۔معیدالرحمن: آپ نے ترقی پسندی کا زمانہ دیکھا، جدیدیت کے عروج و زوال کو دیکھا اور اب مابعد جدید عہد سے گزر رہے ہیں۔ ان تینوں زمانوں پر آپ کا ردعمل کیاہے؟
ابوالکلام قاسمی: میں نے جس زمانے میں لکھنا شروع کیا وہ زمانہ جدیدیت کا دور عروج تھا۔ اس سے قبل ترقی پسند تحریک جو ۱۹۴۷ء سے پہلے پہلے حددرجہ فعال اور متحرک رہ چکی تھی، تقسیم کے بعد اس کی موضوعاتی وابستگی اور طبقاتی پیش کش کی نوعیت میں تبدیلی رونما ہونے لگی تھی۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء سے لے کر ۶۰۔۶۵ء تک ہندوستان کی آزادی اور اس سے کہیں زیادہ تقسیم ہند کے نتیجے میں رونما ہونے والے مسائل زیادہ موضوع بحث بنے ہوئے تھے۔ مثال کے طورپر قتل و غارت گری اور انسانی بے حرمتی کے جو مظاہر چوتھی دہائی کے اخیر اور پانچویں دہائی کے شروع میں اوپری سطح پر نظر آتے تھے، چھٹی دہائی میں اس کے نتائج ادب میں سامنے آنے لگے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل میں ناصرکاظمی ہوں یا خلیل الرحمن اعظمی، ان لوگوں نے انسانی ہلاکت اور بے وقعتی کا ماتم کرنے کی کوشش کی تھی۔ نظم میں منظرنامہ قدرے مختلف تھا اور ن۔م۔راشد، میراجی اور ان کے قبل کے شاعروں نے دو سطحوں پر اپنا اظہار کرنا شروع کیا۔ راشد کے یہاں تو بین الاقوامی صورت حال اور انسان کی تنہائی یا بے چہرگی زیادہ زیربحث آرہی تھی اور میراجی فرد کی داخلیت اور نفسیاتی پیچیدگی کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کررہے تھے۔ اتفاق سے یہی دونوں جدیدیت کے آغاز کا محرک ثابت ہوئے اور ۱۹۶۰ء آتے آتے کچھ تو عالمی سطح پر مادیت کے فروغ کے ردِعمل میں، کچھ خارج کے بجائے داخلی جذبات و احساسات اور نفسیات کی پیش کش کی صورت میں اور مجموعی طورپر ترقی پسندی کی سماجی حقیقت نگاری کے ردعمل میں داخلی حقیقت نگاری کی بدلی ہوئی شکلیں جدیدیت میں آنا شروع ہوگئی تھیں۔ نتیجے کے طورپر ہندوستان میں رسالہ شب خون اور پاکستان میں اوراق یا پھر محمودایاز کے سوغات نے جدیدیت کے رجحان کو فروغ دینے میں بڑا موثر کردار ادا کیا۔ جہاں تک مجھ پر ہونے والے ردعمل کا سوال ہے تو میں یہ محسوس کرتاتھاکہ جدیدیت نے جس طرح کی خارجیت کو مسترد کیا تھا اور متعینہ موضوعات کی وابستگی سے انکار کیا تھا، اس کے زیراثر کچھ اسی طرح کا اصرار داخلیت پر شروع ہوگیاتھا اور اقدار کی شکست وریخت فن کار کے نفسیاتی مسائل اور بہت بندھے ٹکے الفاظ مثلاً ریت، ہوا، انتشار، شکست وریخت، ذہنی تناؤ جیسی لفظیات کو گویاکہ جدیدیت کی شناخت سمجھ لیا گیاتھا۔ میں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا اور اپنی ابتدائی تحریروں میںاپنے تنقیدی ردعمل کا اظہار بھی کیا، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ تسلیم شدہ تھی کہ جدیدیت کے زمانے میں ہیئتی تنقید کو اس کے تمام لوازم کے ساتھ کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جانے لگاتھا۔ اس لیے میں اور میری طرح کے نئے لکھنے والوں کی ذہنی تربیت دراصل اسی ہیئتی تنقید کے زیراثر ہوئی۔ (یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی کا تنقیدی اختصاص – ڈاکٹر امام اعظم )
جہاں تک ترقی پسندی کا سوال ہے تو ترقی پسند تحریک کے ابتدائی زمانے کی شدت میں تو خاصی کمی بیس پچیس برسوں کے بعد آگئی تھی مگر جدیدیت کے متوازی بھی بہت سے لوگ اردو میں ترقی پسند نقطۂ نظر کا اظہار کررہے تھے مثلاً پاکستان میں ممتازحسین یا محمدعلی صدیقی اور ہندوستان میں محمدحسن اور سردارجعفری وغیرہ خاصی شدت سے اس نقطۂ نظر کے ترجمان تھے، لیکن ایک اہم بات جو نظرانداز نہیں کی جاسکتی وہ یہ تھی کہ ترقی پسند تحریک کی عملی دلچسپی کا کامیاب اظہار فکشن میں زیادہ ہورہا تھا اور فکشن کے زمانی و مکانی حوالوں کی وجہ سے وابستگی کا فلسفہ ترقی پسند تحریک کے لیے خاصا کامیاب نظر آتاتھا۔ مجھے ایسا لگتا تھاکہ ادب کی ماہیت، ادبی تخلیق کے مسائل انسانی فکر و دانش کی گہرائیاں اور فرد کی اندرونی کش مکش سے ترقی پسند نقطۂ نظر کو زیادہ سروکار نہیں تھا۔ اس لیے وہ تحریک میری نظر میں بہت کامیاب، موثر اور دوررَس ہونے کے باوجود ادبی تحریروں میں اپنا جلوہ کم دکھا رہی تھی۔
آپ نے مابعدجدیدیت کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو اس سلسلے میں میرا معروضہ یہ ہے کہ مابعد جدیدیت یا مابعدساختیاتی تصورات کے پیچھے دراصل فلسفہ لسان کی کارفرمائی زیادہ تھی۔ اس لیے ادب کی تشکیل کیوںکر ہوتی ہے اور ادب پڑھنے اور سمجھنے کے طورطریقے کیا ہوسکتے ہیں؟ ان باتوں کی طرف اس نئے نظریے کا رویہ زیادہ سنجیدہ تھا۔ تنقید میں ساختیات، مابعدساختیات، مابعدجدیدیت یا ردتشکیل کے فلسفے کو متعارف تو ضرور کرایا جارہا تھا لیکن اس کی اطلاقی صورتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔
یہ وہ پورا پس منظر تھا جس میں میں نے پہلے بہ حیثیت سنجیدہ قاری اور دوسری سطح پر بہ حیثیت تنقیدنگار اپنے غوروخوض کا سلسلہ شروع کیا اور برسوںتک جاری رکھا۔ میری کمزوری ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ میں پہلی نظر میں ہی کسی چیز کو آنکھ بندکر قبول کرنے یا بے ساختہ مسترد کرنے کا عادی نہیں رہا۔ میرے اندر ہمیشہ ردوقبول کا سلسلہ چلتا رہاہے اور متذکرہ نوع کے تمام ادبی مسائل پر میں لگاتار اُٹھتے بیٹھتے غور کرتا رہا ہوں۔ اس لیے میرا زاویۂ نظر پوری طرح درست ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو قاری کو کرناہے لیکن میںنے کسی نقطۂ نظر پر حددرجہ اصرار کرنے یا قطعیت دکھانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔
محمدبکرعالم صدیقی: ادب کو معاشرے سے جوڑ کر ترقی پسند بھی دیکھتے تھے اور مابعد جدید تصور بھی یہ ہے کہ ادب میں معنی ثقافتی پس منظر سے پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں تحریکوں کے ثقافت و سماج کے حوالوں کے درمیان کیا فرق ہے؟
ابوالکلام قاسمی:آپ نے یہ صحیح فرمایاکہ ترقی پسند حضرات ادب کو معاشرے سے جوڑکر دیکھتے تھے اور مابعد جدید تصورات میں بھی ثقافت کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے تو دونوں میں آخر فرق کیاہے؟ اس سلسلے میں اگر سطحی انداز میں بھی دیکھا جائے تو ہمیں یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ ترقی پسند تحریک کے بنیادی فلسفہ میں جدلیاتی مادیت کو اہمیت حاصل تھی یعنی سماج کے طبقات کے مابین موجودہ کشاکش کی جو کیفیت فطری طورپر ہوتی ہے ان کی پیش کش اور پس ماندہ طبقہ یا محروم طبقات کی طرف داری کا رویہ واضح طورپر اختیار کیا جاتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند حضرات، مارکسی جمالیات کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کا کہنا تھاکہ ہروہ چیز جو اعلیٰ طبقہ یا جاگیردارانہ نظام کی نمائندگی کرتی ہے ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ اسی زاویۂ نظر سے ظ۔ انصاری اور ان جیسے دوسرے غالی ترقی پسندوں نے فارسی اور اردو غزل کے سرمایے تک پر یہ اعتراض کیا تھاکہ یہ متمول اور آسودہ حال لوگوں کی شاعری کے مترادف ہے۔ اس رویے کے برخلاف مابعدجدیدیت اگر ادب کے ثقافتی پس منظر پر اصرار کرتی ہے تو وہ اپنی طرف داری کا اظہار کسی طبقے کے ساتھ نہیں کرتی اور نہ سماج کو طبقات میں تقسیم کرکے دیکھتی ہے۔ سماج اس معاشرے کا نام ہے جس میں مختلف طبقات کے لوگ زندگی گزارتے ہیں جب کہ ثقافت کا تعلق انسانی رویوں، عادات و اطوار، رسوم و رواج اور قدیم و جدید تصورات سے ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہواکہ مابعد جدیدیت جانب داری کا رویہ اختیار نہیں کرتی ہے اور نہ وابستگی یا عدم وابستگی کا مسئلہ اس کے لیے زیادہ اہمیت رکھتاہے۔ بلکہ مابعدجدیدیت ادب کے پس منظر میں ان محرک قوتوں کو نشان زد کرنا چاہتی ہے جو قوتیں ہمارے کلچر ہماری ثقافت اور ہمارے سماج میں موجود معاصر یا متروک تصورات یا معتقدات کی بنیاد پر اپنے اظہار کی راہیں استوار کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے ترقی پسندوں کی سماجی پیش کش اور مابعد جدیدیت سے وابستہ لوگوں کے ثقافتی حوالے اپنے الگ الگ تلازمات رکھتے ہیں۔
معیدالرحمن: کیا تعین قدر کے بغیر تنقید کا حق ادا کیا جاسکتاہے اور محض تجزیہ اور تعبیر کو تعین قدر کا متبادل قرار دیا جاسکتاہے؟
ابوالکلام قاسمی: یہ بات درست ہے کہ روایتی طورپر ادبی تنقید کا ماحصل تعین قدر کو سمجھا جاتاہے مگر تعین قدر کا تعلق چوںکہ تنقیدنگار کی ذاتی پسند و ناپسند سے نہیں ہوتا اس لیے صرف ادب پر اپنی بنی بنائی رائے کو تعین قدر کا متبادل نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس لیے تعین قدر تک پہنچنے کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم جس موضوع کو زیربحث لاتے ہیں اس کے فنی مسائل کا ادراک بھی رکھیں اور ان مسائل کے نقطۂ نظر سے اگر افسانہ ہے تو افسانے کا، غزل ہے تو غزل کا اور نظم ہے تو نظم کا تجزیہ کریں اور اس مخصوص صنف کے فنی تقاضوں کی نشان دہی کرنے کے بعد یہ اندازہ لگائیں کہ ہمارے تجزیے سے کیا نتائج مستنبط ہوتے ہیں اور ان نتائج کو تعین قدر کے مترادف کے طورپر پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہم نقاد تعین قدر پر بالکل اصرار نہیں کرتے، اور ان کا کہنا ہے کہ جس صنف ادب پر کوئی تنقیدی تحریر لکھی جارہی ہے اس صنف کے لوازم اور تقاضوں کو پہلے چھان پھٹک کر دیکھا جائے اور اس کے بعد محاسن و معائب کا تعین کیا جائے۔ اس لیے ہررنگ میں بہار کا اثبات چاہیے کے مصداق، نہ تو صرف تعین قدر کو تنقیدکا نام دے سکتے ہیں اور نہ صرف تجزیے اور تعبیر کو۔ بعض لوگوں نے میری کسی تحریر پر یہ اعتراض کیاکہ اس میں ادب پارے کی تشریح و تعبیر پر زیادہ زور دیاگیاہے اور تعین قدر پر کم، تو میں اس بات میں کوئی مضائقہ بھی محسوس نہیں کرتاکہ اس پورے process سے گزرے بغیر آپ تعین قدر کے موقف تک آہی نہیں سکتے۔ اس کی مثال کے طورپر آپ دو نقادوں کو پیش نظر رکھ سکتے ہیں کہ ایک طرف تو کلیم الدین احمد ہیں جو پوری طرح مغربی روایت کے اسیر معلوم ہوتے اور دوسرے محمدحسن عسکری جو ادب کو تہذیب و ثقافت کے ساتھ بھی جوڑتے ہیں مگر تعبیر سے زیادہ اور تشریح سے کم کام لیتے ہیں۔
محمدبکرعالم صدیقی: تنقید کی موجودہ صورت حال پر آپ کچھ روشنی ڈالیں؟
ابوالکلام قاسمی: اردو میں ادبی تنقید کی موجودہ صورت حال پر کوئی رائے دینا اس وقت تک مناسب نہیں ہوگا جب تک کچھ ابتدائی باتوں کو اپنے ذہن میں واضح نہ کرلیاجائے۔ تنقید ہندوستان میں بھی لکھی جارہی ہے اور پاکستان میں بھی اور دونوں جگہ تنقیدکا ارتقا کچھ مختلف انداز میں ہورہاہے۔ ہندوستان میں جو تنقید لکھی جارہی ہے اس میں تین طرح کی تنقیدنگاری ہمارے سامنے ہے: پہلی تو وہ جس میں زیادہ تر نقادوں کا سروکار نظریاتی تنقید سے ہے۔ دوسری یہ کہ تنقید واضح طورپر دو حصوں میں منقسم ہے۔ کثرت سے جو تنقیدی تحریریں سامنے آرہی ہیں وہ اردو شاعری سے متعلق ہیں اور کچھ نقاد ایسے بھی ہیں جو فکشن کی تنقید سے زیادہ سروکار رکھتے ہیں مگر فکشن کی تنقید میں بھی افسانوں اور ناولوں کے جائزے، ان کا تعارف اور بسا اوقات فکشن سے متعلق تحریروں کی تلخیص کا انداز زیادہ اختیار کیا جانے لگا ہے۔
جہاں تک سوال ہندوستان اور پاکستان کی تنقید میں کسی تفریق کا ہے تو اس سلسلے میں پاکستان میں مجموعی طورپر تخلیقی سرگرمیوں کا وفور ہے اور تنقیدی کارگزاری معدودے چند لوگوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ ماضی قریب میں افتخار جالب سے لے کر سلیم احمد، شمیم احمد، مجتبیٰ حسین، قمرجمیل، سجاد باقررضوی، جیلانی کامران اور وزیرآغا تک نے اپنے آپ کو تنقید کے لیے وقف کررکھا تھا لیکن ان حضرات کے بعد کی نسل میں تحسین فراقی، رفیع الدین ہاشمی اور ناصر عباس نیر نے اس سلسلے کو کافی آگے بڑھایاہے۔ رفیع الدین ہاشمی نے تو اپنی تنقید کو اقبالیات تک محدود کررکھاہے اور وضاحتی اور تشریحی نوعیت کی تنقید سے وہ زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ تعبیرمتن کی منزل تک بہ مشکل ہی پہنچ پاتے ہیں۔ تحسین فراقی نے خود کو کسی موضوع تک محدود نہیں رکھا۔ شروع شروع میں وہ مختلف موضوعات پر تنقید لکھتے ہوئے تقابلی انداز بھی اختیار کرتے تھے اور تجزیاتی طریقۂ کار کو بھی بروے عمل لانے کی کوشش کیا کرتے تھے لیکن گزشتہ دس برسوں میں انھوں نے بعض ایرانی شاعروں پر اردو میں تنقید لکھی ہے اور اردو شاعروں میں خصوصیت کے ساتھ مجید امجد، میراجی اور ن ۔م ۔راشد کی نظموں پر توجہ صَرف کی ہے۔ ظاہرہے کہ یہ موضوعات قدرے مختلف ذہنی پس منظر کا تقاضا کرتے تھے، اس لیے تحسین فراقی نے نظم کی شعریات سے بھی اپنے آپ کو باخبر رکھنے کی کوشش کی اور تجزیاتی انداز میں نظموں کا مطالعہ بھی کیا۔ کچھ ایسا محسوس ہوتاہے کہ مکانی قربت کی وجہ سے ان شعرا سے متعلق پاکستان کے نقادوں نے شخصی واقفیت اور سوانحی تفصیلات کو شاعری کی تفہیم کے لیے وافر انداز میں وسیلہ بنانے کی کوشش کی۔ جہاں تک سوال ناصرعباس نیر کا ہے تو انھوں نے کامیابی کے ساتھ نئی تھیوری اور ساختیات یا مابعدساختیات سے متعلق موضوعات کو سمجھنے اور سمجھانے کی زیادہ کوشش کی۔ انھوں نے اس سلسلے میں محض سنی سنائی باتوں اور ضمنی معلومات پر اکتفا کبھی نہیں کیا اور ادبی نظریات کی گہرائی اور محرکات پر بھی اپنی دسترس قائم رکھی۔ اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ معاملہ خواہ لسانیات اور تنقید کا ہو یا متعدد مابعدساختیاتی موضوعات کا، انھوں نے عملی تنقید کی طرف توجہ بھی صَرف کی اور متن کی ساخت، اس میں موجود تطابق اور تضاد کی صورتوں کو بھی سمجھاہے اور خصوصیت کے ساتھ مابعد نوآبادیاتی رویے پر تفصیل سے لکھاہے۔ اس لیے ان کی تنقیدی تحریریں ہندوستان میں بھی اسی طرح متعارف ہوئی ہیں جس طرح پاکستان میں۔ ناصرعباس نے محض ایڈورڈسعید کے استشراق کے نقطۂ نظر کو ہی پس منظر نہیں بنایا بلکہ برصغیر میں معروف کلاسیکی اور جدیدادب میں موجود ان نوآبادیاتی صورتوں کا بھی سراغ لگایا جن کا تعلق محض انگریزوں کی ہندوستان میں آمد اور مغربی استعماریت سے نہیں ہے۔ انھوں نے یہ دیکھنے کی کوشش بھی کی ہے کہ ہندوستان کے ادب کی روایت میں وہ کون کون سے استعماری عناصر شامل ہوئے جو انگریزوں کی مغربی استعماریت سے مختلف ہیں اور کیا ان کی تفہیم کے لیے کچھ نئے طریقہ ہاے کار کی ضرورت ہے؟ چنانچہ ناصرعباس نے مغلوں کی ہندوستان میں آمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نوآبادیات (اگر اسے نوآبادیات کہا جاسکتا ہو تو) کے لوازم کچھ مختلف ہوجاتے ہیں اور اس پس منظر میں کیا ہندوستان کی اپنی روایت اس بدلے ہوئے سیاق و سباق میں لکھے جانے والی ادبی تحریروں کو بھی ہم نوآبادیاتی تبدیلی کا نام دے سکتے ہیں؟ اسی طریقے سے وہ گزشتہ دو تین دہائیوں میں اثرانداز ہونے والے ان رویوں کو بھی ہم نئی نوآبادیات کا نام دے سکتے ہیںکہ نہیں جو نئی مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی استعماریت کی تعریف پر پورے اُترتے ہیں۔
چوںکہ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں اس لیے یہ کہنے پر اکتفا کرنا مناسب ہوگاکہ ناصرعباس نیر کا نام جس طرح نظری اور عملی تنقید کے لیے زیادہ فعال نظر آتاہے اسی طرح نوآبادیاتی مطالعات میں ان کی انفرادیت تقریباً تسلیم شدہ ہوچکی ہے۔ پاکستان میں ناصرعباس اس وقت اردو تنقید کے سب سے فعال اور سرگرم لکھنے والے کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
جہاں تک سوال ہندوستان میں لکھی جانے والی تنقید کا ہے تو یہ بات اب زیادہ تفصیل کی متقاضی نہیں رہی کہ گوپی چند نارنگ، عتیق اﷲ، خالدقادری، قاضی افضال حسین اور شافع قدوائی نے تھیوری سے متعلق مختلف تصورات کا تعارف ضرور کرایا، کامیاب طریقے پر ادبی تفہیم کے نظریاتی پس منظر کو روبہ عمل لانے کا انداز ان کی تحریروں میں محض بعض مقامات پر ہی ملتاہے۔ ہرچندکہ یہ کوشش ان تمام لوگوں کے یہاں دکھائی دیتی ہے لیکن مثالی نمونوں کی نشان دہی مشکل سے کی جاسکتی ہے۔
اب رہا سوال یہ کہ عملی تنقید کی صورت حال کیاہے تو یہ بات واضح کرنی زیادہ مناسب ہوگی کہ نظریات کے اس یلغار کے باوجود آج تک بیش تر تحریریں ایسی ہی لکھی جارہی ہیں جن کا پس منظر وہی بنتاہے جو جدیدیت یا ہئیتی تنقید کا پس منظر ہے۔ خود گوپی چندنارنگ کے وہی مضامین ان کی شناخت بننے کی اہلیت رکھتے ہیں جو انھوں نے استعاراتی، علامتی اساطیری اور تہذیبی اور ثقافتی حوالوں کی بنیاد پر تحریر کیے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا رشتہ بنیادی طورپر ہیئتی اور جدید تنقید سے استوار ہوتاہے اور ثانوی سطح پر ان میں سے بعض رویوں کو ہم مابعد جدید تنقید کے ثقافتی سیاق و سباق کا بھی نام دے سکتے ہیں۔ جہاں تک سوال گزشتہ نصف صدی کے سب سے فعال نقاد شمس الرحمن فاروقی کا ہے تو ان کے بارے میں اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ انھوں نے جدیدیت کو ہئیتی تنقید کا نام دیے بغیر ہئیتی تنقید کے اصول و ضوابط سے ہرزمانے میں مربوط رکھاہے۔ اسی لیے اگر وہ کلاسیکی شاعروں بالخصوص میرتقی میر اور مرزاغالب کی شاعری کو بھی سمجھنے اور مثالی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کو سہل پسندی کے سبب گوکہ لوگ اسے کلاسیکیت کی طرف مراجعت سے تعبیر کرتے ہیں لیکن دراصل وہ اسی رویے کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نئی تھیوری کی جو گہری تفہیم فاروقی کے یہاں ملتی ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے کسی نقاد کے یہاں نہیں ملتی ہے۔ ہرچندکہ وہ ادبی سیاست کے زیراثر ہمیشہ نئے نظریات سے اپنی برأت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے جس طرح داستان کی شعریات کو نئے سرے سے مدون کرنے کی کوشش کی ہے اور شعرشورانگیز میں لیوی اسٹراس، رومن جیکبسن، رولاںبارتھ، تودورف وغیرہ کے حوالے دیے ہیں۔ ان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ان کو علمی طورپر ان نظریات سے کیسی اور کتنی واقفیت ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے جدید شاعروں اور ادیبوں کی قیادت کے سلسلے کو جس طرح آگے بڑھایاہے اس میں یقینا انھوں نے بہت سے پیش لفظ اور تعارفی مضامین ایسے بھی لکھے ہیں جو ان کے کمزور لمحوں کی پیداوار معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کی تنقید کا غالب حصہ نظریاتی طورپر پوری طرح مربوط دکھائی دیتاہے اور یہ عجیب و غریب صفت بھی ان کی تنقید میں نظر آتی ہے کہ وہ نئے نظریات و تصورات کے سلسلے میں پوری طرح محمدحسن عسکری کے معنوی شاگرد معلوم ہوتے ہیں اور جوچیز انھیں اپنی روایت، تہذیب اور شعری سرمایے کے شناختی حصوں کی توثیق میں کارآمد نہیں معلوم ہوتی، اس کو وہ مسترد کرنے کا ہنربھی جانتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ ان کے برخلاف تھیوری اور نئے نظریات سے دلچسپی رکھنے والے زیادہ تر نقاد ماروگھٹنا پھوٹے سر کے مصداق کھینچ تان کرکے ہرنئے نظریے کی تطبیق کی صورت اردو کے ادبی سرمایے پر ستم ظریفی کی شکل میں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فاروقی کی نسل میں شمیم حنفی کا نام بہت نمایاں ہے جو اپنی تنقید کو مکتبی اور نصابی یبوست سے پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہ ظاہر ادبی تنقید سے راست تعلق نہ رکھنے والی تفصیلات کو بھی اپنی تنقید میں شامل کرنے میںبھی کوئی مضائقہ محسوس نہیں کرتے ہیں اور وہ اپنے تاثرات کو تنقید میں منقلب کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔
پروفیسر عتیق اﷲ ایک باخبر نقاد ہیں جو قدیم شعریات کے اصولوں سے پوری طرح بہرہ ور نہ ہونے کے باوجود اپنے گہرے ادبی اور جمالیاتی ذوق کے سبب عموماً صحیح نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جہاں تک تھیوری اور جدیدادبی نظریات کا سوال ہے تو اس کو آہستہ آہستہ انھوں نے اپنے تنقیدی نظام میں پوری طرح شامل کرلیاہے۔ کبھی کبھی ان کی علمی دبازت اور فکری سنجیدگی ان کی تحریروں کو ناقابل فہم ضرور بنادیتی ہیں تاہم وہ اپنے تنقیدی نتائج کی ترسیل کے ہنرکو بخوبی استعمال کرلیتے ہیں۔
جہاں تک سوال تنقید کی موجودہ صورت حال کا ہے تو باوجود اس کے کہ ہمارے ہاں ادبی تحریکات یا رجحانات کے زیراثر تنقیدی کا رگزاریوں کی بہت بامعنی سرگرمیاں رہی ہیں اور ترقی پسند ادب اور جدیدادب دونوں پر بہت اعلیٰ درجہ کے مضامین بھی اور کتابیں بھی کثرت سے لکھی گئیں، لیکن چوںکہ معاصرادبی صورت حال میں ادب فہمی کے نسبتاً روایتی وسیلوں کو کارآمد نہیں سمجھا جاتا اور جدید وسائل مثلاً مابعد جدیدیت یا پس ساختیات اس سلسلے میں معاون ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے تنقیدی فضا خاصی مبہم اور غیر واضح ہے۔ گزشتہ ربع صدی میں ایسے نقادوں کی آمد اردو میں کم ہی دکھائی دیتی ہے جو بے حد سنجیدگی کے ساتھ تنقیدی کارگزاری میں مصروف ہوں۔ ادبی منظرنامہ پر ہنوز بیش تر وہی لکھنے والے نمایاں نظر آتے ہیں جنھوں نے پچیس تیس سال سے پہلے اپنی شناخت بنالی تھی۔ نئی تھیوری اور نظریات کے تعارف کے سلسلے میں ہندوستان میں وہاب اشرفی، عتیق اﷲ، خالدقادری، قاضی افضال حسین، شافع قدوائی، مولابخش اور قدوس جاوید کے نام تولیے جاسکتے ہیں لیکن ان حضرات کے یہاں بھی نئے نظریات کے انطباق و اطلاق کی معنویت ہنوز مشتبہ ہے۔ کہنے کو تو تانیثیت، بین المتونیت اور تشریح متن پر متعدد مضامین رسائل میں نظر آتے ہیں لیکن ان کی حیثیت تنقیدی کم اور تعارفی زیادہ ہوتی ہے۔ البتہ کچھ نئے لوگ ایسے ہیں جو ان بکھیڑوں میں پڑے بغیر قصہ جدید و قدیم سے ماورا ہوکر تنقید کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، مگر ان کو انگلیوں پر گنا جاسکتاہے۔ مثال کے طورپر تنقیدی نظریات کے پھیرے میں پڑے بغیر ادب کی تنقیدی بازیافت کے معاملے میں شمس الحق عثمانی کا نام لیا جاسکتاہے اور ان کے بعد کی نسل میں امتیاز احمد، کوثرمظہری، سرورالہدیٰ، جاوید رحمانی، ندیم احمد اور دوچار اور لوگ نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد اﷲ اﷲ خیرصلّا۔ ہاں ایک بہت اہم نقاد کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جن کو اردو کے مراکز سے دور رہنے کی وجہ سے بہت قابلِ ذکر نہیں سمجھا جاتا، اس کا نام سلیم شہزاد ہے۔ ان کے ہاں نہ صرف تنقیدی شعور کی کارفرمائی دیکھی جاسکتی ہے بلکہ مشرقی اور مغربی زبانوں کے ادب سے واقفیت اور لسانیات کے پس منظر کی وجہ سے ان کی تنقید دوسروں کے مقابلے میں اپنا زیادہ اعتبار قائم کرتی ہے۔
معیدالرحمن:ہرتحریر کو آج کل مابعد جدید ہی ثابت کیا جانے کا رویہ عام ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ابوالکلام قاسمی: یہ تو ہرزمانے میں ہوتا رہاہے کہ بہت سے نقاد اپنے زمانے کے ادبی رجحان کے نقطۂ نظر سے نہ صرف یہ کہ معاصر تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ ماضی کی تحریروں کو بھی اسی نقطۂ نظر سے پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب کی تنقید میں کبھی نفسیاتی، کبھی علامتی، کبھی رومانی اور کبھی نئی اصطلاحات کو وسیلہ بناکر کلاسیکی ادب کو بھی پڑھنے کی کوشش کی گئی — لیکن نئی تھیوری اور مابعدجدید تصورات کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔
پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ساختیات اور اس کے زیراثر مابعدساختیاتی نظریات کی بنیاد کیاہے؟ یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ تھیوری کے پیچھے لسانیاتی محرکات کارفرما ہیں اور مختلف نظریات اور تصورات کو اگر جامعیت کے ساتھ دیکھا جائے تو پتہ چلتاہے کہ زبان اپنے تفریقی رشتوں کی بنیاد پر کس کس انداز میں حقائق کا اظہار اور ادراک کرتی ہے۔ اس طرح تھیوری اس بات کے لیے محرک ہوسکتی ہے کہ متن کی تعمیر و تشکیل کیسے ہو، متن کی لفظیات پر ارتکاز کرکے اس کی قرأت کے کون کون سے طریقے اختیار کیے جائیں اور متن بنانے کے اور کیا کیا اصول ہوسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام مباحث کے درمیان نہ تو تعین قدر کا مسئلہ سامنے آتاہے اور نہ اس تعبیری نقطۂ نظر پر زیادہ اصرار کیا جاتاہے جو متن کے اقداری نتائج تک ہماری رہنمائی کرسکے۔ اس لیے میری حقیر رائے میں ہرادب پارے کو مابعدجدید، یا ساختیاتی یا مابعدساختیاتی تصورات سے وابستہ کرکے اس پر Value Judgement کا انداز اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ادب کو اس کے مخصوص سیاق و سباق اور مخصوص لسانی اور رسومیاتی تلازموں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں اور ہاں! کسی تنقیدی فیصلے تک پہنچنے کے لیے اگر ضمنی طورپر مابعد جدید تصورات کو وسیلہ بنایا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
محمدبکرعالم: تخلیقی ادب کی موجودہ صورت حال پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟
ابوالکلام قاسمی: آپ موجودہ ادبی صورت حال پر میرے جس مضمون کا ذکر کررہے ہیں اس کا اختتام میں نے ناصرکاظمی کے ایک شعرپر کیاہے:
اے سکوت شام غم یہ کیا ہوا
کیا سبھی بیمار اچھے ہوگئے
تو معاملہ سارا کا سارا اسی بیماری کاہے۔ ادب کا سارا معاملہ ذوق سے وابستہ ہے اور تخلیقی ادب تو خاص طورسے تربیت نفس اور جمالیاتی ذوق کے بغیر نہ بروے عمل آتاہے اور نہ پروان چڑھتاہے۔ اگر احساس کند ہوجائے اور انسان اپنے جذبات سے خوف زدہ ہونے لگے تو نئے تصورات اور فکری معاملات بھی تخلیقی ادب کی صورت میں تبدیل نہیں ہوپاتی ہے۔ پھر اس کا تعلق کچھ لسانی صورت حال سے بھی ہے۔ اردو پر جو کڑا وقت پچھلی کئی دہائیوں سے ہندوستان میں پڑاہے اس کی وجہ سے عموماً وہ لسانیاتی تربیت ہوہی نہیں پاتی جو شاعری یا افسانے کی تخلیق سے پہلے کے مرحلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کی نظموں کا شائع ہونا براے نام رہ ہی گیا ہے۔ اب غزل گوئی کے میدان میں بھی ایسی آوازیں مشکل سے تلاش کی جاسکتی ہیں۔ جن کو آپ قابلِ توجہ سمجھتے ہوں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتاہے کہ بعض نئے شعرا اپنی بالکل نئی فکر کے ساتھ سامنے آرہے ہیں مگر جب ان کی متعدد تحریریں سامنے آتی ہیں تو یہ راز فاش ہوجاتاہے کہ ایسے لوگ تو اردو کی لسانی اور ادبی روایت سے لاتعلقی کی وجہ سے ہمیں نئے نئے نظر آنے لگے تھے۔ کونپل تو بہرحال شاخ سے ہی پھوٹتاہے لیکن اگر بیج اور ابتدائی شاخ ظہور پذیر نہ ہو تو نئی پھوٹنے والی کونپل خود رو تو ہوسکتی ہے لیکن بے بنیاد بھی ہوگی۔
معیدالرحمن: اس بات پر شدومد کے ساتھ اصرار کیا جاتاہے کہ ہرادب کی بہترین تفہیم اس کی روایت کے پس منظر میں کی جاسکتی ہے؟ کیا آج کا اردو ادب مشرقی روایت کے تناظر میں پڑھا جاتاہے؟
قاسمی: اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اردو کا ادب مشرقی روایت شعر و ادب کے تسلسل کے علاوہ اور کچھ نہیں، لیکن اس طرح کی کوئی بات ادب کے معاملے میں بہت قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی، اس لیے کہ اردو کا نثری ادب خصوصیت کے ساتھ مشرقی روایت کے ساتھ ساتھ مغربی تصورات کی اثر اندازی کے بغیر دیکھا ہی نہیں جاسکتا۔ نثر میں یوں تو غیرافسانوی روایت کو بھی ہم ادب کی اصناف میں شمار کرتے ہیں لیکن سوانح، مکتوب نگاری، سفرنامے اور ان جیسی دوسری اصناف کو مشرق و مغرب کے تصورات سے بہت زیادہ علاقہ نہیں، البتہ انشائیہ جو پہلے مشرق میں صرف مضمون نگاری تک محدود تھا۔ اب اس کے فن سے متعلق بہت سی باتیں مغرب سے مستعار سمجھی جاتی ہیں، لیکن نثری ادب کی سب سے بڑی صنف فکشن ہے جس میں افسانے بھی آتے ہیں اور ناول بھی۔ یہ دونوں اصناف یوں تو مشرق کی حکائی روایت کا تسلسل ہیں لیکن ان کی شعریات کا بڑا حصہ مغرب میں مرتب ہونے والے فکشن کے اصول و ضوابط سے مربوط ہوگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں داستانوں، ڈراموں اور اس نوع کی دوسری حکائی اصناف کو فکشن کے ذیل میں شمار کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ معرضِ بحث میں آگیا ہے۔
اب رہی بات شاعری کی تو یہ بات بلاشبہ کہی جاسکتی ہے کہ اردو شاعری کی زیادہ تر اصناف ہماری کلاسیکیت کے حوالے سے فارسی زبان کی روایت پر مبنی ہے۔ اس لیے اگر اردو کا کوئی نقاد اس مشرقی روایت کو نظرانداز کرکے شعری اصناف پر تنقید کرنے کی کوشش کرے تو وہ اکثر مقامات پر ٹھوکریں کھائے گا۔ اس لیے کہ تخلیقی عمل کا معاملہ، شاعری میں استعمال ہونے والی نئی فنی تدبیروں کا معاملہ اور لہجوں اور آوازوں کی پہچان کا مسئلہ جیسی چیزیں تو ضرور مغربی تنقید سے اردو میں آئی ہیں لیکن جہاں تک معنی آفرینی، استعارہ سازی، صنائع و بدائع کا استعمال اور لسانی مسئلے کا تعلق ہے اس کے لیے بہرحال ہمیں مشرق کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
چنانچہ اس سیاق و سباق میں بہت حتمی بات نہ کہنے کے باوجود یہ ضرور عرض کیا جاسکتاہے کہ اپنی لسانی و ادبی روایت کو جانے بغیر ہم اردو ادب کے تعین قدر کے ساتھ پورا انصاف نہیں کرسکتے۔
محمدبکرعالم: آپ ادب کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا آپ ادب تنقید کی غرض سے پڑھتے ہیں یا اس کا محرک کچھ اور ہوتاہے؟
ابوالکلام قاسمی: جہاں تک میرا سوال ہے تو یہی عرض کرسکتا ہوں کہ میں کیا اور میری ادبی حیثیت کیا، لیکن اگر میں نے ۲۵۔۳۰ سال تک لگاتار ادب پڑھنے، اس پر غور کرنے اور ادب سے متعلق تنقیدی تحریروں کے لکھنے کے جرم کا ارتکاب کیاہے تو اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ میں ادب کو محض تنقید لکھنے کی غرض سے پڑھتا ہوں۔ البتہ یہ ضرور ہوتاہے کہ جب مجھے کسی خاص ادب پارے پر تنقید لکھنی ہوتی ہے یا اظہار خیال کرنا ہوتاہے تو اسے نئے سرے سے تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھے بغیر چارہ نہیں ہوتا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر میں اپنے ادبی مذاق کو ٹٹولنے کی کوشش کروں تو پوری ایمان داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوںکہ میں ادب محض اپنے ذوق کی تسکین کے لیے پڑھتا ہوں۔ اسی لیے اکثر تنقیدی باتیں میرے ذہن میں بھی نہیں آتیں اور میں بہت دیر تک ادب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف رہتا ہوں۔ پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ ادب کے حوالے سے میں اپنے آپ کو یا اپنے گرد و پیش کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہوں یا صحیح لفظوں میں اپنی بازیافت کرتا ہوں۔ اس موقع پر میں اس پھیرے میں تو نہیں پڑنا چاہتاکہ سماجی وابستگی یا ناوابستگی کی بات کروں لیکن میں اپنے حوالے سے جس سماج یا معاشرہ یا تہذیب تک رسائی حاصل کرتا ہوں اس کا بنیادی حوالہ میری اپنی ذات ہوتی ہے، سماجی یا تہذیبی تصورات اور نظریات نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ میرے اپنے نقطۂ نظر کو اس طرح کے تصورات و نظریات سے واضح کرنے یا درست کرنے میں سہولت حاصل ہو اور تنقید لکھنے کے عمل میں مجھے ان مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتاہے۔
معیدالرحمن: آج کل ایسی تنقید پڑھنے کو ملتی ہے جو کسی آئیڈیالوجی کی تشریح کا حصہ زیادہ معلوم ہوتی ہے، اور ادب پارے کو اس آئیڈیالوجی پر فٹ کرنے کی کوشش کو تنقیدی کارگزاری کے مترادف تسلیم کیا جاتاہے۔ اس پر آپ کا کیا خیال ہے؟
ابوالکلام قاسمی: ہماری علمی دنیا میں طرح طرح کے نظریات و تصورات آتے جاتے رہتے ہیں اور بہت سے اس طرح قبول بھی کرلیے جاتے ہیں جیسے وہ آفاقی نظریات یا تصورات ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ادب یا شاعری انسان کے اس مذاق کی تسکین کرتی ہے جس کو حسِ لطیف یا ذوقِ جمال کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ اب رہا یہ سوال کہ ادب سے پختہ عمر میں متعارف ہونے والے اشخاص کے لیے یہ مسئلہ درپیش ہوتاہے کہ بھئی ہم تو ادب کو صرف لطف اندوزی کا سامان سمجھتے تھے لیکن اس کی تعبیرات تک پہنچنے میں بہت سے متعلقہ علوم سے واقفیت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ادب سے متعارف ہونے والے دو طبقات کی تقسیم کرلی جائے تو بات زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔ پہلا طبقہ تو اس عام آدمی کا ہے جو کبھی ادب کو صرف ذوقی بنیاد پر پڑھتاہے اور کبھی دوسرے علوم کے حوالے کے ساتھ،لیکن ایسے لوگوں کے لیے بھی میرا کہنا یہ ہے کہ ادب کو پہلے مرحلہ پر ادب کے طورپر ہی پڑھناچاہیے اور اگر اس کے لیے وہ علمی و فکری موضوعات سے بہت سروکار نہ بھی رکھے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن ایک دوسرا طبقہ ادب کے طالب علموں کا ہے جس کو اوّل اوّل ادبی مذاق کی تسکین کے مقصد کو تو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے لیکن کسی ادب پارے کی تشریح و تعبیر کے مرحلے میں اگر اس کو دوسرے علوم معاون معلوم ہوتے ہیں تو ان سے بھی واجبی طورپر باخبر ضرور رہناچاہیے۔ تخصص کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس سے متعلق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سماجی علوم یا سائنس یا انجینئرنگ یا میڈیکل سے متعلق علوم اگر حسِ لطیف اور ذوقِ جمال سے بے بہرہ ہوکر حاصل کیے جاتے ہیں اور ان علوم کی سرگرمیوں میں بھی انسانی، اخلاقی اور جمالیاتی رویوں کو اپنایا نہ جائے تو نری علمیت خاصی یبوست زدہ ہوجاتی ہے۔ اس سلسلے میں ادب کا نام لینا تو ہرجگہ لازمی نہیں، یہ ضرور کہناچاہیے کہ فنونِ لطیفہ جن کی بنیاد جمالیاتی ذوق پر ہی ہوئی ہے، ان سے سروکار رکھے بغیر نہ تو ڈاکٹر اچھا ڈاکٹر بن پاتاہے نہ سائنٹسٹ اچھا سائنٹسٹ۔ اسی لیے مغرب کے بعض نقادوں نے جس میں ولیم بلیک بھی شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ بیمار معاشرہ کا علاج اور معاصر مادی انسان کے ذہنی انتشار کا تریاق سائنس سے کہیں زیادہ شعروادب یا فنونِ لطیفہ میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔
محمدابوبکرعالم: اگر تنقید فن پارے کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی سے شروع ہوتی ہے اور تعین قدر پر ختم ہوتی ہے تو اس پس منظر میں ہمارے زمانے کی تنقیدی کارگزاریوں پر ہم کیا رائے قائم کرسکتے ہیں؟
ابوالکلام قاسمی: یہ ہماری تنقید کا المیہ نہیں تو اور کیاہے کہ ہم یا تو توصیفی تنقید لکھتے ہیں یا تنقیصی اور تنقیصی نوعیت کی تحریریں بھی اب براے نام ہی نظر آتی ہیں جن میں رُک کر کسی ادب پارے کے نقائص کی کماحقہ نشان دہی کی گئی ہو۔ بس ہوتا یہ ہے کہ ہمارے نقادوں میں سے بعض مغلوب الغضب لوگ جب کسی سے خفا ہوتے ہیں یا شعوری طورپر ادب پارے میں کیڑے نکالنا چاہتے ہیں تو اچھی طرح اس کے ادب کو کھنگال کے تمام ممکنہ نقائص کی نشان دہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چلیے اس بہانے ادب کے حسن کے بجائے قبح کی تلاش تو ضرور سامنے آتی ہے مگر چوںکہ نقاد کی نیت میں کھوٹ ہوتاہے اس لیے اس طریقۂ کار کو بھی دیانت داری کا نام نہیں دے سکتے۔
جہاں تک سوال عام تحریروں کا ہے تو اب اردو میں تحسینی اور توصیفی تنقید کے علاوہ کسی اور طرح کی تنقید دیکھنے کو بھی نہیں ملتی۔ بعض سربرآوردہ نقاد توصیفی مضامین سرپرستی کے نقطۂ نظر سے لکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر مضامین میں ہمارے نقادوں کو سواے توصیفی لب و لہجہ اختیار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ وہ اسے شاید دل آزاری کا نام دیتے ہوں لیکن اگر تنقید لکھنی ہو تو چاہے دبی زبان سے صحیح نقائص کی نشان دہی بھی لازمی ہے ورنہ تعین قدر کے معنی کیا ہوئے۔
معیدالرحمن: آپ نے ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا، افسانے بھی لکھے، پھر کیا وجہ تھی کہ آپ شاعری اور فکشن کو چھوڑکر پوری طرح تنقید کی طرف مائل ہوگئے۔
ابوالکلام قاسمی: میں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری اور افسانہ نگاری سے کیا اور افسانہ نگاری کم اور شاعری کی طرف نسبتاً زیادہ توجہ دی۔ ابتدائی دس پندرہ برسوں میں غزل گوئی سے ایسی دلچسپی لی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دوتین درجن غزلیں کہہ ڈالیں۔ جن میں متعدد غزلیں ہند و پاک کے مقتدر ادبی رسائل مثلاً اوراق، شب خون، جواز اور آج کل میں شائع بھی ہوئیں مگر شعر و ادب کو انہماک کے ساتھ پڑھنے، سمجھنے کی کوشش کرنے اور شاعری کو پسند و ناپسند کرنے کے اسباب پر غور کرنے کا سلسلہ شروع سے ہی جاری تھا۔ شاید یہی رویہ مجھے رفتہ رفتہ تخلیقی ادب میں اپنے اظہار سے دور کرتا چلا گیا اور میںنے تنقیدی مضامین لکھنے شروع کردیے۔ تنقیدنگاری کے عمل میں شعروادب کو نئے سرے سے دریافت کرنے اور خود اپنی بھی بازیافت کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ مجھے اس کا دعویٰ تو نہیںکہ میںنے شروع سے ہی مثالی نوعیت کے تنقیدی مضامین لکھنے شروع کردیے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ منزل کئی سال کے بعد سامنے آئی۔ ورنہ میرے ابتدائی مضامین خاصے اسی انداز کے ہوا کرتے تھے۔ تنقید کیاہے؟ تنقید اور تخلیق کے مابین رشتے کی نوعیت کیاہے اور تنقیدی یا غیرتنقیدی یا جائزاتی مضامین میں کیوںکر تفریق کی جاسکتی ہے؟ جیسے مسائل اس زمانے میں تنقید کا بدل معلوم ہوتے تھے۔ مگر ابتدائی تجسّس اور تنقید کے مشرقی اور مغربی پیمانوں سے مناسب واقفیت اور منطقی نقطۂ نظر کی معنویت سے آشنائی نے ہمت بندھائی کہ اپنے ادبی اور شعری ذوق اور اس کے ماحصل کو تنقیدی تحریروں میں منتقل کیا جاسکتاہے، چنانچہ میںنے باضابطہ تنقید لکھنا شروع کردی۔ میرے تنقیدی سفر کے آغاز میں بعض ادبی رسائل بڑے اہم اور رجحان ساز تھے۔ جب میرا مضمون ’محمدحسن عسکری کی مشرقیت‘ شب خون جیسے رجحان ساز رسالے میں چھپا تو مجھ میں خاصا اعتماد پیدا ہوا۔ اس وقت تک جب میں علی گڑھ سے شائع ہونے والے ایک اہم ادبی رسالے ’الفاظ‘ کا ایڈیٹر تھا، ’الفاظ‘ کی ادارت کی ذمہ داری یوں تو میں نے اپنے ادبی کیریر کے بالکل ابتدائی برسوں میں سنبھال لی تھی مگر رسالے کو منفرد اور معیاری بنانے میں کسی زحمت کا سامنا نہیں ہوا۔ رسالے کے ہرشمارے میں اداریہ لکھنا، ادبی رجحان پر گفتگو کرنا اور کتابوں پر بے لاگ اور اپنی دانست میں انصاف پر مبنی تبصرے لکھنا دراصل میری ادبی اور تنقیدی مشق اور ریاضت کا وسیلہ ثابت ہوا۔ رسالہ نکالتے ہوئے مدیر کے نفس کے موٹے ہونے کا امکان بہت ہوتاہے۔ اس کے مراسم بڑے بڑے ادیبوں سے قائم ہوجاتے ہیں، ادبی حلقے میں اس کی پذیرائی بھی کچھ زیادہ ہونے لگتی ہے مگر مجھ جیسے اپنی اوقات میں رہنے والے آدمی کے لیے اس نوع کے کئی دور آئے اور گئے اور میں نے اپنی کھال میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔
تنقید لکھنے کے عمل نے مجھے خوداحتسابی بھی سکھائی ہے اور میرے اندر سائنٹفک ٹمپر بھی پیدا کیاہے۔ میرے مزاج میں ارتکاز کی کیفیت کچھ زیادہ ہے۔ اس لیے نہ خارجی انتشار میں، میں مطمئن رہ سکتا ہوں اور نہ داخلی انتشار میرے لیے سکون بخش ہوسکتاہے۔ اس سلسلے میں میرے بعض آزاد مشرب اور غیر منظم احباب میرے نظم و ضبط کی زندگی پر طنزآمیز تبصرہ بھی کرتے رہے مگر اس نوع کے بوہیمین ادب دوست بھی منظم زندگی کو حسرت سے دیکھتے بھی رہے ہیں۔ بہرکیف میرے تنظیمی مزاج کو ادبی تنقید کا نظم و ضبط کچھ زیادہ ہی راس آیاہے۔ تنقید خواہ زندگی کی ہو یا شعروادب کی، انسان کو اپنی سسٹم کے تابع رہنے کا عادی بناتی ہے، میں نے اپنے ادبی کیریر میں تنقید کو ترجیح دے کر دراصل اسی مزاج اور افتاد طبع کی تشنگی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
محمدبکرعالم: آپ نے کہیں لکھاہے کہ مغرب میں تنقید ایک سسٹم کے تابع رہی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیںکہ مشرقی معیار نقد کو بھی کسی سسٹم کے تابع کیا جاسکے؟
ابوالکلام قاسمی: میرا خیال ہے کہ ایسا ہونا ناممکن تو نہیں مگر چوںکہ عربی اور فارسی اور اس کے اثر سے مشرقی تنقید کا سارا انحصار علوم شعر پر رہاہے۔ جیسے علم بدیع، علم معانی، علم عروض یا علم بیان کے دائرے میں جو محاسن، معائب یا دوسرے مباحث آتے ہیں ان کو ہی مشرقی معیار نقد کا نام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویسے ان معنوں میں تو مشرقی تنقید مغربی تنقید کے معاملے میں زیادہ منظم معلوم ہوتی ہے مگر دراصل ایسا ہے نہیں۔ عربی اور فارسی کی تنقیدی روایت میں شعری صفت کاری پر بہت سے پہلوؤں سے گفتگو ملتی ہے مگر بیانیہ شاعری یا شعری بیانیہ کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ مزید کہ زبان و بیان کے محاسن اور معائب پر گفتگو ضرور ملتی ہے ایسی فنی ہنر مندیوں کا ذکر نہیں ملتا جو شاعری کے بالواسطہ اظہار کو زمانی تبدیلی اور مقامی اختلاف کے باوجود شاعری سے معنی کے استخراج کے مسلسل امکان کی گنجائش موجودہو۔ حالاںکہ مشرقی تنقید میں استعارہ اور مجازمرسل کی بحث میں معنی آفرینی اور معنوی تقلیب کی جو گنجائش تلاش کی جاسکتی ہے اس کی معنویت کو صورت حال کی تبدیلی سے ہم آہنگ کرکے دیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
جہاں تک سوال مغربی تنقید کے نظام کا ہے تو اس کی سب سے پہلی تنظیم کاری ہمیں شعر وادب کی مختلف نوعیتوں کے اعتبار سے شروع ہی سے دکھائی دیتی ہے۔ ابتدائی یونانی تصور شعر اور شاعری میں موجود ڈرامائیت یا عینیت یا تخیل کی کارفرمائی یا پھر کتھارسس وغیرہ کے تصورات علی العموم شاعری کے اَن گنت پہلوؤںکا اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے زمانے میں علویت یا انکشافِ ذات ہونے کی صفت یا شعر کو محض ذات یا محض کائنات کا بہتر ترجمان بتانے کے بجائے شاعر کے زاویۂ نظر، مشاہدے میں مشہود کی اثراندازی اور دونوں کے اشتراک پیدا ہونے والے تاثراتی آمیز کو شاعری کا نام دینے کی کوشش کو اپنے موضوع پر کئی کئی نسلوں کے غورو خوض کا نتیجہ قرار دیا جاسکتاہے۔ اس طریقے سے آوازوں اور لہجوں کی تقسیم اور شعری موضوع اور لہجے کے تعین میں شاعر کی نفسیات اور پھر بعد میں تنقید کی نفسیات کا عمل دخل جیسے مسائل بھی خاصے امتدادِ زمانہ کے ساتھ روشن اور صاف طورپر محسوس کیے جانے لگے۔
مشرقی تنقید میں لفظ و معنی میں تقدم کا مسئلہ علی الاطلاع برسہا برس تک معرضِ بحث میں رہا۔ اس کے برخلاف مغربی تنقید نے شعر کی ہیئت میں تقدم کو زیربحث لانے کے بجائے دونوں کی الگ الگ حیثیتوں پر عرصے تک غور و خوض ہوتارہاہے۔ مشرقی معیار نقد میں نقطۂ نظر کی ترجیح کی مناسبت سے مختلف طرح کی تنقیدی تحریروں یا اسالیب کو مختلف اصطلاحوں میں تقسیم نہیں کیا کیاہے جب کہ مغربی تنقید میں نفسیاتی، مارکسی، تاثراتی یا ہیئتی تنقید جیسی اصطلاحیں اور ادبی رجحانات کی ثقافت کے لیے کلاسیکیت، رومانیت، نوکلاسیکیت، حقیقت پسندی، علامت نگاری، تاثریت وغیرہ وغیرہ ادبی میلانات سے ہے۔ دراصل مغربی تنقید کو معاصر یا مقدم فکری اور فلسفیانہ رویوں اور رجحانات کے حوالوں سے بھی پہچاننے کی سبیلیں پیدا کردی گئیں۔

