زمانہ ایک شاعر دو، مذہب دو ڈگر ایک، موضوع ایک یعنی زندگی اور کائنات لیکن اس کی جہتیں بکھری ہوئیں۔ دونوں کی عمریں کم و بیش آگے پیچھے چلتی ہوئیں۔ تفاوت کے باوجود دونوں میں کچھ مماثلتیں یعنی ٹیگو راور اقبال۔ دو بڑے فنکار کہیں نہ کہیں کبھی کبھی فکری اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ضرور آجاتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ایسے فنکار کا فکری ارتکاز، زندگی، پر ہوتا ہے۔ یہاں چند اہم نکات کی روشنی میں ٹیگور اور اقبال کے فکر و فلسفے کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ دونوں نے بہت لکھا، جی توڑ کے لکھا۔ فرق یہ ہے کہ ٹیگور نے بنگلہ اور انگریزی میں لکھا۔ جبکہ اقبال نے فارسی اور اردو میں لکھا۔ اگر اقبال کے چار ضخیم جلدوں پر مشتمل خطوط کو شامل کرلیا جائے تو اقبال کی نگارشات بھی کم نہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی میں ان کے مقالے اور ڈائری کے اوراق ہیں۔
ٹیگور اور اقبال نے آرٹ اور تخلیق سے کیامراد لیا اور ان کا کیا ماننا ہے اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔ ساتھ ہی دونوں کی نظر میں مذہب اور عورت کی کیا حیثیت ہے، اس پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔ دونوں نے Self کو کس طرح دیکھا ہے، یہ بھی زیربحث آسکتا ہے۔
ٹیگور تخلیق کو ایک درخت کی طرح دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی اکائی جس کی مختلف شاخیں اور مختلف حصے ہوتے ہیں۔ دونوں کی نظر مشرق یعنی East کی حیثیت کیا ہے۔ وطنیت کو دونوں نے کس طرح پیش کیا ہے۔ یہ سب ایک اکائی کی جہتیں ہیں۔ ان کے نزدیک محبت میں سچائی ہوتی ہے جس کے سبب اس سے سرور حاصل ہوتا ہے۔ اسی سچائی کی تلاش ہے تخلیقی کاوش۔ ان کے نزدیک Self کے Sacrifice سے اور کثرت میں Harmony پیدا کرکے ’لامحدود‘ اکائی کی یافت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے The One کی تلاش میں کئی نظمیں اور مضامین تحریر کیے ہیں۔ انھوں نے Creative Unity کے تعارف میں لکھا ہے:
In love we find a joy which is ultimate because it is the ultimate truth. Therefore it is said in the Upanishad that the advaitam is anantam, – ‘The One is infinite’; that the advaitam is anandam – The One is love.
(The English Writing of R. Tagore, Sahitya Akademy, Vol. Two, 1996, p 494)
ٹیگور جب ’ایک‘ یا ’احد‘کو لامحدود کہتے ہیں تو ذہن ذات مطلق کی طرف جاتا ہے۔ اسی لامحدودیت میں سرور و انبساط بھی ہے۔ اسی ذات مطلق کے لیے ’محبت‘ کا استعمال ہوا ہے۔ یہی ہے دنیا کی سچائی اور حقیقت۔ اشیائے کائنات کے علم کو ’سچائی‘ نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو ایک طرح کا علم ہے اور سچائی صرف ذات مطلق کا ادراک ہے جو مختلف اشیا سے ہوتا ہے۔
ٹیگور نے انا یعنی ’میں‘ کو قیمتی بتایا ہے اور یہ لکھا ہے کہ یہ دیکھنے میں چھوٹا لیکن حقیقت میں عظیم ہے:
The whole weight of universe cannot crash out this individuality of mine
(The Problem of Self: The English Writings of R. Tagore, vol. Two, Sahitya Akademy, p 306, 1996)
ٹیگور کا ماننا ہے کہ اگر میں نے اس وصف خاص یعنی انفرادیت کو کھودیا تو یہ سمجھو کہ میں بالکل ہی Bankrupt ہوگیا۔ اگر یہ ذاتی انفرادیت ختم ہوگئی تو سمجھو پوری دنیا ختم ہوگئی۔ اس کے حوالے سے انھوں نے Avidya یعنی Ignorance، دھرم، ادھرم، نروان، ستیہ یعنی Truth، مایا یعنی Illusion اور پھر اسی طرح نروان، مکتی اور پرماتما پر روشنی ڈالی ہے۔ زندگی کے محدود (Finite) اور لامحدود (Infinite) ہونے کی گرہیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مایا مکت زندگی اور محبت کے وفور سے اس انفرادی قوت یعنی Self کو مستحکم کرنے کی بات کی ہے۔ ٹیگور نے Realization in love کے عنوان سے بھی ایک طویل مضمون لکھ کر اس کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نوع کے مسائل اور نکات کے لیے ٹیگور نے اپنشد، گیتا،بائبل اور گوتم بدھ کے اقوال کو اپنے پیش نظر رکھاہے۔ ظاہر ہے کہ مذہب کوئی بھی ہو، وہ زندگی کی صداقت اور انسانی وجود کے استحکام کی بات کرتا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے اسلامی امور یا اقوال سے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ خیر، یہاں اس سے بحث کرنا میرا مقصد نہیں۔ چوں کہ اقبال سے ٹیگور کا تقابل کرنا ہے، لہٰذا مجھے یہ دیکھنا ہے کہ جس انفرادی قوت جس Self اور Individuality کی بات ٹیگور نے کی ہے اس حوالے سے اقبال کیا کہتے ہیں۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کی فکر اور شاعری کا مرکزی حوالہ خودی ہے، جسے ہم Self اور ٹیگور کی Individuality سے موسوم کرسکتے ہیں۔ اقبال نے اس خودی یعنی Self کی اہمیت یہ بتائی ہے کہ انسان کا مقصد حیات حصول خودی ہے کیوں کہ اسی سے زندگی کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ اپنے آپ تک رسائی حاصل کرنا ہی خودی ہے۔
اقبال کہتے ہیں:
تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
اور پھر یہ مشہور شعر کہ:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اگر انسان اپنی خودی حاصل کرلیتا ہے تو اُسے بادشاہی مل جاتی ہے۔ خودی کو اقبال نے سرِّ زندگانی کہا ہے اور یہ بھی کہ اس کی وسعت حلقۂ شام و سحر سے آگے ہے۔ اسی میں حیات جاوداں کا راز پوشیدہ ہے۔ ٹیگور نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ The whole weight of universe can not crush out this individuality of mine. اوپر ان کے مضمون The Problem of Self کا ذکر آیا تھا۔ اس کے علاوہ انھو ںنے اپنے مضمون Realization of the Infinite میں Finite اور Infinite کی روشنی میں Soul اور Brahmaکے رشتے کو سمجھایا ہے۔ انسان کا Soul کس طرح Brahma یعنی Infinite کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ اُپنشد کے بہت سے اشلوکوں کی روشنی میں ٹیگور نے اس لامحدود مقصد کے حصول کی بات کہی ہے۔ اقبال بھی خودی کو ایک وسیع و عریض صفت سے معمور بتاتے ہیں:
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
خودی کو موت بھی نہیں آتی:
خودی مرتی نہیں مرگ بدن سے
ٹیگور نے اُپنشد کے حوالے سے لکھا ہے:
- It is life that is death (Prano Mrityuh)
- More appearance and disappearance are on the surface like waves on the sea, but life which is permanent knows no decay or diminution.
یعنی :
(a) Prano Virat (For life is immense)
(b) Yadidan Kinncha Prana ejati nihsritam (everything has spring from immortal life and is vibration with life)
اقبال نے ’انا‘ کے تحفظ اور اس کے ارتقا کی بات کی ہے۔ عشق سے ان کی پرورش ہوتی ہے۔ کرۂ ارض پر آدم کو خلیفہ بنا کر بھیجا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس پر ذمہ داریاں بھی عائد کی گئیں۔ اقبال اُسی ذمہ داری کے لیے بار بار نیابت الٰہی کی صفت پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں اور اسی نیابت کے لیے شخصی انا کی پرورش کرنی ہوتی ہے تاکہ خودی کے مقام تک رسائی حاصل ہوسکے۔ اسی مقام سے اقبال خدا سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
یہ ’انا‘ بے جا استکبار نہیں بلکہ خدا کے سامنے بندے کی اپنی ذمہ داریوں پر کاربند رہنے کا اظہار ہے۔ بندہ اپنے خالق کے سامنے اپنی تخلیقی قوت کا اظہار کرتا ہے۔ ٹیگور کے یہاں یہ ناز بندگی نہیں یا یوں کہہ لیں کہ Self کا اظہار اُس طرح نہیں ہوتا جس طرح اقبال کے یہاں ہوتا ہے۔ پوری گیتانجلی میں جو نغمہ و سرود کی محفل سجی ہوئی ہے اس میں ایک طرح کی خود سپردگی، نیاز مندی اور جاں سپاری کے اوصاف ہیں۔ اپنی جگہ اس طرز بندگی کی بھی اہمیت ہے، لیکن اس سے ٹیگور کے Self یا فردیت یا انا یا Individuality کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اس کی ارتقا پذیری مشکوک ہوجاتی ہے۔ گیتانجلی سے دو مختلف ٹکڑے دیکھیے:
مرا غرور سخن ہمیشہ/ندامتوں کا غبار اوڑھے/ تری ثنا میں ہے غرق آقا
سخن کے مالک! میں تیرے قدموں میں بچھ گیا ہوں
——
یہی لمحہ ہے ترے روبرو/ میں ادب سے بیٹھوں خموش لب/ ہے سکوں کی فرصتِ بے پناہ
کروں نذر تحفۂ زندگی/ کہ میں گاؤں نغمہ حیات کا
اس نوع کے نغموں میں ٹیگور کے یہاں ایک طرح کی روحانی سرشاری تو بے شک ملتی ہے، لیکن جس نازبندگی والے تیور اور اسلوبِ اظہار کا حوالہ اقبال کے یہاں ملتا ہے، وہ ٹیگور کے یہاں موجود نہیں۔
اقبال اور ٹیگور دونوں بڑے فنکار تھے، دانشو رتھے۔ دونوں کے نزدیک انسانیت اور عظمت آدم کی اہمیت تھی۔ دونوں نے اس کائنات کا اپنی اپنی طرف مشاہدہ کیا۔ دنیا کو بنائے جانے کا مقصد کیا تھا، دونوں کے نزدیک تقریباً ایک ہے، لیکن دونوں کی ذہنی ساخت کے پیچھے اپنے اپنے مذہبی افکار و رموز رہے ہیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ ٹیگور نے سب سے زیادہ اُپنشد سے استفادہ کیا اس کے بعد گیتا اور پھر عیسائیت اور بدھ مت کی ان اعلا اوصاف سے اکتساب فیض کیا جن کی روشنی میں انسانی قدروں کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے سب سے زیادہ قرآنی علوم و افکار کی تعبیر پیش کی۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے عالم اسلام کے علاوہ مغربی افکار اور فلسفوں سے بھی اپنی ذہنی بالیدگی کے لیے روشنی حاصل کی۔
اقبال نے اسلام کو سائنسی، تہذیبی، فلسفیانہ اور دوسرے جدید تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کا تصور اسلام جدید ذہن کے لیے ہر طرح سے قابل قبول ہے۔ ان کا تصورِ خدا بھی ایک حاکم کا سا نہیں ہے بلکہ ایک اچھے دوست جیسا ہے۔ وہ عظمت آدم اور احترام آدم کو اہم سمجھتے ہیں۔ وہ ناز بندگی کے ساتھ خدا کے سامنے آتے ہیں۔ اقبال نے جس انداز میں خدا سے شکوہ کیا، اس انداز میں ٹیگور کے یہاں کوئی جذبہ ابھر کر سامنے نہیں آتا۔ پوری نظم شکوہ دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بال جبریل کے بہت سے اشعار اس عظمت آدم اور نازبندگی کو ظاہر کرتے ہیں:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھیں کا کام ہے یہ، جن کے حوصلے ہوں زیاد
اقبال کے یہاں صرف خود سپردگی نہیں بلکہ خدا سے جو اقبال کی ہم کلامی ہے، اس میں بھی ناز بندگی کے نقوش دیکھے جاسکتے ہیں۔ وہ خدا کے آگے خوف زدہ اور سہمے ہوئے انداز میں نہیں آتے بلکہ پورے استحقاق بندگی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اشعار:
تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
ایسا اس لیے بھی ہے کہ انھوں نے اسلامی فکر و فلسفے کے مختلف جہات پر غور و فکر کیا تھا جس سے ان کا ایک نیا فکری تناظر خلق ہوا تھا۔ وہ بجا طور پر لکھتے ہیں:
I have given 12 best part of my life to a careful study of Islam, its law and polity, its culture, its history and its literature. This constant contact with the spirit of Islam, as it unfolds itself in time, has, I think, given me a kind of insight into its significance as a world fact.
(Speeches, Writings and Statements of Iqbal, Edited by: Latif A. Sherwani, Iqbal Academy, Pakistan, Lahore, 1995, p3)
اسی بصیرت اور Insight کے سبب انھوں نے کہا تھا:
آدمیت، احترام آدمی
باخبر شو از مقام آدمی
اقبال کے حوالے سے اکثر یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری سے قوموں اور فرقوں کے درمیان خلیج قائم کی۔ اس پر تفصیل سے کچھ لکھنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ البتہ عرض یہ کرنا ہے کہ جو شخص احترام آدمی اور مقام آدمی کی بات کرتا ہو، اس کے حوالے سے یہ بات کیسے سچ ہوسکتی ہے، جاوید نامہ میں وہ کہتے ہیں:
حرف بدبر لب آوردن خطا است
کافر و مومن ہمہ خلق خداست
بندۂ عشق از خدا گیرد طریق
می شود بر کافر و مومن شفیق
اقبال تو انسانی تہذیب کی روح اسی ’احترام آدم‘ کو سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر احترام آدم کی حقیقت سمجھ میں آجائے تو آدم کا مقام گردوں سے بھی آگے ہوسکتا ہے:
برتر از گردوں مقامِ آدم است
اصلِ تہذیب احترامِ آدم است
اقبال اور ٹیگور کی نظر میں فن اور آرٹ
اقبال کی نظر میں فن یا آرٹ کی حیثیت کیا رہی ہے، ان کی شاعری میں اس کی مثالیں مل جاتی ہے۔ اقبال نے فنون لطیفہ پر غور و فکر کرنے کے بعد مختلف فن لطیف پر روشنی بھی ڈالی ہے۔ کسی بھی آرٹ میں وہ خون جگر اور جلال و جمال کی آویزش دیکھنا چاہتے ہیں:
نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام، خون جگر کے بغیر
رنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود
اقبال تخلیقی عمل یا کسی بھی آرٹ میں روحانی جذبے اور ضمیر پاک کے عناصر کی کارفرمائی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ انسان کی فطرت میں جو ہنرمندی اور آرٹ کی صلاحیت ودیعت ہوئی ہے اس سے تعمیری کام لینا چاہتے ہیں۔ وہ حقائق حیات کو ہر لمحہ پیش نظر رکھتے ہوئے آرٹ سے بھی خودی کی تعمیر کا کام لینا چاہتے ہیں۔ وہ آرٹ کو حیات ابدی کے حصول کا ضامن بھی تصور کرتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے:
گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر
وائے صورت گری و شاعری و نائے و سرود
مقصودِ ہنر سوزِ حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا
اقبال مسجد قرطبہ، مسجد قوت الاسلام یا اہرام مصر کی تعریف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ان میں انسانی فکر کی رفعت اور جلال و جمال کی آویزش دیکھتے ہیں۔ وہ محض آب و گل یا سنگ و خشت سے بنی ہوئی عمارت کی تعریف نہیں کرتے۔ دراصل وہ اس میں فکر تازہ کو دیکھتے ہیں:
جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اسی طرح وہ نالۂ نے میں سرمستی کا رازنے نواز کی سرمستی میں دیکھتے ہیں نہ کہ چوبِ نَے میں۔
آیا کہاں سے نغمۂ نَے میں سرور مے
اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے
یہی وہ آرٹ اور فن ہے جو انسان کو قوت اور تازگی عطا کرتا ہے۔ وہ باد سحر جس سے چمن میں افسردگی پیدا ہو، وہ کسی کام کی نہیں۔ وہ کہتے ہیں:
شاعر کی نوا ہو کہ مغنّی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو، وہ باد سحر کیا
افسردگی ہی نہیں، بلکہ اگر تازگی اور قوت نہیں تو فن چاہے جوبھی ہو، زوال اور موت کا پیغام بن جاتا ہے۔ اس لیے اقبال سخت لہجے میں کہتے ہیں:
اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام
حرام میری نگاہوں میں نائے و چنگ و رباب
اقبال فن اور آرٹ میں بلند نظری، فکری بالیدگی، اولوالعزمی، جاں بازی، سرفرازی اور ہمت و جرأت کے عناصر دیکھنا چاہتے ہیں جو کسی بھی قوم کو بلند مقام عطا کرتے ہیں۔ رقص یا موسیقی، تعمیر یا نقاشی و مصوری سب میں اقبال ایک ایسے متوازن حسن کی تلاش کرتے ہیں جس کے باطن میں مذکورہ بالا عناصر کی کارفرمائی ہو:
چھوڑ یورپ کے لیے رقص بدن کے خم و پیچ
روح کے رقص میں ہے ضرب کلیم اللٰہی
صلہ اس رقص کا ہے تشنگیٔ کام و دہن
صلہ اس رقص کا درویشی و شاہنشاہی
وہ نغمہ سردیٔ خون غزل سرا کی دلیل
کہ جس کو سن کے ترا چہرہ تابناک نہیں
نوا کو کرتا ہے موج نفس سے زہر آلود
وہ نے نواز کہ جس کا ضمیر پاک نہیں
اقبال جس فن کا تقاضا کرتے ہیں، وہ کائنات سے ہم آہنگ ہوکر انسانی زندگی کو بامقصد بنا دیتا ہے۔ زندگی جب بامقصد ہوگئی تو گویا کامرانی و سرفرازی حاصل ہوگئی۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیگور اور اقبال کا مشترکہ المیہ – محمد علم اللہ )
جہاں اقبال نے فن اور آرٹ کے بارے میں اپنی شاعری میں اظہارِ خیال کیا ہے ٹیگور نے ایسا نہیں کیا۔ البتہ اس حوالے سے اور اس سے ملتے جلتے کئی مضامین ضرور لکھے۔ انھوں نے بھی فن کو سادھنا سمجھا ہے۔ آرٹ کے ذریعہ انسان اپنے خالق سے گفتگو کرتا ہے۔ ٹیگور کا ماننا ہے کہ ہندوستانی ادب کا زیادہ تر حصہ مذہبی ہے، کیوں کہ مذہب یا خدا ہمارے قریب ہے۔ وہ پھولوں اور پھلوں میں، برسات، بہار اور خزاں میں، تہواروں میں ہر جگہ خدا کو موجود سمجھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
In India, the greater part of our literature is religious, because God with us is not a distant God; He belongs to our house, as well as to our temples. In seasons of flowers and fruits, in the coming of the rain, in the fullness of the autumn we see the hem of His mantle and hear His foot steps. (English Writings of Tagore, Vol. Two, P 358, Sahitya Akademy, 2012)
ٹیگور نے ادب برائے ادب (Art for Art’s Sake) اور ادب کو صرف لذت اندوزی کا ذریعہ سمجھنے سے انکار کیا ہے۔ وہ شاعری کے لیے الفاظ کے انتخاب کو اہم سمجھتے ہیں۔ وہ اشیاء کے اتحاد میں آرٹ کا حسن دیکھتے ہیں۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ کھانے کے کسی Dish کو تیار کرنے میں کن اجزا کا استعمال ہوا ہے، اس کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ ان اجزا کے ہم آہنگ ہوجانے سے جو ’لذت‘ بنی ہے اس کی اہمیت ہے۔ لکھتے ہیں:
When we want to know the food-value of certain of our diets, we find in their component parts; but its taste- value is in its unity, which cannot be analysed.
(English Writings of Tagore : Vol. Two, Sahitya Akademy, p 355)
ٹیگور بھی آرٹ میںSelf اور God کی اہمیت کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کے سامنے بغیر کسی لالچ اور آرزو کے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو یہ منزل آرٹ کی ہوتی ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جہاں اقبال خدا کے سامنے نازبندگی کے ساتھ ہم کلام ہوتے ہیں ٹیگور کے یہاں خود سپردگی اور نیازبندگی کا رنگ نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
When we come to Him, with our offerings and not our wants, and such offerings need art for its vehicle.
معلوم یہ ہوا کہ سچے آرٹ کے لیے اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی حقائق حیات کی ترجمانی کے لیے پُرخلوص طرز اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ دیکھیں گے تو ٹیگور کی شاعری میں کائنات اور اشیاء کائنات سے یک گونہ انس اور محبت کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے۔ دریاؤں اور پہاڑوں میں، سمندروں اور بادلوں میں، سورج چاند اور ستاروں میں وہ خدا کا عکس لطیف محسوس کرکے مخاطب ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ہر حال میں کسی Supreme Person کو اس میں دیکھتے ہیں جیسا کہ انھوں نے کئی مضامین میںPersonality اور Self پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے۔ ایک تخلیق کار کو بھی وہ ایک برہما کی طرح سمجھتے ہیں جو اپنے فن اور آرٹ کی مدد سے کچھ بناتا ہے جس میں اس کے جذبات شامل ہوتے ہیں۔ یہ تخلیق کار کی آزادی اور نجات کا ایک راستہ بھی ہے۔ فن پارہ صرف جمالیاتی حظ اٹھانے کا ذریعہ نہیں کیوں کہ تخلیق سے محض ہیئت یا خارجی مظہر کا رشتہ کم ہوتا ہے جس پر کہ جمالیاتی حظ کا دار و مدار ہے۔
لفظ و معنی کی بحث یہاں شروع ہوجاتی ہے۔لیکن یہاں اس کی گنجائش نہیں۔ ٹیگور نے حسن کو Unity اور Totality میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ آرٹ کو اقبال نے بامقصد قرار دیا ہے۔ وہ ہنر کو سوزحیات ابدی کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔
ٹیگور چوں کہ خود بھی ذاتی طور پر موسیقی، مصوری اور ڈرامے سے جُڑے ہوئے تھے، اس لیے ان کے ادراک اور اقبال کے ادراک میں فرق ہے۔ اقبال چوں کہ مذہب اسلام کی روشنی میں فنون لطیفہ کو دیکھتے ہیں اس لیے انھیں بہت سی چیزیں مہلک نظر آتی ہیں۔ اسلام میں مصوری اور تصویرکشی کی اجازت نہیں۔ ٹیگور خود مصوری سے شغف رکھتے ہیں اور گیت بھی گاتے ہیں۔ ٹیگور کی ذہنی ساخت میں گیتا اور اپنشد کا رنگ ہے۔ اپنے مضامین میں جہاں بھی موقع ہوتا ہے وہ اشلوک پیش کرتے ہیں اور پھر اس کی روشنی میں اپنے فکر و فلسفے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان کے سامنے بھی ذات مطلق ہے۔ اُسی ذات مطلق کے سامنے وہ اپنے نغمات پیش کرتے ہیں۔ گیتانجلی سے چند وجد آفریں نغمے سنیے جو سید ظہیر عباس زیدی کے ترجمے سے ماخوذ ہیں:
مجھ کو لافانی و پایندہ بنانے والے
اے خدا تیری مشیت کے تقاضوں کے نثار
ہے مرا قالب کمزور وہ ظرف ناچیز
جس میں ہے روح کی یہ آمد و شد کی تکرار
کچھ فقط روح نہیں نغمۂ جاویدِ حیات
ہے یہاں موت بھی خود ضامنِ تجدیدِ حیات
——
تونے اس بانس کی ناچیز سی شہنائی سے
کوہ و وادی میں وہ نغمات کیے ہیں پیدا
جن کی آواز مدھر جن کی ہر اک لے شیریں
جن کے آہنگِ ترنم پہ جہاں ہے شیدا
تونے جو چیز بھی بخشی ہے بھلی بخشی ہے
میرے نغموں کو حیات ابدی بخشی ہے
یہاں ٹیگور کے نغموں کا جمال اور فکری آہنگ دونوں دیکھے جاسکتے ہیں۔ حمدیہ اندازمیں وہ کائنات اور اپنی ذات کا مشاہدہ پیش کررہے ہیں۔ یہی ہے ان کا آرٹ اور ان کے آرٹ کا تقاضا۔ وہ بھی اقبال ہی کی طرح خدا اور انسان کے درمیان محبت کا ایک پل تعمیر کرتے ہیں لیکن جہاں اقبال کے یہاں شان اور نازبندگی ہے، ٹیگور کے یہاں عاجزی اور نیازبندگی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

