Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
صحافت

مجید حسن اور اخبار’مدینہ‘ بجنور – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی

by adbimiras نومبر 15, 2020
by adbimiras نومبر 15, 2020 0 comment

ہندوستان میں اردو صحافت کی ابتدا گرچہ انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہوئی لیکن عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کرنے میں اسے کم و بیش اسّی (80) برس کا طویل سفر طے کرنا پڑا۔ ان اسّی برسوں میں چند اخبارات ایسے تھے جس نے صحافت کی تاریخ میں گہرے نقوش مرتسم کیے مثلاً دہلی اردو اخبار، اودھ اخبار، پیسہ اخبار وغیرہ، مگر بیسویں صدی میں شائع ہونے والے اخبارات کے نزدیک ان کی اہمیت و حقیقت ثانوی ہو کر رہ گئی۔ بیسویں صدی کا عہد تہذیبی، سیاسی، سماجی، معاشی، اقتصادی، مذہبی اور تعلیمی اعتبار سے جس قدر انتشار و بے چینی کاتھا اسی قدر ادبی اور صحافتی اعتبار سے ترقی کا ثابت ہوا۔  ادبی منظر نامے سے قطع نظر بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی ایسے اخبارات شائع ہونے شروع ہوگئے تھے جس نے صحافت کو ایک نیا رنگ و آہنگ اور اچھوتا اسلوب و انداز بخشنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولوی مجید حسن کا اخبار ’مدینہ‘بجنور اسی سلسلے کی ایک کامیاب کڑی تھی۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور یکم مئی 1912 کو صحافت کے افق پر نمودار ہوا، لیکن بعض محققین اس کی تاریخ اشاعت کے تعلق سے غلط فہمی کے شکار نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر مسکین علی حجازی نے ”پاکستان و ہند میں مسلم صحافت کی مختصر ترین تاریخ“ میں 1902 اور عابداللہ غازی نے”صریر خامہ“ میں 1913 رقم کیا ہے جو تحقیقی نقطۂ نگاہ سے درست نہیں۔ اخبار ’مدینہ‘ بجنور کی تاریخ اشاعت اور اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولوی مجید حسن نے خود ہی اس نقطے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:

”مدینہ یکم/ مئی 1912 سے نکلا لیکن کئی مہینہ تک اس کی اشاعت کی رفتار اس قدر سست رہی کہ ہماری ہمت شکست ہونے لگی کیوں کہ جو اندوختہ ہم نے مدۃالعمر کی بیرونی ملازمت میں جمع کیا تھا وہ اس پر تمام و کمال خرچ ہوچکا تھا….. ہم نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی اور ایک معقول رقم قرض لے کر مدینہ کے کام کو محنت و مشقت سے انجام دینے لگے خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے ہماری محنت کو بارآور کیا اور ایک سال میں مدینہ اس قابل ہوگیا کہ اپنے مصارف برداشت کرنے لگا۔“  [1]

درج بالا اقتباس کے ذریعہ مولوی مجید حسن کی زبانی اس کا انکشاف کلّی طور پر ہوجاتا ہے کہ اخبار ’مدینہ‘ بجنور کا پہلا شمارہ یکم مئی1912 کو منظر عام پر آیا۔ساتھ ہی اس اقتباس میں مالی مشکلات اور جدو جہد مسلسل کی طرف بھی واضح اشارے موجود ہیں،کہ کیوں کر ایک شکستہ کشتی بحر ذخار کے موجوں سے ٹکراتی ہوئی ساحل سمندر سے جالگی اور پھر از سر نو اپنے سفر کا آغاز کیا۔ یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مولوی مجید حسن نے اسے ہفتے میں دو بار شائع کرنا شروع کردیا۔ حتیٰ کہ انھوں نے روز نامے کی طرف بھی پیش قدمی کی لیکن حالات موافق نہ ہونے کی وجہ سے یہ اخبار اپنی آخری عمر تک سہ روزہ ہی رہا۔

مولوی مجید حسن کے دست طفیل بجنور سے شائع ہونے والا اخبار ’مدینہ‘ آخر تھا کیا؟صرف ایک اردو اخبار، نہیں! جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسے فقط اخبار کہہ کر دامن جھاڑ لینا سراسر زیادتی اور ناانصافی کی بات ہے۔ بیسوی صدی کی دوسری دہائی سے لے کر آٹھویں دہائی تک شاید ہی کوئی ایسا پہلو یا موضوع نکل آئے جس کی طرف ’مدینہ‘ نے تو جہ نہ دی ہو۔ بلقانیوں کی بغاوت ہو یا ترکوں کی جنگ، پہلی جنگ عظیم کے وجوہات کی بات کی جائے یا اس سے ہونے والی تباہی کی، مسجد کانپور کا سانحہ ہو یا جلیان والا باغ کادلدوز واقعہ، پرنس آف ویلز کی آمد ہو یا ہندوستان میں خلافت تحریک کا آغاز، کانگریس کی حمایت ہو یا مسلم لیگ کی مخالفت، مقاطع ریزولیشن کی بات کریں یا ہندوستان چھوڑو تحریک کی، اردو، ہندی کا جھگڑا ہو یاہندو مسلم مسائل،رولٹ بل کا نفاذ ہو یا سائمن کمیشن کی رپورٹ پاکستان کا قیام ہو یا تقسیم کے نام پر ہونے والے فسادات کا ذکر غرض کہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے موضوع کی طرف اس نے بھرپور توجہ صرف کی۔ یہ اخبار ابتدا تا آخر تسلسل کے ساتھ جاری رہا بعض وجوہات کی بنا پر کچھ شمارے وقت پر شائع نہ کیے جاسکے لیکن اس درمیان کی اہم خبریں اگلے شمارے میں ضرور پیش کردی جاتی تھیں۔ اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو ’مدینہ‘ اس دور کی مکمل اور مبسوط تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے چشم پوشی کسی صورت ممکن نہیں۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اس کے حلقہئ ادارت میں ابتدا تا آخر تقریباً اٹھائیس قلمکاروں نے ادارتی فرائض بہ حسن خوبی انجام دیے۔ان میں آغا رفیق بلند شہری،حافظ نورالحسن ذہین، امین احسن اصلاحی، حامد الانصاری غازی،نصیر الحق دہلوی، ابواللیث اصلاحی، ا بو سعید بزمی، قاضی عدیل عباسی، پروفیسر ضیا الحسن فاروقی، حمید حسن فکر، نصراللہ خاں اور قدوس صہبائی وغیرہ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام حضرات فقط صحافت کے پیشے سے منسلک نہ تھے بلکہ اپنے عہد کے صاحب طرز انشا پرداز، نثار اور شاعر بھی تھے۔یہی وجہ تھی کہ اخبار ’مدینہ‘ بجنور نے جہاں صحافتی اعتبار سے ملک و قوم کی بے شمار خدمات انجام دیں وہیں ادبی سرمائے میں بھی اضافے کا سبب بنا۔ اگر ہم اخبار مدینہ‘ میں شائع ہونے والے فقط ادبی سرمائے کا جائزہ لیں تو اس کے لیے بھی ایک دفتر کی ضرورت درپیش ہوگی۔ ادبی سرمائے کے حوالے سے اس کے لکھنے والوں میں اکبرؔ الہٰ آبادی، شبلیؔ نعمانی، الطاف حسین حالی، علامہ اقبالؔ، حسرتؔ موہانی، شاد عظیم آبادی،نوح ناروی، ظفرؔعلی خاں، جگرؔمرادآبادی، محمد علی جوہرؔ، روشؔ صدیقی، ساغرؔ نظامی، عثمان فارقلیطؔ، وارث کامل، محمد اجمل خاں وغیرہ کے نام خاص طور پر لیے جاسکتے ہیں۔

جس زمانے میں یہ اخبار جاری ہوا اس وقت ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریز دشمنی اور ملک کی مکمل آزادی کا جذبہ کسی نہ کسی درجے میں گھر کر چکا تھا۔ لوگ ذہنی اور قلبی طور پر اس کی خواہش کر رہے تھے کہ ملک کو آزاد کرایا جائے لیکن عملی طور پر کوئی بڑا قدم اٹھانے سے قاصر تھے۔اپنی خواہش کے باوجود ملک کی آزادی کے لیے عوام کا خود کو اس کا اہل نہ سمجھنے کی ایک وجہ سرسید کی سیاست سے باز رہنے کی تلقین بھی تھی۔ اخبار ’مدینہ‘ نے سرسید کے نظریے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں سرسید نے یہ مشورہ دیا تھا اس وقت کے حالات اور مسائل کچھ اور تھے مگر آج صورت حال مختلف ہے۔ لہٰذا ہندوستانیوں کو چاہیے کہ وہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں برابر کے شریک ہوں۔

اخبار ’مدینہ‘ کے ذریعہ کی گئی یہ اپیل صد فیصدی درست تھی کہ ہندوستانی عوام آزادی وطن کی کوشش کریں، لیکن یہ کوشش جب ہی بارآور ثابت ہوسکتی تھی جب ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین اخوت و ہمدردی اور اتحاد و اتفاق کی فضا معمور ہو۔ انگریزی حکومت اس حقیقت سے پوری طرح آشنا تھی کہ ہندوستان میں ان کا قیام اسی وقت تک ممکن ہے جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بغض و عناد کے عناصر موجود ہیں۔ لہٰذا انھوں نے ایسے افراد کی تلاش شروع کردی جو چند پیسوں کی خاطر اپنا ملک اور ضمیر دونوں بیچنے کے لیے تیار ہوں۔اس مقصد میں انگریزوں کو کامیابی ملی اور دیکھتے دیکھتے ہی سارا ہندوستان ان کے زیرنگیں چلا گیا   ؎

ہندوستان کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی

ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر لوٹ لی

انگریزوں کی اس حکمت عملی کا پردہ فاش کرنے اور ان کی حقیقی تصویر ابھارنے میں اردو اخبارات نے جس بے جگری اور بے خوفی کا مظاہرہ کیا اس کا اندازہ ان اخبارات کی بندشوں، قرقیوں اور ضبطیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔حکومت ایک اخبار پر پابندی عائد کرتی تو اسی سے ملتے جلتے نام سے دوسرا اخبار جاری کردیا جاتا، پھرجب دوسرے پر پابندی لگائی جاتی تو وہی ادارہ کوئی تیسرا اخبار شائع کرتامثلاً الہلال پر بندش لگی تو البلاغ جاری ہوا، ہفتہ وار ہند پر جرمانے عائد ہوئے تو الہند، ہند جدید، سہ روزہ ہند وغیرہ جاری ہوئے۔ غرض کہ نام میں معمولی سی تبدیلی کے ساتھ اخبارات شائع ہوتے رہے۔اردو صحافت کی اسی باغیانہ روش نے انگریزی حکومت کے ایوان کو متزلزل کررکھا تھا۔ تھامس منروجو ایسٹ انڈیا کمپنی کے آرمی آفیسر کے عہدے پر مامور تھا، نہایت ہی لبرل اور روشن خیال شخص تھا، لیکن ہندوستانی صحافت کے تعلق سے اس کے بیان کو پڑھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اپنی حکومت کو برقرار اور ہندوستانیوں کو غلام بنائے رکھنے پر وہ کس قدر مصر تھا۔ 1822 میں اپنے ایک تقریر کے دوران اس نے صحافت کی اہمیت اور ہندوستانیوں کو اس پیشے سے دور رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا:

”ہم نے اپنی سلطنت کی بنیادیں جن اصولوں پر استوار کی ہیں ان کی رو سے رعایا کو اخباروں کی آزادی نہ تو کبھی دی گئی اور نہ کبھی دی جائے گی… اگر ساری رعایا ہماری ہم وطن ہوتی تو میں اخباروں کی انتہائی آزادی کو ترجیح دیتا لیکن چونکہ وہ ہماری ہم وطن نہیں ہے اس لیے اس سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی…اخباروں کی آزادی اور اجنبیوں کی حکومت ایسی چیزیں ہیں جو نہ تو ایک جگہ جمع ہوسکتی ہیں اور نہ مل کر ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔آزاد اخبار نویسی کا پہلا فرض کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ ملک کو بدیسی حکمرانوں سے نجات دلائی جائے۔ اگر یورپین اور ہندوستانی اخباروں کو آزدی دی گئی، تو اس کا بھی نتیجہ یہی ہوگا۔“  [2]

درج بالا اقتباس میں دو باتوں کی طرف واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ رعایا ہم وطن نہیں ہے اور دوسری اخباروں کی آزادی کا براہ راست اثر حکومت پر پڑے گا۔ یہی وجہ تھی دیسی زبان میں شائع ہونے والے تقریباً تمام اخبارات طویل مدت تک ملک و قوم کی خدمت انجام دینے سے قاصر رہے۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور بھی اپنی بے باکی اور حق گوئی کی بنا پر انگریزی عتاب سے محفوظ نہ رہ سکا۔ یعنی اس پر بھی اتنی سخت پابندیاں عائد کردی گئیں کہ اسے مجبوراً ’مدینہ‘ کے بجائے ’یثرب‘ کا روپ اختیار کرنا پڑا۔]٭[ اخبار ’مدینہ‘  نے ’یثرب‘ نام کے ساتھ 25/اگست 1919 سے دوبارہ ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری کیا۔ لیکن صد افسوس ابھی اس کے چند شمارے ہی منظر عام پر آئے تھے کہ 13/ستمبر 1919 کو دوبارہ اس کی نکیل کس دی گئی۔مگر مولوی مجید حسن کہاں رکنے والے تھے 17/ستمبر 1919 کو دوبارہ ’مدینہ‘ کے نام سے اس کی اشاعت کا سلسلہ جاری کردیا۔ اس تعلق سے اخبار ’مدینہ‘ میں رقم طراز ہیں:

”مدینہ پر اگر کوئی تین ہفتہ کی غیر حاضری کا اعتراض کرے تو ”مدینہ“ یہ جواب دے سکتا ہے کہ حضرات آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں حاضر تو برابر ہوتا رہا صرف فرق اتنا تھا کہ پہلے جس لباس میں آتا تھا اس پر مصلحتاً یثربی چغہ پہن لیا تھا۔ اب چوں کہ اس مصلحت کی ضرورت نہیں رہی لہٰذا پھر اپنے اصلی لباس میں جلوہ گر ہوتا ہوں۔“  [3]

اخبار ’مدینہ‘ اپنی پیدائش سے ہی کانگریسی طرز خیال کا حامی تھا،بلکہ اسے کٹر کانگریسی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس نے بارہا عوام کو اس کی تلقین کی کہ سب ایک جھنڈے یعنی کانگریس تلے جمع ہوکر انگریزوں کے خلاف نبردآزما ہوں۔ کیوں کہ پورے ملک میں کانگریس ہی ایک ایسی جماعت ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں فرقوں کے لیے یکساں حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن مسلم لیگ کے کارکنان نے یہ غوغا بلند کررکھا تھا کہ کانگریس خالص ہندوؤں کی جماعت ہے جو مسلمانوں کے حق میں کبھی بھی مفید ثابت نہیں ہوسکتی۔اخبار ’مدینہ‘ نے ہندوستانی مسلمانوں کو اس معاملے میں غور و فکر سے کام لینے اور ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کامشورہ دیتے ہوئے کہا:

”… آخر مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کس طرح کریں…ہم یہ نہیں کہتے کہ کانگریس کی شرکت اس وقت ہمارا ضروری فرض ہے اور ہم کانگریس کے بغیر ملک و قوم کے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے لیکن… کانگریس کی ملکی خدمات اگر اس وقت پسندیدہ سمجھی جارہی ہیں…تو ہمارے نزدیک کوئی وجہ نہیں کہ ہم خواہ مخواہ اس کی مخالفت کریں۔“  [4]

ایک طرف اس اخبار نے عوام کو کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی۔تو دوسری جانب وہ مسلم لیگ کے عقائد و نظریات پر طنز کے تیر بھی برساتا رہا۔ مثال کے طور پر یکم اپریل 1940 میں ”مسلم لیگ“ کے عنوان سے ایک نظم شائع ہوئی اس کے چند اشعارپیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں:

صدق دل سے حامی آزادی کامل بھی ہے

راہ آزادی میں مسلم لیگ تو حائل بھی ہے

کیا عجب جو قافلہ والے یہ پوچھیں خضر سے

قبلہ و کعبہ خیال دوری منزل بھی ہے؟

اک معما، اک دھوکا تیرا دستور العمل

اے زہے قسمت کہ اس سے گرمی محفل بھی ہے

جبر و استبداد سے جس شوخ کے نالاں ہے تو

اس کے در پر اپنے حق کے واسطے سائل بھی ہے

کچھ تجھے مزدور اور دہقاں سے بھی ہے واسطہ

دل سہی پہلو میں لیکن اس میں درد دل بھی ہے؟

آڑ میں مذہب کے کھیلے جا سیاست کے شکار

سب کے سب دیوانے ہیں کوئی یہاں عاقل بھی ہے؟

خواب دیکھے جا یوں ہی آزادی کامل کے تو

ملک کو برباد کر دے دشمنوں سے مل کے تو [5]

درج بالا میں پیش کیے گئے اشعار میں طنز کی کاٹ کس نوعیت کی ہے قارئین خود محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ بات صد فیصدی درست ہے کہ مولوی مجید حسن کٹّر کانگریسی تھے۔ لیکن جب کبھی کانگریس نے اصول کے خلاف ورزی کی تو اخبار ’مدینہ‘ اس پر تنقید کرنے سے بھی باز نہ رہا۔حصول آزادی کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جس میں کانگریسی رہنماؤں نے ملک کی فضا کو بگاڑنے اور اپنا الّو سیدھا کرنے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کیے مثلاً گاؤ کشی، اردو ہندی کا جھگڑا، عبادت گاہوں کے مسائل وغیرہ۔ ان تمام موضوعات یا مسائل پر اخبار ’مدینہ‘ نے بے لاگ تنقید کی اور ان مباحث کے زیراثرپیدا ہونے والے علل و نتائج سے عوام کومتنبہ کیا۔مثال کے طور پر جب ہندوؤں کی طرف سے گاؤ کشی کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع ہوا اور اسے مذہب کے ساتھ سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی جانے لگی تو اخبار ’مدینہ‘ نے اپنے صفحات کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ مسلمانوں نے گائے خوری کا رواج نہ ہندوستان آنے کے بعد شروع کیا نہ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرنے کی غرض سے اسے جاری رکھاگیا ہے۔ اخبار ’مدینہ‘ کے یہ سطور ملاحظہ فرمائیں:

… جب سے ہندوستان میں مسلمان آئے ہیں اس وقت سے برابر اس شعار مذہبی (یعنی گائے کی قربانی پر)پر عمل ہوتا رہا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس شعار مذہبی میں کوئی جدت نہیں کی اور نہ ان کا یہ منشا ہے کہ اس سے ہندو قوم کے جذبات کو نقصان پہنچایا جائے یااس سے ان کی دل آزاری ہو۔“  [6]

اسی طرح اردو ہندی کے مسئلے پر جب کانگریس کے ایک باوقار لیڈرمسٹر سمپورنا نند جو اس زمانے (1937-1938) میں وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز تھے، نے ہندوستانی زبان کے سائے تلے فقط ہندی کی ترقی یا اسے لنگوا فرینکا ثابت کرنے کی کوشش کی تو اخبار ’مدینہ‘ نے نہ صرف مسٹر سمپورنا نند کے غلط نظریے کی تردید کی بلکہ اس کی وضاحت بھی کلّی طور پر کردی کہ ہندوستان میں اگر کسی زبان کو لنگوا فرینکا کا درجہ دیا جاسکتا ہے تو وہ فقط اردو ہے۔اس حوالے سے اخبار ’مدینہ‘ نے موسیو گریسن ڈی ٹی سی کے خطبے کاایک اقتباس نقل کرتے ہوئے تحریر کیا:

”اردو نے ہندوستان میں وہی مرتبہ حاصل کیا ہے جو فرانسیسی زبان نے یورپ میں۔ یہ زبان وہ زبان ہے جو بہ کثرت استعمال میں رہتی ہے۔ یہ عدالت اور شہروں میں استعمال ہوتی ہے۔ اہل علم اپنی تصنیفات اور شعرا اپنے خیالات اسی میں نظم کرتے ہیں۔ یوروپین سے گفتگو کاوسیلہ بھی یہی زبان ہے۔ اردو ہندوستان کے ہر قصبے… میں سمجھی جاتی ہے۔ باوجود یہ کہ وہاں اور زبانیں بولی جاتی ہوں۔“  [7]

درج بالا میں رقم کیے گئے اقتباس کے آخری جملے پر توجہ صرف کریں تو پتا چلے گا کہ ہندوستان کے جس صوبے میں اردو بولی نہیں جاتی تھی وہاں سمجھی ضرور جاتی تھی۔ لہٰذا جو زبان تقریباً پورے ملک میں سمجھی یا بولی جاتی ہو لنگوا فرینکا کی سند اس کے بالمقابل کسی دوسری زبان کو نہیں دی جاسکتی۔ہندوستان کی لنگوا فرینکا کے تعلق سے بحث سے کرتے ہوئے اخبار ’مدینہ‘ نے دو ٹوک اور صاف لفظوں میں اس امر کی وضاحت کردی کہ: ”اردو ہی ہندوستان کی لنگوا فرینکا ہے۔ مگر اس بدقسمتی کا کوئی علاج نہیں کہ کوئی وزیر تعلیم اپنے اختیارات خصوصی کے ماتحت ہندی کو ہندوستانی کہہ دے۔“  [8]

اردو ہندی کے جھگڑے کے ساتھ یہ نکتہ بھی زیر بحث رہا کہ ہندوستانی سے مراد کون سی زبان ہے اردو یا ہندی؟ مسلمانوں نے ’اردو‘ کو ہندوستانی کہا تو ہندوؤں نے ’ہندی‘ کو۔ بعض حضرات ایسے بھی تھے جن کے نزدیک ہندوستانی سے مرادایسی زبان تھی جس میں عربی، فارسی اور سنسکرت کے الفاظ شامل ہوں اور جو فارسی و عربی رسم الخط کے علاوہ دیوناگری میں بھی لکھی جاتی ہو،لیکن جب گہرائی سے ان کے خیالات و نظریات کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر بھی غیر جانبداری کا عنصر عنقا ہے۔ ان باتوں سے قطع نظر انگریزوں کے دخول ہند اور فورٹ ولیم کالج کے قیام کی جانب اگر توجہ کی جائے تو اس مسئلے کا ازالہ بھی کسی حد تک ہوجاتا ہے کہ ہندوستانی سے مراد کون سی زبان ہے؟فورٹ ولیم سے شائع ہونے والی تمام کتابیں اردو میں تھیں جسے انگریزوں نے ہندوستانی کے نام سے موسوم کیا۔یعنی اس بحث کے آغاز سے بہت پہلے ہی ’اردو‘ ہندوستانی کے نام سے معروف ہوچکی تھی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس مسئلے کی بنیادی وجہ فقط سیاسی فوائد کا حصول تھا۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور نے اپنے صفحات کے ذریعہ عورتوں کی تعلیم وتربیت پر بھی خصوصی توجہ کی۔اس اخبار نے عورتوں کے لیے غالباً 22/اپریل 1913 میں ”مدینۃ النسواں“ کے نام سے ایک عنوان قائم کیاتھا]٭٭[ جس کے ذیل میں صحابیہ کے واقعات، جنگجو اور بہادر عورتوں کے حالات، لڑکیوں کی صحت و تعلیم سے متعلق لائحہ عمل، گھریلو اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے تدابیر،ایسی احادیث اور اس کی تفسیر جس میں عورتوں کو موضوع بنایا گیا ہو پیش کی جاتی تھی۔غرض کہ اس باب کے ذریعہ عورتوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم و تربیت کی حتیٰ الوسع کوشش کی گئی۔ ( یہ بھی پڑھیں ادب اور صحافت کا رشتہ- ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )

صحافتی خدمات کے ساتھ اخبار ’مدینہ‘ نے ادب کی بھی بیش بہا خدمات انجام دی۔ ابتدا کے چار پانچ سال تک یہ سیاسی خبروں میں الجھا رہا لیکن 1918 سے اس نے اپنا سرورق شعری حصے کے لیے مختص کردیا،اور تقریباً یہ سلسلہ 1974 تک مسلسل جاری رہا۔ گرچہ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مہینوں تک اس اخبار میں کوئی غزل یا نظم شائع نہ ہوئی لیکن آہستہ آہستہ اس نے اپنی بنائی ہوئی راہ پر مستعدی کے ساتھ قدم بڑھایا۔یعنی اس کے سرورق پر پھر سے نظمیں، غزلیں، رباعیات، قطعات، مخمسات وغیرہ شائع ہونے لگیں۔علاوہ ازیں اس اخبار میں کتابوں پر تبصرے یا تبصراتی مضامین، نامور شخصیات کے خطوط، کسی شعرا و ادبا یا قوم کے رہنما کی موت پر تعزیتی مضامین، نئے اخبارات، رسائل اور کتابوں پر اشتہارات وغیرہ بھی اکثر و بیشتر شائع ہوتے رہتے تھے۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی کہ اس نے ترقی پسند تحریک کی شروعات سے پہلے ہی ایسے ادبی تخلیقات پیش کیے جن میں ترقی پسند عناصر بدرجہ اتم موجود تھے۔نوجوانوں کو سرگرم عمل بنانے کی خواہش،مظالم کے خلاف کمربستہ ہونے کی تلقین، اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کرنے کا حوصلہ غرض کہ کیا نہیں تھا جو ان نظموں میں پیش کیا گیا۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

کدھر ہو اے قوم کے جوانوں! دکھاؤ کچھ جوش نوجوانی

بنو بھی گرم عمل کہیں تم بہت ہوا دعویٰ زبانی

بغیر خون جگر فغاں میں ذرا بھی رنگ اثر نہ ہوگا

مجھے یہ ڈر ہے کہ ہو نہ جائے خروش دل صرف لن ترانی

اٹھو! اٹھو! قوم کے جوانوں کہیں یہ بیمار مر نہ جائے

ذبیح راہ خدا بنو تم، فدا کرو اپنی زندگانی

اس طرح کی چند نظمیں ترقی پسند تحریک سے پہلے شائع ہوچکی تھیں، لیکن ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی شروعات کے ساتھ ہی اس نے جس تواتر سے ان خیالات کی پیروی کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس اخبار سے اگر ایسی نظموں یا غزلوں کا انتخاب کیا جائے جس میں ترقی پسند خیالات مضمر ہیں تو ایک طویل فہرست تیار کی جاسکتی ہے۔

اخبار ’مدینہ‘ بجنور میں ”سرراہے“ کے عنوان سے ایک طنزیہ و مزاحیہ کالم بھی پیش کیا جاتا تھا۔ اس کالم کی شروعات قاضی بدرالحسن جلالی کے زمانۂ ادارت (اگست 1922 تا جنوری 1928) میں ہوئی۔یہ کالم تقریباً چالیس سال تک اس اخبار کی زینت رہا۔

آخر میں اس کی زبان و بیان کے متعلق بھی کچھ عرض کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اخبار ’مدینہ‘ نے اپنے موقف کے اظہار کے لیے جس طرح کی زبان کا استعمال روا رکھا وہ نہایت ہی سلیس، عام فہم اور سادہ تھی۔ ابتدا سے آخر تک کئی مدیروں کے ہاتھوں میں پرچہ رہنے کے باوجود زبان و بیان کے تعلق سے اس میں کسی حد تک ایک قسم کی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ بڑی سے بڑی خبر کو اس نے نہایت ہی آسان لفظوں میں یوں بیان کیا کہ جیسے سارا منظر نظروں کے سامنے آموجود ہوا ہو۔مثال کے طور پر جب مچھلی بازار مسجد کانپور کا حادثہ رونما ہوا تو اس کی خبریں ملک کے تقریباً تمام اخبارات میں شائع ہوئیں۔ اب آئیے ہم یہاں یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس خبر کو ’مدینہ‘ بجنور اور ’الہلال‘ نے کس انداز سے پیش کیا۔ دونوں اخبارات نے اس خبر کی شروعات شعر سے کی مثلاً ’الہلال‘ نے اپنے درد و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

سودا قمار عشق میں خسرو سے کوہکن

بازی اگرچہ پا نہ سکا، سر تو کھو سکا!

کس منھ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز؟

اے روسیاہ! تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا! ۹؎

اب ’مدینہ‘ بجنور میں شائع شدہ شعر ملاحظہ فرمائیں:

جی بھر آیا سننے والوں کا، جگر شق ہوگئے

کچھ عجب حسرت بھری تھی داستان اہل درد ۰۱؎

مندرجہ بالا دونوں اشعار میں درد و غم پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ”الہلال“ نے طنز کا سہارا لے کر اصل ذمہ دار مسلمانان ہند بالخصوص مسلمانان کانپور کو ٹھہرایا ہے، جب کہ ’مدینہ‘ نے اپنے شعر کے ذریعہ امت مسلمہ کے درد و غم کی بھر پور عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری شئے تشبیہات و استعارات یا آرائشی زبان جو ”الہلال“ کا خاصہ تھی  اشعار میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اس کے برعکس ’مدینہ‘ نے جس شعر کا انتخاب کیا وہ بالکل صاف، سادہ اور سلیس زبان میں ہے، لیکن درد سے معمور۔

مختصر یہ کہ اخبار ’مدینہ‘ بجنور نے اپنے زمانے کے تقریباًتمام مسائل میں بھر پور حصہ لیا۔ اس نے اپنے نظریات وخیالات کی عکاسی کے لیے کبھی سیدھی سادی زبان تو کبھی طنز و مزاح کا انداز اختیار کرکے بات عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ادبی اعتبار سے بھی اس اخبار نے گراں بہا خدمات انجام دی۔ ’مدینہ‘ بجنور میں پیش کی جانے والی تخلیقات کبھی ادب برائے ادب کا منظر پیش کرتی تھیں تو کبھی ادب برائے زندگی کا۔باالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس نے جہاں خالص ادبی نظریے کو فروغ دیا وہیں ادب میں رونما ہونے والی تحریکات اور رجحانات کی پذیرائی بھی کی۔سیاسی مسائل ہوں یا سماجی، ادبی ہوں یا معاشی وغیرہ اس نے کبھی اپنے نظریات عوام پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ ان سے پیدا ہونے والے نتائج کو پیش کر تے ہوئے فیصلہ خود ان پر چھوڑ دیا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اخبار ’مدینہ‘ کی خدمات بہ نسبت اس کے ہمصروں کے قدرے زیادہ تھیں۔ لیکن افسوس موجودہ دور میں ہم’زمیندار‘، ’الہلال‘، ’ہمدرد‘ وغیرہ کی خدمات کا اعتراف توکرتے ہیں لیکن ’مدینہ‘ کے نام سے ہمارے کان اس طرح آشنا نہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اخبار ’مدینہ‘ کی طرف توجہ کی جائے اور اس کی اہمیت و حقیقت کو ازسر نو پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔

٭٭٭

 

حواشی:

1   اخبار ’مدینہ‘،مدینہ کے مستقبل پر ہمارے ارادے، 15 تا 22/ستمبر 1913، ص۔4، جلد۔2، نمبر۔34-35

2    بحوالہ ہندوستانی اخبار نویسی، عتیق صدیقی، انجمن ترقی اردو ہند، علی گڑھ، پیش لفظ، ص۔5، دسمبر 1957

3    اخبار ”مدینہ“ بجنور، اتفاقیہ رخصت کا عذر، 25/ اگست 1919 لغایت 17/ ستمبر 1919، ص۔1

4    اخبار ’مدینہ‘ بجنور، شذرات:کانگریس میں مسلمانوں کی شرکت، 22/اکتوبر 1913، ص۔5،جلد۔2، نمبر۔39

5   اخبار ’مدینہ‘ بجنور، نظم:’مسلم لیگ سے‘ از عبدالباری عاصیؔ، یکم اپریل 1940، ص۔1، جلد۔29، نمبر۔23

6    اخبار مدینہ بجنور، اداریہ: عید الضحیٰ اور مسئلہ گاؤ کشی، یکم نومبر 1913، ص۔3، جلد۔2، نمبر۔ 40

7    مدینہ، بحث و نظر، مسئلہ زبان اور کانگریس کا حلقۂ اقتدار، 28/اکتوبر 1938، ص۔3، نمبر۔78، جلد27

8    ایضاً

9    الہلال، شذرات، 9/جولائی 1913، ص۔2، نمبر۔2، جلد۔3

10  اخبار ’مدینہ‘ بجنور، مسلمانان ہند کے جذبات کا خداوندی امتحان، 15/جولائی 1913، ص3، جلد۔2، نمبر27

]٭[  اخبار ’مدینہ‘ کا فقط صوبۂ پنجاب میں داخلہ ممنوع تھا اس کے علاوہ تمام ریاست میں اس پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فقط ایک ریاست میں پابندی عائد کیے جانے پر اسے کیوں ’مدینہ‘ سے ’یثرب‘ میں تبدیل کردیا گیا؟ واقعہ یہ ہے کہ اخبار ’مدینہ‘ کے سب سے زیادہ خریدار پنجاب میں موجود تھے یعنی صوبہئ پنجاب پریس کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ مولوی مجید حسن کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ پنجاب کے لیے ’یثرب‘ اور باقی اضلاع کے لیے ’مدینہ‘ شائع کریں۔ لہٰذا انھیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ جب تک اخبار ’مدینہ‘ کو پنجاب میں داخلے کی اجازت نہیں مل جاتی اسے ’یثرب‘ کے نام سے ہی جاری کیا رکھنا چاہیے۔

]٭٭[  چوں کہ1912 کی مکمل فائل مجھے دستیاب نہیں ہوسکی اور جو شمارے میری دسترس میں آئے ان میں یہ عنوان موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ جنوری تامارچ 1913 کے شمارے بھی اس عنوان سے مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا گمان غالب ہے کہ 22/اپریل 1913 سے ہی اس کی شروعات ہوئی ہوگی۔)

 

Dr. Sajid Zaki Fahmi

New Delhi-110025, India

Mob: +91 8527007231 / +91 9990121625

Email: sajidzakifahmi@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

اخبار مدینیصحافتمجید حسن
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
انسداد عصمت دری کی اسلامی تدابیر – حفظ الرحمن قاسمی
اگلی پوسٹ
داعی اعظم کی دلآویز شخصیت – تسنیم فرزانہ

یہ بھی پڑھیں

اردو رسائل و جرائد میں خطوط کی اہمیت...

اگست 1, 2024

اُردو رسائل و جرائد:اہمیت وروایت – وجیہ بتول

جولائی 28, 2024

1857کی جنگ آزادی اور دہلی اردو اخبار –...

جولائی 28, 2024

اردو صحافت کے پٹھان : احمد سعید ملیح...

جون 30, 2023

ظریفانہ صحافت اور پنچ اخبارات – ڈاکٹر محمد ذاکر...

فروری 23, 2023

ادبی صحافت کے دو سو سال – حقانی...

جنوری 7, 2023

ادب اور صحافت کا معاملہ (مولانا ابوالکلام آزاد...

اکتوبر 11, 2022

احمد سعید ملیح آبادی: اردو صحافت کا نیر...

اکتوبر 3, 2022

تحریک آزادی اور اردو صحافت – علیزے نجف

اگست 16, 2022

اخبار ’سحرسامری‘ لکھنؤ – ڈاکٹر مخمور صدری

جولائی 14, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں