جدید شعری افق پر ابھرنے والے کامیاب شعرا میں ایک اہم نام شہریار کا ہے۔1936 سے 2012 کا طویل عرصہ دنیوی معاملات و مسائل کو دیکھنے، سمجھنے،اور ان سے اکتساب کرنے کے لئے ناکافی نہیں۔اس دورانیے میں پروان چڑھنے والی شاعری ظاہر ہے اپنے اندر متنوع اور کثیرالجہات موضوعات کا گرانبار خزینہ سموئے ہوئے ہوگی جس کا احاطہ کیا جانا دو چار صفحات میں ناممکن ہے۔لیکن کسی بھی فنکار کے ادبی مقام کا تعین اس کی چند خصوصیات کی بنا پر ہی کیا جاتا ہے۔خواہ موضوع کے حوالے سے ہو یا فن کے حوالے سے۔شہریار کی شاعری میں خواب، رات، دھند، آگہی، موت جیسی لفظیات کا استعمال بار بار ہوا ہے اور انھیں قوی استعارے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔یہ تمام الفاظ معنوی سطح پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ دراصل جدیدعہد کا فرد جن داخلی تجربات سے دوچار تھا ان کے اظہار کے لئے یہ الفاظ مناسب رہے ہونگے ورنہ شہریار کو یہ الفاظ کیوں سوجھتے؟ شہریار کی شاعری میں متذکرہ الفاظ خواب، رات، دھند، آگہی، موت کہیں نہ کہیں تنہائی کے تائثر کو پیش کرتے ہیں۔
شہریار کے یہاں تنہائی کا احساس بار بار سر ابھارتا ہے۔ان کی شاعری ایک ایسے وجود کی روداد معلوم ہوتی ہے جو شکست خوردہ ہے اور خود کو تنہائی کے عذاب میں گرفتار پاتا ہے۔یہ تنہائی ایک ایسے عہد کی زائیدہ ہے جب عالمی جنگوں کی تباہ کاری اور تقسیم وطن کے سانحے نے انسانی ذہن کو انتشار و اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ہر فرد اقدار کی شکست اورآزادی کے توسط سے دیکھے گئے حسین خوابوں کی پامالی کے بعدخالی ہاتھ رہ گیا تھا۔نیز صنعتی ترقی اور مشینی زندگی نے فرد سے فرد کا رشتہ منقطع کردیا اور ایسی صورت میں انسا ن خود کو یکہ و تنہا محسوس کرنے لگا۔تنہائی کا یہ احساس شہریار کی شاعری میں کہیں شخصی تجربہ معلوم ہوتا ہے اورکہیں شخصی تجربے میں وہ اجتماع کوبھی شامل کر لیتے ہیں۔بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ فرد یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ جس ازلی تنہائی سے وہ دوچار ہے یہ صرف اسی کا مقدر ہے یا کسی اور کو بھی اس سے علاقہ ہے۔
تنہائی کا زہر غموں کی تلخی کو
پیتے تھے ہم اور امر ہوجاتے تھے
(ماضی)
وہ لوگ آج برہنہ سرو شکستہ پا
ٹھٹھک کے رہ گئے اک ایسے موڑ پر تنہا
جہاں ہے کوئی نہ امروز اور نہ فردا ہے۔
(جرم و سزا)
کیا کوئی اور بھی ہے میرے سوا
پھیلے ہوئے صحرا میں
زیست جس کے لئے تنہائی ہے۔
(میرے سوا)
شہریار کی شاعری میں سوالیہ انداز فکر و تامل کے نئے در وا کرتا ہے استفہامی اسلوب کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں معنی کی مختلف جہتوں تک رسائی کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیا، کیوں، کیسے، کون، کس کی جیسے الفاظ جستجو کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔جستجو کی یہ خواہش بے یقینی، عدم اعتماد، اور تشکیک کی صورت میں پیدا ہوئی ہے۔شہریار کا استفہامی لہجہ قاری کو جستجو کے اس عمل میں برابر کا شریک ٹھہر ا تا ہے۔ان کا مخاطب کوئی مخصوص شخص نہیں بلکہ یہ تمام عمومی سوالات فرد کی ذہنی کشمکش کو پیش کرتے ہیں۔
اندھے دن کو گونگی رات سے کیا نسبت ہے
گھائل چاند کی گہنائی کرنوں کا سایہ
اس دھرتی کو کیوں بھاتا ہے
سورج کی سرشار شعائیں
اس دھرتی کو کیوں ڈستی ہیں
(زیست کا حاصل اور حقیقت)
کس کی آواز کے شعلے کی لپک کی اٹھتی ہے
کس کی خوشبوئے بدن اڑتی ہے
کیوں فضا بدلی ہوئی لگتی ہے
کیا کوئی اور بھی ہے میرے سوا
پھیلے ہوئے صحرا میں
(میرے سوا)
وہ کون تھا وہ کون تھا
طلسم شہر آرزو جو توڑ کر چلا گیا
ہر ایک تار روح کا جھنجھوڑ کر چلا گیا
مجھے خلا کے بازوؤں میں چھوڑ کر چلا گیا
(وہ کون تھا)
دن رات، چاند اور سورج کے عمل پر لگایا گیا سوالیہ نشان بے یقینی کو یقین میں مبدل کرنے کی کوشش ہے۔دوسری نظم کے چار مصرعے استفہامی ہیں اور یہ جاننے کی خواہش ہے کہ جس احساس کے ساتھ شعری کردار جی رہا ہے اس میں کوئی اور بھی شریک ہے یا نہیں؟فضا کی یہ ساری تبدیلیاں کیا صرف اسی ایک شخص کو محسوس ہو رہی ہیں؟ نظم ان تمام سوالات کو ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔ تیسری مثال میں بھی شک و شبہ کی کیفیت نمایاں ہے اور چھوڑ کر جانے والے کی کوئی واضح تصویر نہیں، تجسس کا یہ عمل نظم کے آخر تک برقرار رہتا ہے اور کوئی جواب نہیں ملتا گویا سوالات کے ذریعہ معنی کی تفہیم کے لئے راہیں کھول دی گئیں ہیں۔شہریار کے یہاں اس طرح کی بے یقینی عصری حالات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور عصری حالات سے ہم آہنگی ان کی شاعری کو جدید شعری منظر نامے میں اعتبار بخشتی ہے۔
شہریار کی شاعری ہندوستانی مزاج کے قریب معلوم ہوتی ہے۔ہندو مذہب کے مختلف عقائد و رسومات کو استعارے و علامت کے طور پراستعمال کرنے کے فن نے ان کی شاعری میں ہندوستانیت کی روح پھونک دی ہے یہ ہندوستانی فضا اپنی سرزمین سے انسیت اور مشترکہ ہندو مسلم تہذیب سے دلچسپی کے باعث خلق ہوئی ہے۔شہریار کے خاندانی پس منظر کو دیکھتے ہوئے بھی بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندو مذہب کے متعلقات کا بیان ان کے لاشعور کا حصہ ہیں یا پھر ان کی شاعری میں تہذیبی عناصر صبح کے وقت مندروں سے آنے والی بھجن کی آوازوں سے غیر شعوری طور پر اخذ کرنے والے تاثرات کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔
آنکھ مندر کے کلس پر رکھو
سنکھ بجنے کی گھڑی آتی ہے
دیوداسی کے قدم رک رک کر
آگے بڑھتے ہیں۔
(سنکھ بجنے کی گھڑی)
ناریل توڑو پڑھو اشلوک
جینے کی صعوبت ختم کر دو۔
(صداؤں کا سفر)
اپنے اشکوں سے نہلا کر
نئے نئے کپڑے پہنا کر
پھولوں کی خوشبو میں بسا کر
گنگا میا کی طوفانی
لہروں میں یوں پھینک آئے ہیں
جیسے اس دن ہی کی خاطر
ہم اس سے پیار کیا تھا۔
(پریم انت)
مذکورہ مثالوں میں تراکیب کی پیچیدگی کے بغیر براہ راست الفاظ کااستعمال ہوا ہے۔ مندر، کلس، سنکھ، دیوداسی جیسے تلازمات نظم کی فضا سازی میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔اسی طرح ناریل توڑنا اور اشلوک پڑھنا ہندو دھرم کے عقیدے میں شامل ہے۔ موت کے بیان میں یہ استعارے فنکار کی انفرادیت کو ظاہر کرتے ہیں شاعر کی نظر میں موت تمام مسائل کا حل ہے ڈرامائی لہجے کی یہ نظم حکم نامے کی حیثیت رکھتی ہے۔مؤخر الذکر مثال میں گنگا میا تہذیب کی علامت ہے ہندو دھرم کے ایک رسم کو استعارہ بنا کر طنز آمیز لہجہ میں ایک ٹھوس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔تخلیقی زبان کے استعمال پر قدرت نے انھیں معاصر شعرا میں مقبول بنا دیا ہے۔تشبیہ استعارے پیکر و علامت سے مزین ان کی نظمیں و غزلیں ایک خاص لطف رکھتی ہیں نظم و غزل دونوں کے موضوعات و مضامین قریب قریب یکساں ہیں۔لہجہ بھی ایک سا ہی ہے اور دونوں فارم میں خیالات و جذبات کا اظہار انھیں طمانیت بخشتا ہے۔
جدید شاعری میں واقعہ کربلا کو ایک نئے انداز سے برتنے کا رجحان ملتا ہے۔مختلف شعرا نے نظم وغزل کے ذریعے اس سانحے کو اپنے اپنے طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے اور اس تاریخی واقعہ کے متعلقات سے استعارہ سازی کا کام لیا ہے۔شہریار کی شاعری میں کربلائی استعاروں کی کارفرمائی بیک وقت فنکار کے فکری و فنی جہات سے روشناس کراتے ہیں اور اسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھنے کی بہترین مثال ہیں۔
ہوا کی زد میں چراغ امید کب نہیں تھا
مگر یہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ
لبوں پر ریگ سکوت
آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا
تم اپنے آبا کے کارناموں سے بے خبر ہو
حسین ابن علی کے وارث
شہید ہوتے ہیں کربلا میں
(ایک نظم)
میں مانتا ہوں
تم خواب حسین کے وارث ہو
میں جانتا ہوں
تم پیاس کی شدت میں بھی سراب کو دریا نہیں کہنے والے
تسلیم مجھے
جس رہ میں نشیب و فراز نہیں
وہ راہ جنوں کی راہ نہیں
یہ راز مگر بتلاؤ مجھے
تلوار کا سایہ سر کی بلندی کے در پہ ہے
کوفۂ زیست میں قطرۂ آب امید نہیں ہے
پھر بھی شہادت کے اعزاز کے لائق تم میں کوئی نہیں ہے۔
غرض یہ کہ موضوع کا تنوع، الفاظ کی سادگی، حکائی انداز، تمثیلی و علامتی پیرایہ اظہار، مناسب و متضاد الفاظ، لہجے کا دھیماپن، حزنیہ کیفیات، ان تمام عناصر سے مرکب شہریار کی شاعری ان کے ادبی قد میں اضافے کا باعث ہے۔اور مختلف زاویوں سے تفہیم و تعبیر کا تقاضہ کرتی ہے۔
عاتکہ ماہین
ریسرچ اسکالر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

