پیاری پیاری کٹٹو گلہری
میرے گھر بھی آو نہ
آکر گھر کے چھججے پر تم
گھونسلہ اپبا بناو نہ
دور نہ بھاگو ڈر کر مجھ سے
تم دوست مری بن جاو نہ..
کتر کتر تم کھاتی ہو
ریشم سی پونچھ ہلاتی ہو
مرضی موافق ، منڈراتی ہو
جھٹ سے پیڑ پر بھی، چڑھ جاتی ہو
مرغوب ہیں مجھ کو ، انداذ تمہارے
اپنے انداذ سے دل بہلاو نہ…
ماسوم سی بھولی صورت ہے
چوہے جیسی مورت ہت
جسم پہ دھاری بھوری، کتتھی
لگتی بہت خوبصورت ہے
ہو کتنی مطمین اپنی ذات سے
ذرا ہم کو بھی بتلاو نہ …
تم چھوٹی سی پر ، چیز بڑی ہو
کہ کبھی نہ خود پہ غرور کیا
ہمت اور جزبہ بہت ہے تم میں
جو پہاڑ کا گھمنڈ چور کیا
اب آو چل کر میرے ساتھ
خاکی کی بھی آنکھیں کھلواو نہ …
پیاری پیاری کٹٹو گلہری
مرے گھر بھی آو نہ
آکر گھر کے چھججے پر تم
گھونسلہ اپنا بناو نہ
دور نہ بھاگو ڈر کر مجھ سے
تم دوست مری بن جاو نہ

