Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

ابوعثمان الجاحظ- شخصیت اور ادبی امتیاز – نایاب حسن قاسمی

by adbimiras جنوری 15, 2021
by adbimiras جنوری 15, 2021 0 comment

عصرِ عباسی اپنی بے مثال علمی و ادبی اور فکری و فنی خوبیوں کی وجہ سے ممتاز سمجھاجاتاہے اوراس دور کی یہ خوبیاں اُن عظیم افراد کی وجہ سے ہیں، جنھوں نے اپنے نتائجِ فکر سے اسلامی و عربی ادب و فکر کومالامال کیا۔ ایسے ہی عظیم لوگوں میں سے ایک جاحظ بھی ہے،یہ ایک جلیل القدر ادیب، نثر نگار،دانشوراور صاحبِ اسلوب انشاپرداز تھا، اس کی کنیت ابوعثمان ہے اورنام عمروبن بحربن محبوب ہے،اس کا خاندان بنوکنانہ سے تعلق رکھتا تھا۔ جاحظ کی پیدائش بصرہ میں 160ھ (781)میں ہوئی۔جاحظ کا گھرانہ ایک معمولی گھرانہ تھا،اس کے والدین مفلوک الحال اور معاشرے کے حاشیائی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے، شاید اسی وجہ سے تاریخ میں اس کے ماں باپ کاکوئی تذکرہ نہیں ملتا،البتہ بعض مؤرخین نے اس کے داداکا ذکر کیاہے، جوبنو کنانہ کے یہاں اونٹ چراتا تھا۔ جاحظ کے والد کا انتقال اس کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا، پھر اس کی والدہ نے تمام تر عسرتوں کو جھیلتے ہوئے اس کی پرورش کی۔گھرکی خستہ حالی کی وجہ سے جاحظ کو بچپن سے ہی تلاشِ معاش میں لگنا پڑا؛ چنانچہ وہ بصرہ میں نہرِسیحان کے کنارے روٹیاں اور مچھلیاں بیچنے لگا، مگر چونکہ فطری طورپر وہ ایک ذہین اور حصولِ علم کا شوق رکھنے والا بچہ تھا؛اس لیے اس نے اپنا گھر چلانے کے ساتھ وقت نکال کر بعض تعلیم گاہوں میں بھی آمد ورفت شروع کردی اور اس طرح اس نے اپنے حصولِ علم کا سفر بھی جاری رکھا، حتی کہ مختلف اوقات میں اس نے اخفش، اصمعی، ابوعبیدہ، ابوزید انصاری، ابراہیم بن سیار وغیرہ جیسے اصحابِ فکر و ادب سے استفادہ کیااور رفتہ رفتہ خود ایک عظیم ادیب و نثر نگار کی حیثیت سے آسمانِ ادب پر چھا گیا۔ اس نے صرف اپنی مادری زبان عربی میں ہی دسترس حاصل نہیں کی؛بلکہ عربی کے علاوہ دیگر زبانوں کے آداب و علوم سے بھی آگاہی حاصل کی اور فارسی، یونانی و سنسکرت زبانوں کے لٹریچر کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا۔اس سلسلے میں اس نے ان زبانوں کے عربی تراجم کا سہارا لیا یاان کے مترجمین مثلاً سلمویہ اور حنین بن اسحاق وغیرہ سے اخذ و استفادہ اور مناقشہ و مذاکرہ کے ذریعے ان زبانوں کا علم حاصل کیا۔ (یہ بھی پڑھیں فاروقی کی افسانہ نگاری کے خلاف- رحمٰن عباس )

حصولِ تعلیم کے بعد جاحظ نے بصرہ کو خیرباد کہہ کر بغداد کی طرف کوچ کیا،جواس کے لیے ایک وسیع میدانِ عمل ثابت ہوا اور وہاں پہنچنے کے بعد اس کی ادبی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں،بہت جلد وہ اربابِ ادب کے حلقوں میں مقبول و مشہور ہوگیا،اس کی مقبولیت دیکھتی آنکھوں اس حد تک پہنچ گئی کہ بہت سے پرانے اصحابِ ادب و قلم اس سے حسد کرنے لگے،کچھ لوگوں نے اپنی تحریروں میں اس کے اسلوب کی نقل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض لوگوں نے اسے مختلف حیلوں سے بدنام کرنے کی سازش کی،مگر کسی کوکامیابی نہ ملی اور جاحظ روزبہ روز نئی بلندیوں کو چھوتا گیا۔اس نے امامت (خلافت) کے سلسلے میں ایک کتاب لکھی تھی،جواس وقت کے عباسی خلیفہ مامون رشید تک پہنچی، اس نے وہ کتاب پڑھی،تواسے بہت اچھی لگی، اس نے فوراً جاحظ کو دربارِ خلافت میں طلب کیا، انعامات سے نوازا اور اپنا کاتب (سکریٹری، منشی) مقرر کردیا،مگر جاحظ کی طبعِ آزاد کے لیے یہ عہدہ موزوں نہ تھا؛چنانچہ اس نے بہت جلد استعفا دے دیا، اس دوران کئی سرکاری اہل کاروں،وزیروں اور رئیسوں سے اس کے روابط مضبوط ہوگئے،انہی میں سے ایک محمد بن عبدالملک زیات تھا،جو خلیفہ معتصم کا وزیر تھا،جب جاحظ نے ’کتاب الحیوان‘ لکھی،تواسے بھی ہدیتاً پیش کی،یہ کتاب اسے اتنی اچھی لگی کہ اس نے جاحظ کو بہ طورانعام پانچ ہزار دینار سے نوازا۔ مرفہ الحال ہونے کے بعد جاحظ نے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور دمشق، انطاکیہ و مصر کے چکر لگاتارہا۔جب متوکل نے خلافت سنبھالی توزیات پر مصیبت آپڑی،جس کا اثرجاحظ پر بھی پڑا، وہ ڈرکے مارے فرار ہوگیا،مگر پکڑاگیااور چونکہ متوکل کے قاضی محمد بن ابوداؤداس سے واقف تھے؛ چنانچہ انھوں نے خلیفہ کے سامنے اس کی علمی و ادبی صلاحیت کی تعریف کی؛اس لیے متوکل نے اسے اپنے پاس رکھ کر اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر لگادیا،مگر وہاں بھی زیادہ دن نہ رہ سکااور جلد ہی اس ذمے داری سے فارغ کردیاگیا۔

جاحظ نے اپنی بے مثال علمی صلاحیت اور ادبی ہنر مندی کے عوض نہ صرف شہرت حاصل کی؛بلکہ دنیابھی خوب کمائی جس امیر، رئیس یاخلیفہ سے ملتا، اس کی خدمت میں اپنی کوئی نئی تصنیف پیش کردیتا اور چوں کہ اس زمانے کے امراورؤسابھی علم دوست و ادب شناس ہوتے تھے؛ چنانچہ وہ جاحظ کو جی بھر کر نوازتے،اس طرح اپنے علم و قلم کی بہ دولت جاحظ نے دونوں ہاتھوں سے دولت و شہرت سمیٹی،ان تمام محرومیوں کا بدلہ نکالا،جواس نے بچپن میں جھیلی تھیں یاجن محرومیوں سے اس کے خاندان اور گھر والے گزرتے آرہے تھے۔

تمام تر علمی وجاہت،ادبی امتیاز اور فکری و ذہنی تفوق کے ساتھ جاحظ ظاہری اعتبار سے نہایت بدہیئت، بدصورت اور قبیح انسان تھا۔کہتے ہیں کہ اس کا لقب ’جاحظ‘  اس لیے پڑا کہ اس کی آنکھ کا ڈھیلا باہر کی طرف نکلا ہوا تھا اور عجیب بدہیئت لگتا تھا،اسی وجہ سے اسے ’حدقي‘ بھی کہا جاتا تھا، البتہ وہ جاحظ کے لقب سے زیادہ مشہور ہوا اور دوسرا لقب اتنا مشہور نہیں ہوسکا۔جب شروع شروع میں لوگ اسے جاحظ کہتے تھے،تو وہ ناراض ہوتا،مگر پھر رفتہ رفتہ اس کا عادی ہوتا گیا اور ایک زمانے کے بعد یہ لفظ عربی ادب میں عظمت و احترام کی علامت بن گیا۔ اس کی شکل و صورت کے بارے میں عجیب عجیب باتیں بیان کی جاتی ہیں،مثلاً یہ کہ وہ ٹھگنے قد کا تھا،نہایت سیاہ فام تھا، اس کا سرچھوٹا، کان چھوٹے اورگردن پتلی تھی، عربی ادب کی تاریخ میں اس کی بدصورتی سے متعلق بہت سے واقعات مذکورہیں۔اس کی بدہیئتی کی انتہایہ ہے کہ کسی شاعر نے کہا:

لو یمسخ الخنزیر مسخاثانیا

ماکان إلادون قبح الجاحظ

اگر خنزیر کوبھی دوبارہ مسخ کردیاجائے،تووہ بھی جاحظ سے کم ہی بد صورت ہوگا۔(شارل بلات،الجاحظ فی البصرۃ وبغداد وسامراء، ط: دارالیقظۃ العربیۃ، دمشق، ص:98-103)

جاحظ کو خود اپنی بد صورتی کا احساس تھا؛ چنانچہ اس کا اپنا بیان ہے کہ متوکل نے اسے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے اس لیے الگ کردیاکہ وہ بدشکل تھااور اس کے بچے اسے دیکھ کر ڈرجاتے تھے،اسی طرح ایک مشہور واقعہ ہے کہ جاحظ ایک جگہ کھڑاتھاکہ ایک عورت اس کے پاس آئی اوراس نے اس سے کہا کہ فلاں پینٹرکی دکان تک چلو، وہ اس کے ساتھ گیا، وہ عورت جاحظ کولے کراس پینٹر کے پاس پہنچی اوراس سے کہا کہ:اس کے جیسی۔جاحظ کو سمجھ نہیں آیاکہ اس کی بات کا مطلب کیا ہے؟ چنانچہ اس نے دکان دار سے پوچھاکہ بھئی اس عورت کے یہ کہنے کاکیامطلب تھا؟تواس نے کہاکہ دراصل وہ عورت مجھ سے شیطان کی پینٹنگ بنانے کاکہہ رہی تھی، تومیں نے اس سے کہاتھاکہ کوئی نمونہ ہونا چاہیے، جس کی روشنی میں میں وہ تصویر تیار کرسکوں،تووہ تمھیں لے کر آگئی اوراس کے کہنے کامطلب یہ تھاکہ میں اسے تم جیسی تصویربناکردوں۔

البتہ بدصورتی کے باوجود اس کے جسم کی ساخت سڈول اور بھلی تھی،باتیں اچھی کرتاتھا،مضبوط شخصیت کامالک تھا،دل کا صاف تھا، واقعیت پسند تھا، دلچسپ اوصاف کا مالک تھا، لوگوں سے خوش طبعی کے ساتھ ملتا اورخندہ پیشانی سے بات کرتا، ان سب کے ساتھ وہ ایک نہایت ذہین،دانش مند،قوتِ مشاہدہ سے ہم کنار اور باریک بیں قسم کاانسان تھا۔وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا تھا،نہ کسی کو مایوس دیکھ سکتا تھا، ہمیشہ پرامید رہتااور دوسروں کو بھی حوصلہ دیتا۔اس طرح اس کی ذات میں دومتضادقسم کی شخصیتیں جمع تھیں،ایک کو لوگ حددرجہ ناپسند کرتے تھے،جبکہ دوسری شخصیت کودل سے چاہتے اور پسند کرتے تھے۔ اس کے پسند کیے جانے کی ایک اہم ترین اور مسلم وجہ اس کی علمی و ادبی برتری تو تھی ہی۔

اخیر عمر میں اس کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہوگئی تھی،مختلف بیماریوں کاشکارہوگیاتھا،متوکل نے اس کی قدرشناسی کے جذبے سے اسے بلا بھیجا، تو اس نے جواب دیا:”امیرالمؤمنین ایک ایسے شخص کوکیوں یاد فرماتے ہیں،جواَزکاررفتہ ہوچکاہے،اس کے کندھے جھک گئے ہیں،اس کے منہ سے لعاب گرتا رہتاہے اور اس کا رنگ نہایت بھداہے“۔ مبرّد ایک بار اسی زمانے میں اس سے ملنے گئے اور حال دریافت کیا،تواس نے کہا:”وہ شخص کیسا ہوگا،جس کے جسم کا آدھاحصہ مفلوج ہوچکاہے،اگر اس پر آرابھی چلوادیاجائے،توکچھ اثر نہیں ہوگا اور دوسرا آدھا حصہ ایسا زخم آلودہے کہ اگر اس کے قریب سے بھی مکھی گزرے،توتکلیف ہوتی ہے“۔

اس کی تکلیف روزبروز بڑھتی گئی،مگراس حال میں بھی کتابوں سے اس کا عشق کم نہیں ہوا؛بلکہ مزید بڑھ گیا؛ چنانچہ وہ اپنے شب وروز کتابوں کے درمیان گزارتا،حتی کہ ایک دن وہ کتابوں کے نیچے دب کر ہی وفات پاگیا۔یہ سانحہ 255ھ(868) میں پیش آیا،اس وقت اس کی عمر تقریبا نوے سال تھی۔مطالعہ و کتب بینی سے اس کا عشق بے نظیر تھا،بچپن میں اس کی اس عادت کی وجہ سے اس کی والدہ پریشان رہاکرتی تھی،کتابوں سے اس کی محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ صرف مطالعے کے لیے کتابوں کی دکانیں کرایے پر لیتا اور اکثر و بیشتر رات رات بھراس دکان میں رہ کر اپنے مطالعے کی شوق کی تکمیل کیا کرتا تھا۔

کہتے ہیں کہ جاحظ نے اپنی زندگی میں چھوٹی بڑی لگ بھگ ایک سو ستر کتابیں تصنیف کیں،بعض لوگوں نے اس کی تصانیف کی تعداد ساڑھے تین سو بتائی ہے،مگر ان میں سے زیادہ تر کتابیں دست بردِزمانہ کی نذر ہوگئیں۔ اس کی جوکتابیں عام طورپر دستیاب ہیں، ان میں البیان والتبیین، البخلاء اور کتاب الحیوان ہیں۔ البیان والتبیین اس کا سب سے بڑا تصنیفی کام سمجھا جاتا ہے،یہ اس کی زندگی کی آخری تصنیف بھی ہے۔اس کتاب میں اس نے عربی ادب کی مختلف اصناف مثلاً خطبات، قصائد، خطوط اورتبصروں کے اقتباسات جمع کیے ہیں،اس کے علاوہ بلاغت وبیان کے اصولی و فنی مباحث سے بھی گفتگو کی ہے، جس کی وجہ سے اس کی یہ کتاب علم بلاغت کی اساسیات اور فلسفہئ عربی زبان وادب کی تشریح و تنقید کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب البخلاء عربی زبان میں بخیلوں کے تعلق سے باضابطہ لکھی جانے والی پہلی کتاب ہے۔اس کتاب میں ادب ہے،علم ہے، فکاہت ہے اور بھی بہت کچھ ہے،اس میں جاحظ نے بخیلوں کی نفسیات،ان کے رویوں،ان کی خواہشات و رجحانات اور عام زندگی کو دیکھنے اور برتنے کے ان کے نظریے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔جاحظ نے اس کتاب میں بخیلوں سے متعلق مختلف دلچسپ واقعات،پر لطف کہانیاں بیان کی ہیں۔کہاجاتا ہے کہ جاحظ نے یہ کتاب دراصل کسی وزیر کی فرمائش پر لکھی تھی۔کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے اور تقریباً140مختلف عناوین کے تحت بخیلوں کے واقعات اور ان سے متعلق امور کوبیان کیاگیا ہے۔ اس کی تیسری مشہور ترین کتاب، کتاب الحیوان ہے اور یہ بھی عربی زبان میں حیوانات کے متعلق لکھی جانے والی پہلی مفصل کتاب ہے۔اس کتاب میں صرف حیوانات کی زندگی اور ان کی خصوصیات پر ہی گفتگو نہیں کی گئی ہے؛بلکہ اس میں مختلف علوم و معارف اور ان سے متعلق نکات و اسرار بیان کیے گئے ہیں،یہ کتاب دراصل بہت سے علوم کی انسائیکلو پیڈیا ہے،اس میں طبیعیات، فلسفہ، طب، جغرافیہ، ماحولیات،نباتات،تاریخ اور دیگر دسیوں علوم کے جواہر پارے بکھرے ہوئے ہیں،حالانکہ جاحظ سے پہلے اصمعی،ابوعبیدہ،ابن الکلبی،ابن الاعرابی اور سجستانی وغیرہ نے بھی حیوانات پر کتابیں لکھیں،مگر وہ جامع نہیں تھیں، انھوں نے کسی ایک حیوان کی لغوی تحقیق تک اپنے آپ کو منحصر رکھا،مگر جاحظ نے کتاب الحیوان میں جانوروں کی طبیعیات و احوال کے بیان کے علاوہ دیگر متذکرہ علوم پر بھی غیر معمولی مواد فراہم کردیا ہے۔ چونکہ جاحظ وسیع العلم انسان تھا؛اس لیے اس کتاب میں اس نے قرآن و حدیث کے علاوہ توریت و انجیل،اقوالِ حکما،یونانی علوم، فارسی لٹریچر، ہندوستانی حکمت و فلسفہ اور خود اپنے علمی تجربات و مشاہدات سے بھی کام لیا ہے۔ اس کتاب میں جاحظ کا اسلوب الف لیلوی ہے، جس طرح داستانِ الف لیلہ کی اساسی کردار شہرزاد شہریارسے ایک قصہ بیان کرتی ہے، پھر اس قصے کا کوئی کردار ایک ذیلی کہانی سناتا ہے، پھر اس قصے کے بیچ تیسرا،چوتھا قصہ آجاتا ہے،حتی کہ کہانی پھر اپنے مرکزی نقطے پر لوٹ جاتی ہے،ٹھیک اسی طرح جاحظ اس کتاب میں کسی جانور کے اوصاف و خصائص کو بیان کرتے ہوئے کسی دوسرے موضوع پر نکتہ آفرینی کرنے لگتا ہے، پھر اس کا قلم کسی تیسرے موضوع کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،حتی کہ وہ پھر اصل موضوع کی طرف لوٹ آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی طبیعیات و خصائص پر لکھی گئی اس کتاب میں دیگر بہت سے علوم ومعارف بھی جمع ہوگئے ہیں اور ہر علم سے دلچسپی رکھنے والے کے لیے یہ کتاب لائقِ مطالعہ و استفادہ ہوگئی ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ جاحظ کی مشہور و متداول کتابوں میں سحرالبیان، التاج، الاخبار، عصام المرید، امہات الاولاد،احدوثۃ العالم،دلائل النبوۃ اور الجد والہزل وغیرہ ہیں۔

 جاحظ کے بعض اساتذہ معتزلی الفکر تھے،جس کا جاحظ پر بھی خاصااثر پڑا اور وہ بھی نظریاتی طورپرمعتزلی ہوگیاتھا،اس کی اس فکر کا اثر اس کی کتابوں پر بھی واضح طورپر محسوس کیاجاسکتاہے۔اس نے اپنی زیادہ تر تصانیف میں فکرِ اعتزال کی تشریح و توضیح اور دفاع پر زور دیا ہے۔ حتی کہ وہ اپنے زمانے میں معتزلہ کا ترجمان اور نفسِ ناطقہ تھا، اس نے معتزلہ کی عقلیت پسندی کی توسیع کی اور ہر چیز میں عقل کو فیصل قراردیتے ہوئے ایسی ہر نقل و روایت کا سرے سے انکارکیا،جو عقل کے معیار پر پوری نہ اترتی ہو،اس سلسلے میں اس نے نہ صرف بعض شرعی نصوص کو ماننے سے انکار کیا؛بلکہ خود منطق و تعقل پسندی کے بعض ائمہ کی خلافِ عقل باتوں کوبھی جھٹک دیا۔مثال کے طورپر ارسطو ایک ایسا مفکراورامام المنطق والفلسفہ ہے کہ جسے مشرق و مغرب والے یکساں طورپر مانتے اور اس کے نظریات و افکار کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں،مگرجاحظ ایک ایسا جری الفکر انسان تھا کہ اس نے کئی موقعوں پر ارسطو کی بعض باتوں کو نہ صرف مستردکیا؛بلکہ اس کی تضحیک و تحقیر بھی کی۔مثلاً کتاب الحیوان میں ایک جگہ ارسطوکا ذکر کرتے ہوئے اس کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کرتا ہے اور لکھتاہے: ”صاحبِ منطق(ارسطو)کہتے ہیں کہ یونان میں ایک طبقون نامی بستی ہے،جہاں چھوٹے چھوٹے سخت زہریلے سانپ ہوتے ہیں،ان کے ڈنک کا علاج بعض قدیم بادشاہوں کی قبرکے پتھر سے ہی ممکن ہے“۔ جاحظ اسے بیان کرنے کے بعد لکھتاہے کہ: ”یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے،آخر ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“۔ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ:”صاحبِ منطق کا بیان ہے کہ انھوں نے دوسَروں والا سانپ دیکھا ہے،میں نے یہ پڑھنے کے بعد ایک دیہاتی سے پوچھا کہ کیاایسا سانپ واقعی پایاجاتا ہے؟تواس نے بھی اثبات میں جواب دیا، تومیں نے اس سے کہاکہ وہ رینگتا کس طرف سے ہے؟کھاتا اور کاٹتا کس طرف سے ہے؟تواس نے جواب دیاکہ وہ معروف معنوں میں رینگتا نہیں ہے،بچے کی طرح الٹ پلٹ کرتا ہے،جہاں تک کھانے کی بات ہے،تو وہ رات میں ایک منہ سے کھاتا ہے اور دن کو دوسرے منہ سے اور وہ دونوں سروں سے کاٹتا ہے“۔اس پر جاحظ نے اپنا ردعمل یہ لکھاہے کہ:”وہ ساری دنیامیں سب سے جھوٹا انسان ہے“۔ہوسکتاہے یہ بات اس اعرابی کے بارے میں کہی ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ ارسطو کے بارے میں کہی ہو؛کیوں کہ دوسروالے سانپ کی بات اولاً اسے ارسطو کے ذریعے ہی معلوم ہوئی تھی۔

بہرکیف جاحظ عربی ادب کے ان درخشندہ ستاروں میں سے ہے،جن کی روشنی رہتی دنیاتک عالمِ ادب کو منور کرتی رہے گی۔وہ عباسی دورکا نمائندہ نثر نگار ہے،اس نے اُس دور کی عربی نثر میں علمیت،واقعیت پسندی اور حقیقت بینی کے اوصاف کا اضافہ کیا،اس کی نثر میں سادگی اور بے ساختگی ہے، واقعات کو بیان کرنے کا اس کا انداز بڑا دلنشیں ہے،اس سلسلے میں اس کی کتاب البخلاء خاص طورپر قابل ذکر ہے۔البیان والتبیین تو اس کی معرکۃ الآرا کتاب ہے،اس میں اس نے عربی ادب کے اسالیبِ نثر و نظم پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے عربی تنقید کومضبوط اَساس فراہم کی ہے۔ابن خلدون نے عربی ادب کے تشکیلی عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے لکھاہے کہ: ”ہم نے اپنے اساتذہ کی مجلسوں میں سناہے کہ عربی ادب وفن کے اصول و بنیادی ارکان پر چارکتابیں ہیں: ابن قتیبہ کی ادب الکاتب،مبرد کی الکامل،جاحظ کی البیان والتبیین اورابوعلی القالی کی کتاب النوادر،ان کے علاوہ جو کتابیں ہیں،وہ سب انہی سے مستفاد و ماخوذ ہیں یا ان کی اتباع میں لکھی گئی ہیں“۔

Md. Nayab Hasan

A/22, Seema Apartment (G.F)

Gali No 7, Batla House, Jamia Nagar

New Delhi – 110025

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثجاحظعربی ادبعربی زبان
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
صوفیہ اور بھکتی تحریک کے ادبی اثرات:ایک کثیر لسانی مطالعہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
اسحاق وردگ : جدید حسیات کا شاعر- ڈاکٹر طارق ہاشمی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں