کسی بھی پودے کی آبیاری اور اس کی کٹائی چھٹائی کرتے ہوئے ذہن کے کسی گوشے میں یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ ایک دن یہ ننھا سا پودا بڑا ہوجائے گا تو اس پر پھول آئیں گے، جن کی خوشبو سے فضائیں معطر ہوں گی اور ذائقے دار پھل بھوک کی تسکین کریں گے۔مطلب صاف ہے کہ اس جانکاہی کے پیچھے شعوری اور غیر شعوری طور پر ایک مقصد ہوتا ہے، جس کے تحت بڑے سے بڑا کام آسان ہوجاتا ہے۔ بچوں کی صحیح پرورش و پرداخت بھی اسی فکر کے تحت ممکن ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بچے والدین کی آنکھوں کے نور اور دل کا سرور تو ہوتے ہی ہیں،ان سے ملک و قوم کا مستقبل بھی وابستہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کی بہتر تعلیم و تربیت سے ملک و قوم کے مستقبل کو روشن کیا جاسکتا ہے۔ خیال رہے کہ بچوں کا ذہن فطرتاً سادہ تختی کی مانند ہوتا ہے، اس پر کندہ حروف بہت دور سے اپنی چمک دکھاتے ہیں۔ یہ والدین اور ملک و قوم پر منحصر ہے کہ وہ اپنے نونہالوں کی پرورش و پرداخت کس فکری نہج سے کرتے اور ان کی سادہ تختی پر کیسا مواد تحریر کرتے ہیں۔ یہ مواد صحت مند اور ان کی ذہنی استعداد، جبلی ضروریات اور نفسیاتی تقاضوں کے مطابق ہوگا تو یقینا بچوں کی دلچسپی بڑھے گی اور وہ تعلیمی زینوں کو عبور کرتے ہوئے آنے والے کل میں قومی ترقی کے افلاک کو چھو سکتے ہیں۔ دوسری صورت ظاہر ہے کہ انہیں تخریب کے راستے پر لے جانے کے لئے کافی ہے۔
میں کھڑکی کے پٹوں کو کھول کر گزرے زمانے میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں تو ماضی قریب سے بعید تک کئی چہرے نظم و نثر کی صورت میں بچوں کا ادب پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ چہرے جو حال کی تگ و دو میں بھی یاد رہ گئے ہیں، ان میں پہلا امیرخسرو کا ہے کہ ان سے "خالقِ باری” منسوب تھی، بعد کی تحقیق کے مطابق اس کتاب کے مصنف کے طور پر امیر خسرو کے بجائے ضیاالدین خسرو گوالیاری کا نام سامنے آیا۔اس کے باوجود پہلیاں اور دوسری نظمیں یمین الدین امیر کو خسروی عطا کرتی ہیں۔ اس کے مدتوں بعد ادبِ اطفال کے افق پر نظیر اکبرآبادی کا نام روشن ہوا۔ انہوں نے اصنافِ شاعری سے شغف رکھا اور جانے انجانے میں ایسی نظمیں کہیں، جو بچوں کے درمیان مقبول ہوئیں اور آج بھی دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ نظیراکبرآبادی سے 1857 تک کئی چہرے ذہن کے پردے پر عکس ریز ہیں کہ انہوں نے بطور تفننِ طبع بچوں کے ادب کو اپنا موضوع بنایا۔ جنگِ آزادی کے بعد حالات بدلے تو بچوں کی تعلیم و تربیت کے سابقہ تمام نظریات اور ضابطے مسمار ہوگئے اور نئے وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق بچوں کا ادب لکھا جانے لگا۔ سرسید نے مضامین لکھے تو ان کے رفقا میں الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد نے نثر و نظم میں بچوں کا ادب لکھ کر اسے معیار عطا کیا۔ بعد ازاں ادبِ اطفال کا ایک لامتناہی سلسلہ دراز ہوا اور ہر چھوٹے بڑے شاعر و ادیب جن میں برج نرائن چکبست، اسماعیل میرٹھی، افسر میرٹھی، تلوک چند محروم، منشی پریم چند، سرمحمد اقبال، اندرجیت شرما،کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، خواجہ حسن نظامی، حیات اللہ انصاری، حفیظ جالندھری، ڈاکٹرذاکر حسین، عفت موہانی، عصمت چغتائی، شفیع الدین نیر، فیض لدھیانوی، فیض احمد فیض، ساحرلدھیانوی، ابنِ انشا، بزمی بھارتی، سطوت رسول وغیرہ نے اپنے اپنے طور پر پیش رفت کی اور متعدد اصناف میں بچوں کے لیے ادب کی تخلیق اور دوسری زبانوں سے بچوں کے ادب کا ترجمہ کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اصناف کی سطح پر بچوں کے ادب کا دائرہ کار وسیع ہوا اور ترجمے کے ذریعے اس میں گہرائی و گیرائی بھی آئی۔ ان اکابرینِ شعر و ادب نے بچوں کی جبلی تقاضوں، ان کی نفسیات اور پسند و ناپسند کا زبان و بیان اور موضوعات کی سطح پر خاص خیال رکھّا۔ انہوں نے آسان زبان میں ایسے موضوع و مواد کو اظہار کا وسیلہ بنایا جو بچوں کے معیار اور ان کی دلچسپیوں کے مطابق ہوں۔ میں واضح کرتا چلوں کہ جنوں پریوں، دیو مالائی، محیرالعقول مواد کی فراہمی بھی بچوں کے فطری تقاضوں کے مطابق تھے۔ اتنا ہی نہیں ایسے تمام موضوعات ادب کا حصہ بنے، جن سے بچوں کی گہری وابستگی ہوتی ہے۔ ان شعرا و ادبا نے ادبِ اطفال کے نام پر جو کچھ بھی لکھا وہ اپنی فکری و فنی جودت کی بنا پر ایک زمانے تک بلکہ میں یہ کہوں کہ موجودہ عہد میں بھی بچوں کی ذہنی و فکری آبیاری میں مُمِدو معاون ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ( یہ بھی پڑھیں سادگی و تہہ داری کی ایک مثال : نیا حمام – ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی )
میں یہ نہیں کہتا کہ ماضی میں بچوں کا جو ادب لکھا گیا وہ تخلیقی معیار کی بلندیوں کو چھوتے ہیں یا پھر یہ کہ وہ بچوں کی دلچسپیوں اور عدم دلچسپیوں کے عین مطابق ہیں۔ ان میں بھی گہر پارے کے ساتھ خَزَف ریزے موجود ہیں، لیکن ایک زمانے میں وہ تحریر ایسی مشہور ہوئیں کہ انہیں گہرپارہ ہی سمجھا گیا۔ وجہ بس اتنی تھی کہ ُاس وقت ادبِ اطفال کا ذخیرہ بہت ہی قلیل تھا، جو بھی تخلیقات وجود میں آتیں انہیں تبرکاً قبول کر لینا فطرت کے عین مطابق ٹھہرتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ زمانہ اردو اور اردو والوں کا تھا۔ بلا تفریقِ مذہب ہندوستان میں بچوں کی تعلیم و تربیت اردو زبان میں ہوتی تھی۔ وہ ایک عمر کے بعد اردو کے اسرار و رموز سے نہ صرف واقف ہوجاتے بلکہ اردو کی کتابیں مطالعے کا حصہ ٹھہرتیں۔ میرے ساتھ بچپن کی گلیاروں میں چل کر آپ بھی دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور اردو کی کتابوں سے شروع ہوتی تھی۔ میں بھی اسی ذریعۂ تعلیم کا پروردہ ہوں۔ میں نے غیر مسلم بچوں کو بھی اسی طرز پر تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے، فرق صرف اتنا تھا کہ وہ عربی کی جگہ ہندی کی منوہر پوتھی پڑھا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بچوں اور بڑوں کے کئی رسالے گھروں میں آتے اور ہم شوق سے ان کا مطالعہ کرتے تھے۔ کئی گھروں میں داستانوں کی بڑی بڑی جلدیں اور جاسوسی ناولوں کے ذخیرے بھی ہوا کرتے تھے۔ میرے گھر میں بھی داستانِ امیر حمزہ کی جہازی سائز میں کئی جلدیں موجود تھیں، علاوہ ازیں ابنِ صفی کے جاسوسی ناولوں کا ذخیرہ بھی تھا ۔ میں نے اپنی ابتدائی عمر میں ہی ان کتابوں کو اپنے بڑے بزرگوں سے چھپاکر پڑھ لی تھی۔ میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اس زمانے میں قارئین کا اکال نہیں تھا۔ اس لیے ہمارے بزرگوں نے جو کچھ بھی لکھا، یہ سمجھے بغیر کہ اس کی اہمیت و افادیت کیا ہے، ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ ( یہ بھی پڑھیں غلام عباس کا افسانوی رویہ -محمد غالب نشتر )
واضح رہے کہ اردو کے تقریباً تمام ادیبوں نے بچوں کے لیے لکھا ہے، لیکن ایسی چیزیں مقدار میں بہت کم ہیں جن پر صحیح معنوں میں بچوں کے ادب کا اطلاق ہوسکے۔ ایک سوال ذہن میں کلبلاتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا سیدھا سا جواب دینا چاہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ بچوں کے ادب کی کبھی تعریف متعین نہیں کی گئی۔ زبان وبیان اور موضوع و مواد پھر اس کی ضخامت کے حوالے سے گفتگو کے دروازے نہیں کھلے اور نہ ہی بچوں کے ادب کو قابلِ اعتنا سمجھا گیا کہ شاعر و ادیب پوری طرح توجہ کرتے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں امیر خسرو سے لے کر آج تک ایک دو کو چھوڑ کر جن میں شفیع الدین نیّر کا نام پیش پیش ہے، کوئی ایسا چہرہ نظر نہیں آتا، جسے خالص بچوں کا شاعر یا ادیب کہا جاسکے۔دوسری چیز یہ کہ ماضی میں ایسا کوئی پیمانہ نہیں تھا ، جس کی روشنی میں حتمی طور پر فیصلہ کیا جاسکے کہ کس عُمر کے بچوں کے لیے کیسا ادب قابلِ فہم ہوسکتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں لکھے گئے بچوں کے ادب کو نئے تعلیمی اصول و نظریات کی چھلنی میں رکھ کر دیکھنا چاہئے کہ اس میں سے کنکر، پتھر اور ایسی تمام چیزیں الگ ہوجائیں جو بچوں کی پسند و ناپسند، فطری و نفسیاتی تقاضوں اور ان کی تہذیب و تربیت میں کسی طرح معاون نہ ہوسکیں ۔ یقین جانیے چھلنی میں جو کچھ بھی بچے گا چاہے مقدارمیں مٹھی بھر سے بھی کم ہوں، یقینا وہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی و فکری ارتقا کے لحاظ سے جواہر پارہ کہلانے کا مستحق ہوگا۔
یاد رکھیے کہ حال اپنے ماضی کی بنیادوں پر استادہ ہوتا ہے، بچوں کے ادب کے سلسلے میں بھی اسی مفروضے کو جائز سمجھا گیا اور اسی لیک پر ادبِ اطفال کی دو پہیا گاڑی مستقبل کی طرف گامزن ہے، چنانچہ بچوں کے ادب کے حوالے سے حال اور ماضی میں زیادہ فرق نہیں کہ آج بھی بچوں کے ادب کے نام پر موٹے موٹے غیر مانوس الفاظ، لمبے لمبے جملے ، زبان و بیان کی ناہمواریوں سے بھرپور لمبی چوڑی کہانیاں ، غیر مترنم اور جگہ جگہ پر اٹکتی ہوئی نظمیں لکھی جاتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بچوں کے ادیب تعلیم و تربیت کے نئے اصول و نظریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسری زبانوں میں لکھے گئے بچوں کے ادب کا مطالعہ کرتے اور عصری تقاضوں کے مطابق ادب تخلیق کو اپنا ایمان بناتے تو یقینا ان کی کاوشیں بچوں کے لیے ہوتیں اور بچوں کے ذہنی و فکری ارتقا اور تعلیم و تربیت کے لحاظ اہمیت رکھتیں ۔ واضح رہے کہ پختہ موضوع و مواد کو آسان زبان و اسلوب میں بیان کردینے سے بچوں کا ادب نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے خود بچہ بن کر ان کے جبلی و نفسیاتی تقاضوں اور پسند و ناپسند کو محسوس کرنا اور اس کے مطابق لکھنا ہوتا ہے۔ ماضی کی لیک پر چلتے ہوئے بچوں کے عصری تقاضوں کو فراموش کردینا عقلمندی کی بات نہیں کہ عصری تقاضوں کو موضوع بنائے بغیر بچوں کا ادب تخلیق کرنا نئے زمانے کی سچائیوں سے آنکھیں چرانا تو ہے ہی، ادبِ اطفال کے مقاصد اور اس کی روح کو بھی مجروح کرنا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نئے زمانے کا بچہ گلوبل ولیج کا پروردہ ہے، جس کا شعور پختہ ہی نہیں بلکہ وہ چاند ستاروں اور ارض و فلک کو الگ زاویے سے دیکھتا اور اس کے مطابق سوچتا ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے ڈیوائس کے ذریعے دنیا بھر کی سیر کر رہا ہوتا ہے۔ اسے جنوں پریوں، دیو مالائی، طلسماتی اور محیرالعقول کہانیوں، غیر دلچسپ نظموں اور ایسی اصناف نظم و نثر سے نہیں بہلایا جاسکتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بچوں کے لیے مذکورہ تمام چیزیں غیر ضروری ہیں بلکہ میرا ماننا ہے کہ بچوں کی جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کی تسکین میں یہ ساری چیزیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن میں بچوں کے لیے ایسے ادب کا تصور کرتا ہوں:
(1) ۔ جو بچوں کی حقیقی زندگی پر مبنی ہو اور جس میں فکر و عمل کے دروازے کھولنے کی قدرت پائی جائے۔
(2) ۔ جسے لکھتے ہوئے بچوں کی نفسیات، ان کی ذہنی سطح اور ان کے تدریجی ارتقاکا خیال رکھا جائے۔
(3) ۔ جو بچوں کی تفریح طبع کے ساتھ اُن کے فکر و عمل کا ساتھ دے، اُن کے شعور کو بیدار کرے، ان میں اچھے برے کی تمیز پیدا کرے، اُن کے نفس کی تہذیب کرے اور جس میں بچوں کو ایک اچھا شہری اور نیک انسان بنانے کی قوت پائی جائے۔
موجودہ منطر نامے پر کئی نام بچوں کے ادب کے حوالے سے مل جائیں گے، میں ناموں کی کھتونی سے بچتے ہوئے بس سوالیہ نشان لگانا چاہتا ہوں کہ ان کی تخلیقات بچوں کے لیے ہوتی ہیں یا نہیں؟ میرے مشاہدے میں عصری منظر نامہ زیادہ مایوس کُن ہے کہ بچوں کے لیے جوادب لکھا جارہا ہے، وہ خیال کی رفعت، جذبے کی صداقت، زبان کی لطافت اور بیان کے حُسن سے عاری ہوتے ہیں۔ ایسی خامہ فرسائی کس کام کی جو دل کو چھو لینے والی کیفیت سے محروم ہوں۔ ان دنوں بچوں کے بزرگ شعرا و ادبا کی تخلیقات میرے مطالعے کا حصہ رہی ہیں، میں نام لیے بغیر کچھ چیزیں پیش کرتا ہوں۔نرسری رائمز یعنی چار سے سات برس تک کے نونہالوں کے لیے لکھی گئیں نظموں کے زمرے میںایک خوبصورت نظم "اکّڑبکّڑ” کا مطالعہ کرتے ہیں:
اکّڑبکّڑ بمبے/بجلی کے دو کھمبے/ دُبلے/ ماموں جیسے/ بھیّا جیسے لمبے/ کھمبوں پر دو کوّے/آئے/ چڑھا کر پوّے/ مل کر گنتے گنتی/ ستّر اسّی نوّے
بلاشک و شبہ نظم تخلیقی معیار کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس میں نرسری کے بچوں کی فکری سطح، ذہنی استعداد، ان کی لفظیات اور نفسیاتی تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے نہ صرف بچوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا بلکہ کندن کی طرح اسے نکھرنے کا موقع بھی ملے گا، لیکن "آئے چڑھا کر پوّے” کو ذہن میں رکھیے۔ یہ پوّا کیا ہے، اگر کوئی بچہ نظم کی قرأت کے دوران پوچھ لے تو اس کا جواب کیا ہوگا؟ میں سمجھتا ہوں کہ وہی نظمیں بامعنی اور بچوں کے درمیان مقبول ہوتی ہیں، جو بچہ بن کر، بچوں کے لیے اور ان کی زبان میں لکھی جائیں نیز ان نظموں کا متکلم بھی بچہ ہو، لیکن بیشتر نظموں کا متکلم بچہ نہیںبلکہ خود شاعر ہوتا ہے، جس کی بنا پر بعض نظموں میں زبان و بیان کی ناہمواری اور تسلسل کے فقدان کا شدید احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنی نظموں میں ایسے موضوعات بھی باندھ دیتے ہیں، جو بچوں کے لیے بلاشبہ سودمند ثابت نہیں ہوسکتے۔ مثال کے طور پر ایک نظم سے چند مصرعے دیکھئے :
ماما کو پھر غصّہ آیا
مردوں والا رعب دکھایا
اک موٹا سا ڈنڈا لائے
تان کے دو اک ہاتھ دکھائے
ان دو مصرعوں میں گھریلو تشددکو موضوع بنا یا گیا ہے، جو ننھے اذہان کی نشو و نما کے لیے مہلک ترین سیرپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ نظم کچھ آگے بڑھتی ہے تو مداری سمجھاتے ہوئے بندریا سے کہتا ہے:
اٹھ بیٹا مت کر نادانی
کام سمجھ سے لے دیوانی
گھر جا ورنہ پچھتائے گی
تیری سوتن آجائے گی
بندریا جو ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی ہے، اسے ہی سمجھ سے کام لینے کی تلقین اور دوسری صورت میں سوتن کے آنے کی دھمکی دینا کیا ادبِ اطفال کا موضوع ہوسکتا ہے؟ بلاشبہ ایسا ادب نہ تو بچوں کی جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی ان کی ذہنی و فکری کُشادگی میں معاون ہوسکتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ بچوں کے لیے لکھی گئیں ایسی تخلیقات کس طرح ان کے جمالیاتی حسن کی تسکین، ان کی تربیت اور نشوونما میں معاون ہوسکیں گی۔کچھ ایسی ہی صورتِ حال بچوں کی کہانیوں، ڈراموں اور دوسری اصناف کا بھی ہے۔ آلِ احمد سرور نے لکھا تھا کہ غزل چاول کے دانے پر "قول ھو اللہ” لکھنے کا فن ہے، یہی جملہ افسانے کے لیے بھی کہا گیا۔ افسانہ لکھتے ہوئے تخیلات کے گھوڑے دوڑانے اور فلسفہ بگھارنے کا موقع کئی سطحوں پر مل جاتا ہے، لیکن بچوں کی کہانیوں میں عمر کا لحاظ، پسند و ناپسند، جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کا دھیان موضوع و مواد اور زبان و بیان کی سطح پر رکھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ موضوع کی صحت، لفظوں کی ہم آہنگی اور کہانی کی طوالت کا باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ کرنا ہوتا ہے۔ مذکورہ تینوں جگہوں پر کہیں بھی جھول رہ گیا تو یقین جانئے کہ محنت رائیگاں ہوئی۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ بچوں کا ادب بالخصوص کہانی چاول پر "قول ھواللہ” لکھنے کا نہیں بلکہ پوری سُورَت لکھنے کا فن ہے۔ بچوں کی چرند و پرند، پھولوں پھلوں، جنوں پریوں، دیو مالائی، طلسماتی اور محیرالعقول کرداروں سے گہری وابستگی ہوتی ہے، چنانچہ عصری موضوع و مواد کو ایسے لبادے میں پیش کرنا کہ اس میں مذکورہ خصوصیات پائی جائیں زیادہ سودمند ہوگا اور بچے آسانی کے ساتھ اپنے اردگرد کی چیزوں سے واقف ہوجائیں گے ۔بچوں کی فطرت تجسّس والی ہوتی ہے، اس لیے کہانیوں میں حیرت و استعجاب کے عناصر ان کے تخیل کو وسعت سے ہمکنار کر کے ذہن میں کئی طرح کے سوالات اٹھائیں گے، جو بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں یقینی طور پر مثبت ہوسکتے ہیں۔ عصری بساط پر بچوں کا ادب ایسی خصوصیات سے بڑی حد تک عاری دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ادبِ اطفال کے لکھاریوں میں کوئی ایسا چہرہ نہیں، جسے صحیح معنوں میں بچوں کا ادیب کہا جاسکے۔ جو لوگ عصری منظر نامے پر بچوں کے ادیب کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں، جب بچوں کا ادب تخلیق کرتے ہیں تو اپنی ذہنی اور فکری سطح کو بلند ہی رکھتے ہیں۔ وہ اسی سطح سے سوچتے اور لکھتے ہیں، چنانچہ ان کا ادب ہوا میں معلق نہ اِدھر کا ہوتا ہے نہ اُدھر کا۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ ہم نے مجرمانہ حد تک اپنے بچوں کو اردو کے حروف بینی سے محروم رکھا ہے، اس لیے روز بروز ننھے قارئین کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ چنانچہ ادبِ اطفال کے نام پر جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے، وہ کتابوں یا رسالوں کی زینت بنا آنسو بہاتا رہتا ہے۔ ادھر چند سالوں میں انٹرنیٹ پر ننھے قارئین کی تعداد خوش آئند طور پر بڑھی ہے، لیکن یہاں بھی اردو والوں کو مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ننھے قارئین اردو کے ابجد سے واقف نہیں تو ادبِ اطفال کی اچھی سے اچھی اور مفید سائٹ کو کھولنے کی زحمت گوارہ کیوں کریں۔ بچوں کے رسائل میں جو کہانیاں یا دوسرے اصناف پر مبنی تخلیقات چھپتی ہیں، ان کی ضخامت ایسی ہوتی ہے کہ بچے چاہ کر بھی نہیں پڑھتے۔ میں نے چند سال پہلے بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے کا تجربہ کیا تھا۔ اسے چھپنے کے لیے بچوں کے ایک بڑے رسالے میں بھیجا تو جواب ملا کہ یہ بہت چھوٹی کہانی ہے، ہم تو تین سے چار صفحے کی کہانی چھاپتے ہیں۔ نتیجتاً ایک ساتھ دو کہانیاں چھپیں۔ دوسری زبانوں میں چھوٹی چھوٹی بلکہ ایک سطری کہانی کو کئی صفحوں میں پھیلا کر پیش کی جاتی ہے، ہمیں ان زبانوں کے ادب کو پڑھنا اور اس کی روشنی میں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ پچھلے کئی سالوں سے ادبِ اطفال کو موضوع بناکر سیمینار ہوئے ہیں۔ مجھے ان کی افادیت سے انکار نہیں، لیکن ان سیمیناروں سے وہ فائدہ نہیں ہوتا، جس کی ضرورت ہے۔ زیادہ اچھا ہوتا کہ سیمیناروں کی جگہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا، تاکہ ادبِ اطفال کے تقاضوں اور تصورات کو عملی طور پر جاننے اور سمجھنے کا موقع ملتا۔ موجودہ عہد میں بچوں کے ادب کے تئیں سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے رویے بھی مایوس کُن ہیں۔ ان کے بجٹ کا بیشتر حصہ بڑے بڑے پروگراموں کو منعقد کرنے اور ایسے ہی دوسرے کاموں میں خرچ ہوجاتا ہے،لیکن ان کی نظروں سے بچوں کے ادیب اور ان کا ادب اوجھل ہی رہتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بچوں کے ادب کو اوڑھنا بچھونا بنا لینا چاہیے، میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ تھوڑی سی توجہ بھی ادبِ اطفال کے لیے آبِ حیات ثابت ہوگی۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ حال اپنے ماضی کی بنیادوں پر استادہ ہوتا ہے، اسی طرح حال بھی مستقبل کے لیے رسد پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ میں بچوں کے ادب کے حوالے سے مستقبل کے بارے میں کیا کہوں کہ آپ کی دانائی کے کیڑے اندرونِ ذات شعلہ ہورہے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

