عظیم دانشور اور مفکر، فلسفی اور شاعر علامہ سر محمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ اپنی زندگی ہی میں نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں معروف و مشہور ہوگئے تھے۔ مغرب کو للکارنے اور مشرق کا پیغام عام کرنے والے اس عظیم فن کار نے ادب میں پوری دنیا کو اور بالخصوص اردو اور فارسی والوں کو ایک نیا جوش اور نیا آہنگ عطا کیا۔ اسلامی اقدار کے پس منظر میں پوری عالم انسانیت کو صداقت، امامت اور شجاعت کا درس دیا۔ اس عظیم شاعر نے گل وبلبل کے نغمے گانے کے بجائے نوجوانوں کو اپنا مخاطب بناکر مردمومن اور انسان کامل بننے کے جو آئین مرتب کیے وہ قابل قدر، قابل ستائش اور قابل تقلید ہیں۔
مرد مومن اور انسان کامل کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ایک سیڑھی عہد طفلی ہے جو انسان کے مستقبل کی راہ کو ایک سمت عطا کرنے میں اہم کڑی کا درجہ رکھتی ہے۔ علامہ اقبال جنھوں نے نوجوانوں سے خطاب کیا اور جواں مردی کے آئین سکھلائے وہ بھلا اس کڑی یعنی عہد طفلی کو کیسے نظر انداز کر سکتے تھے۔ کیونکہ اِس عہد میں جو ذہن سازی ہوتی ہے اس کا اثر تا حیات رہتا ہے۔ افکار و نظریات میں خواہ کتنا ہی تغیر و تبدل اور اتار چڑھاؤ آئے بچپن کی ذہن سازی اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔ علامہ اقبال کے اردو فارسی کے سرمایہ ادب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں بچوں کے اقبال صاف طور پر نظر آتے ہیں۔ یوں تو ادب اطفال کا ایک بڑا ذخیرہ ہے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہوہا ہے ۔ ادب اطفال کے اولین معماروں میں محمدحسین آزاد، مولانا الطاف حسین حالی، مولوی اسماعیل میرٹھی، شفیع الدین نیر، حفیظ جالندھری، حامد اللہ افسر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف علامہ اقبال کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔
علامہ اقبال نے بچوں کے لیے جو کچھ لکھا وہ زیادہ تر ان کی ابتدائی دور کی شاعری کا حصہ ہے۔ خصوصاً ’’بانگ درا‘‘کی نظمیں۔ علامہ اقبال کی شاعری میں عہد طفلی سے متعلق یا بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا احاطہ کیا جائے تو ہمارے سامنے سر دست جو نظمیں نظر آتی ہیں ان میں ’’بانگ درا‘‘ کے پہلے حصہ کی نو نظموں ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اورگلہری، ترانۂ ہندی، ایک گائے اور بکری، ہمدردی، ماں کا خواب، پرندے کی فریاد، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت اور بچے کی دعا کے علاوہ ایک پرندہ اور جگنو، عہد طفلی، بچہ اور شمع، طفل شیر خوار وغیرہ ہیں۔ ان نظموں کے علاوہ اور بھی کئی نظمیں ہیں جو بچوں کے لیے لکھی گئیں یا بچوں سے متعلق ہیں جیسے کہ محنت، شہد کی مکھی، چاند او رشاعر ، گھوڑوں کی مجلس، جہاں تک ہو سکے نیکی کرو اوربچوں کے لیے چند نصیحتیں۔ یہ نظمیں روزگار فقیر جلد دوم سے ماخوذ ہیں۔ ان کے علاوہ ستارہ، ایک شام، چاند اور تارے، دو ستارے، جگنو، چاند اور عقل و دل بھی قابل ذکر ہیں۔ یہ وہ نظمیں ہیں جو بچوں کے لیے نہیں لکھی گئی ہیں لیکن بچوں کے لیے مفید ضرور ہیں۔
ان نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے موضوعات کے انتخاب کوحسن انتخاب کہا جاسکتا ہے۔ بچوں کی نفسیات، ان کے ذہن اور صلاحیتِ رد و قبول کو سامنے رکھ کر ان موضوعات کو اٹھایا گیا ہے۔ ان نظموں کے عنوانات بھی ایسے ہیں جو بچوں کے دلوں کو موہ لیں اور اس میں جو باتیں پیش کی گئی ہیں ان کے ذریعہ بچوں کی صحیح سمت میں ذہن سازی کی کوشش کی گئی ہے۔ا گرچہ بیشتر نظمیں مغربی ادب سے ماخوذ و مستعارہیں لیکن علامہ اقبال نے انھیں مشرقی رنگ وآہنگ میں پیش کیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیگور اور اقبال کا مشترکہ المیہ – محمد علم اللہ )
’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں یہ درس ہے کہ کوئی بھی چیز بری نہیں ہر ایک کی اپنی خصوصیات اورعلیحدہ کام ہیں۔ کوئی کسی سے برتر اور ابتر نہیں ہے۔ ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ خوشامد بری چیز ہے۔ خاص طور پر دشمن کی خوشامد سے ضرور ہو شیار رہیں۔’’ایک گائے اور بکر ی‘‘ میں احسان مندی کا سبق سکھایا گیا ہے۔ خود احسان کرکے بھول جانا لیکن دوسرے کے احسان کو یاد رکھنا اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔’’ ہمدردی‘‘ جیسی مختصر نظم میں علامہ اقبال نے بچوں کو یہ درس دیا کہ
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
’’پرندے کی فریاد میں‘‘ پرندے کو علامت بناکر ہندوستان میں لوگوں کو غلامانہ زندگی کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘ یعنی ’’میرا وطن‘‘ میں اپنے ملک اور وطن سے محبت کے جذبے کو بچوں کے ذہن و قلوب میں جاں گزیں کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ اس نظم میں بچوں کو محبت اور یگانگت کا سبق پڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح ’’ترانہ ہندی‘‘ میں علامہ اقبال نے ہندوستان کی عظمت اور اس کی کثرت میں وحدت کو بچوں کے دلوں میں بیٹھانے اور آپس میں بیر نہ رکھنے کی تلقین کی ہے۔ نظم’’ جگنو‘‘ میں یہ درس دیا گیا کہ بغض وحسد اور نفرت وعداوت کی آگ نہیں پھیلانی چاہیے۔ ’’بچے کی دعا‘‘ میں اقبال نے انسان کو مستقبل میں کیا بننا چاہیے ، بچے کی زبانی بتانے کی کوشش کی ہے۔
اسی طرح عہد طفلی، بچہ اور شمع اور طفل شیرخواریسی نظمیں ہیں جو بچپن سے متعلق ہیں۔ ان نظموں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کی بچوں کی نفسیات پر کتنی گہری نظر تھی۔اسی طرح دیگر نظموں کے موضوعات بھی ایسے ہی ہیں جو بچوں کے ذہن اور ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر منتخب کیے گئے ہیں۔
بچوں کے لیے لکھی گئی ان نظموں کے اسلوب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کتنی ہی سہل زبان، دلنشیی پیرایہ، سلیس اور رواں انداز بیان ہے، ان نظموں میں مشکل اور ادق الفاظ سے یکسر اجتناب کیا گیا، جبکہ اقبال کی دیگر نظموں میں بھاری بھرکم الفاظ کی کثرت ہے۔ بچوں کی نظموں میں علامہ اقبال نے موضوعات کے اعتبار سے بھی سادہ زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے الفاظ کے انتخاب سے پوری نظم مکمل کی گئی ہے جو بالکل سامنے کے ہیں۔ عہد حاضر میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت سے الفاظ بچوں کو سمجھ میں نہیں آسکتے کیونکہ آج اردو کے گھرانوں میں بھی بچوں سے انگریزی میں یا انگریزی زدہ اردو میں گفتگو کی جاتی ہے، آج اردو کے تمام بہی خواہ یہ دوعوی کرتے ہیں کہ ان کے آباء و اجداد اردوسے اچھی طرح واقف تھے لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان کی اولاد بھی اردو جانتی ہیں یا پڑھتی ہیں۔
بہر حال آمدم بر سر مطلب علامہ اقبال کی ان نظموں کی زبان تو اتنی زیادہ سہل اور سادہ ہے کہ غیر اردو داں بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں مثلا کچھ اشعار دیکھیے
بچے کی دعا میں
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہوجائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ایک پہاڑ اور گلہری میں
ہرایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ،کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے
نہیں ہے چیزنکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
ہمدردی میں
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
اسی طرح پرندے کی فریاد میں
آتا ہے یاد مجھ کوگزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے جانا اپنی خوشی سے جانا
غرض یہ کہ الفاظ اور انداز بیاں نہایت سہل اور سادہ ہیں۔
ان نظموں میں منظر کشی اورمحاکات کے بھی بہترین نمونے ہیں۔ کیونکہ بچوں کا ذہن اُس چیز کو جلد قبول کرلیتا ہے جو قابل دید ہو۔ لہذا علامہ اقبال نے بچوں کے لیے لکھی ان نظموں میں منظر کشی اور محاکات پر خاص توجہ دی ہے۔
مثلا ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ میں
اک دن کسی مکھی سے کہنے لگامکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گذر روز تمھارا
لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
آگے چل کر مکھی کی تعریف میں یہ اشعار
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن یہ پوشاک یہ خوبی یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
اسی طرح ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ کا مکالمہ بھی بہت دلکش ہے
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جاکے ڈوب مرے
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست میری آن بان کے آگے
پھر گلہری کا جواب
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھناسکھا دیا اس نے
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
اسی طرح ایک اور مثال نظم ہمدرد کی ہے۔
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل ننھا سا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گذرا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پر چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروںگا
مذکورہ بالا تجزیہ کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عہد حاضر میں اقبال کی ان نظموں کی کیا معنویت ہے ۔ علامہ اقبال ایک عظیم اور آفاقی شاعر ہیں۔ اور آفاقی شاعری ہر عہد میں مقبول ہوتی ہے، ہر دور میں بامعنی ہوتی ہے۔ لہذا ان کی نظموں کی معنویت اس دور میں کیا ہے جبکہ یہ دور سائنس اور ٹیکنا لوجی کا دور ہے۔ عہد حاضر میں ان نظموں کو کیا حیثیت حاصل ہوگی؟
یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ نظمیں نصیحت آمیز اور سبق آموز ہیں اور ایسے پند و نصائح ہیں جو ہر عہد میں قابل تقلید ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان نظموں میں جو موضوعات ہیں اورجن علامات مثلاً پرندوں، کیڑوں مکوڑوں اور غیر جاندار چیزوں کا سہارا لیا گیا ہے ، آج کے دور میں بچے ان سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ سائنس کی تعلیم نے انھیں ہر چیز ان کے سامنے مصور و مجسم اور سمعی و بصری شکل میں پیش کرد ی ہے۔ لہٰذا ان چیزوں کی خصوصیات سے آج کے بچے زیادہ اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لیے بچوں میں یہ نظمیں بے حد مقبول ہو سکتی ہیں لیکن اُس صورت میں نہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ پیش کی گئیں یعنی تحریری صورت میں یا تقریری صورت میں ان کو سنائی گئیں ۔ بلکہ بچوں کے سامنے یہ نظمیں Digitalizedکرکے پیش کرنی ہوںگی کیونکہ عہد حاضر کی نئی نسل کو Digitalنسل کہا جائے غلط نہ ہوگا۔ یعنی ان نظموں کو Animateکرکے پیش کیا جائے۔ یہ نظمیںتصاویر، گرافکس اورAnimationکے ذریعہ ہلکی پھلکی موسیقی کے ساتھ بچوں کو دکھائی اور سنائی جائیںتو بچے بہت جلد اس کو قبول کریں گے کیونکہ جو چیزیں سمعی کے ساتھ بصری بھی ہوں ان کے نقوش ذہنوں پر جلدی ثبت ہوتے ہیں۔
مثلاً ’’ترانہ ہندی‘‘کو Animationکے ذریعے پیش کیا جائے تو اس میں پلے بیک میں ترانہ گایا جائے اور بصری صورت میں ہندوستان کی خوبصورتی اور شادابی و ہریالی دکھائی جائے۔ مختلف مذاہب کی علامات اور مذہبی لباس میں ملبوس انسانوں کو دکھایا جائے اور پھر قوم اور وطن سے محبت کا درس دیاجائے۔ اس انداز میں آپس میں بیر نہ رکھنے کی تلقین کی جائے تو اس کو بچوں کا ذہن بہت جلد قبول کرے گا۔
اسی طرح علامہ اقبال کی دیگر نظموں خصوصا جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کے مکالموں پر مبنی نظموں کوتصاویر، گرافکس اور Animation کے ذریعے ان جانداروں کی زبانی پیش کیا جائے۔ ہلکی پھلکی موسیقی بھی ہو۔ منظر کشی بھی ہو۔ گویا کہ پوری نظم کو Visualisedکر دیا جائے تو ایک مکڑا اور مکھی ، ہمدردی، ایک گائے اور بکری، ایک پہاڑ اورگلہری اور ایک پرندہ اور جگنو جیسی نظمیں بچوں کو لبھائیں گی ، اپنی جانب متوجہ کریں گی اوران کے ذریعے بچوں کی ذہن سازی صحیح سمت میں ہوسکے۔
اسی طرح’’ماں کا خواب‘‘، عہد طفلی، بچہ اور شمع اور طفل شیر خوار بھی ایسی نظمیں ہیں جنھیں اگرتصاویر، گرافکس اور Animationکے ذریعے پیش کریں تو بہت ہی پر کشش ، دلکش اور مؤثرہوں گی۔
’’شہد کی مکھی‘‘ بھی ایک ایسی نظم ہے جس کی منظر کشی Animationکے ذریعے بہت اچھی کی جاسکتی ہیں جس میں باغات، پھول اور تتلیاں ہیں۔ شہد کی مکھیاں باغوں میں الگ الگ پھولوں کا رس چوس رہیں ہیں اور پھر شہد بنا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے مناظر بچوں کو بہت پسند آئیں گے۔ اسی طرح چاند ، چاند اور تارے، جگنو اور شمع اور پروانے کی بھی بہترین عکاسی کی جاسکتی ہے۔
آج کی نسل شیر خواری کے عہد سے آگے بڑھتے ہی ٹچ اسکرین والے موبائل اور ٹیب کا استعمال بہت ہی تیزی کے ساتھ کرنے لگتی ہے۔ وہ بچے جو ابھی قلم بھی ٹھیک سے پکڑنا نہیں جانتے اپنی انگلیوں کی نوک سے ٹیب اور موبائل کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا ان نظموں کا اگر مختصر Intractionalسافٹ ویئر بنائے جائیں جو باسانی موبائل ، ٹیب اور کمپیوٹر میں انسٹال ہوسکے تو یہ بہت کام کی چیز ہوگی۔ کیونکہ پھر اس کے ذریعے ہم بچوں تک ان نظموں کو بآسانی پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ان کے لیے تفریح کا سامان بھی ہوگا اور ان کے ذہن میں اچھی اور سچی باتیں راسخ ہو جائیں گی جو ان کے مستقبل کی زندگی کے لیے بہتر ثابت ہوں گی۔
آخر میں اس مضمون اور سمینار کے توسط سے یہ سفارش کی جاتی ہے اور درخواست کی جاتی ہے کہ جو اقبال اکیڈمیاں، اقبال ادارے، اردو اکیڈمیاں اور اردو کے فروغ کے ادارے ہیں اور جو لوگ اردو کے فروغ کے لیے محنت کر رہے ہیں اور خاطر خواہ رقمیں خرچ کر رہے ہیں وہ اگر اس جانب بھی توجہ کریں تو اردو کے فروغ میں یہ ایک اہم اور بڑا قدم ثابت ہوگا۔ نہ صرف اقبال بلکہ دیگر بڑے شاعروں کے ذریعے لکھی گئی بچوں کی نظموں کو بھی اس طرح پیش کیا جائے تونئی نسل کو بھی فائدہ ہوگا اور اردو زبان کو بھی۔
٭٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

