Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت – نایاب حسن

by adbimiras فروری 23, 2021
by adbimiras فروری 23, 2021 0 comment

عصرِ عباسی دیگر بہت سی سماجی،سیاسی و علمی فتوحات کے ساتھ لاتعداد کتب خانوں کی موجودگی کے حوالے سے بھی ممتاز سمجھا جاتا ہے ،حتی کہ اس دور میں ایک بھی ایسا صاحبِ علم نہیں پایاجاتا تھا،جس کے پاس ذاتی کتب خانہ نہ ہو۔ذیل میں ان کتب خانوں کے علمی اثرات پر مختصراً روشنی ڈالی جارہی ہے:

۱۔وہ عرب ،جو اپنی ذکاوت و ذہانت اورقوتِ حافظہ پر فخر کرتے تھے،انھیں اس بات کی عار دلائی جاتی تھی کہ ان کے پاس کتابی شکل میں کوئی علمی سرمایہ نہیں ہے۔ عہدِ عباسی میں تصنیف و تالیف اور ترجمہ و جمعِ کتاب کی تحریک نے ان کی اس کمی کوبھی دور کردیا اور اب وہ سننے اور یاد کرنے سے زیادہ تحریر و تصنیف پر فخر کرنے کے قابل ہوگئے۔

۲۔اس عہد میں یہ چیز مسلمانوں کی علمی روایت کا جزوِ لاینفک ہوگئی؛چنانچہ اس دور کا ہر خلیفہ یا وزیر و امیر اپنے گھر میں ایک کتب خانہ قائم کرتا اوراس میں قیمتی کتابیں جمع کرتا تھا۔

۳۔تمام خلفا،وزراو امراکے محل میں لائبریریاں تھیں،ایک بھی محل اس سے خالی نہ تھا،جیساکہ ابوبکر بن یحی الصولی کے اس واقعے سے بھی پتا چلتا ہے۔اس نے ایک بار خلیفہ راضی باللہ سے کہا:

’’لوگوں میں اس بات کا چرچاہے کہ ہمارے آقا نے اپنی علمی جلالت و عظمت کے باوجود خلفاے سابقین کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے محل میں لائبریری قائم کی ہے‘‘۔(اخبارالراضی باللہ والمتقی للہ،ص:۳۹)

اس سے پہلے کے عباسی خلفا میں یہ حضرات گزرچکے تھے:سفاح،منصور،مہدی،ہادی،ہارون رشید،امین،مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مہتدی، معتمد،معتضد،مکتفی اور مقتدر۔مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خلفانے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میں اس علمی روایت کو برقراررکھا تھا؛لیکن اصحابِ سیر و سوانح نے ان میں سے صرف منصور، ہارون رشید اورمامون کے ذاتی کتب خانوں کا ذکر کیا ہے۔ایسا شاید اس لیے ہواکہ لائبریریاں قائم کرنا عہدِ عباسی میں اسلامی حکومت و ثقافت کا ایک لازمی اورحکومت کے معمول کا حصہ تھا؛اس لیے مؤرخین نے ہر خلیفہ کے حوالے سے باہتمام اس کا ذکر نہیں کیا۔

۴۔عام لوگوں کے استفادے کے لیے مسجدو ں میں بھی لائبریریاں بنوائی جاتی تھیں۔جیسا کہ اصحابِ سیر و سوانح نے لکھا ہے کہ ابو نصر احمد بن حامد اصفہانی اور حسان بن سعید المنیعی نے عوام و خواص کے لیے بہت سی مسجدوں میں کتب خانے بنوائے تھے۔(وفیات الاعیان، ج:۱، ص: ۶۰۔۶۱، الانساب، ص: ۵۴۳)

۵۔اسی طرح اس زمانے میں عام گزرگاہوں اور راستوں کے کناروں پر بھی لائبریریاں قائم کی جاتی تھیں؛تاکہ اصحابِ ذوق اسلامی و علمی نوادرات و ذخائر سے جب اور جہاں چاہیں،استفادہ کریں۔یاقوت الحموی کے بیان کے مطابق ایک ہی شہر میں اس قسم کی دس دس لائبریریاں پائی جاتی تھیں۔(کتاب الحیوان،ج:۱،ص:۶۰۔۶۱)

۶۔مسلمانوں میں حصولِ علم اور مطالعۂ کتب کا غیر معمولی شوق تھا؛چنانچہ مروی ہے کہ جب ابوبکر صولی راضی باللہ اور اس کے بھائی ہارون کو پڑھا رہاتھا،تو اسی زمانے میں انھوں نے فقہ،ادب و زبان کی کتابوں پر مشتمل لائبریری بنانی شروع کردی تھی،کہا جاتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی ذاتی کتابوں پر مشتمل اپنی علاحدہ لائبریریاں تھیں۔(اخبارالراضی باللہ والمتقی للہ،ص:۳۹۔۴۰)

۷۔لوگ کتابوں کو اپنے گھر اور محفلوں کی زینت کا سامان سمجھتے تھے،وہ اس لیے بھی کتابیں جمع کرتے تھے کہ معاشرے میں انھیں اہلِ علم و افاضلِ قوم میں شمار کیاجائے۔’’نفح الطیب من غصن الأندلس الرطیب‘‘نامی کتاب میں ایک مالدار شخص کا تذکرہ ہے کہ وہ محض اپنے گھر کو سجانے ،سنوارنے کے لیے کتابیں خریداکرتا تھا۔(ج:۳،ص:۱۰۔۱۱)

۸۔اس دور کے علمانے صرف اپنے لیے لائبریریاں نہیں بنوائیں ؛بلکہ اپنی اولاد کے لیے بھی بنوائیں؛چنانچہ ابوالحسن علی بن عبداللہ الطائی نے اپنے بیٹے ابوالبرکات اور ابوعبداللہ دونوں کے لیے الگ الگ کتب خانے قائم کیے تھے،جب کہ ان دونوں کے علاوہ اس کے پاس پہلے سے اپنا ایک ذاتی کتب خانہ موجود تھا۔(معجم الادباء،ج:۶،ص:۲۲)

۹۔بعض دفعہ کتب خانوں کے مالک اپنے یہاں مطالعے کے لیے آنے والے شائقینِ علم و کتب کی مالی مددکرکے ان کواس کی مزید ترغیب دیتے تھے،جیسے کہ ابن سوار اور ابوالقاسم موصلی کے بارے میں مروی ہے کہ یہ حضرات اپنی لائبریریوں میں مطالعے کے لیے آنے والوں کوروپے پیسے اورمال و اسباب کی شکل میں ہدیے بھی دیا کرتے تھے۔ (احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم،ص:۴۱۳،معجم الادباء،ج:۲،ص:۲۰)

۱۰۔بیٹیوں کو جہیز کے طورپر کتب خانے دیے جاتے تھے،جیسا کہ مشہور محدث امام اسحاق بن راہویہ کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے عبداللہ زغدانی سے امام شافعی کی تصانیف پر مشتمل کتب خانے کے حصول کی خاطر ان کی بیٹی سے شادی کی تھی۔(الانساب،ص:۲۸۶)

۱۱۔کتب خانے کی اہمیت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ نہ صرف اہلِ علم ان سے استفادے کے لیے سفرکیاکرتے تھے؛بلکہ شعرا کتب خانوں کی تعریف میں اشعار بھی کہتے تھے،جیسے کہ ابوالعلامعری کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس نے بغداد کے کتب خانہ ’’دارالعلم‘‘کا مشاہدہ،تو اسے بے پناہ خوشی ہوئی اور اس نے اس کے لائبریرین کی تعریف میں اشعار کہے۔ (إنباہ الرواۃ،ص:۱۷۶) (یہ بھی پڑھیں علامہ سیماب اکبر آبادی – سید احمد قادری )

۱۲۔اس زمانے میں علم و فن اور کتاب و کتب خانے کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ بسا اوقات تنگیِ معاش کی وجہ سے خود بھوکے رہ سکتے تھے یا اپنے گھر والوں کو بھوکا رکھ سکتے تھے،مگر اپنی کوئی کتاب بیچنے پر راضی نہ ہوتے تھے۔اس کی ایک مثال ابراہیم الحربی کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا،مگر اپنی لائبریری کی ایک کتاب بھی فروخت نہ کی۔(تاریخ بغداد،ج:۶،ص:۳۳)

۱۳۔عہدِ عباسی میں کتب خانے رہن پر بھی دیے اور لیے جاتے تھے،اس سے بھی ان کی اہمیت کا پتا چلتا ہے،گویا ان کی حیثیت گھر یا زمین جائداد جیسی تھی، جنھیں رہن پر دیا یا لیاجاسکتا تھا،اس کی وجہ سے بعض دفعہ بعض لوگوں کے کتب خانوں کی کتابیں چوری بھی ہوجاتی تھیں اور چوری کرنے والا اسے دوسرے انداز میں مارکیٹ میں لاتا اوران سے مالی منفعت حاصل کرتا تھا۔

۱۴۔لوگوں نے صرف اپنی کتابیں رکھنے کے لیے بڑی خوب صورت عمارتیں بنوائیں،انہی لوگوں میں سے ایک سابور بن اردشیر تھا،جس نے بغداد کے’’کرخ‘‘نامی محلے میں کتب خانے کی ایک عالیشان عمارت بنوائی تھی۔(کتاب المنتظم، ج:۷،ص:۱۷۲) ایک ابوالشیخ بن محمد بھی تھا،جس نے اصفہان میں کتب خانے کے لیے ایک عمارت بنوائی،گرچہ اس کی زندگی میں وہ عمارت پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکی تھی۔(خریدۃ القصر،ص:۲۵)

۱۵۔لوگ غربت کے باوجود کتابیں جمع کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے،جیساکہ ابراہیم الحربی کے واقعے سے اس کی مثال پیش کی جاچکی ہے،اس کی وجہ یہ تھی کہ صاحبِ کتاب ہونااُس وقت کے مسلم معاشرے میں سماجی وقار و عظمت کی نشانی سمجھا جاتا تھا،اسی ابراہیم الحربی کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی غربت کو دیکھتے ہوئے اس سے کسی نے چڑانے کے لیے دریافت کیا:

’’یہ کتا بیں تم نے کیسے جمع کیں؟تووہ یہ سن کر غصہ ہوگیااور جواب دیا:اپنے خون پسینے سے جمع کی ہیں‘‘۔(تاریخ بغداد، ج:۶،ص:۳۳)

۱۶۔خلفا و امرا بڑے بڑے اہلِ علم کے کتب خانے حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے تھے؛چنانچہ جب امام احمد بن حنبلؒ کا انتقال ہوگیا،تو خلیفہ متوکل علی اللہ نے ان کے صاحبزادے کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ وہ امام احمد کا کتب خانہ سرکار کے ہاتھوں فروخت کردیں،مگر امام کے بیٹے نے اس سے انکار کردیا۔ (تاریخ الاسلام،ص:۸۲)

۱۷۔کتب خانوں اور کتابوں سے اس دور کے لوگوں کو اتنی محبت تھی کہ بسااوقات وہ اپنے بچوں اور عبادت سے بھی غافل ہوجاتے تھے؛چنانچہ ایک واقعہ مروی ہے کہ ابومعشر فلکی بغداد کے راستے حج کے سفر پر نکلا،وہاں اسے علی بن یحی منجم کے کتب خانے کا پتا چلا،تو اس کے کتب خانے جاپہنچااور پھر کتابوں میں ایسا مشغول ہواکہ اسے اپناسفرِ حج بھی یاد نہ رہا۔(معجم الادباء،ج:۵،۴۶۷)اسی قسم کا واقعہ یاقوت الرومی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔(معجم البلدان، ج:۵، ص:۱۱۴)

۱۸۔اس زمانے میں اہلِ عرب اپنے بچوں کو تلواروں اور کتاب بازاروں میں جانے کی ترغیب دیتے تھے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح سیاسی و وملکی حفاظت کے نقطۂ نظر سے زرہ و تلوار کی ان کے نزدیک اہمیت تھی،اسی طرح ذہن و فکر کی ترقی و ثروت مندی کے لیے وہ کتابوں کی ضرورت و اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔

۱۹۔جو لوگ خلفاو امرااور وزیروں کی خدمت میں کتابیں پیش کرتے،انھیں مال و دولت اور قیمتی تحائف سے نوازاجاتا تھا؛چنانچہ جب وہب بن ابو اصیبعہ نے وزیر کمال الدین کی خدمت میں اپنی کتاب’’عیون الانباء فی طبقات الاطباء‘‘پیش کی،تو اس نے اسے بہت سے مال اور خلعتِ فاخرہ سے نوازا۔(عیون الانباء فی طبقات الاطباء،ج:۳،ص:۲۸۶۔۲۸۷)

۲۰۔اس زمانے میں آج کی طرح کتابوں کی طباعت کا معقول انتظام تو تھا نہیں،مصنف خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی کتاب کی کتابت کرتا تھا؛چنانچہ حفاظتی تدبیر کے طورپرعصرِ عباسی کے اہلِ قلم و اصحابِ تصنیف اپنی ایک کتاب کے تین نسخے تیار کرتے تھے ؛تاکہ اصل نسخہ ضائع نہ ہوجائے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو،تو اس کی ایک یا دو کاپیاں موجود رہیں۔

۲۱۔لائبریری وزیروں کے محل کا لازمی حصہ ہوتی تھی؛چنانچہ کاتبوں کا مستقل انتظام ہوتا تھا اور بسا اوقات ان کے لیے چالیس چالیس تخت لگوائے جاتے تھے؛چنانچہ ابویوسف یعقوب بن ابوشیبہ اور ابو عبید محمد بن عمران المرزبانی کے محلوں کا یہی حال تھا۔(تاریخ بغداد،ج:۱۲،ص:۲۸۱،کتاب المنتظم، ج:۳، ص: ۱۳۶)

۲۲۔ان کتب خانوں میں دین و دنیا میں نفع بخش ہر قسم کی کتابیں پائی جاتی تھیں۔ اس دور کا ایک شاعر کہتا ہے:

مامن کاتب الا ستبقی

کتابتہ وان فنیت یداہ

فلا تکتب بکفک غیر شيء

یسرک في القیامۃ أن تراہ

(ایک مصنف جو کچھ لکھتا ہے،وہ باقی رہتاہے،بھلے ہی اس کے ہاتھ فنا ہوجائیں(مصنف مرجائے)لہذا تم اپنے ہاتھ سے ایسی ہی چیزیں لکھو،جنھیں دیکھ کر تمھیں قیامت کے دن مسرت حاصل ہو)

۲۳۔ماں باپ اپنے بچوں کو کتب بینی اور کتابیں جمع کرنے کی تاکید کرتے تھے؛تاکہ معاشرے میں انھوں نے محنت و مشقت کے بعد جو عزت و وقار حاصل کی ہے،وہ باقی رہے۔بدیع الزماں ہمدانی اپنے بھانجے سے کہتا ہے:

’’جب تک تمھیں علم سے شغف ہے،تعلیم گاہ سے انس ہے،قلم دوات تمھارے ساتھی ہیں اور کاپی تمھاری ہمدرد دوست ہے،تب تک تم میرے لیے میرے بیٹے جیسے ہو؛لیکن اگر تم نے اس سلسلے میں کوتاہی سے کام لیا،تومیرا،تمھارا کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا‘‘۔(الرسائل،ص:۱۵۲)

المختصریہ کہ علم دوستی،کتب بینی اور کتابیں جمع کرنے کے غیر معمولی شوق و جذبے کے اعتبار سے اس دور کے عوام و خواص سب ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے،وہ لوگ کتابیں پڑھنے،انھیں حاصل کرنے،لائبریریاں قائم کرنے اور انھیں سجانے سنوارنے کواپنا فریضہ سمجھنے کے ساتھ سماجی و معاشرتی وقار و اعتبار کے حصول کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے۔علم و کتاب کے عام رواج کا نتیجہ یہ تھا کہ سیکڑوں یا ہزاروں میں سے کوئی ایک بندہ،جسے علم و مطالعے سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہوتی،وہ بھی سماجی standard کو برقرار رکھنے کے لیے کتابیں خریدتا اور اپنے گھر میں لائبریری ضرور قائم کرتا تھا۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
کتب خانے کی اہمیت
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
’مضبوط خاندان اور مضبوط سماج‘ کی تشکیل کیسے؟ – کامران غنی صبا
اگلی پوسٹ
علامہ اقبال کے آہنگ کا شاعر – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں