ادب زندگی کا ترجمان ہے۔ یہ زندگی کی مختلف جہات پر اپنی گرفت مضبوط رکھتا ہے۔ زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جو ادب کے حوالے سے ہمیں حقیقت کا آئینہ نہ دکھاتا ہو نیز ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی نہ کرتا ہو۔ شاعر و ادیب لفظوں کی مینا کاری سے زندگی کی ان تصویروں میں رنگ بھرتے ہیں اور مختلف اصناف ادب کے حوالے سے تخلیقی فن کو معراج عطا کرتے ہیں۔ اردو شعراء کا ایک کارواں ایسا بھی ہے جس نے روایتی بندشوں کو توڑ کر مواد و اسلوب کی سطح پر شاعری کی نئی راہ ہموار کی اور تکنیکی اعتبار سے شعر فہمی کی نئی مثال بھی پیش کی ۔ اردو ادب میں جن شعراء نے روایت سے بغاوت کی بہترین مثال پیش کی ہے ان میں ایک قابلِ اعتبار نام محمد ثناء اللہ ثانی ڈار کا ہے جسے اردو دنیا میراجیؔ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ میراجیؔ نے مختصر عرصہ حیات پائی لیکن اس مختصر سی زندگی میں انہوں نے اردو ادب کو وہ گوہر عطا کیا جس کی تابانی فی زمانہ برقرار رہے گی۔ میراجیؔ نے نظموں اور گیتوں میں جو تجربے کئے اور شاعرانہ ہنر مندی کے جو جوہر دکھائے ہیں وہ میراجیؔ کو حیاتِ دوام بخشا ہے۔ ان کا جداگانہ اسلوب ان کی شناخت کا باعث ہے۔ ان کی نظمیں نئی لفظیات اور علامات و استعارات کی نئی فضا تشکیل کرتی ہیں۔ جن میں معانی کی نئی قوس قزح تعمیر پاتی ہے۔ گیتوں میں وارداتِ قلبی کا عکس نمایاں ہے۔ دراصل میراجیؔ کا اصل شعری سرمایہ ان کی نظمیں اور گیت ہی ہیں لیکن میراجیؔ نے چند غزلیں بھی کہی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کی خیال بندی – مہرفاطمہ)
میراجی نے گیتوں اور نظموں میں اجتہادی فکر و نظر کی خوبصورت مثال پیش کی ہے۔ تاہم انہوں نے غزل کی طرف خصوصی توجہ نہیں دی۔ غزلوں سے بے التفاتی برتنے سے متعلق یہ رائے قائم ہوتی ہے کہ میراجی کا اخترعی ذہن غزل کی پابندیوں کو بہر طور قبول نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے نظموں میں بھی روایتی بندشوں کو توڑ کر نئی ہیئت کی مثال پیش کی ہے۔ حالانکہ غزل کی محدود ہیئت میں بھی لامحدود کیفیات و تجربات کو سمونے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ لیکن میراجی کو غزل کی تنگ دامانی کا گلہ رہا۔ ان کے نزدیک غزل کا پیمانہ اس قدر وسیع نہیں کہ وہ انسانی نفسیات اورتجربات کا مکمل احاطہ کرسکے۔ وہ غزل کو عشق و محبت اور محبوب کے حسنِ ادا کے دلفریب مناظر کا مرقع تصور کرتے ہیں نیز وہ اس بات سے بھی معترض رہیں کہ غزل میں وہ وسعت نہیں جو مختلف کرداروں کے اعلیٰ صفات اور متنوع کیفیات سے قاری کو روشناس کراسکے۔ غزل سے متعلق میراجی کی چند آرا یہاں پیش کرنا چاہتی ہوں جس کے توسط سے غزل سے ان کی بے التفاتی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے مضمون’’نئی شاعری کی بنیادیں‘‘ میں وہ غزل سے متعلق رقمطراز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’پہلے اردو شاعری کے راج بھون میں مدت سے پھولوں کی ایک سیج بچھی ہوئی تھی اور اس پر ایک چنچل سندری غزل کا روپ دھارے سولہ سنگاروں سے سجی بیٹھی ہوئی تھی۔ تشبیہوں کی داسیاں، استعاروں کے چنور ہلاتی ٹہل سیوا میں مصروف تھیں۔راج محل میں آنے جانے والے چنچل سندری کی موہنی چھب سے اپنی آنکھوں کوٹھنڈک پہنچانے والے چنے چنائے گنتی کے چند آدمی تھے۔اور ایسی الگ اور اچھوتی سبھا میں ہر کسی کو جانے کی جرأت بھی نہ ہو سکتی تھی۔ وہاں وہی جاسکتا تھا جسے راج دربارمیں جانے کا سلیقہ ہو، جو ایسی محفلوں کے ادب آداب سے واقف ہو، جو دوسروں کی سن کر واہ واہ کہہ سکتا ہو، اپنی سی کہنے پر نہ تلا بیٹھا ہو۔‘‘
(مضمون’’نئی شاعری کی بنیادیں‘‘ مشمولہ میراجی: ایک مطالعہ، مرتب جمیل جالبی، صفحہ۵۲۲، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی ۱۹۹۲)
ن۔م۔ راشد کی نظم ’’ خودکشی‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے انہوں نے غزل میں ہیئت کی یک رنگی کی طرف اشارہ کیا ہے اور انہوں نے اسے عاشق زار اور محبوب کی جفاکشی سے تعبیر کیا ہے انہیں غزل میں واعظ کی ریاکاری کا عکس بھی نظرآتا ہے وہ رقمطراز ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
’’پہلی اردو شاعری میں کردار نگاری مثنوی ، مرثیے اور ہجو تک محدود تھی۔ غزل کے کرادر مثلاً عاشق زار ، محبوب جفا کار، رقیب ناہنجار، واعظِ ریاکار یا زاہد شب زندہ دار اپنے آپ میں چلتا پھرتا عکس نہیں رکھتے تھے۔ یہ سب کردارمحض محدود، مخصوص رحجانات کے مجبور تھے، جن سے ایک معین موقعے پر معین چلن ہی کی توقع کی جاسکتی تھے،گویا یہ مشینی تھیں، بلکہ ریل کے انجن تھے جو شاعرانہ محکمے کی ساختہ پٹریوں پر ہی چل سکتے تھے۔ اپنے آپ میں آکر کسی نئی ڈگر پر چلنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ لیکن نئی شاعری میں جب شاعروں کو غزل کی یک رنگ ہیئت سے چھٹکارا حاصل ہو اور وہ اس تنگنائے سے ہٹ کر بہنے لگے تو جہاں ان کی اپنی انفرادیت نے نت نئے رنگ نمایاں کرنے شروع کئے وہیں شعر میں شخصیت اور کردار کے نئے امکانات بھی پیدا ہو گئے۔ آج اردو کے نوجوان شعراء کے کلام میں جہاں ان کی اپنی انفرادیت کے مختلف رنگ موجود ہیں وہاں ان کے اپنے کئے ہوئے مطالعے بھی کردار کے تنوع میں اضافہ کررہے ہیں۔‘‘
(اس نظم میں ، میراجی، صفحہ۱۰۸،سٹی پریس بک شاپ، کراچی،۲۰۰۲)
وہ ہیئت کے ساتھ ساتھ اسلوب کی سطح پر بھی نظم کو غزل کے برخلاف موزوں تصور کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
’’جب سے اردو شاعری پر نظم کی حکومت ہوئی ہے، ہمیں نت نئے انداز دکھائی دینے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ تشبیہہ اور استعارے میں بھی جدید اسلوب پیدا ہوگئے ہیں۔‘‘
(اس نظم میں ، میراجی، صفحہ۱۹۲،سٹی پریس بک شاپ، کراچی،۲۰۰۲)
غالباً یہی وہ نکات ہیں جس کی بنیاد پر میراجی صنف غزل سے منحرف اور صنف نظم سے معترف نظر آتے ہیں چونکہ غزل کا ہر شعر ایک اکائی ہوتا ہے لہٰذا دو مصرعوں میں شاعر کو اپنے خیالات کے بہاؤ کو سمیٹنا پڑتا ہے۔ گویا غزل ایجازو اختصار کا فن ہے۔ اس کے برعکس نظموں اور گیتوں میں خیالات کے بہائو کو فراونی حاصل ہوتی ہے جس کے سبب ان کا مزاج غزل کے بجائے نظم کی طرف زیادہ مائل رہا۔ لہٰذا انہوں نے غزل کے برخلاف نظموں اور گیتوں کو اپنے لامتناہی جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنایا اگرچہ میراجی نے غزل سے بے اعتنائی ضروربرتی لیکن وہ اس کی سحر آفرینی سے اپنا دامن نہ بچا سکے اور غزل کے اعترافی نقوش نے ان کے قلم کو زنجیر غزل کردیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ ’’کلیات میراجی‘‘ میں ان کی ۱۷ غزلیں اور چند متفرق اشعار شامل ہیں۔ حالانکہ ان غزلوں میں وہ انفرای رنگ نہیں ملتا جن سے ان کی نظیں اور گیت عبارت ہیں۔ البتہ بعض اشعار ایسے ہیں جو دامنِ دل کھینچتے ہیں۔ یہاں ان اشعار کے پیش نظر ہی میراجی کے رنگ سخن کا جائزہ مقصود ہے۔
میراجی کی غزلیں ان کی نظموں اور گیتوں سے قدر مختلف ہیں ۔ ان کی نظموں اور گیتوں میں جدید رنگ و آہنگ موجود ہے اس کے برعکس ان کی غزلوں میں روایتی اور کلاسیکی شان ملتی ہے۔ لیکن اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ ان کی غزلیں فرسودہ مضامین اور تشبیہات و علامت کا ذخیرہ ہیں۔ ان کی غزلیں تعداد میں کم سہی لیکن بعض اشعار اپنی نوعیت کے اعتبار سے خیال افروز ہیں۔ کلاسیکی حسن سے عبارت بعض اشعار کی شیرینی اور لطافت نیز شاعرانہ دلکشی کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے ؎؎
لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا مئے خانہ ہے
رنگِ خونِ دل نہیں چمکا گردش میں پیمانہ ہے
دل محروم ہے عشاق تن آساں کا امیر
گرچہ ہو نور گریزاں کا یہی ساحل ہے
ان کی ہر اک نگاہ آموختہ عکسِ نشاط
ہر قدم گرچہ مجھے سیلئی استاد نہیں
میراجیؔ کی غزلوں میں الفاظ کے تکرار سے معانی کا نیا رنگ ابھرتا ہے جو شعر کے مفہوم کو گہرائی و گیرائی عطا کرتا ہے۔ وہ معمولی سے الفاظ کو بھی اس طرح مکر استعمال کرتے ہیں کہ شعر میں اک نئی تازگی اورتحرک آمیز کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا ،کیا ہے میرا،اپنا پرایا بھول گیا
ہنسی ہنسی میں کھیل کھیل میں بات کی بات میں رنگ مٹا
دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھاؤ کا رسنا بھول گیا
صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہے
ڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے ، کلی کلی لہرائی ہے
ایک ٹھکانہ آگے آگے پیچھے پیچھے مسافر ہے
چلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں
میراجی کی غزلیں صوتیاتی اور معانیاتی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہیں۔ ان کی اکثر غزلوں میں ہکاری آوازوں کا استعمال اس برجستگی سے ہوا ہے کہ کلام کی روانی میں فرق نہیں آتا البتہ یہ ہکاری آواز یں ایک الگ تسلسل اور روانی کا مظہر بنتی ہیں۔ اکثر سفیری آوازیں کلام میں روانی پیدا کرتی ہیں لیکن میراجی کی انفرادیت اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ الفاظ کے دروبست اور اس کے معنیاتی نظام سے بخوبی واقف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں سفیری اور ہکاری آوازیں اک دوسرے میں مدغم ہو کر کلام میں غنائی کیفیت پیدا کرتی ہیں ؎
اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی
دھندلی چھب تو یادرہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا
آئے کون تجھے بہلانے، پہنچے کون تجھے سمجھانے؟
بھرمایا ہے پریم سدھانے، الجھایا ہے پریم کتھانے
ایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گے
بالک!یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سمجھائی ہے
اپنا رنگ بھلا لگتا ہے۔۔۔کلیاں چٹکیں پھول نہیں
پھول پھول یہ جھوم کے بولا: کلیو: تم کو بدھائی ہے
محولا بالا اشعار میں موجود علاماتِ رموز و اوقاف سے اس امر کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ میراجی شعر کے اصل مفہوم تک رسائی کے لئے متن کے صحیح قراء ت کو اسای اہمیت دیتے ہیں۔ استفہامیہ انداز بھی میراجی کی غزلوں کے مصنوی امکانات کو مزید روشن کرتا ہے۔
ابہام جو میراجی کی نظموں کا خاصا ہے۔ ان کی غزلیں اس سے عاری ہیں۔ یہ سادہ سلیس اور عام فہم الفاظ کا مرقع ہیں جن کے اصل مفہوم تک رسائی میں قاری کو کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ ہاں چند اشعار ایسے بھی ہیں جن میں لفظوں کے توڑ پھوڑ کا عکس نمایاں ہے۔ یہ اشعار ان کے انفرادی نکتہ نظر اور امتیازی وصف کا آئینہ ہیں ؎
ملائیں چار میں گر دو تو بن جائیں گے چھ پل میں
نکل جائیں جو چھ سے دو تو باقی چار رہتے ہیں
کیا پوچھتے ہو ہم سے یہ ہے حالتِ جگر
پی اس قدر کہ کٹ ہی گیا آلتِ جگر
میراجی ؔ کی غزلوں کے بعض اشعار میں فکر کی آنچ بھی موجود ہے۔ جن میں دنیا کی ہرزہ سرائی اور اصول ِ زندگی کی رمق بھی ملتی ہے۔ وہ کائنات کے مختلف رویوں پرگہری نظر رکھتے ہیں اور ان کا اظہار فلسفیانہ انداز میں کرتے ہیں۔ وہ حالات کی کشمکش ، افکار و تصورات کی وسعت نیز سماج و معاشرے کی حقائق سے آشنا نظر آتے ہیں اور قرینہ زندگی کے اس فن سے قاری کو بھی روشناس کراتے ہیں ؎
زندگی کشمکش حاصل و ناحاصل ہے
ماسوا اس کے ہر اک نقشِ جہاں باطل ہے
بیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھوں سے جو بھی ٹپکا پانی
پلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں
اک تخیل کے سوا کچھ بھی نہیں
رشتۂ دورِ زماں دورِ مکاں
میراجی غزلوں کے نئے چھوٹے بحور کا انتخاب بھی کیا ہے اور طویل بحروں میں بھی غزلیں کہیں ہیں لیکن دونوں کی تسلسل اور روانی میں کوئی فرق نہیں آنے دیا اور نہ ہی قاری کے ذہن کو مرکزی خیال سے پھٹکنے دیا۔ حتیٰ کہ ہندی آمیز الفاظ اور تراکیب میراجی کی غزل میں گیت کا تاثر پیدا کرتی ہیں۔ حالانکہ اردو شاعری میں ہندی الفاظ کا استعمال قدیم شعراء کے کلام میں بھی ملتا ہے تاہم میراجی نے ان الفاظ کو اس سلیقے سے برتا ہے کہ ان میں معانی نیا رنگ ابھرتا ہے۔
ان الفاظ کی روشنی میں یہ رائے قائم ہوتی ہے کہ میراجی ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے نظموں سے وابستگی کے باوجود صنف غزل کو اعتبار بخشا۔ حالانکہ ان کی غزلوں میں کوئی چونکانے والی کیفیت نہیں ملتی جو قاری کے ذہن و دل کومسحور کرسکے لیکن بعض اشعار ایسے ہیں جن سے قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
Shabana Parween
7, North Dunbar Road,
P.O. Garulia, Dist. North 24 Parganas
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

