وہ اب ملے گا تو یہ التزام رکھے گا
بہت سے کاموں کو مجھ پر حرام رکھے گا
ملامتوں کا اُسے خوف ہے، اسی خاطر
وہ مجھ سے ربط بھی کچھ خوش کلام رکھے گا
تمام عمر سفر میں رھے گا سر گرداں
مرا خیال اُسے بے قیام رکھے گا
بچھڑتے وقت یہی ایک اس کا وعدہ تھا
کہ میرے نام پہ بچے کا نام رکھے گا
کرے نہ اُس کو پریشان تذکرہ میرا
شبِ وصال وہ کچھ انتظام رکھے گا
مِری طرح کوئی کافر نہ گھر میں آ جائے
سو گھر کا نام بھی بیت الحرام رکھے گا
کچھ اور اس سے تو اُمید ہے نہیں طارق
وہ میری یاد میں سگرٹ سے کام رکھے گا
طارق ابرار
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی

