عجب پاگل سی لڑکی تھی
عجب سی خواہشیں اس کی
ہفت افلاک کی دھن میں ہوا کے دوش پر رقصاں
بندھے تھے اس کے پیروں میں عجب چکر
لگن میں فاش کرنے کی
زمین و آسماں کے راز سربستہ
زمیں کے ساتھ ضد باندھے
کہ
گرد مہر عالم تاب کیوں یہ رقص پیہم
مجھے اس کلیے کو توڑ کر
زمین و آسمان سے آگے جانا ہے
وہی پاگل سی لڑکی
اچانک آن ٹکرائی تھی مجھ سے
الف لیلیٰ کے صفحوں سے نکل کر
کسی رومانوی افسانے کے کردار کی صورت
کبھی لکھ بھیجتی تھی لفظ کچھ ایسے کہ میں حیران ہوتا تھا
کبھی کہتی کہ
میں جبریل ہوں اس کی حرا کا
کبھی لکھ بھیجتی اے کوزہ گر میرے
تمھارے رقص کرتے چاک کا معراج ہوں میں
تمھارے فن کی ہوں تکمیل میں
کبھی ہنستے ہوئے اک نام دیتی تھی
مجھے ہمزاد کہتی تھی
عجیب پاگل سی لڑکی تھی
عجب سی خواہشوں کو لفظ دیتی تھی
عجب فرمائشیں کرتی
کبھی کہتی سنو ہم زاد میری بات
بہت ہی منفرد ہو تم
نہیں لگتے تم اس کرے کے باشندے
کہ اس دنیا میں کوئی اجنبی ہو تم
تمھیں "کن” کہنے والے نے فقط میرے لیے بھیجا
عجب پاگل سی لڑکی تھی
بہت نازاں تھی میرے التفات چشم پہ
وہ کہتی تھی تمھارا مجھ سے یوں ملنا
مری خوش بختی کا ضامن
اچانک
گفتگو کے درمیاں یوں ٹرن لیتی تھی
مجھے حیران ہونے کی بھی وہ مہلت نہ دیتی تھی
وہ کہہ اٹھتی
"سنو! اک بات کہنی ہے
اجازت ہو تمھاری گر
تو بس اک تین لفظی کلمہ کہنا ہے مجھے تم سے
سنو الفاظ کی دنیا سے کیسی چشم پوشی یہ”
میں خود میں مسکراتا اور پھر موضوع بدل دیتا
لبوں سے اس کے اک جھرنے کی قلقل جاری ہوتی تھی
میں اس جملے سے جتنا ہی گریزاں
وہ اتنی ہی کمربستہ
وہ ہر دن مسکراتی آنکھیں اپنی
تصور کی نگاہوں سے
مری آنکھوں میں ڈالے
شرارت سے بھرے جملے یوں میری نذر کرتی تھی
"اجازت ہے مرے ہمدم؟
کہو اب کہہ بھی دوں؟
یہ کرب جان لیوا کب تلک
رہائی کب ملے گی اس امید و نا امیدی سے
میں کہہ اٹھتا اگر اثبات میں ردعمل ظاہر کیا میں نے
تو پھر تم چار حرفی لفظ کی پاگل سی خواہش پال بیٹھو گی
عجب پاگل سی لڑکی تھی
مگر
جب آج اس لمحے
اجازت مانگتے الفاظ اس کے
ردائے خامشی کو اوڑھ کر چپ چاپ بیٹھے ہیں
تو دل میرا
عجب سرگوشیاں کرنے کو پاگل
سنو ہمزاد میری
وہی سہ لفظی جملہ
میں تم سے آج کہتا ہوں
مگر آواز کے ان دیکھے سائے
کسی عفریت کی صورت
مجھے ہی جکڑے رہتے ہیں
یہ پچھتاوے کا برزخ اور میں ہوں
کہ اب
عناصر منتشر اور گم شدہ نبضیں
فضا میں بازگشت اک آرزو کی گونجتی ہر پل


1 comment
ماشاءاللہ بہترین تحریر۔ محظ لفظی حوصلہ افزائی کاتب کے شایان شان نہیں آپ اس سے کہیں زیادہ کی حقدار ہیں