غالب کا ایک شعر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی تقاریر دلپذیر سن کر یاد آیا :
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا
لیکن یہ شعر صرف پہلے مصرع کی حد تک برتنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ڈاکٹر نارنگ کے حسن کلام کا اعجاز ہے کہ بسا اوقات انھیں سننے والے غالب کے برعکس ان کے رقیب بننے کی بجائے ذکرِ پری وش (یعنی ذکر اردو زبان و ادب) سن کر ان کے رازداں بن جاتے ہیں، اور ڈاکٹر نارنگ کے دل کے ساتھ ساتھ اپنا دل بھی اسی ’پری وش‘ کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں۔ یوں اسے حسنِ اتفاق کہیے کہ ڈاکٹر نارنگ اور ان کے رازداں ایک ہی محبوب پر اکتفا کرلیتے ہیں اور اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ایک پری وش کے طفیل بھارت اور پاکستان کے ادیبوں میں ایک ’سانجھ‘ پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر نارنگ کے حسنِ بیان کا یہ ادنیٰ سا کمال ہے کہ رازداں رازداں ہی رہتا ہے، رقیب نہیں بنتا۔ اسی لیے وہ جب بھی بھارت سے پاکستان آتے ہیں محبتوں کے کئی ’راز‘ بھارت سے لے کر آتے ہیں اور کئی ’راز‘ لے کر جاتے ہیں۔
ڈاکٹر نارنگ کے حسنِ بیان کا ذکر چلا ہے تو آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ڈاکٹر نارنگ ادب میں ایک بہت بڑا ’ادبی بیوٹی پارلر‘ چلاتے ہیں۔ خوبصورت الفاظ، نرم و نازک تراکیب کو ’سکن سافٹ‘ کرنے کے لیے ’مواسچر‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور پھر خوبصورت میک اَپ کے لیے ’فاؤنڈیشن‘ لگاتے ہیں۔ پھر وہ بعدِ احتیاط رنگوں کا انتخاب کرکے ’موضوع سخن‘ کی مناسبت سے لپ سٹک لگاتے ہیں اور یوں سامعین کو قائل اور گھائل کرنے کا سامان کرکے اپنے ہونٹوں کو جنبش دیتے ہیں اور وہ جو ’سروس‘ اپنے لِپس کے ذریعے کرتے ہیں وہ شاید کوئی کسی اور اسلحہ سے لیس ہوکر کبھی نہ کرسکے۔ اس طرح وہ بندوق کے بغیر مجمع لوٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید وہ علم کے ذریعے مجمع لوٹنے ہی آتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کے حسن بیان کے ہاتھوں جو لوگ لٹ گئے ان میں ہم بھی شامل ہیں۔ ہم شائقین ادب ان کے کمالات کے گرفتار بھی ہوگئے۔ مثلاً ان کے کمالات میں سے ایک تو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تقریر کی پتنگ کو بہت اونچا اڑاتے ہیں … دے ڈھیل … دے ڈھیل … حتیٰ کہ بعض اوقات ڈور تو ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر پتنگ آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز ہوتی ہے۔
اس طرح ان کا دوسرا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی تقریر کی ڈور کو کچھ اس طرح سے ڈھیل دیتے ہیں کہ کہیں گمان نہیں گزرتا کہ وہ ’گاٹی پڑ جانے‘ کے خوف سے اونچا اڑا رہے ہیں یا یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ محض پتنگ اڑا رہے ہیں یا پیچ بھی لڑا رہے ہیں۔ ان کی پتنگ بازی کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی کی پتنگ کو نہیں کاٹتے، بس اپنی تیز دھار ڈور سے رگڑے لگاکے مخالف کی ڈور کو کمزور کردیتے ہیں تاکہ پتنگ کٹنے کی بجائے کمزور ڈور کی بنا پر خود بخود ٹوٹ جائے۔ یوں سمجھیے کہ اردو ادب و زبان کی مثال ان کے ہاتھ میں کچے دھاگے جیسی ہے جس پر وہ اپنی من پسند کا ’مانجھا‘ لگاتے ہیں اور پھر بیچ میدان اپنی ڈور اور پتنگ لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر … دے ڈھیل … دے ڈھیل … ہمارے خیال میں ان کے مسلک میں ’لو کاٹا‘ کا لفظ شامل دکھائی نہیں پڑتا۔
یہ خوبیاں تو ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی شخصیت کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ غالب نے تو اپنے حسنِ بیان کی وجہ سے اپنے رازداں کو رقیب بنالیا مگر غالب کے برعکس ڈاکٹر گوپی چند اپنے حسنِ بیان کی بدولت بہت سے رقیبوں کو اپنا رازداں اور اپنا دوست بنالیتے ہیں اور یہ خوبی بذات خود کیا کم ہے کہ لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد میں ان کے رازداں اور دوست اَن گنت ہیں بالخصوص ایسے جو بھارت کو شاید دوست ماننے سے فی الحال تامل کریں مگر ایک بھارتی شہری کو اپنا دوست تسلیم کرنے سے کبھی نہیں کترائیں گے۔ بالخصوص جب بھارتی دوست بھی یہ کہنے پر مصر ہوکہ پاکستان میرا بھی وطن ہے میں ہندستانی ہوں مگر پاکستان بھی میرا ملک ہے۔
’’چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ’ہمہ صفت موصوف‘ ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ نہ صرف اردو ادب بلکہ کئی زبانوں کے ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اتنی گہری کہ جب تک نظر کو گہرائی سے نکالا نہ جائے نظر وہیں کی وہیں پڑی رہتی ہے۔ وہ محقق کے طور پر ادب کی تفتیش و تحقیق کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ان کو ’ادبی سراغرساں‘ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کھوج لگانا ان کا کام ہے۔ وہ نقاد کے طور پر ادب کو پرکھتے ہیں۔ ایک محقق کے طور پر ادبی حوالے تلاش کرتے ہیں اور ایک خطیب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ وہ ادب کے اچھے ٹیلرماسٹر ہیں اچھا کپڑا چنتے ہیں، اس کی کٹنگ اور فٹنگ کا خیال رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر نارنگ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک بات یہ بھی عرض کریں گے کہ انھوں نے اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کرکے کسی ایک پر بھی یہ الفاظ نہیں لکھ چھوڑے۔
’’پلیز ڈونٹ ڈسٹرب‘‘
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر نارنگ ہر موضوع کو اپنا لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خواہ کوئی سامان کہیں کا ہو وہ اپنی جیب سے مہر نکالتے ہیں اور اس پر لگا دیتے ہیں:
’’میڈ اِن انڈیا‘‘
خواہ ذاتی طور پر انھیں کوئی موضوع پسند ہو یا نہ ہو وہ اس موضوع کو چھوتے ہیں اور اس موضوع کو وہ اپنے مندر کی ایک مورتی بناکر سجا لیتے ہیں کیونکہ بہت سے ایسے موضوعات تھے جو براہِ راست ان کے اپنے موضوعات نہیں تھے۔ مذہبی عقیدے کے لحاظ سے بھی اور ادبی لحاظ سے بھی مگر انھوں نے ان موضوعات پر بھی خوب ’قلم آزمائی‘ کی۔ مثال کے طور پر انھوں نے ’سانحۂ کربلا — بطور شعری استعارہ‘ کے زیرعنوان ایک مضمون پڑھا اور اس موضوع کے ساتھ پورا پورا انصاف بھی کیا مگر وہ بذاتِ خود ہندو ہیں۔ لیکن انھوں نے سانحۂ کربلا کا ذکر ادبی حوالے سے کچھ اس انداز میں کیا کہ یوں لگا جیسے یہ واقعہ کربلا کی بجائے گنگاجمنا کے قریب ہوا ہے۔ اور یزید بھی عرب کی بجائے یہیں کہیں آس پاس کا ہی کوئی آدمی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب ترقی پسندوں کے بارے میں بھی ایک واضح نقطۂ نظر رکھتے ہیں جسے کسی صورت ’سافٹ کارنر‘ نہیں کہا جاسکتا بلکہ وہ حتی الوسع ترقی پسندوں کو ’کارنر‘ کرنے کی ہی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن انھوں نے اسلام آباد میں کئی تقریبات میں فیض احمد فیض کی شاعری اور فن کو موضوع گفتگو بنایا۔ گویا ڈاکٹر نارنگ سانحہ کربلا کو ایک شعری استعارہ کے طور پر پیش کریں گے مگر ضروری نہیں کہ وہ فقہ جعفریہ سے بھی متفق ہوں۔ اس طرح وہ ترقی پسندوں اور فیض احمد فیض کو بھی موضوع گفتگو بنائیں گے مگر ان کا اس ادبی فرقے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب نے اپنے ادبی دامن کو اتنا کشادہ کر رکھا ہے کہ کبھی کبھی تو اخبارات میں شائع ہونے والی یہ عبارت ذہن میں گھومنے لگتی ہے کہ :
’’ایڈیٹر کا مراسلہ نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں‘‘ اسی طرح ڈاکٹر نارنگ کو بھی اپنی وسعتِ قلبی کے سبب یہ رعایت حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مسلک پر لکھیں لیکن ادب کو نہ مذہب کی نظر سے دیکھیں گے نہ سیاست کی نظر سے۔ وہ ادب کو ادب کے طور پر پرکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور یہ اہم بات ہے۔
بات پھر وہی ٹیلر ماسٹر والی کہ کپڑا گاہک کا، ٹیلر ماسٹر کا کام صرف کٹنگ، فٹنگ اور سلائی کا خیال رکھنا ہے۔ ڈاکٹر نارنگ خوب سلائی کرتے ہیں اور ادب میں ہم ان کی اس ’بخیہ گری‘ کے قائل ہوگئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ مضامین کی ’بخیہ گری‘ کے بعد پاکستان اور بھارت کے لوگوں کے دلوں میں ’رفو کا جو کام‘ نکل آیا ہے اُسے بھی بہت جلد نمٹائیں گے۔
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ 26 مئی کو اسلام آباد آئے تو یہ ان سے پہلی ملاقات نہیں تھی۔ ہم چند سال پہلے بھی ان سے مل چکے ہیں۔ اب کے بھی ملے تو پہلی ملاقات کی یاد تازہ ہوگی۔
گوپی چند میانہ قد، گندمی رنگ اور بالوں کی سیم زدہ کھیتی کہیں کہیں سیاہ و سفید بالوں کے آثار … ذہین چمکدار آنکھیں چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ … پہلی ملاقات میں انھوں نے کہا۔ السلام علیکم … اور ہمارے بہت سے دوست جو جذبہ مہمان نوازی سے مغلوب ہوکر انھیں پر نام کرنے اور نمستے کہنے والے تھے، انھیں حیرت سے فوراً وعلیکم السلام کہنا پڑا۔
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا انداز تکلم کچھ ایسا تھا کہ اگر کوئی سوال کرتا۔
’’جناب بھارت میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟ تو جواب ملتا۔
’’الحمدللہ بہت درخشاں ہے‘‘ پھر سوال ہوتا کہ آپ آئندہ کب پاکستان آئیں گے تو نارنگ صاحب جواب دیتے، ’’انشاء اللہ آئندہ سال کوشش کریں گے!‘‘
یوں سمجھیے کہ ڈاکٹر گوپی چند وہی زبان استعمال کررہے تھے جو یہاں ہمارے ڈاکٹر وحید قریشی استعمال کرتے ہیں یعنی ہر بات پر انشاء اللہ ماشاء اللہ، اس دفعہ بھی ان سے ملاقات ہوئی تو انشاء اللہ اور ماشاء اللہ کا دامن انھوں نے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا اور ان کی زبانی انشاء اللہ۔ ماشاء اللہ سن سن کر بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلتا، سبحان اللہ۔
کبھی ہم خود اور کبھی ہم جیسے بہت سے سادہ لوح اور جذباتی مسلمان اس بات کے قائل ہوگئے کہ اسلام کا رنگ نارنگ پر بہت گہرا ہے۔ وہ ہمیں بالکل اپنے لگتے ہیں، بالکل دوستوں کی طرح، بھائیوں کی طرح لیکن کچھ ایسے بھی ہیں، جو ڈاکٹر نارنگ کو پانی کی مثل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پانی کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہوتا، اپنی کوئی شکل نہیں ہوتی جس برتن میں ہوتا ہے اسی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
لیکن ڈاکٹر نارنگ کا ایک معاملہ اور بھی تو ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ عمر کا ایک حصہ یہاں گزرا، لاہور کی ایک خاتون سے شادی کی۔ والد 1956 میں ریٹائر ہونے کے بعد ہندوستان گئے، زندگی مسلمانوں کے ساتھ گزری، اس لیے ڈاکٹر نارنگ بھی غالب کی طرح کبھی کبھی آدھے مسلمان نظر آتے ہیں، غالب سے ایک بار ایک انگریز نے سوال کیا۔
’’ویل مرزا ! تم مسلمان؟‘‘
غالب نے کہا ’’آدھا؟‘‘
انگریز نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘
غالب نے کہا ’’شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا‘‘
اس طرح کبھی کبھی ڈاکٹر نارنگ بھی آدھے ہندو آدھے مسلمان نظر آتے ہیں۔ تقسیم سے پہلے وہ پاکستان میں رہے، اب وہ بھارت کے شہر دہلی میں ہیں، ان کی زندگی کا ایک حصہ بھارت میں اور کچھ پاکستان میں گزرا۔ وہ جس محبت سے پاکستان آتے ہیں اور اس سفر عشق کو جس ذوق و شوق سے طے کرتے ہیں، اس سے کبھی کبھی گمان گزرتا ہے کہ وہ آدھے ہندوستان میں ہیں اور آدھے پاکستان میں اور جب یہاں آتے ہیں تو پاکستان میں اپنی زندگی کے نصف حصہ کی تلاش میں آتے ہیں۔ شاید یہ سچ ہے۔
(10 جون 1985)
اختر امان
روزنامہ نوائے وقت، راولپنڈی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

