Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
صحافت

شمس الرحمٰن فاروقی اورقصہ شب خون – ڈاکٹر عبدالحی

by adbimiras دسمبر 29, 2020
by adbimiras دسمبر 29, 2020 0 comment

ہندوستان کی آزادی کے بعد جن اہم رسائل نے اردو ادب میں نئی تحریکوں اور نئی اقدار کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکیا ہے ان میں رسالہ شب خون سرفہرست ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے سانحہ کے بعد جب ترقی پسندی کا زور ٹوٹنے لگاتھا تو برصغیر کے لوگوں میں ایک عجیب سی بے چینی اور بے حسی پیدا ہونے لگی تھی۔ انسانیت، رحم دلی، مذہب سے لوگوں کا اعتبار ختم ہونے لگاتھا۔ لوگوں نے مسلسل یہ تیسری بڑی تباہی دیکھی تھی۔ پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم اور پھر ہندوستان کی آزادی اورتقسیم یہ تینوں اتنے بڑے سانحے تھے جس نے پوری انسانی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔ خاص طور سے ہندوستان کے بٹوارے نے اردو ادب پر کئی نمایاں اثرات مرتب کیے۔ جہاں زندگی کے سبھی شعبے متاثر ہوئے وہیں ان سارے واقعات کااثر ادب اورصحافت پر بھی پڑا۔ ہندوستان کی تقسیم اور ادب پر اس کے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے منظر اعظمی لکھتے ہیں:

تقسیم ہند کے خونیں واقعات میں ڈوب کر جب نئی نسل ابھری تو مذہبیت اور انسانیت پر سے اس کا اعتبار متزلزل ہوگیاتھا۔ سائنسی ترقیوں اور صنعتی ماحول نے ایک طرف تو مشینی آسائشیں مہیا کیں تو دوسری طرف مہلک تباہ کن اور زہریلے ہتھیاروں کے بھیانک انجام نے اسے اپنے خول میں سمٹنے پر مجبور کردیا۔ مزید یہ کہ ہندوستانی سماج کی نفسانی اورمعاشی اور جنسی گھٹن کی فضامیں اس نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا۔ ادب میں اجتماعیت کے تصور کی افادیت میں اس کا شک بڑھتا گیا اس نے مذہبی، سماجی اوراخلاقی اقدار کی شکست وریخت کانہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ اس کے زہر کو ا پنے رگ وپے میں اتار لیا۔ اور چونکہ نظریہ عقیدہ، نصب العین، آدرش، وابستگی اور نئی صبح کی بشارتوں اور خوابوں کاطلسم بکھررہاتھا اس لیے کسی طے شدہ فنی راستے پر اس کا چلنا ممکن نہ رہا۔ اس لیے اس نے ادبی اجتماعیت پسندی اور کسی طے شدہ فنی راستے سے وابستگی اور وفاداری کو یکسر رد کردیا۔ (منظر اعظمی اردو ادب کے ارتقا میں ادبی تحریکوں اور رجحانوں کاحصہ، اترپردیش اردو اکادمی۔ص529)

ادب اورزندگی کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے اس لیے زندگی کے مختلف نشیب وفراز کا اثرادب پر پڑنا ضروری تھا اور ادب کبھی صحافت سے الگ نہیں رہا۔ ہم ادب اور صحافت کے درمیان کوئی واضح فرق نہیں ثابت کرسکتے۔ ادب میں جہاں نئے تجربے شروع ہوئے وہاں ادب کے ساتھ ساتھ صحافت میں بھی جدیدیت کے اثرات صاف اورواضح طور پر دیکھائی دینے لگے۔ ترقی پسندی  کے دور میں ایک ہی جیسے موضوعات کی شاعری اورنگارشات سے لوگ اب باہر نکلناچاہتے تھے اور ایسے ہی وقت میں جدیدیت کی شروعات ہوتی ہے۔ جدیدیت کی شروعات کاسہرہ شمس الرحمن فاروقی کے سربندھتا ہے۔ انھوں نے الہ آباد سے اپنارسالہ شب خون جون 1966 میں شروع کیا۔ شب خون کی ترتیب وتہذیب شمس الرحمن فاروقی ہی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے مدیروں میں مختلف لوگوں کے نام شائع ہوتے رہے۔ شب خون کے پہلے شمارے میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین کا نام بطور مدیر شائع ہوا ہے۔ سرورق پرشمارے میں شائع ہونے والے قلمکاروں کے نام شائع ہوئے جن میں پہلانام پروفیسر سید احتشام حسین کا ہے۔ ان کے علاوہ فراق گورکھپوری، حبیب احمد صدیقی،اپندر ناتھ اشک، رام لعل،خلیل الرحمن اعظمی، مسیح الزماں، سلیمان اریب، عمیق حنفی دوسرے قلمکارہیں جن کی تخلیقات شمارے میں شائع کی گئی تھیں۔ شب خون کے پہلے شمارے کے اداریے ”کچھ باتیں“ میں مدیر شب خون کی غرض وغایت اور مقاصد پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہندوستان میں علمی وادبی رسالوں کی تعداد بہت کم ہوتی جارہی ہے۔ گنتی کے چند ایسے جریدے رہ گئے ہیں جو چراغ راہ بن کر راہ ادب کو روشن کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر تعداد کی کمی اور روشنی کافقدان ان دونوں وجوہ سے بھی بہت ناکافی ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف ان ہی لوگوں پر نہیں جو اردوزبان سے بیگانگی برتنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو اپنے کو اردو دوست سمجھتے اور کہتے ہیں اس لیے کہ کوئی ادبی تنظیم ایسی نہیں جو تمام بکھرے ہوئے دانوں کو ایک رشتہ میں پرودے،مختلف ومتعدد اہل فکر کے افکار ومحسوسات کو ایک اچھی صورت میں منظر عام پر لاسکے، پرانے لکھنے والوں کی اچھی تخلیقات، چھاپے اور نئے لکھنے والوں کی ہمت افزائی کرے، یہ کمی اردودوستوں کے ہردیار میں محسوس کی جارہی ہے۔ اسی احساس کانتیجہ ہے کہ الہ آباد کے کچھ باہمت ادیبوں اور ادب دوستوں نے یہ ماہنامہ نکالنے کی فکر کی۔ نوجوان اور جوانوں کی اس مختصر محفل میں دوایک بوڑھے بھی شریک کیے گئے جن سے رہنمائی ومزید تعاون کی درخواست کی گئی۔ بوڑھوں نے بھی لبیک کہا مگر احساس وعمل کی منزل میں جوچیز سب سے زیادہ سدراہ تھی وہ وہی تھی جس کو دنیا نے ستارعیوب وقاضی الحاجات سمجھا ہے۔ اپنے اپنے طور پر سبھی اس مرحلے کو طے کرنے کے طریقے پر غور کررہے تھے، مگر باوجود خلوص وفکر کے مالی دقت کی مہم سر ہوتی ہوئی نظر نہ آتی تھی۔ ارباب علم وفن کی اس کشمکش کو دور کرنے کے لیے جمیل فاروقی (پرنسپل قدوائی گرلز کالج) الہ آباد نے اپنی آواز بلند کی۔ نہایت متین وحوصلہ افزا لہجہ میں اطمینان دلایا کہ اگر صرف روپیہ کی کمی سے یہ کارخیر رک رہا ہے تو آپ لوگ اس کی فکر میں وقت نہ ضائع کریں اس کا انتظام ہوجائے گا۔ چنانچہ اسے آواز غیب سمجھ کر کشتی منجدھار میں ڈالی جارہی ہے۔ (شب خون،پہلاشمارہ،اداریہ سید اعجاز حسین،جون 1966۔ ص 3)

پہلاشمارہ منظرعام پر آنے کے بعد اسے ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ اس کے کالموں میں فروغ فکر، صہبائے آبگینہ گداز، زمانہ بڑے شوق سے سن رہاہے۔ قصہ جدید وقدیم، کہتی ہے خلق خدا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بعد میں ان میں سوانحی گوشے، اورادبی خبروں پر مبنی کالم اخبار واذکار کااضافہ ہوگیا۔ فروغ فکر کے تحت تنقیدی مضامین شائع کیے جاتے تھے۔ شب خون کے دوسرے شمارے میں فروغ فکر کے تحت ڈاکٹر محمد حسن، ڈاکٹر سید محمد عقیل، محمداحمد فاروقی او رشمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ صہبائے آبگینہ گداز کے تحت شعری نگارشات شائع ہوتی تھیں۔ شب خون کے دوسرے شمارے میں فراق گورکھپوری،آل احمد سرور، سید احتشام حسین، جمیل مظہری، شہریار، عمیق حنفی، یعقوب عثمانی وغیرہ کی شعری تخلیقات شامل اشاعت ہوئی ہیں۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہاہے کالم کے تحت افسانے شائع کیے جاتے تھے۔شب خون کے دوسرے شمارے جولائی 1966 میں راجندر سنگھ بیدی، رفیعہ منظورالامین، واجدہ تبسم کے افسانے ہیں ان کے علاوہ جان کالیر، پی پرم راجو اور جارج لوٹی بورہس کی کہانیوں کے اردوترجمے بھی شائع کیے گئے ہیں۔ قصہ قدیم وجدیدکے تحت کتابوں پرتبصرے اورشعری سرگرمیوں پر مبنی خبریں پیش کی جاتی تھیں کہتی ہے خلق خدا کے تحت قارئین کے تاثرات شائع کیے جاتے تھے۔ ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمن فاروقی اور شب خون- سیفی سرونجی)

شب خون کے لیے تشکیل دی گئی مجلس عاملہ میں شمس الرحمن فاروقی، جمیلہ فاروقی (بیگم شمس الرحمن فاروق) ترتیب وتزئین، ڈاکٹر سید اعجاز حسین(مدیر) جعفر رضا(نائب مدیر) اور پروفیسر احتشام حسین وغیرہ شامل تھے۔ شب خون کے اولین شماروں کے مدیر ڈاکٹر سید اعجاز حسین، نائب مدیر جعفر رضا، ناشر، سید رشید قادر، مشیر اعزازی گردھربھارگر تھے۔ شب خون کے پہلے شمارے کی قیمت ایک روپے اور سالانہ دس روپے تھی شب خون کے پہلے شمارے کے اداریے میں رسالے کانام شب خون تجویز کرنے کے تعلق سے بھی ڈاکٹراعجاز حسین نے تحریر کیا ہے۔ شب خون کا پہلا نام تیشہ تجویز ہواتھا لیکن بعد میں متفقہ فیصلے سے شب خون پر اتفاق رائے ہوا۔ شب خون جدیدیت کی تحریک کے زیراثر شروع کیاگیا تھا اور ہندوستان میں زیادہ تر تحریکیں مغربی ادب  سے مستعار لی گئی ہیں۔ شب خون کے اجراء کی تقریب بھی بہت شاندار طریقے سے منعقد کی گئی تھی اس تقریب پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سید اعجاز حسین  شب خون کے دوسرے شمارے میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:

بہرحال تاریک فضا میں ایک جگنو نظرآیا۔ شب خون منظر عام پرآگیا۔ اجرا کی رسم افتتاح کے سلسلہ میں 19اپریل کو ایک ایسا جشن منایاگیا جس جشن کی مثال کم ازکم الہ آباد کی ادبی دنیا میں مشکل سے ملے گی، دانش وروں کے ہجوم میں مختلف زبانوں کے نمائندے شریک تھے، ہندی، انگریزی، بنگلہ، اردو فارسی، عربی، فرانسیسی زبانوں کے جاننے والے گزدر ریستوران کے پرفضا وخوبصورت سبزہ زار پر رسالے کا استقبال کرنے میں سرگرم تھے۔ جہاں تک ہم کو یاد ہے الہ آباد کے مشہور سول لائن کے اس دلکش لان پر اس سے پہلے کوئی علمی وادبی جلسہ اس اہتمام سے کبھی نہیں ہواتھا۔ الہ ا ٓباد میں تین سوسے زیادہ اہل علم کا ایک رسالہ کے خیر مقدم کو جمع ہونا آسان بات نہ تھی۔ صرف اجتماع ایسی بڑی بات نہ تھی، ہرشخص کی رسالہ کی اشاعت وکامیابی کی فکر وخواہش نے ادارہ کو امید افزا فضا میں سانس لینے کا موقع دیا۔

ہندوستان کے مایہ ناز نہرو خاندان کے چشم وچراغ رتن کمارنہرو صاحب (وائس چانسلر الہ آباد یونیورسٹی) نے جلسہ کی صدارت فرمائی۔ اردو کے مشہور ومعروف شاعر فراق گورکھپوری نے خیر مقدم کے لیے لب کشائی کی۔ ملک کے مایہ ناز نقاد پروفیسر احتشام حسین نے صدر کا تعارف کراتے وقت ان کی ہمہ گیر شخصیت اوران معلومات کا ذکر کیا جو موصوف کودنیا کے مختلف ومتعدد مقامات کی زبان دوست نامور ہستیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ صدر کی بیگم صاحبہ نے رسالہ کی ابتدائی کامیابی پر اپنی دعاؤں کے ساتھ ادارہ کو مبارکباد دی۔ مدیر رسالہ شب خون نے صدر کو پہلاشمارہ نذرکرتے ہوئے رسالہ کی غرض وغایت پرروشنی ڈالی ساتھ ہی ساتھ جمیلہ فاروقی کی کامیابی پر ان کو مبارکباد پیش کی۔

پرچے کا پہلاشمارہ انگریزی محاورہ گرم کیک کی طرح ہاتھوں ہاتھ نکل گیا اب ہم دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ہمت افزائی اور دلچسپی ان قنوطیوں کے دعوؤں کا ابطال کرتی ہے جن کے خیال کے مطابق آج کی ا دبی فضا اس قد رمسموم ہوچکی ہے کہ اس میں کسی سنجیدہ اردو ادبی پرچہ کا سانس لینا ممکن نہیں۔ (شب خون، رانی منڈی الٰہ آباد، اداریہ، شمارہ 2،جولائی 1966 ص 3)

جدیدیت پر یوں تو عام طور سے الزامات عائد کیے جاتے ہیں کہ اس میں انسان کی بے بسی، تنہائی اور مایوسی، ناکامی کی باتیں کی گئی ہیں لیکن یہ بات بالکل درست بھی نہیں ہے۔ اس میں انسانی محبت کی داستان بھی ہے اس میں غیر ضروری تحریکوں، رجحانات سے اجتناب برتاگیا ہے۔ زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنے کا مقصد اورواضح اشارہ بھی ہے۔ انسانی نفسیات کے حقائق کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔ شب خون کو جدیدیت کاعلمبردار کہاجاتا ہے لیکن اس پرچے کے اولین شماروں سے ہی ترقی پسند قلمکاروں احتشام حسین، محمد حسن، فراق گورکھپوری جیسے متعدد قابل قدر ادیبوں اور شاعروں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ دوسرے مکتبہ فکر کے ادیب اور نئے لکھنے والے بھی شب خون کے سفر میں ساتھ رہے ہیں۔ شب خون کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ یہ عام ادبی مجلوں سے منفرد اور ممتاز تھا۔ عام مجلوں میں جہاں روز مرہ کی زندگی اور ایک جیسے ادب کی باتیں کی جاتی تھیں وہیں شب خون میں ان چیزوں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب اور غیر ملکی ادب کا خاصہ مواد دیا جاتاتھا اس کے علاوہ یہ مجلہ بھی مغربی طرز کاتھا۔ اردو زبان اورصحافت میں اس نئے تجربے کو ہاتھوں ہاتھ قبول کیاگیا اوردیکھتے ہی دیکھتے شب خون نے بہت جلد اپناالگ ادبی حلقہ قائم کرلیا۔ شب خون ایسے وقت میں ادبی افق پرجلوہ گر ہواتھا جب ہندوستان میں ادب کے تئیں لوگوں کا رویہ تبدیل ہونے لگاتھا۔ ہندوستان میں ادبی رسائل بھی اس وقت بہت کم تعداد میں نکل رہے تھے ادبی رسائل کے نام پر آجکل، شاعر، نیادور، سب رس، کتاب، سوغات، کتاب نما جیسے رسائل کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ان میں کچھ رسائل کی پہنچ محض ایک ادبی حلقے تک ہی محدود تھی۔ باقی جو دوسرے رسائل تھے ان میں وہی ایک جیسی چیزیں پڑھ کر لوگوں میں بوریت کا احساس ہونے لگاتھا۔ اورایسے دور میں شب خون نے ادبی حلقے کو ایک نئے اور جدید رویے سے روشناس کرایا اور ہندوستان کے اردو ادب اور ہندوستان کی اردو صحافت میں جسے ایک نئی رفتار آگئی۔ خورشید الاسلام اپنی کتاب”اردو ادب آزادی کے بعد“ میں جدیدیت اور شب خون پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

در اصل اس وقت ہندوستان میں ادبی رسائل کاقحط ساتھا۔ اس کمی کو شب خون کی اشاعت نے پورا کیا۔ شب خون ساتویں دہے کے وسط میں جاری ہوا۔ رسالے نے جدید تر رجحانات کی ترویج واشاعت کو بہت بڑھاوادیا اور نئے لکھنے والوں کاایک خاصہ بڑا گروہ اسی رسالے کے ذریعے سامنے آیا۔ اس رسالے کے ذریعے جن شعراء  نے اہمیت حاصل کی ان میں عمیق حنفی کوخصوصیت حاصل ہے۔ ان کی شہرت کا آغاز اس بحث سے ہوا جو شب خون کے صفحات پر ان کے اوراحتشام حسین کے درمیان کئی ماہ تک چلتی رہی۔(خورشید الاسلام۔اردو ادب آزادی کے بعد شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، 1973 ص 18)

شب خون کا سفر شمارہ ایک سے لے کر شمارہ 299پر محیط ہے۔ 293سے 299تک کا شمارہ مشترکہ شائع ہوا تھا۔ یہ ضخیم شمارہ جو ن تا دسمبر2005کا تھا اور شب خون کا آخری شمارہ تھا۔ اس شمارہ میں شب خون کی 40سال کی زندگی کے نشیب وفراز اور40سالہ سفر کا  انتخاب شائع کیا گیا ہے۔ شب وخون کا جس شاندار ڈھنگ سے اجرا ہوا تھا اسی طرح اس رسالہ کاآخری شمارہ بھی ایک دستاویز ی حیثیت رکھتاہے اور اس سفر کے آخری پڑاؤ  پر اس ضخیم شمارہ سے گذشتہ 40 سال کی ایک واضح تصویر سامنے آجا تی ہے۔ شب وخون نے آ غاز سے اختتام تک اپنا منفر د معیار قائم رکھا۔ شب خون کا ہرشمارہ اپنے آپ میں مکمل اور معیاری ہوتاتھا۔ شب خون نے ایک بھی خاص نمبر نہیں شائع کیا ہے لیکن اس کا ہرشمارہ خاص نمبر کی اہمیت رکھتا ہے۔ شب خون کی فائلوں کے مطالعے سے ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ایک ہی قلمکاروں کی تخلیقات یانگارشات کو لگاتار شائع کرنے سے اجتناب برتاگیا ہے قاری کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے ہر مہینے نئے قلمکاروں کو بھی جگہ دی جاتی رہی ہے۔ شب خون کے ادبی مباحثوں کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ شب خون کے ذریعہ شمس الرحمن فاروقی نے تن تنہا اپنی ساری کوششیں صرف کردیں۔ حکومت ہند کے اعلیٰ عہدے پررہتے ہوئے بھی انھوں نے اس کے لیے کافی وقت نکالا اور ریٹائر منٹ کے بعد پورا وقت اس ادبی رسالے کی آبیاری میں گزارا۔ جناب فاروق ارگلی لکھتے ہیں:

انڈین پوسٹل سروس کی مصروف ترین ملازمت کے ساتھ اتنے سارے کارنامے انجام دینا اور علم وادب کی دنیا میں اپنی شخصیت کو لافانی بنالینا فاروقی صاحب کی کرشمائی شخصیت کا کمال ہے۔ دنیا ئے ادب انگشت بدنداں ہے کہ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بھی انھوں نے شب خون جیسا عہد ساز اور طاقتور رسالہ جاری کیا جس کے ذریعہ انھوں نے جدیدیت کی اس شدت سے تبلیغ کی کہ پورے ایک دور کو بدل کر رکھ دیا۔ شمس الرحمن فاروق کے برپا کردہ انقلاب نے تخلیق وتصنیف کے دھارے موڑدیئے۔ انھوں نے سرمایہ ومحنت کی کشمکش کے اشتراکی رجحان کے خلا ف آواز بلند کی جس کی مادیت اور نظریات جبر نے ان کے خیال میں تخلیقی ادب کو خطابت اورصحافت بنادیا تھا۔ انھوں نے اردو میں علامتی،ایمائی، اور تجدیدی تخلیقی رجحان کو فروغ دیا جس میں غزل چیستاں بن گئی اورافسانے سے کہانی غائب ہوگئی۔ اس کے لیے شمس الرحمن فاروقی پر ایک مخصوص نظریاتی طبقہ توڑپھوڑ اور ادبی تخریب کاری کاالزام بھی عائد کرتا ہے لیکن یہ الزام اگرصحیح بھی ہے تو بھی فاروقی کی جدیدیت پسندی اورشب خون کی اہمیت پر حرف نہیں آتا بلکہ یہ اس تخریب کے بعد ایک نئی تعمیر کے آغاز میں ان کے قائدانہ کردار کی تاریخی علامت ہے۔ شب خون نے بہت سے نئے قلمکاردیے ان جدید قلمکاروں نے کہانیوں کے بغیر جو کہانیاں لکھیں انھیں کہانی کانام نہ دیکر بے نام ادبی صنف کے نام سے ہی کیوں نہ یاد کیاجائے لیکن یہ تبدیلی کے عبوری دور کا بیش قیمتی سرمایہ ہے۔ (فاروق ارگلی،مضمون شمس الرحمن فاروقی۔۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا۔ 30ستمبر 2008، ص4)

فاروق ارگلی کی مندرجہ بالا باتیں یقینا درست ہیں انھوں نے نہایت صاف اورسیدھے لہجے میں شمس الرحمن فاروقی کی ادبی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔ فاروقی سے شب خون کو الگ بھی کردیں تب بھی شمس الرحمن فاروقی کے ادب میں اتنے کارنامے ہیں جن کے بغیر اردو کی تاریخ مرتب نہیں کی جاسکتی۔ یوں تو پاکستان میں تقسیم کے کچھ برسوں کے بعد ہی جدید شاعری اور افسانوں کی شروعات ہوچکی تھی۔ لیکن ہندوستان میں جدیدیت کے رجحان کو عام کرنے کا سہرا شمس الرحمن فاروقی کے سر ہی جاتا ہے۔ 1966 میں ہی ہندوستان میں جدیدیت کو باضابطہ طورسے منظم سمجھا جائے گا۔ حالانکہ شب خون سے قبل کتاب اور سوغات بھی اس تحریک کے پیش رو تھے لیکن شب خون کی اشاعت نے ان  رسائل کی کوششوں کو ایک نئی سمت دی، ایک نئی مضبوطی دی اور انتہاپسندانہ جدید تر رجحانات کو فروغ دینے میں سب سے اہم کردار اداکیا۔ شب خون کے صفحات پرشائع کیے گئے شمس الرحمن فاروقی کے تبصروں کی اپنی الگ ادبی اہمیت ہے ان کے تبصروں میں جوصاف گوئی، جو گہرائی اور جو تنقیدی عنصر دکھائی دیتا ہے وہ اس دور کے دوسرے تبصروں میں کہیں نظرنہیں آتا۔جیسا کہ وحید اختر لکھتے ہیں:

پاکستان میں تو 1960سے پہلے ہی جدید تر میلانات اپنی جگہ بنا چکے تھے لیکن ہندوستان میں انھیں شب خون کے اجراء نے عام کیا۔ 1960 کے بعد جو نئی نسل ابھری اسے ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند سیاسی سماجی نظریات سے کوئی ہمدردی نہ تھی…شب خون کے صفحات پر ساتویں دہائی کے وسط میں ادب کے متعلق ایک نئی بحث چھڑی جس کے فریق تھے احتشام حسین اور عمیق حنفی.. 1960کے بعد جو انتہا پسندانہ جدید میلانات مقبول ہوئے ان کی تشہیر میں شب خون کو خاص اہمیت حاصل ہے… شمس الرحمٰن فاروقی نے شب خون کے ذریعے اپنی اہمیت منوائی۔ ان کے تبصروں میں جو بے باکی، معروضیت، بے مروتی اور صاف گوئی ہے اس نے اردو میں رسمی تبصروں کے برخلاف ایک صحت مند روایت کو آگے بڑھایا۔(     وحید اختر۔نظری تنقید، اردو ادب آزادی کے بعد،شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، 1973۔ص45۔46)

انھوں نے تبصروں کو ایک اہم تنقیدی صنف میں شامل کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ شب خون کے بند کرنے کا اعلان اورآخری شمارے کے اعلان کے بعدبڑی تعداد میں برصغیر کے اہم افراد نے شب خون کے بند ہونے پر گہرے رنج وغم کااظہار کیا اور ہرممکن کوشش کی کہ یہ رسالہ بند نہ ہو۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی نے اپنی خرابی ئ صحت کی وجہ سے شب خون کو بند کرکے جدیدیت کی روح کہے جانے والے اس رسالے کا سفرتمام کردیا۔ ادبی شمارے آج بھی بڑی تعداد میں نکل رہے ہیں چھوٹے بڑے تمام شہروں سے ادبی رسائل شائع ہورہے ہیں لیکن شب خون جیسا عہدساز اور منفرد رسالہ شاید دوبارہ نہ شائع ہو۔ اس کے قاری ہمیشہ اس کی کمی محسوس کرتے رہیں گے۔ یہ واحد ایسا رسالہ تھا جس میں اردو  کے ساتھ یکساں طور پر مغربی ادب پر بھی مواد شائع کیا جاتاتھا اور اس منفرد اورتاریخی رسالہ کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔

ڈاکٹر عبدالحی، سی ایم کالج، دربھنگہ، بہار

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasshab khoonshamsur rahman farooquiادبی میراثشب خونصحافتفاروقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آواز کے سائے- قمرجہاں
اگلی پوسٹ
پرسکون اور کامیاب زندگی کی شاہ کلید – کامران غنی صبا

یہ بھی پڑھیں

اردو رسائل و جرائد میں خطوط کی اہمیت...

اگست 1, 2024

اُردو رسائل و جرائد:اہمیت وروایت – وجیہ بتول

جولائی 28, 2024

1857کی جنگ آزادی اور دہلی اردو اخبار –...

جولائی 28, 2024

اردو صحافت کے پٹھان : احمد سعید ملیح...

جون 30, 2023

ظریفانہ صحافت اور پنچ اخبارات – ڈاکٹر محمد ذاکر...

فروری 23, 2023

ادبی صحافت کے دو سو سال – حقانی...

جنوری 7, 2023

ادب اور صحافت کا معاملہ (مولانا ابوالکلام آزاد...

اکتوبر 11, 2022

احمد سعید ملیح آبادی: اردو صحافت کا نیر...

اکتوبر 3, 2022

تحریک آزادی اور اردو صحافت – علیزے نجف

اگست 16, 2022

اخبار ’سحرسامری‘ لکھنؤ – ڈاکٹر مخمور صدری

جولائی 14, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں