ناصر عباس نیر کا تازہ افسانوی مجموعہ ’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے ‘‘- توقیر عباس
افسانے کے اثرات اور کیفیات کی اذیت ناکی سے بہت کم لوگ واقف ہو پاتے ہیں۔ یہ گوہر پہلی بار ہاتھ ہی نہیں آتا ہے۔افسانے کی کلیت کو پہلے کا مطالعہ کسی ایک حصے کی فہم میں غلط طور پر مداخلت کر کے ، ریزہ ریز ہ کر سکتا ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ مسئلہ فیثا غورث میں بیا لوجی کا پیوند لگا کر یہ سمجھ لیا جا ے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ افسانہ کی کلی تفہیم ضروری ہوتی ہے ۔ ناصر عباس نیر کا تازہ افسانوی مجموعہ ’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے‘‘ حال ہی میں سنگ میل لاہور سے شائع ہوا ہے ۔ بارہ افسانوں کے اس مجموعے میں قاری کا سامنا تاریخ ، سماج ، ثقافت ، سیاست ، طاقت اور معاشرت کے روشن ، پر شکوہ ، تاریک ، آ سیب زدہ ، شکستہ اور ہیبت ناک ایوانوں اور مناظر سے ہو سکتا ہے ۔ سعادت حسن منٹو نے نیا قانون لکھ کر عام آدمی کی خوش فہمی کو ختم کیا تھا ۔ لیکن ناصر عباس نیر نے ’’ تمھارا قانون‘‘ لکھ کر مقتدر ایوانوں کے سیاہ اذہان کی سیاہ کاریوں کو بے نقاب کیا ہے ۔اس افسانے کو پڑھ کر پڑھ کر قاری پر سکون نہیں رہتا ۔ یہ ایک اذیت بن جاتا ہے ، ایک تکلیف میں مبتلا کرتا ہے ۔ اگر ادب کا کام اعصاب کوجھنجھوڑنا ، احساس میں ہلچل پیدا کرنا ہے اور اذیت میں مبتلا کرنا ہے تو پھر یہی ادب ہے ۔ یہ افسانہ مقتدر اور بالا دست قوتوں کی باطنی تصویر کو سامنے لاتا ہے جن کے لیے قانون موم کی ناک ہوتا ہے ۔ پورا افسانہ جیل کے چند قیدیوں اور افسروں کے گرد گھومتا ہوا ختم ہو جاتا ہے ۔ قیدی ہر جگہ ، ہر لمحہ ،ہر عدالت اور ہر اذیت میں ہنسنا سیکھ لیتے ہیں۔ وہ قانون کے مسخرے پن پر ہنستے ہیں ۔ وہ ہر سوال کے جواب میں جج اور افسروں کے سامنے ہنستے ہیں ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں لیکن ان قیدیوں کویقین ہوتا ہے کہ موت ان کا مقدر ہے اس لیے انہوں نے اپنی زندگی کو سہل کرنے کے لیے ہنسنا ایجاد کر لیا ۔ تکلیف میں ہنسنا واقعی ایجاد ہے ۔ یہاں بھولی بسری یاد کی طرح تاریخ کے ان مقتولوں کی یاد آتی ہے جن کا اجتماعی قتل کیا گیا۔ ان پر زمینیں تنگ کر دی گئیں ۔ انہیں دیس بدر کیا گیا ۔ ان کو اپنی موت کا یقین تھا اس لیے انھوں نے تکلیف کم کرنے کے لیے ہنسنے کا جادو ایجاد کر لیا اور لفظ جادو Magic کہ کر ہنستے تھے اور اپنی زندگی کی تکلیف کم کر لیا کرتے تھے ۔ ویسے بھی نفسیات دان مانتے ہیں کہ ہنسنے سے خوف کم ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے پاگل لوگوں کو روتے ہوے بہت کم دیکھا گیا ہے ۔ وہ ہنستے ہیں کیونکہ انھیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا ہے ۔میرے ذہن میں تو وہ واقعہ بھی تازہ ہو گیا جب عدالت میں عورت کے سامنے اس سے زبردستی زنا کرنے والا مجرم ہنس رہا تھا ۔ یہ طاقت کا اظہار تھا ۔ ’’تمھارا قانون‘‘ میں پانچ قیدی کردار بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں ۔ جیل کا عملہ ان کو طبی امداد دینا چاہتا ہے ۔پہلے ایک قیدی کی مشکیں کسی جاتی ہیں ۔ ڈاکٹر غذا کے لیے بے رحمی سے پلاسٹک کی نالی اس کی ناک میں گھسیڑ دیتا ہے۔ وہ بچنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتا اور آخر میں ڈاکٹر کے منہ پر تھوک دیتا ہے ۔ڈاکٹر اس کے منہ پر تھپڑ مار دیتا ہے ۔اس کے بعد دوسرے قیدی کی باری آتی ہے ۔
اس پورے افسانے میں کسی کردار کا کوئی نام نہیں ہے ۔وہ فقط دو گروہوں میں تقسیم ہیں ۔ایک طاقت ور افسر اور دوسرے کمزور اور مجرم ۔ان کرداروں کو مختلف مذاہب کے مطابق نام دیں تو یہ انہی کے نمائندہ نظر آنے لگتے ہیں ۔ میں نے خود سے کرداروں کے ہندو نام سوچے ۔ مجھے افسانے کی فضا سے ہندی فضا کی بو باس آنے لگی ۔ اسی طرح کا معاملہ عیسائی ناموں سے ہوا ۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں انگریزی افسانہ پڑھ رہا ہوں ۔ پوری فضا اور ماحول انگریزی تھا۔ ان کرداروں کو مسلم نام دیے تو افسانے کی فضا اور زیادہ مانوس محسوس ہوئی ۔ ( یہ بھی پڑھیں آج بھی نتالی نہیں آئی۔۔۔ – سید کامی شاہ )
یہ کردار جیل میں قید تھے ۔ ان پر مختلف جرائم کا الزام تھا ۔جیل میں ایک نیا افسر آتا ہے اور ان میں سے ایک قیدی سے ہنسنے کی وجہ پوچھتا ہے ۔ اس قیدی کے جواب میں سے ایک اقتباس پیش ہے:
’’ ہم سر عام تمہارے قانون کا ٹھٹھا اس لیے بھی اڑاتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔ اس میں مسخرہ پن ہے ۔‘‘
اس مجموعے میں موجود تمام افسانوں میں عالمی تاریخ اساطیر ، سماج ، ثقافت ، متن ، سب کچھ گتھ متھ گئے ہیں کہ عالمی دنیا کی حقیقی تصویر بن گئی ہے ۔
بشکریہ: ناصر عباس نیر صاحب اور جناب توقیر عباص صاحب
(یہ تحریر جناب توقیر عباس صاحب کے فیس بک سے لی گئی ہے۔ )

