شعر زمین/ خالد محمود -خان محمد رضوان
شاید کہ مرگیا مرے اندر کا آدمی
آنکھیں دکھارہا ہے برا بر کا آدمی
یہ بات اکثر مشاہدے سے ثابت ہے کہ کم ہی شخصیات باغ وبہار شخصیات کے زمرے میں آتی ہیں اور بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مجمع الصفات کے حامل ہوتے ہیں ان ہی شخصیات میں ایک معتبر شخصیت کا نام پروفیسر خالد محمودبھی ہے،آپ ادیب، ناقد، انشا پردازاور منفرد لب و لہجہ کے معروف شاعر بھی ہیں، آپ ہر دل عزیز ، خود شناس اورخدا شناس انسان ہیں،اس کا سبب یہ ہے کہ آپ خلیق، منکسر المزاج، خداترس، ملنسار شخصیت ہیں آپ ہر کس و ناکس کا دل موہ لینے کا ہنر جانتے ہیں.
"شعر زمین”(انتخاب) پروفیسر خالد محمود کی غزلوں کا عمدہ مجموعہ ہے،جس میں ان کی چنندہ، منفرد طرز احساس اور لہجے کی غزلوں کو شامل کیا گیا ہے، اس کتاب کے شروع میں پروفیسر عبدالقوی دسنوی کا”خالد محمود”کے نام سے
ایک تعارفی مضمون ہے جس میں انہوں نے خالد محمود کے طالب علمی کے زمانے سے استاذ ہونے تک کے حالات و واقعات کو بے حد سلیقے اور عمدگی کے ساتھ پیش کیا ہے-پروفیسر دسنوی نے ایک جگہ لکھاہے-"پہلی ہی نظر میں، سیدھے سادے، متوسط مسلمان گھرانے کے نمائندے، مہذب، خوش اخلاق، نیک عادات کے حامل دکھائی دیے، پھرکچھ ہی دنوں میں وہ اپنی ذہانت، ذکاوت اور صلاحیت کا سکہ دلوں پر بٹھانے میں کامیاب ہوتے نظر آئے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ کسی اچھے ادارے کوایسے ہی طالب علم کی تلاش رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، کسی ادارے کو اگر ایسے طالب علم مل جائیں توپھر اس کی نیک نامی کاایک دنیا میں شہرہ ہوجائے اور ایک زمانہ اس ادارے کی عظمتوں کا معترف ہوجائے-”
اسی طرح انہوں نے ان کی شاعری کے حوالے سے چند شعروں کے ذریعہ سے بھی تعارف کرایاہے-
پروفیسر مظفر حنفی کا پیش لفظ شامل کتاب ہے- جس میں انہوں نے شاعری کے رجحانات کااجمالی تعارف کراتے ہوے خالد محمودکی شاعری کو آشوب آگہی اور کرب ذات کا اظہار گردانا ہے- جس میں ملت صدیوں سے مبتلا نظر آتی ہے جب کہ خالد محمود کی شاعری کا یہ ایک ضمنی پہلو ہے-اصل پہلو سے ابتک پردہ اٹھ نہیں سکا ہے، سچ تو یہ ہے کہ ان کی شاعری میں غوروفکر کے بہت سارے پہلو مخفی ہیں جو اتنی آسانی سے دسترس میں نہیں آ سکتے، اگر ان کی شعری کائنات کے حوالے سے متن کو پیش نطر رکھ کر فنی خوبیوں اور شعری محاسن پر تحقیقی اور تنقیدی نوعیت کا کام کیا جائے تب جاکر خالد محمود بحیثیت شاعرابھر کر آسکیں گے-
"شعر زمین”(انتخاب کلام)سے پیشتر ان کی درجن بھر سے زائد کتب منظر عام پر آکر مقبول ہوچکی ہیں.جن میں.”اردو ادب میں طنز ومزاح کی روایت”، "اردو سفر ناموں کا تنقیدی مطالعہ”، "شگفتگی دل کی” "سمندر آشنا”، "شعر چراغ”، "دل کا کیا رنگ کروں”، "ادب اور صحافت”، "ادب کی تعبیر” اور ” تفہیم وتعبیر” خاص ہیں-
آپ کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو سے چالیس برسوں تک بحیثیت استاذ رہاہے- آپ نے اپنا تحقیقی مقالہ جامعہ ملیہ کے استاذ پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں لکھا بعد ازاں مسلسل اردو کی خدمت اور اس کی ترویج واشاعت کے لیے پیش پیش ہیں- ویسے ان کا یہ جملہ ادب کے آسمان افق پر مشہور ہے کہ ‘ہم اردو کی نہیں اردو ہماری خدمت کر رہی ہے’-
بہر کیف خالد محمود کی شخصیت ہمہ جہت ہے ان کا تخلقی منطقہ وسیع اور متنوع ہے، نمونے کے چند اشعار ملاحظہ کریں:
مسلسل جھڑتی رہتی ہے ہمارے جسم کی مٹی
اسی مٹی کے جھڑنے کا تسلسل پائیداری ہے
…………………
کہانی یہ تھی کہ سب ساتھ رہتے
پھر اس کے بعداچانک سماں بدلتاہے
……………….
سچ کہنا اور سننا دونوں مشکل ہیں
تم سے مل کردل کو راحت ہوتی ہے
………………..
میں اپنے گھر کے اندر چین سے ہوں
کسی شے کی فراوانی نہیں ہے
……………………….
مندجہ بالا اشعار کوپڑھ کر خالد محمود کی تعمیری فکر اور راسخ العقیدگی کا احساس شدت کے ساتھ ہوتا ہے- ان کی ذہنی وفکری تربیت میں جس تہذیبی وتمدنی پہلو کو پیش نظر رکھاگیا ہے اس کا بہترین اظہار ہمیں ان کے بیشتر اشعار میں دیکھنے کو مل جاتا ہے-
خالد محمود دینی مزاج رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کے ان کے یہاں طمانیت قلب کے ساتھ ذہنی آسودگی اور فکری سیرابی پائی جاتی ہے، ہاؤ ہوکا عالم نہ ان کی زندگی میں ہے اور نہ ہی ان کے فکر و خیال میں ہے، ان کے مزاج میں ٹھہراو پایاجاتا ہے اور فکری صلابت داد ہنر سے بے نیاز ہے-
جہاں ان کے کلام سے استقلال اور تعمیر پسندی کا اظہار ہوتا ہے وہیں ان کے کلام کی تازگی، ندرت اور بلندی خیال کا بھی جابجا ادراک ہوتاہے- ان کے یہاں منفی فکر اور لایعنیت جیسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے اس کے بجائے ان کے کلام میں تہذیبی اوراخلاقی برتاو کلاسیکی رچاؤ کےساتھ انفرادیت قائم کرتا نظر آتا ہے- ان کے یہاں نیرنگ خیال اور متنوع فکری تخیل کے ساتھ جمالیاتی حس کا تڑ کا بھی دیکھنے کوملتاہے-
خالد صاحب کےیہاں موضوعات اور مضامین کے ساتھ ندرت بیان دل گرفتہ کرلیتے ہے، ان کا بیانیہ نہ صرف دل چسپ ہےبلکہ زبان دانی کی رمز شناسی کا بھی بہترین مثال ہے،
یہاں مختلف النوع فکر وخیال کے چند اشعارپیش ملاحظہ کریں -تاکہ فکر کی تازگی، سلاست، تخیل کی پردازی اور جدت فکر کا اندازہ لگایا جاسکے-
نصف دنیا بھوک سے اور پیاس سے مغلوب ہے
دست وبازو، ذہن ودل، لعل وگہر ہوتے ہوئے
…………………..
دیکھی جب اس مکان کی کھڑکی کھلی ہوئی
اک دست ناز یادکا شانہ دبا گیا
…………………….
کوئی شے گھر کی خوش نہیں آتی
وہ برس دو برس سے باہر ہے
…………………………..
مدد اے مالک صبر وتحمل!
مجھے حدسے گزارا جارہا ہے
…………………………….
متذکرہ بالا اشعار سے خالد محمود کے فکری کینوس کے ساتھ تخیلاتی وسعت کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے، ان کا کمال یہ ہے کہ مسائل حیات ہوں کہ مسائل روزگار، سیاسی مدعا ہوکہ دینی، مذہبی اور سماجی مسائل کی عکاسی ہوکہ حسن وعشق کا اظہار، تمام ہی مسائل اور موضوعات کو شائستگی، ندرت اور دلچسپ انداز سے برتنے کا ان کو ملکہ حاصل ہے-
انھوں نے جس طرح اپنے تعلقات کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اسی طرح ان موضوعات کوبھی بے حد عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی ہے-
خالد صاحب نے جن چیزوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایاہے، ان میں ان کی فنی پختگی اور ان کا تجربہ بولتاہے اور ان کے معاملات میں ان کی تربیت کاعکس صاف جھلکتا ہے-
یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو اور نشست وبرخاست میں مذہبی اور تہذیبی روایات کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے-
اس طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب انسان ہی نہیں بلکہ ایک باکمال فن کار کی حیثیت سے بھی ہمیشہ یادرکھے جائیں گے-
…
(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کا ان سے اتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

