Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras دسمبر 21, 2020
by adbimiras دسمبر 21, 2020 0 comment

گردش پا/ زبیر رضوی – پروفیسر کوثر مظہری

 

کبھی کبھی خودنوشت سوانح کے نمونے انسانی زندگی اور فکری انتشار کے لیے کامیاب اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ حیات جاوید (سرسید کی سوانح، جو خود نوشت نہیں ہے)، تذکرہ (مولانا آزاد)، اس آباد خرابے میں (اخترالایمان)، اپنی تلاش میں (کلیم الدین احمد)، جہانِ دانش (احسان دانش) آشفتہ بیانی میری (رشید احمد صدیقی) وغیرہ کا مطالعہ کرکے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے اور زندگی کے تجربات کو ہم بطور مشعل راہ کے اپنی حیات کی تیرہ شبی کے لیے محفوظ کرلیتے ہیں مگر اردو خودنوشت سوانح عمریوں میں جوشؔ کی ’’یادوں کی برات‘‘ کو بہت شہرت ملی، کیوں کہ اس میں انہوں نے اپنے اٹھارہ کامیاب عشق کا ذکر کیا تھا اور اپنی جنسی خواہشات کی پھلجھڑیاں چھوڑی تھیں۔

زیر مطالعہ کتاب زبیر رضوی کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ اس میں بھی تقریباً اسی طرح کے نقوش اور واقعات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس طرح جوش کی کتاب میں ملتے ہیں۔ سوانح نگاری میں زندگی کی ترتیب بھی کہانی اور ناول کے پلاٹ کی طرح ہوتی ہے تو دلچسپی قائم رہتی ہے۔ مگر یہاں ترتیب نام کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت زبیر رضوی کی اس کتاب پر میرا تبصرہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر ’’استعارہ‘‘ کے مدیر اور حضرت زبیر رضوی کے دوست محمد صلاح الدین پرویز نے دوران گفتگو اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے بے حد اصرار کیا۔ ہوسکتا ہے انہیں یہ کتاب بہت پسند ہو۔ پہلے تو میں انکاری رہا مگر وہ اتنے مصر ہوئے کہ مجھے اپنے آپ کو بحر غلاظت میں غوطہ زن ہونے کے لیے تیار کرنا پڑا۔ سوانح عمری کے باضابطہ آغاز سے پہلے زبیر رضوی نے اپنی نظم ’’دھوپ کا سائبان‘‘ پیش کی ہے۔ اس نظم کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کو خلوت اور جلوت میں ایک سا ہونا چاہیے۔ ( یہ بھی پڑھیں   علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں/ ڈاکٹر الیاس الاعظمی-  ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )

پردا کھینچ کر کپڑے اتارنا اور بات ہے اور سب کے سامنے بے لباس ہونا اور بات ہے۔

گویا بے لباس ہونے کے لیے پردے کی ضرورت نہیں۔ جرأت مندی تو یہ ہے کہ سب کے سامنے بے لباس ہوا جائے تو کیا اسلام نے جو پردے پر زور دیا ہے، ستر عورت کی بات کی ہے، وہ بے معنی ہے؟ ایک تو غلط کاریوں سے شغف رکھا جائے اور پھر یہ کہ دیدہ و دانستہ بہ بانگ دہل خم ٹھونک کر بصد ناز اپنی اُن غلط کاریوں کو مشتہر کیا جائے۔ دراصل ایسے لوگوں کے پاس ایسے امور ہوتے بھی نہیں جن کا انطباق جہاد فی القوم یا جہاد فی سبیل اللہ پر ہوسکے۔ ’’گردش پا‘‘ ص:۸ پر تحریر ہے:

’’آندھی اور بارش رُکی تو ماں مصلیٰ بچھا کر بیٹھ گئی اور بہت دیر تک سجدے کی حالت میں ڈوبی رہی۔ ایک چوکی پر بچھا ہوا مصلیٰ اور الماری کے سب سے اوپر کے خانے میں رکھا ہوا قرآن میری ماں اور میرے باپ دونوں کے لیے ہر دکھ اور مصیبت کا علاج تھا… ان کی نمازیں، قرآن خوانی اور اُن کا وعظ ساری بستی میں مشہور تھا۔‘‘

یہ ہے وہ تقدس آمیز ماحول جہاں زبیر رضوی کی پرورش و پرداخت ہوئی۔

اردو شاعروں اور شاعری میں امردپرستی رائج رہی ہے۔ جوش اور فراق، اس کے لیے بہت مشہور ہوئے۔ فراق کو اولیت حاصل رہی۔ زبیر صاحب نے اس وقت کا ذکر کیا ہے جب وہ شاعر نہیں تھے بلکہ دوسرے کا کلام ترنم سے پڑھا کرتے تھے۔ رامپور کے مشاعرے کا واقعہ ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ایک صاحب بہلا کے مجھے ایک کمرے میں لے گئے۔ دیکھا تو جوش طلوع ہورہے تھے۔ مجھے اُن کے مقابل بٹھا دیا تھا اور جو لفظ میرے کانوں میں پڑے وہ اس طرح تھے۔‘‘ صاحب زادے خدا نے تمہیں آواز دی ہے۔ جوش صاحب تمہیں کلام دیں گے۔ جب تم اس کمرے سے نکلو گے تو یہ تمہیں ہندوستان کا بڑا شاعر بنا چکے ہوں گے۔ اب وہ صاحب باہر تھے اور دروازہ بند تھا۔ میں جوش کی باہوں کے حصار میں تھا۔‘‘

اسی طرح کا ایک بیان فراق صاحب کے تعلق سے ہے کہ راہی معصوم رضاؔ اور زبیر صاحب، فراق کے کمرے میں گئے۔ رقم طراز ہیں:

’’ہم دونوں کو دیکھ کر انکی آنکھیں چمک اٹھیں… خالی جام بھرا اور ہم دونوں کے ’’سراپے‘‘ پر للچائی نظر ڈالی۔ بولے ’’تم دونوں خوبصورت ہو ہم تمہیں شاعری کرنا سکھائیں گے۔‘‘

ان دو اقتباسات سے جوش اور فراق کی امردپرستی اور بے حیائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں زبیر رضویؔ کا کوئی گناہ نہیں۔ البتہ ان کا ذکر ان کے اخلاقی منصب کے منافی ہے۔ مگر آئیے، ذرا ان معاملاتِ جمالیات اورجمالیاتی احساسات کا ذکر کیا جائے جو اس خودنوشت سوانح عمری میں بطور نگینے کے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’میں نے اپنے پڑوسن کے آنگن سے ملی دیوار میں چھید کردیے تھے۔ میری آنکھ اکثر و بیشتر ان چھوٹے چھوٹے چھیدوں سے چارپائی کی اوٹ میں نہاتی ہوئی پڑوسنوں کو دیکھتی۔ میں آپا جان کا ننگا بدن دیکھتا تو میری ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ جاتیں۔‘‘             (ص:۲۰)

اس حرکت کی اجازت نہ معاشرہ دیتا ہے نہ اسلام۔ پھر یہ کہ جس آدمی کی تربیت پوری طرح مذہبی اور مقدس ماحول میں (جیسا کہ والدین کے حوالے سے پہلے ذکر ہوچکا) ہوئی ہو، اس سے ایسے عمل کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ قرآن کریم کی سورۂ نور میں مذکور ہے:

’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں (جنسی اعضا) کی حفاظت کیا کریں، یہ اُن کے لیے بہت زیادہ تزکیہ کی بات ہے جو کچھ یہ کاری گریاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن سے خبردار ہے۔‘‘

نظریں نیچی کرنے کی بات تو الگ، یہاں دیوار میں چھید کرکے عمداً پابندی سے عورتوں کے ننگے بدن کو دیکھنے کی بات کی گئی ہے۔ اسلام نے جنسی تقدس اور جمالیاتی احترام کا بھرپور درس دیا ہے، مگر ہماری آنکھیں اُدھر کہاں اٹھتیں، کہیں اور بھٹکتی رہتی ہیں۔ حضرت بریدہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا:

’’اے علیؓ (عورت پر) نظر پڑنے پر دوبارہ نظر نہ ڈال، پہلی نظر (اتفاقی) تو تیرے لیے جائز ہے لیکن نظر مکرر جائز نہیںہے۔‘‘    (احمد ترمذی، ابوداؤد، باب النکاح، بیان النظر، بیان العورت)

یہاں تک کہ مرد کو بھی بلاضرورت اپنی ران عریاں کرنے کی اجازت نہیں بلکہ مردہ کی ران دیکھنے کو بھی منع کیا گیا ہے۔ چہ جائیکہ عورت کے ننگے بدن کا بہ نظر غائر معائنہ کیا جائے اور پھر عمر کے اخیر پڑاؤ پر اس کا ذکر چٹخارے کے لیے کیا جائے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ نہاتے آبنوسی بدن والے لڑکوں کو دیکھ کر ’’شوقینوں‘‘ کی رال ٹپکنے لگتی۔‘‘ (ص:۲۱)

گردش پا کے صفحہ ۳۴ پر زبیر صاحب نے اپنے گھر کے پاس لگے نل سے پانی لیتی ہوئی نوخیز لڑکی کا ذکر بھی دلچسپی کے ساتھ کیا ہے۔ میرا خیال ہے اس حصے سے کچھ ٹکڑے ملاحظہ کرلیجئے کہ اس طرح کی خود نوشت، اس نئی نسل کی ذہنی تربیت کا سامان کس طرح فراہم کرسکتی۔ لکھتے ہیں:

’’وہ خالی گھڑا لیے کھڑکی کے آگے سے گزرتی ہوئی جارہی تھی۔ اس کا باریک کرتا دونوں کولہوں کے آس پاس سے بھیگ گیا تھا… وہ پانی سے بھرا گھڑا لے کر جب لوٹی تو میری سوچ نے آبائی بستی کی بڑی عمر کی عورتوں کو چھت پر نہاتے ہوئے بے پردہ چھوڑ دیااور اس کے مٹکتے کولہے کے ساتھ چلنے لگی۔‘‘

اسی لڑکی کے ساتھ آگے چل کر جو کچھ ہوا، اس کے لیے موقع یوں ہاتھ آیا کہ ایک روز گھر کے سارے لوگ ایک شادی میں گئے۔ زبیر صاحب کی بھابی کو کچھ کپڑے یاد آگئے۔ جناب واپس آئے۔ اسی وقت وہ لڑکی دروازے پر آئی کہ گھر کے اندر لگے نل سے پانی لینا، اب اس کا معمول بن گیا تھا۔ آگے ملاحظہ فرمائیے:

’’اور بھیگ کر اس کا بدن بے پردہ ہوگیا تھا۔ میں نے سہارا دے کر اپنے مضبوط ہاتھوں سے اس طرح اٹھایا کہ وہ پل بھر کو مجھ میں پوری طرح سمٹ گئی… وہ کھل کھلا کے ہنس پڑی۔ ہم دونوں دوسرے ہی پل اندر کے کمرے میں اس تیسری پیاس کو بجھانے کی بے حد معصوم کوشش کررہے تھے…                                                                              (ص:۳۵)

زبیر صاحب ایک ضروری کام سے گھر آئے تھے مگر موقع غنیمت جان کر ’’تیسری پیاس‘‘ بجھانے کی بے حد معصوم کوشش میں مصروف ہوگئے۔ تو کیا اپنی غلط کاریوں کا ڈھنڈورا پیٹنا انسانی اور معاشرتی تہذیب کا شیوہ ہے؟ میں اس پر بہت زیادہ روشنی ڈالنے سے قاصر ہوں۔ قارئین، کتاب پڑھ کر خود ہی فیصلہ کرلیں گے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے لیے ارشاد نبویؐ کو سامنے رکھنا چاہیے کہ ’’اللہ جمیل یحب الجمال‘‘ مگر اس کا سیاق بھی نظر میں ہو تو بہتر ہے ورنہ راستے سے بھٹکنے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ شیطان کے طریق واردات (Modus Operandi) سے ہم کم کم ہی واقف ہوتے ہیں۔ ورنہ ہر گھڑی ’’تیسری پیاس‘‘ کے چکر میں خود کو خراب کیوں کرتے؟ جذب و شوق کی جولانی ہو مگر ناقہ بے زمام کی طرح نہ ہو، ورنہ خود نوشت محض اپنے برے کاموں اور غلط کاروں کا دفتر بن جائے گی۔ ایسی باتوں کے لیے کچھ لوگ اخلاقی جرأت کا استعمال کرتے ہیں مگر وہیں اخلاق حسنہ اور اخلاقی جمالیات اور تقدس کو بھلا دیتے ہیں۔

آئیے اس خود نوشت سے ایک اقتباس اور نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ مصنف کو آرٹ اور کلچر سے کتنا لگاؤ ہے اور آرٹ کلچر سے لگاؤ رکھنے والوں سے کتنا لگاؤ ہے۔ یہ زبیر صاحب کے دورۂ دمشق کا واقعہ ہے جہاں دمشق کی مشہور رقاصہ پر انہوں نے اپنے خیر مقدم میں ملنے والے پھولوںکی ساری پتیاں نچھاور کردی تھیں پھر اس رقاصہ نے فرش پر بکھری پتیوں کو سمیٹ کر اُن پر نچھاور کردی تھی۔ (اتنی زحمت تو وہ کر ہی سکتی تھی) وہ آگے لکھتے ہیں:

’’تالیوں کے شور میں وہ اچھلتی کودتی ہوئی اس چھوٹے سے ہال سے باہر چلی گئی تھی لیکن    اس کے پیٹ اور کولہوں کی جنبش میرے اعصاب پر ایسا کچھ کرگئی تھی جو مٹائے نہیں مٹ رہا تھا۔‘‘                                                                                                   (ص:۳۸)

جب وہ رقاصہ فرش سے پیتاں سمیٹ کر نچھاور کرسکتی ہے تو پھر فوراً بغیر اپنے مہمان سے     گھل مل کر باتیں کئے ہوئے اچھلتی کودتی ہوئی ہال سے باہر کیسے چلی جائے گی؟ میزبانی کا یہ انداز کچھ            اچھا نہیں رہا۔

زبیر رضوی آل انڈیا ریڈیو کی نمائندگی کرنے جب نیوزی لینڈ گئے تھے تو وہاں بھی ان کی جمال پرست طبیعت میں ابال آگیا اور بڑی دیدہ دلیری سے وہاں کی Asia Pacific Broadcasting Union کی ڈائرکٹر جنرل کے حلقے میں پہنچ کر اسکی انگلیوں میں ایک کاغذ کا پرزہ دیا جس پر لکھا ہوا تھا۔

Confiscate my Passport if you can (تم میرا پاسپورٹ ضبط کرسکتی ہو اگر چاہو)۔ یہ ان کا رومانی انداز تھا۔ انجام سے بے خبر۔ پہلے تو انہوں نے بقول ان کے، اپنی بساط بھر جتنی انگریزی آتی تھی، اس نامعلوم عورت کی شان میں شاعرانہ لفاظیت کی۔ یہ انہوں نے خود لکھا ہے۔ وہ بھول گئے کہ وہ ایک اہم منصب اور مقصد سے وابستہ ہوکر AIR کی نمائندگی کررہے ہیں۔

کتاب کے اخیر کے صفحات میں بھی انہوں نے چٹخارہ آمیزی سے کام لیتے ہوئے اپنی ایک پرانی دوست رنجناؔ کا ذکر کیا ہے جو انہیں بینک میں ملتی ہے۔ دونوںایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ دوسرے روز رنجنا دو گھنٹے کا وقت لے کر آتی ہے۔ رنجنا اب NGO چلاتی ہے۔ حرام کے بچوں کو یورپ کے بے اولاد جوڑوں سے فروخت کرتی ہے۔ گفتگو کے دوران زبیر صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا تم اس کے لیے حمل بھی ٹھہرواتی ہو؟‘‘  وہ (رنجنا) حامی بھرتی ہے کہ ہاں جس طرح لوگ خون بیچتے ہیں، عورتیں اپنی کوکھ بھی بیچتی ہیں۔ رنجنا کہتی ہے کہ بلکہ ایک بار تو میں خود بھی ایسا کرچکی ہوں۔ آگے لکھتے ہیں: اس نے بے حد کامیاب سیل مین کی طرح اپنے پورے جسم کو شہوانی Curveدیتے ہوئے آنکھ ماری اور پوچھا۔ ’’حمل ٹھہراؤ گے۔‘‘

اس بے تکلفی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ۲۵ برس پہلے اور کس درجہ بے تکلفی رہی ہوگی۔ ’’گردش پا‘‘ میں کچھ جگہوں پر اچھی نثر ملتی ہے۔ مگر مواد کی غلاظت اسے بھی آلودہ کردیتی ہے۔ یوں بھی اس کتاب میں ان کے اسفار کے احوال زیادہ ہیں، تو کیا اس میں سفر نامے کے عناصر زیادہ نہیں ہوئے؟ سرورق کی دوسری طرف جہاں تصویر ہے، لکھتے ہیں:’’انہی آنکھوں کے ڈر سے سچ سچ لکھا ہے کہ جن آنکھوں نے آپ کا ماضی دیکھا ہو، ان کے سامنے زندگی کی بخششوں پہ اترانا بے تہوںکو زیب دیتا ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ دنیا میں ان آنکھوں کے دیکھنے کی اور چیزیں تھیں کہ نہیں؟ اسی لیے تو میں نے شروع میں قرآنی آیات کے ترجمے دیے۔ اگر نظر کی حفاظت کرلی جاتی تو اس خود نوشت کی نوعیت الگ ہی ہوتی۔  ’’گردش پا‘‘ میں صرف بکھرے ہوئے خیال اور جمال پرستی کا تلذذ آمیز جوہر ہے۔ یہ جوہر، آنکھ اور سوچ دونوں کے لیے مہلک ہے۔ یہ ادب کا حصہ نہیں بن سکتا…

 

 

(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasgardish paazubair rizviادبی میراثگردش پا
0 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مخمور سعیدی کی ادبی صحافت – حقانی القاسمی
اگلی پوسٹ
استعارہ ، حقیقت سازی اورمعنی کی گردش- ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں