شمالی ہندوستان میں کوہ ہمالیہ کی شوالک پہاڑیوں کے دامن میں بسا ضلع بجنور ایک تاریخی اورمردم خیزخطّہ ہے۔یہ علاقہ ادبی سرگرمیوں اور تحریکوں کاگہوارہ تونہیں رہالیکن یہاں کی قابلِ فخر شخصیتوں نے ادبی ارتقأکی تاریخ میں نمایاں حصہ لیاہے۔اردوزبان وادب سے بجنور کا قریبی اورگہرا تعلق ہے۔ضلع بجنور کی سرزمین جتنی گنّے اورآم کی کاشت کے لئے زرخیز ہے،اس سے زیادہ رسیلی اورمیٹھی زبان اردو کے لئے بھی زرخیز ہے۔اردوزبان کی بنیاد جس بولی پر رکھی گئی اس کے علاقے میں اس ضلع کابھی بڑا حصہ شامل ہے۔گویا اردوکا تعلق بجنور سے کافی گہرا ہے۔
اترپردیش کی مرادآباد کمشنری کے ضلع بجنور کی جانب مشرق میں مرادآباد،نینی تال (اتراکھنڈ)،مغرب میں ہری دوار، میرٹھ،مظفرنگر،شمال کی جانب اتراکھنڈکا گڑھوال اور ہری دوار جنوب کی جانب ضلع امروہہ ہیں۔سمندری سطح سے 284 میٹر اونچائی والے ضلع بجنور 30.29 زاویہ اور29.2 ڈگری مشرق زاویہ کے وسط میں واقع ہے۔گنگا،رام گنگا،مالن اور کھوہ ندیاں اسی ضلع بجنور میں بہتی ہیں اور سرزمین کوسرسبزوشاداب بنائے ہوئے ہیں۔ انتہائی قدیم یہ ضلع مہابھارت عہد سے بھی قبل آباد ہے۔ حکومت دہلی کے قیام کے بعداس کا بیشترحصہ ریاست سنبھل کی قلم رومیں آگیا۔1817ء میںضلع مرادآباد کا ایک حصہ کاٹ کرنیاضلع شمال ڈویژن کے نام پربنایاگیا۔جس کا صدرمقام نگینہ رکھا گیا۔جو1824ء میں منتقل ہوکربجنورچلاگیا اورضلع بجنور کہلایا۔1901ء میں ضلع بجنور کی آبادی7,80,105 تھی جو2011ء میں 36لاکھ 83ہزار ہوگئی۔جن میں59.56فیصدہندو،37.45 فیصد مسلمان،2.16فصد سکھ باقی دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔اردو یہاں کے32.98فیصد عوام کی زبان ہے۔بجنور ضلع میں بجنور، چاندپور،دھام پور،نگینہ، نجیب آبادپانچ تحصیلیں ہیں۔جبکہ بجنور،نگینہ،مرادآباد تین پارلیمانی حلقہ اس ضلع سے منسلک ہیں۔ آٹھ اسمبلی حلقوں،گیارہ بلاک،بارہ میونسپل بورڈ،6شہرپنچایت،956 گرام پنچائت پر مشتمل ضلع بجنور کی زبان کو کھڑی بولی کہاجاتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں اخبار مدینہ بجنور کے بانی: مولوی مجید حسن علیہ الرحمہ -پرویز عادل ماحی )
پنجاب اورہریانہ قریبی صوبے ہونے کی وجہ یہاںکی عوامی زبان خاص کر دیہات میں سپاہیانہ وتحکمانہ ہے جبکہ قصبوںاور شہروں میں لکھنئو،رام پور،مرادآباداضلاع کا اثرہے شہری عوام کے لب ولہجے نیزالفا ظ میں نوابی نزاکت وتکلف کی چاشنی کاعنصرپایاجاتاہے۔الفاظ میں تشدید کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہوتاہے۔ منفردلب ولہجہ،الفاظ اور اندازِگفتگویہاںزبان کو الگ پہچان بناتی ہے جو دنیابھر میں پہچانی جاتی ہے۔کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو بجنوریوں کی پہچان بن چکے ہیں مثلاًیوں(اس طرح)کاں(کہاں)اُرے(اِدھر)پرے(اُدھر) کررا ( کررہا) ہووے (ہوئے) وے (وہ) آوے(آئے) اِنگھے (اِس طرف) اُنگھے (اُس طرف) آریا(آرہا) جاریا(جارہا) وغیرہ
سیاسی اعتبارسے بجنور چونکہ شاہان دہلی اورحکمرانِ اودھ دونوںسے متعلق رہا،اس لئے یہاںکی ادبی محفلوںمیں دبستانِ دلّی اورلکھنئو دونوں کا تتبعّ کیا گیااورآج تک یہاں کی زبان و بول چال پراس کا اثرموجودہے۔ بیسویں صدی میں رام پوراسکول کی ادبی روایات سے بھی یہاں کے شعرأنے اکتساب سے گریزنہیں کیا۔ اردوادب کے دوبڑے مرکز حیدرآباد اوربھوپال نے بھی اس ضلع کی ادبی شخصیتوں کو نوازکر یہاں کی ادبی زندگی میں روح پھونکی۔
شعرائے متقدمین قائم چاندپوری کانام سرِفہرست ہے۔ تذکرہ نگاروں نے قائم، غالبؔ ، ذوقؔ اورخصوصاًداغؔ کے ان شاگردوں کا ذکرکیا ہے جن کاتعلق ضلع بجنورسے ہے۔دورِمتوسط اوردورِآخرمیں بھی ناموراساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذطے کرنے والے شعرائے بجنور کی ایک اچھی خاصی فہرست ہے۔ جن کاذکرتذکرہ نگاروں نے نہیں کیالیکن اس زمانے کے مشہورگلدستوں اوررسائل میں ان کاکلام اوربعض بعض کے حالاتِ زندگی محفوظ ہیں۔
شعروشاعری میں جہاں یہاں کے اہل علم دادِ سخن لیتے رہے، وہیں دوسری اصناف نظم ونثرمیں بھی بجنوریوں نے نمایاں حصہ لیا ہے۔ مولوی نذیراحمدکانام اردوناول نگاری اورافسانہ نویسی کی تاریخ میں ہمیشہ اولین ادیبوںکی فہرست میں آتا رہے گا۔ اردو زبان کے مورخین کا تذکرہ اکبرشاہ خاں نجیب آبادی کے نام کے بغیرنا مکمل رہے گا۔ دوسری زبانوںمیں ترجمہ کرنے والوں کی فہرست جب بھی مرتب کی جائے گی سید سجاد حیدریلدرم کانام ترکی زبان سے ترجمہ کرنے والوں کی ابتدائی فہرست میں ہمیشہ جگہ پائے گا۔اردو تخلیق وتنقیدنگاری کی تاریخ ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری کوفراموش نہیں کر سکتی۔غالب شناسی کا دورصحیح معنوںمیں’’محاسن کلامِ غالب‘‘ کی تخلیق کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔اردو زبان و ادب سے متعلق تحریروں میں علامہ تاجور نجیب آبادی اور سرتیج بہادر سپروکانام بھی آتارہے گا۔ (یہ بھی پڑھیں مجید حسن اور اخبار’مدینہ‘ بجنور – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی)
صحافت کے میدان میں بھی بجنور کی خدمات قابلِ ذکر ہیں یہاں کی صحافتی زندگی کا قلب مدینہ اخباررہاہے۔صحافت کی نامور شخصیتیں قاضی عدیل عباسی، ابوسعید بزمی،نیازفتحپوری، شوکت تھانوی، محمدعثمان فارقلیط،نصرا للہ خاں عزیز، حامدالانصاری غازی اورضیاالحسن فاروقی وغیرہ سب مدینہ سے متعلق رہے۔(شرافت مرزا)
دبستان بجنورکے پروفیسر عبد الصمد صارمؔ، ڈاکٹر عثمان اطہر پرویز، ماہر لسانیات گیان چند جین، مجاہد ملت حفظ الر حمن سیوہاروی، تاریخ داں اکبر شاہ نجیب آبادی، صحافی مولانا مجید حسن (مدینہ)، نشترؔ خانقاہی، رفعت سروش، پروفیسر خورشیدالا سلام، شاعر قائم ؔچاندپوری، علامہ تاجور نجیب آبادی، بینا بجنوری، نہال سیوہاروی، عرفان رومانی، شمس کنولؔ، ظفر احمد نظامی، کوثرؔچاند پوری، امام ا لشعراء اختر الایمان، چندر پرکاش جو ہرؔ بجنوری، ہلا لؔ سیو ہاروی ، رام اوتارمضطرؔ نجیب آبادی، رام کمار و رما غمؔ بجنوری، ڈاکٹر ذکاء الرب ربابؔ ، پرکاش مونس،پروفیسرریاض الاسلام، شمبھوسنگھ دانش، مولوی عبدالبصیر عتیقی آزاد، علامہ شبّیراحمدعثمانی، مفتی عزیزالرحمن، منشی کنول نین سرکش، شوق بجنوری،نور بجنوری، شیون بجنوری، افسرجمشید، جاوید ندیم، جیراج سنگھ بشنوئی، ڈاکٹرشرافت حسین مرزا، حافظ محمدرحمت اللہ فرحت نگینوی، سید مصطفٰی حسین قادری فرخ نگینوی ظ میرٹھی، عشرت کرتپوری،حکیم نیّرواسطی، ڈپٹی نثار حیدرنہٹوری، حافظ عبدالسمیع سیمابی، مختار زنجانی، ظفربجنوری، عبدالقیوم ارشق شیرکوٹی خواتین میں نذرؔ سجاد، صدیقہؔ بیگم، قر ۃ العین حیدر، پنہاں ؔانصاری، پروفیسر ثر یا حسین، ڈاکٹر شمع افروزـزیدی،نصرتؔمہدی،علینہؔ عترت رضوی، ڈاکٹر شبانہ نذیر ،صائمہ فہیم عظیمہ نشاط ،نئی نسل میں اسد رضا، حسیب سوزؔ، خالد علوی، ڈاکٹروسیم اقبال، جاوید اختر، معین شادابؔ، اطہر شکیلؔ، ابرار کرتپوری، شکیل جمالی، عشرت کرتپوری، سالکؔ دھامپوری، عبد الغفاردانش نو رپوری،سراج الدین ندوی، ڈاکٹر شیخ نگینوی، جاوید اقبال، عشرت جاوید، محمد احمد دانش، مسرت شیزی، انور بجنوری، شفق بجنوری، فاخر ادیب، شناور کرتپوری، منصور بجنوری، مرزا طالب بیگ، شمیم احمد صدیقی، ارشد ندیم، تہذیب ابرار، پرویز عادل، شکیل بجنوری ، شکیل رحمانی، جلیس نجیب آبادی، اخگرجلال آبادی، حفیقیصرزیدی، قاضی سجاد حسین کرتپوری، انجینئرسمیع الدین، یوسف بہزاد، مولاناریاست علی ، ڈاکٹر محمد یعقوب عامرسیوہاروی، ڈاکٹرزین العابدین، طیب آزاد شیرکوٹی، ڈاکٹرفرزانہ خلیل، شہناز کنول، ڈاکٹرعابدہ سمیع، پروفیسر عابد ملک وغیرہ وہ نام ہیںجو تاریخ ادب اردو میں سنہرے الفاظ میں درج ہیں۔ ان ادیبوں اورشاعروں نے بڑی تعدادمیں تصانیف تخلیق کرکے اردو کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ؎
ہے ضلع بجنور بھی تاریخ اردو میں مگر
لگ گئیں صدیاں کہ اردو کے سنورنے کے لیے
اردو ادب کی ایسی کوئی صنف نہیں ہے جسے ضلع بجنور کے ادیبوں نے اپنے قلم کے ذریعے سجا سنوار کر مضبوطی نہ دی ہو۔ گیت ،غزل، نظم، قصیدہ، مرثیہ، ناول ، افسانہ، ڈرامہ، انشاء پردازی، سوانح نگاری، اوپیرا، طنز و مزاح ، صحافت، ترجمہ نگاری، تنقید و تبصرہ وغیرہ۔وغیرہ سبھی اصناف میں ضلع بجنور کے اردو ادیبوں نے طبع آزمائی کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو ادب ضلع بجنور کے ادیبوں کے بغیر نا مکمل ہے۔ ضلع بجنور کے سبھی شاعروں اور ادیبوں کے بارے میں روشنی ڈالنے کے لیے ایک پورے دفتر اور لمبے وقت کی ضرورت ہوگی ، اس لئے ہم یہاں ضلع بجنور کے چند خاص ادیبوں کے بارے میں مختصر تحریراً کرتے ہیں۔
قائم چاندپوری- محمد قیام الدین ’’قائم ؔ چاندپوری‘‘ سنہ 1726ء میں ضلع بجنور کے قصبہ چاند پور میں پیدا ہوئے۔ قائم کے استاد رفیع احمد سوداؔ تھے۔ مشہور ادیب پروفیسر خورشید الا سلام نے لندن سے قائمؔ کا دیوان تلاش کر اسے جمع کیا اور لکھا ’’حقیقت یہ ہے کہ غزل کے میدان میں قائم، میرکے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ قصیدہ میں سوداؔ کو چھوڑ کر سب سے بہتر ہیں، بیانیہ اور تمثیلی مثنوی میںکوئی ان کے برابر نہیں، قطعہ اور رباعی میں وہ جہاں ہیں، وہاں اکیلے اور تنہا نظر آتے ہیں۔ قائمؔ مجموعی طور پر سبھی معاصرین میں ممتاز ہیں‘‘۔ ’’مخزن نکات‘‘ قائم چاند پوری کا ادبی مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اردو شاعروں کے بارے میں تذکرہ کیا ہے۔ یہ 18ویں صدی کا پہلا اہم اور بنیادی مجموعہ ہے۔ قائم چاندپوری کا سنہ1793ء میں رام پور میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کا مشہور شعر ہے ؎
مجلسِ واعظ تادیر رہے گی قائم
یہ ہے مہ خانہ ابھی پی کے چلے آتے ہیں
ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری : غالب کو غالب بنانے میں جتنا ہاتھ مولانا حالی کا تھا،عبدالرحمن بجنوری کا اس سے کم نہ تھابلکہ اگر سچ پوچھا جائے توغالب کو دنیائے شعر وادب میں غالب کرنے کاکارنامہ ڈاکٹربجنوری تھا۔ غالب نے جو کچھ کہا تھا اس میں بجنوری کا کوئی اضافہ کرنے کا تو سوال توتھانہیں بلکہ سوال اسے سمجھنے اورسمجھانے کا تھا اور انھوں نے اسے بالکل نئے ڈھنگ سے سمجھنے کی ضرور کوشش کی،بقول رشید احمد صدیقی۔’’اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غالب کو نفسیاتی اسلوب تنقید کی روشنی میں پہلے پہل بجنوری مرحوم ہی نے پیش کیا۔یہ بجنوری کے مقالے کا اثرہے کہ آج کل کے پڑھے لکھوں میں غالب سے شیفتگی پیدا ہوئی اوراربابِ ذوق وفکر نے غالب ہی نہیں بلکہ دوسرے شعراء کو بھی بجنوری مرحوم ہی کے اندازِتنقیدسے جانچنااور پرکھنا شروع کیا۔‘‘
’’محاسن کلامِ غالب‘‘ کے پہلے جملے سے ہی غالب پرستی کااعلان ہوتا ہے۔
ہندوستان میں الہامی کتابیں دو ہیں ایک مقدس دیددوسری دیوانِ غالب۔‘‘
قاضی عبدالغفار خاں نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’محاسن کلامِ غالب کے متعلق عبدالرحمن بجنوری مرحوم نے اپنا جونقطہ نظرپیش کیاہے اگر اس سے بعض نقادِ فن اختلاف بھی کریں تب بھی وہ بجنوری کی وسعت نظر اور عالمانہ تنقید کا وزن ضرور محسوس کریں گے‘‘
بجنوری نے اگر دیوانِ غالب کوالہامی کتاب مانا توبے جا نہیں ۔اس لئے کہ ان کا خیال تھا اور صحیح تھاکہ’’کیا ہے جو یہاں حاضر نہیں کون سا نغمہ ہے جو اس زندگی کے تاروں میں بیداریاخوابیدہ موجودنہیں۔‘‘اور اسی لئے انھوں نے غالب کو ایک’’رب صنوع‘‘تسلیم کیا ہے۔
غالب پر ان کا یہ دیباچہ جو بعد کو’’محاسن کلام‘‘ کے نام سے شائع ہواغالب کے سلسلے میں سب سے اہم دستاویز ہے۔جسے نظرنداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر عبداالرحمن بجنوری1882میں سیوہارہ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے ان کے والد خان بہادرنوراسلام کوئٹہ میں انجینئرتھے اس لئے ان کی پرورش ۔ابتدائی تعلیم انگریزی ماحول میں ہوئی،اور بنیادی مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی پڑھائی گئی لیکن اعلی تعلیم علی گڑھ میں شروع ہوئی۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرسٹری کے لئے انگلستان روانہ ہوگئے۔بجنوری کو شروع سے انگریزوں سے منافرت تھی۔بیرسٹری کا امتحان شاندارکامیابی کے ساتھ پاس کرنے کے بعدوہیں انگلستان میں انگریزوں کے خلاف کام شروع کر دیا۔ فرانس میں رہ کر آپ نے پی۔ ایچ۔ ڈی کے لئے مقالہ لکھا یہ مقالہ جرمنی زبان میں لکھا اور وہیں چھپا، یہ مقالہ فقہ پر ہے۔
ہندوستان کی آزادی اور دوسرے مسائل پروہاں گاندھی جی سے آپ کی تفصیلی بات ہوئی تھی۔ آپ کومادرِ درس گاہ علی گڑھ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ اور آپ کا خیال تھا کہ اس قسم کی کئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں اسی لئے جب یونی ورسٹی کاقانون بنا تو ڈاکٹربجنوری نے دہرادون میں ایک اسکیم بنائی اور اپنے دوستوں خاص طور سے شعیب قریشی، عبیدالرحمن سندھی، ڈاکٹر سید محمود کوشریک کیا پھر یونی ورسٹی کے ڈھانچے کوترتیب کرنے کے لئے جب ایک کمیٹی بنائی تو اس کے سلسلے میں مشاورتی جلسہ ڈاکٹر بجنوری نے امروہہ میں طلب کیا۔
نواب حمید اللہ خاں (بھوپال )نیآپ کو اپنا صلاح کار بنالیا۔ نواب صاحب بھوپال آپ کے کلاس فیلو تھے اور ڈاکٹربجنوری بھوپال میں رہنے لگے۔وہیں دیوان غالب نظر سے گزرا۔یہ نسخہ بھوپال کے فوجدار خاں کو نذرکیا گیا۔تھاڈاکٹر صاحب نے فوراً اس کو طبع کرانے کا انتظامات کئے،لیکن وہ نسخہ ’’نسخۂ حمیدیہ‘‘ کے نام سے ان کے انتقال کے بعد چھپا۔
ڈاکٹر بجنوری کے خطوط کے مجموعے’’باقیاتِ بجنوری‘‘ اور’’ یاد گارِ بجنوری‘‘ کے نام سے چھپے ہیں۔جن سے اس دور پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ ان دونوں مجموعوں میںمضامین بھی شامل ہیں۔ جوان کی جدّت طرازی کا نقش ہیں۔
’’محاسن کلامِ غالب‘‘ میں دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے اورآج بھی غالب پر اتنا کام ہونے کے باوجوداس پائے کا مقالہ نہیں لکھا جا سکا۔
7نومبر1918ء کو عبد الرحمن بجنوری کا بھوپال میں صرف33برس کی کم عمری میں انتقال ہو گیا، لیکن اردو ادب کے لیے وہ صدیوں کا کام کر گئے۔ ناہید، ہندوستان، مجزوب ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ ؎
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلہ ٔ عشق سیاہ پوش ہوا میر ے بعد
اکبر شاہ نجیب آبادی۔ اکبر شاہؔ خان، اکبر شاہؔ نجیب آبادی کی پیدائش بجنور ضلع کے نجیب آباد شہر میں ہوئی۔ شاہؔ اردو کے عظیم تاریخ داں، ادیب اورشاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با صلاحیت محقق بھی تھے۔ انھوں نے ادب، سیاست اور فلسفہ پر بیش قیمت مضامین تحریر کئے۔ ان کی ادبی تخلیق’’ بجر الفصاحت‘‘ فن عروض پر مستند کتاب ہے۔ اکبر شاہ نجیب آبادی کا ایک بڑا کارنامہ اردو زبان میں ’’تاریخ اسلام‘‘ تین جلدوں میں مرتب کرنا ہے۔ انھوں نے 1910ء سے 1938ء تک لگاتار ’’عبرت‘‘ نامی ادبی اخبار کی ادارت اور اشاعت کی۔1942ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔بقول ظفر عدیم۔
لہجے کا گوشہ نطق کا پہلو اداس ہے
اک شخص کے نہ ہونے سے اردو اداس ہے
علامہ تاجورؔ نجیب آبادی۔ بر صغیر میں بیسویں صدی میں جو ادبی شخصیات پیدا ہوئیں ان میں ایک نام علامہ تاجورؔ نجیب آبادی کا بھی ہے۔ بیسویں صدی کے ادیب اور شاعر جن ماہناموں اور جریدوں میں چھپنا فخر سمجھتے تھے اور چھپنے کے بعد ان کا شمار معیاری ادیبوں اور شاعروں میں ہونے لگتا تھا، ان ماہناموں اور جریدوں کی ادارت علامہ تاجوؔر نجیب آبادی کرتے تھے۔ علامہ تاجوؔر نجیب آبادی کا اصلی نام احسان اللہ خاں تھا۔ 1894ء میں ان کی پیدائش ضلع بجنور میں نجیب آباد قصبہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد علامہ تاجوؔر نجیب آباد سے دیوبند چلے گئے اور 1914ء میں لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کروہیںدیال سنگھ کالج میں پروفیسر ہو گئے۔ تاجور ؔ 1916ء میں ’’مخزن ‘‘ کے مدیر بنے۔ ادبی میگزین ’’ہمایوں‘‘ کے اڈیٹر ’’پریم‘‘ اور ’’ادبی دنیا‘‘ میگزین کے پبلشر بھی علاّمہ رہے۔ 1934ء میں علاّمہ تاجوؔر نجیب آبادی نے ’’شاہکار‘‘ نام سے ایک میگزین شائع کی جس نے ادبی حلقو ں میں بڑی شہرت حاصل کی۔
مشہور ادیب گوپال متّل لکھتے ہیں کہ ’’ پنجاب میں محمد حسین کے بعد اردو کی ترقی میں دوسرا نمبر تاجورؔ کا ہے‘‘۔ تاجور نے ’’روحِ انتخاب‘‘ نامی کتاب بھی تصنیف کی۔ علامہ تاجوؔر نجیب آبادی کو ’’بلیغ الملک‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ 30جنوری 1951ٗکو علامہ تاجوؔر نجیب آبادی کا پاکستان میں ہی انتقال ہو گیا ۔ علامہ کا ایک شعر۔ ؎
پس اتنی داد دینا بعد میرے میری الفت کو
کہ یاد آئو ں تو اپنے آپ کو تم پیار کر لینا
اظہار اثرؔ کرتپوری۔ بر صغیر کے معروف ناول نگار اظہار اثرؔ کرتپوری کی پیدائش 1928ء میں ضلع بجنور کے قصبہ کرتپور میں ہوئی۔ روزگار کی تلاش میں اظہار اثرؔ 1943ء میں لاہور چلے گئے اور وہاں استاد شاعر احسان دانش ؔکے شاگرد بن گئے۔ 1950ء میں اظہار اثرؔ دہلی واپس آئے۔ اس وقت تک اثرؔ شاعری کیا کرتے تھے۔ دہلی میں چلمن، بانو، کی ادارت کی اور آریہ ورت کے نائب مدیر رہے۔ تنخواہ ناکافی تھی اس لئے انھوںنے سوچا کہ ’’شاعری داد دے سکتی ہے، پیٹ بھرنے کو روٹی نہیں دے سکتی‘‘۔ اس لئے افسانے لکھنے شروع کر دیے۔ 1952ء میں ان کا پہلا ناول ’’ناگن‘‘ آیا اور بیحد مقبول ہوا۔ اس کے بعد اثرؔ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ادب کی ہر صنف شاعری، افسانہ، رباعی، سماجی، سائنسی اور جاسوسی ناول، انشائیے، تنقید، ریڈیو، ٹی وی اور اسٹیج سبھی میں طبع آزمائی کی۔نصاب میں ان کی تخلیقات شامل ہیں۔ ’’فرعونہ‘‘ اور ’’ناگن‘‘ اردو جاسوسی ادب کے بہترین نمونے ہیں۔ ان کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔ اظہار اثرؔ انڈ و پاک کے پہلے سائنسی شاعر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی ہزار کے قریب تخلیقات منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ فرانس کے ادیب موپا ساں اور روسی ادیب گورکی نے اظہار اثرؔ کو متاثر کیا۔ 2011 میں اظہار اثرؔ کا انتقال ہو گیا۔ اظہار اثرؔ کا شعر
حسرتِ دید کی تفصیل لکھوگے کب تک
نامہ ٔ دل میں اتر کر چشمِ تمناّرکھ دو
ہلالؔ سیوہاروی :عالمی شہرت یافتہ طنز و مزاح کے شاعر ہلالؔ سیوہاروی کا 15نومبر 2012ء کو انتقال ہو گیا۔ یہ خبر اردو ادب اور خاص طور پر طنز و مزاح کی شاعری کے لئے بڑی المناک تھی ،کیونکہ طنز و مزاح میں شاعری کرنا اور اس کا معیار قائم رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن ہلال سیوہاروی نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب میں معیاری مزاحیہ و طنز یہ شاعری کی کمی کو کافی حد تک پورا کیا۔
ہلال صاحب نے اپنی شاعری عام اور آسان اردو زبان میں کی اور اپنی طنزیہ شاعری میں سیاست، سیاست داں ،سرمایہ داری اور سرمایہ داروں، افراد اور سماج سبھی کو ہدف بنا یا ،اسی لئے ان کا کلام آج بھی مجلسوں میں گفتگو کا موضوع اور اخبار کی سرخی بنتا ہے۔
15جنوری 1928ء کو ضلع بجنور (یوپی) کے قصبہ سیوہارہ میں قاضی فضلِ حق صاحب کے یہاں پیدا ہوئے۔ حبیب الر حمن نے جب شاعری شروع کی تو اپنا قلمی نام ہلالؔ سیوہاروی رکھا اور یہ ہلال اردو شعر و ادب کی دنیا میں چاند کی طرح چمکا۔ ادیب ماہر تک تعلیم حاصل کرنے والے ہلال کو شعری ذوق فارسی کے بڑے اور خوشگو شاعر دادا قاضی مظہر الحق سے ورثہ میں ملا۔ 1946ء میں شوگر مل سیوہارہ میں فیٹر کی پوسٹ پر ملازمت شروع کی اور ساتھ ہی اپنے شعروں سے معاشرہ کو بھی فٹ کرتے رہے۔ فریب سحر، فریب نظر، انگوٹھا چھاپ، اگر برا نہ لگے اور دھندلا سویرا ا ن کی تصانیف ہیں۔
15اگست1998ء کو ایوان غالب نئی دہلی میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہلالؔ سیوہاروی کی کتاب ’’اگر برا نہ لگے‘‘ کا رسم اجراء کیا ۔ اردو اکادمی دہلی کی جانب سے غالب انسی ٹیوٹ میں اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے طنز و مراح غالب ایوارڈ 1987-88 سے ہلال سیوہاروی کو نوازا تھا۔ 4نومبر2000ء کو نگینہ میں تنویر اختر کی کنوینر شپ میں ’’جشن ہلال‘‘ منایا گیا، جس میں ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی تھی ۔ہلال سیوہاروی نے روس، انگلینڈ، پاکستان،متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، فرانس وغیرہ ملکوں میں ہوئے مشاعروں میں شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو داد دینے کے لئے مجبور کیا۔ شہنشاہ ِ جذبات دلیپ کمار، جانی واکر سے ہلالؔ سیوہاروی کے بیحد قریبی تعلقات تھے۔ ہلالؔ کی آخری کتاب ’’نقطۂ نظر‘‘ میں ’اپنی بات‘ میں ہلال ؔسیوہاروی نے لکھا ہے ۔ ’’نئی نسل کے نوجوان چاہے وہ ہندو ہو ں یا مسلم، سبھی اردو بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں مگر بد قسمتی سے انھیں اردو پڑھنا اور لکھنا نہیں آتا ہے۔
دنیا میں جہاں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے اس کے نصاب میں ضلع بجنور کے اردو ادیبوں اور ان کے اہم تعاون اور تصانیف کو ضرور شامل کیا گیا ہے۔ ضلع بجنور کے ادیبوں پر بڑی تعداد میں تحقیقی مقالے لکھے جار ہے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سمیناروں میں بھی بجنوری ادیب بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ آخیر میں اتنا کہنا درست ہوگا کہ بجنور ضلع کے اردو ادیبوں کا ادب میں اہم تعاون ہے ،جو ناقابلِ فراموش ہے۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

