مری مشام جاں کو عطر عطر کر کے اڑ گئی
وہ بو ئے خوش تھی یا کہ بد
میں کیوں الجھ کے رہ گئی
عجب دھندلکا سا کوئی خیال بار پا گیا
بکھر گئے ہیں ہفت رنگ
افق پہ میرے ذہن کے
سمیٹ لوں جو ان کو میں تو
کوئی نقش بھی ابھر نہ پائے
یہ کیا کیا ہے گرد کی دبیز تہہ نے دیکھ لو
کہ در پہ لاشعور کے ہے قفل
اورکلید اس کی لاپتہ
کہ آبپاشیوں سے بھی
شعور کو نہ رہ ملی
نہ یاد کو جلا ملی
نہ آس ہی کوئی بندھی
نہ کوئی لو ہی جل سکی
تو پھر یہ طے ہوا کہ بوئے خوش ہی آس پاس تھی ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ
ہوا کے ہاتھ نے اسے کشید کر لیا تھا پھر
وہ اجنبی زمیں کو خیر باد کہہ کے اڑ گئی
ڈاکٹر عاتکہ ماہین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

