہ، علامت کی نشاندہی کی ہے۔ ان فنی وسائل کو بنیاد بناکر اسلوب اقبال کے امتیازات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔
مذکورہ بالامعروضات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مصنفین جامعہ کے ذریعہ کیے گئے مطالعہ اقبال کا کوئی مخصوص پیٹرن نہیں ہے نہ ہی مطالعہ اقبال کے پس منظر میں جامعہ ایک مکتب فکر کی حیثیت سے اپنا نقش قائم کرتا ہے۔ مطالعہ اقبال کے ضمن میں جامعہ کے ابتدائی عہد کے مصنفین کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وطنیت اور آفاقیت کے مابین ایک نقطۂ اشتراک تلاش کیا۔ افکار اقبال کی تشریح و تعبیر اپنے عہد کے مسائل کے حل کے لیے کیا۔ مصنفین جامعہ نے جدید لسانیاتی تناظرمیں بھی اقبال کا نہایت فکرانگیز مطالعات پیش کیے۔ مصنفین جامعہ کے ذریعہ اقبال کا جو مطالعہ کیا گیا ہے اس نے مطالعہ اقبال کے نئے نئے دریچے وا کیے ہیں۔ اقبال فہمی میں زیادہ تر مطالعات نئی بحثوں کا سرچشمہ ثابت ہوئے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]