کئی منزلیں تراشیں کئی کارواں بنائے
جو سفر کا نام آیا میرے پاؤں ڈگمگائے
میں کیا اور میری بساط کیا۔میں استاد محتر م پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی علمی و ادبی خدمات پر کیا لکھ سکتا ہوں؟ قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہوں کہ حق شاگردی کیسے ادا کروں؟ میں جانتا ہوں کہ نہ میرے قلم میں اتنی روشنائی ہے اور نہ میری لغت میں وہ وسعت کہ استاد محترم کی شفقتوں اور عظمتوں کا بیان کر گزروں۔دل میں یکے بعددیگرے جذبات اُبھر رہے ہیں۔ دل کو تسلی دیتا ہوں کہ بعض بزرگوں نے ان پر لکھا ہے اور کیا خوب لکھا ہے۔ پر وہ بھی ’ناکافی‘ کا اعتراف کر گئے تو بھلا مجھ ناچیز کی کیا حیثیت؟سوچتے سوچتے اچانک ڈاکٹرمہتاب حیدر نقوی کی نظم ’’ربط یک میخانہ‘‘ پڑھنے لگتا ہوں۔سوچ کو ایک نئی راہ مل جاتی ہے اور چند بے ربط جملے قلم سے نکلنے لگتے ہیں۔اگر یہ تحریر نہ ہو ئے تودل کوسکون نہ مل سکے گا اس لیے چند جملے’’دل کے سمجھانے کو …‘‘کی طرز پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ استاد محترم کو اسلوب احمد انصاری نے ـ’’منضبط ذہن کا نقاد ‘‘لکھا ہے تو پروفیسر غضنفرعلی نے انھیں صدی سے آگے کا آدمی تصور کیا ہے۔ فرحت احساس نے ادبی وجدان کے حرف اعتبار سے تشبیہ دی ہے جب کہ امتیاز احمدصاحب رقمطراز ہیں کہ’’کروں گاذکرتوخوشبو زباں سے آئے گی‘‘ پریشان ہوں کہ میں کون سا جملہ تراشوں؟
’’عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی‘‘
اتفاق ہے کہ جس سال استاد محترم نے بی۔ اے آنرز امتیازی حیثیت کے ساتھ مکمل کیا اسی سال میں نے اس عالم بے ثبات میں آنکھیں کھولیں۔ جس سال وہ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاے ادب میں اپنی حیثیت منوا چکے تھے تو میں گرد و غبار کی دنیا میں کیریر بنانے کے لیے نکل رہا تھا ۔ اب جب کہ ۱۷ سال تک محکمہ تعمیرات میں وقت برباد کرنے کے بعداس سے منھ موڑ کر ان کی نگرانی میں اپنا پی ایچ ۔ڈی کا مقالہ مکمل کیا ہے تو وہ تقریباً ۳۹ سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے کے بعد اپنی ذمے داریوں سے سبک دوش ہونے جا رہے ہیں۔یہ لمحہ میرے لیے بے حد جذباتی ہے۔
سخت کہرے اور شدید سردی کے موسم میںجب کہ سڑکیں ویران اور دھندلی دھندلی دکھائی دے رہی تھیں۔میں آبائی وطن سنبھل سے تقریباً سوا سو کلومیٹر کی مسافت طے کرکے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچا تھا۔گاڑی سے باہر آتے ہی ٹھنڈ ی ہواوں کے تھپیڑوں نے یہاں کے ماحول کی سختی کا اشارہ کر دیا تھا۔یونیورسٹی تو میں پہلے بھی آتا جاتا رہا تھالیکن آج موقع خاص تھا کہ مجھے اپنی دیرینہ خواہش کے احترام میں شعبہ اردو کے پی ایچ۔ ڈی داخلہ انٹر ویو میں شامل ہونا تھا۔انٹرویو لینے والے بورڈ میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی بھی شامل تھے۔ ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی ۔میرے مضامین حالاںکہ تہذیب الاخلاق میں ۱۹۹۴ سے شائع ہو رہے تھے اور پروفیسر قاسمی اس کے مدیر تھے باوجود اس کے میری پہلے کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مجھے کس سپروائزر کے زیر نگرانی مقالہ لکھنے کی اجازت دی جائے یہ مسئلہ زیر بحث ہی تھا کہ اچانک پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے مجھے اپنی نگرانی میں لینے کا فیصلہ سنا دیا۔ میں حیران کہ عالمی شہرت یافتہ علمی و ادبی شخصیت پروفیسر قاسمی نے مجھ حقیر کا انتخاب کیوںکرکیا ہوگا؟یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ میری’’ مخفی علوم‘‘ سے دلچسپی(جن سے میں ایک حادثے کے سبب دور ہو گیا تھا) اور فلکیات کے موضوع پر شائع ایک کتاب سے متاثر ہو گئے تھے۔بہر حال ان سے پہلی ہی ملاقات نے مجھ پر بڑامثبت اثر ڈالا ۔مجھے افسوس ہواکہ ان سے پہلے کیوں نہیں ملا؟
پہلی ملاقات سے اب تک استاد محترم کوجاننے سمجھنے کا عمل جاری ہے۔ قاسمی صاحب کے چیمبر میں اکثر ان سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ کبھی بے حد مختصر اور کبھی طویل۔ وہ علمی اور ادبی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ بزرگوں کے قصے ،حکائتیں اوران سے اپنی ملاقاتوں کا حال سناتے ہیں۔ پھر اچانک ہم پر سوالات کی بوچھار کر دیتے ہیں اور تب جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ گفتگو کے دوران پوچھ لیتے ہیں کہ کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں حالاںکہ ہماری زیادہ تر سرگرمیوں سے تو وہ پہلے ہی واقف ہو چکے ہوتے ہیں۔جب ہم سے جواب دیتے نہیں بنتا تو خود ہی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔ قاسمی صاحب چوں کہ اپنے ریسرچ اسکالروں کی تربیت پر خاص توجہ دیتے ہیں اس لیے وقت ضرورت تنبیہ اور اصلاح کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔سر سید نے طلبا کی تربیت کے جو منصوبے بنائے تھے ان پر کتنے اساتذہ نے عمل کیا یہ تو نہیں معلوم لیکن قاسمی صاحب کی تربیت سے یقینا ان کی روح خوش ہوتی ہوگی۔
آج کل اردو زبان میں دوسری زبانوں کے بے میل الفاظ کو لکھنے اور بولنے کے رواج کو خاصا فروغ مل رہا ہے۔ استاد محترم پروفیسر ابولکلام قاسمی اردو زبان سے اس حدتک محبت کرتے ہیںکہ وہ عام بول چال میں صحیح اردو زبان کے استعمال پر اصرار کرتے ہیں۔ عام بول چال میں صحیح الفاظ کے انتخاب اور استعمال کو خود بھی ترجیح دیتے ہیں اور ا س کی طرف دوسروں کو بھی رغبت دلاتے ہیں۔ اگر کوئی لفظ غلط ادا ہو گیا تو اصلاح کرنے میں دیر نہیں کرتے ۔الفاظ کے غلط استعمال سے محتاط رہنے اور کفایت لفظی کا اہتمام کرنے کی تلقین مجھے کئی بار کر چکے ہیں۔بہت کوشش کرتا ہوں کہ غلطی نہ ہو۔ بندہ خدا ہوں اس لیے غلطی ہوہی جاتی ہے تو پھر قیامت آنے کا انتظار کرتا ہوں۔مجھے اعتراف ہے کہ میں جب پی ایچ۔ڈی میں داخل ہوا تھا تو بہت سنجیدہ نہیں تھا لیکن قاسمی صاحب کی رہنمائی نے میری دنیا ہی بدل دی:
ہم تو لہروں سے فقط کھیلنے آئے تھے یہاں
اور سمندر ہے کہ بیدار ہوا جاتا ہے
کس شخص سے کس طرح گفتگو کرنی ہے اس فن پر استاد محترم کو دسترس حاصل ہے۔ ان کاامتیاز یہ ہے کہ وہ سامنے والے کی استعداد کا اندازہ کرکے ہی گفتگو کا انداز متعین کرتے ہیں ۔طلبا سے وہ ان کی سطح پر اتر کر گفتگو کرتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ طلبا پیچیدہ سے پیچیدہ بات کو بھی بڑی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ طلبا کو مطالعہ کی طرف رغبت دلانا، ان کی علمی مشکلات کو حل کرنا اور خود بھی مطالعہ میں ڈوبے رہنا استاد محترم کی شخصیت کے اہم جز ہیں۔جب بھی ان کے چیمبرمیں جایئے انہیں مطالعہ کرتے ہوئے ہی پائیںگے۔ میری تقرری حال ہی میں ویمنس کالج میں ہوئی تو خاص طور پر ہدایت کی کہ’’ بنا مطالعے کلاس میں نہیں جانا۔ طلبا کے اطمینان اور خود اعتمادی کے لیے مطالعہ بے حد ضروری ہے۔‘‘ قاسمی صاحب کی شخصیت کا رعب ایسا ہے کہ لوگوں کا ان کے سامنے پہنچ کرگڑبڑا جانا عام بات ہے ۔اکثر تو ان کی آواز سن کر ہی ادھر ادھر ہو جاتے ہیں ۔مجھے ان حالات سے فرار کہاں؟ حالاںکہ احباب خوب جانتے ہیں کہ وہ ملاقات کرنے والوں سے کس اخلا ق اور محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ غیر ضروری گفتگو انھیںپسند نہیں۔ہنسی بھی نعمت کے درجے میں شامل ہے اس نعمت کا وہ بھر پور لطف لیتے ہیں۔ ا ن کے قہقہے سن کر لگتا ہے کہ زندہ دل شخصیات ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ وہ آج بھی اسی طرح علم و ادب کے سلسلے میں تلاش و تجسّس کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جس طرح دس بیس سال پہلے سرگرم رہتے تھے اوریہ صفت انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
وقت کی قدر وقیمت اور اس کا صحیح مصرف قاسمی صاحب سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ وہ اپنے تمام کام اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وقت برباد نہ ہو۔ اپنے اصولوں کی پابندی اس حد تک کرتے ہیں کہ بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی ان کی ترتیب اور ضابطے میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔ کئی بار یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کے طے شدہ پروگرام میںغیر ضروری مداخلت کے جرم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے تو اسے بے حد خوب صورتی کے ساتھ ٹال دیتے ہیں۔ مثلاً انھیں کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں اور کوئی صاحب تشریف فرما ہیں ۔ ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تو وہ چابیوں کا مخصوص گچھا اٹھا کر کھڑے ہو جائیں گے اور کہیںگے کہ ’’اچھا صاحب: پھر ملاقات ہوگی۔ ‘‘باہر نکل کر باتھ روم جائیں گے اور واپس آکر اپنا کام شروع کر دیںگے۔ پروفیسر قمرالہدی فریدی اور ڈاکٹر مہتاب حیدر نقوی کے مطابق یہ سلسلہ زمانہ طالب علمی سے جاری ہے ۔یہ صحیح بھی ہے اگر وہ وقت ضائع ہونے سے نہ بچاتے تو اتنا کام نہیں کر پاتے۔ یقینا ان کے ۲۴ گھنٹے ہمارے ۴۸ گھنٹے پر بھی بھاری ہوتے ہیں۔ وقت کی قدر کرنے اور اس کے ہر لمحے کا حساب رکھنے کا ہنرانھیں سے سیکھا جاسکتا ہے۔ یہ وقت کی منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود دنیامیں ہو رہی اتھل پتھل کی معلومات حاصل کرنے کا موقع نکال لیتے ہیں۔ قاسمی صاحب کی حالات حاضرہ پر بھی پوری نگاہ رہتی ہے گرد و پیش سے وہ محض واقف ہی نہیں ہوتے بلکہ ہر معاملہ پر ایک دانش وارانہ موقف بھی رکھتے ہیں۔ بعض تحریریں بالخصوص تہذیب الاخلاق کے اداریے ان کی دانش ورانہ فکر کی عکاس ہیں۔
اردو کی نئی بستیوں کی جانب سے کیے جا رہے مطالبات اور آئی ٹی کے فروغ میں رومن کے استعمال سے اردو رسم الخط کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔سہل پسند اردو والے اس کے رسم الخط کو دیوناگری یا رومن میں تبدیل کرنے کے مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اردو زبان اور اس کے رسم الخط کے بارے میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کا واضح نقطۂ نظر ہے۔ایک سیمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے وہ زبان اور رسم الخط کو جسم اور روح کے رشتے سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح جسم سے روح نکلنے کے بعد وہ مردہ ہو جاتا ہے اسی طرح زبان سے اس کا رسم الخط جدا ہو جانے پر زبا ن بھی ختم ہو جائے گی۔ وہ دیوناگری کے ساتھ رومن رسم الخط سے لاحق خطرے کی نشان دہی کرتے ہیں اور دیوناگری میں اپنے مجموعے شائع کرانے والوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ اس سے مستقبل میں ان کی غلط شناخت قائم ہو سکتی ہے جیسا کہ نظیر وغیرہ کے معاملے میں ہورہا ہے۔
قاسمی صاحب کسی بزرگ کا قول اکثربیان کرتے ہیں ــ’’ ڈرو اس وقت سے کہ لوگ تمہیں کثیر التصانیف کہیں۔ ‘‘اکثر سمجھاتے ہیں کہ چاہے سال میں ایک ہی مقالہ لکھا جائےلیکن اسکامعیاراس قدربلندہوناچاہیےکہ قارئین کے ذہن پر دیر پا تاثر قائم ہو۔ انھوں نے بڑےبڑے قلم کاروں سے خود متعارف ہونے کی جگہ علامہ اقبال کے شعر ’’خودی کو کر بلند اتنا…‘‘ کے مصداق عمل کرکے خود کے معیار کو اتنا بلند کیا کہ بڑے لوگ ازخود انھیں پکار اٹھے۔یہی وجہ ہے کہ معاصر تنقیدی منظرنامے پر ان کی منفرد شناخت قائم ہے۔
قاسمی صاحب کو تحریر کے ساتھ ساتھ تقریر پر بھی عبور حاصل ہے۔ان کی تقریر اکثر رکارڈ کر لیتا ہوں اور بار بار سنتا ہوں۔ ان کی ہرتقریر ان کی تحریروں کی طرح غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ان کا انداز تخاطب ایسا ہوتا ہے کہ سامنے والے کے دل کی کیفیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ بے شک ان کی ذات سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملاہے۔پھر بھی مجھے اعتراف ہے کہ جتنا فیض حاصل کر سکتا تھا اپنی کم علمی اور سہل پسندی کی بری عادت کے سبب حاصل نہیں کر پایا۔کاش میری عادتیں سدھر جائیں۔
مجھے یاد آتا ہے معروف کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر نے کسی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے گرو نے ان کی تب بھی کھل کر تعریف نہیں کی جب کہ انھوں نے بہت سے رکارڈ بنالیے تھے وہ ہربار بس اتنا ہی کہتے تھے کہ’’سچن تم اس سے بھی بہتر کر سکتے ہو۔‘‘ قاسمی صاحب بھی اپنے شاگردوں سے یہی کہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم خوب سے خوب تر کی تلاش کریں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ہی خوش ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔
جب لکھنے بیٹھا تھا تو سمجھ نہیں پا رہا تھاکہ کیا لکھوں اور اب یہ نہیں سمجھ آرہا ہے کہ کہاں بس کروں؟ بہرحال آج پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب زندگی کے اہم پڑاو پر پہنچ چکے ہیں۔یہاں میں بارگاہ رب العزت میں دعا گوہوں کہ وہ استاد محترم کی شفقتوں اور محبتوں کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے’آمین‘کہ ابھی تو ہمیں ان سے بہت فیض یاب ہوناہے۔پروفیسرابوالکلام قاسمی سرخرو ہوکر اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اپنی ذمے داریوں سے رخصت ہو رہے ہیں تو ایسی شان اور وقارکے ساتھ کہ ہر ایک کو ان پر ناز ہے اور کہیںناکہیں یہ احساس بھی ہے کہ ’’وہ ایسے کیوں نا ہوئے؟‘‘
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردہ سے انسان نکلتے ہیں
ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی،
استاد، ویمنس کالج،
اے ایم یو،علی گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

