غالب ہماری ادبی تاریخ کے ایک ایسے جیالے کردار ہیں جن کی شاعری با لخصوص الفاظ و تراکیب اور فکر وخیال کی پہنائیوں میں ہماری قوم نے ہر زمانے میں اُترنے کی کوشش کی اور ایسا شاید ہی کوئی ہو جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے کلامِ غالب کی نئے سِرے سے جب سیر کی تو اُسے کچھ نئے جہانِ معنٰی حاصل نہ ہوئے ہوں۔ اسی لیے غالب جیسا اپنے زمانے کے لیے معتبر تھے، اُس سے کم ہمارے زمانے کے لیے نہیں ہیں۔ کلامِ غالب کی ہر نئی تفہیم غالب فہمی کے رازہاے سربستہ کی ایک پَرت ضرور کھولتی ہے۔ شاید اسی لیے ہر عہد کا نیا نقّاد غالب کے شعری طلسم کے قریب پہنچنا ہی چاہتا ہے۔
غالب کی ’ر‘ ردیف کی مشہور غزل جسے ایک خاص شعری کیفیت کے سبب ہم ’مرثیۂ عارف‘ سے موسوم کرتے ہیں، اُس کا انتخاب موجودہ گفتگو کے لیے شاید اس وجہ سے مناسب ہے تا کہ غالب کے ’گنجینۂ معنٰی کے طلسم‘ کے کچھ ذرّے پھر سے اپنی مٹھّیوں میں قید ہوجائیں۔غالب کا بڑا سے بڑا پرستار بھی انھیں مرثیہ گو نہیں کہہ سکتا۔ غالب نے خود اپنی مہارت کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے مگر وہاں بھی مرثیہ جیسی صنف میں کسی امتیازی نقش کے چھوڑنے کے بارے میں کبھی کوئی دعوا نہیں کیا گیا۔ غالب کے نقّاد اور محقّقین نے بھی اُن کے شعری مزاج کی اس صنفِ سے خاص مطابقت کے بارے میںکبھی روشنی نہیں ڈالی۔ ’دیوانِ غالب‘ کے صفحات بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ غالب نے کوئی مقصود بالذّات رثائی تحریر شامِل دیوان نہیں کیا۔ تلاش وجستجو کے بعد اُن کے تین فارسی مراثی اور ایک مختصر اردو مرثیے کی پونجی حاصل ہوتی ہے۔ غزلیات کے حصّے میں ’ہاے ہاے‘ کی ردیف والی غزل اور پھر ’کوئی دن اور‘ ردیف کی دوسری غزل ہمیں غالب کے رثائی کردار کو سمجھنے میں ایک بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ’ہاے ہاے‘ کی ردیف میں جو غزل ہے، اُس کے بارے میں بعض محقّقین کا یہ کہنا ہے کہ وہ اُس ستم پیشہ ڈومنی کی شان میں ہے جسے مار رکھ کر غالب نے عجب خوٗ سے اِترانے کی کوششیں روا رکھیں۔ لیکن یہ عجب المیہ ہے کہ اس غزل کو یہ رثائی تناظر حاصل نہ ہو سکا یاکم ازکم اس کے لیے یہ تفہیمی طَور متعیّن یا مقبول نہ ہو سکا۔ (یہ بھی پڑھیں مظہرامام کی نظمیں: حقیقت اور رومان کا آمیزہ – ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )
امتیاز علی عرشی نے ’دیوانِ غالب‘ میں یہ وضاحت کی ہے کہ مرزا زین العابدین خاں عارف عین جوانی کے عالم میں اپریل ۱۸۵۲ء میں فوت ہوئے۔ عارف غالب کی بیوی کے بھانجے تھے۔ عرشی صاحب نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ یہ غزل اپریل ۱۸۵۲ء کے فوراً بعد کی ہونی چاہیے۔ اس اعتبار سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ غالب کی بہ حیثیتِ شاعر پختہ کامی اور مشقِ سخن کی ایک عمر گزرنے کے بعد یہ غزل سامنے آئی۔ اس وقت تک غالب کے ارد و اور فارسی دواوین سامنے آچکے تھے اور انھیں بالعموم ادبی عظمت حاصل ہو چکی تھی۔ موضوعاتی اور لسانی اعتبار سے اس عہد تک آتے آتے غالب کے نام کا سورج خوب خوب روشن ہے اور وہ اپنی ادبی بزرگی کو خود بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے مرثیۂ عارف کی طرف ہماری خصوصی توجّہ ہونی چاہیے۔
اس غزل کی اصل شانِ نزول تو یہی ہے کہ عارف کی وفات پر اُن کا غم یہاں لفظوں کا پیکر اختیار کر گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس سے پہلے بھی غالب متعدّدطرح کے غموں کا شکار ہو چکے تھے۔ عارف کی موت اُن کی زندگی کا پہلا غم نہیں ہے۔ حیاتِ غالب کے سرسری مطالعے سے بھی پتا چل جاتا ہے کہ اولاد کی پَے بہ پَے موت نے خود غالب کو کس طرح نڈھال کر رکھا تھا۔ غالب نے اپنے خطوط میں غدراور اس کے بعد کی اموات کا اور اپنے اعزّہ کے ایک ایک کرکے ساتھ چھوڑنے کا بڑے کربناک انداز میں ذکر کیا ہے۔ اموات اور حادثات کا جو سلسلہ آغاز میں رہا، وہ انجام تک بدل نہ سکا۔ غالب بے بسی اور کسمپرسی میںکہتے رہے :
ہو چکیں غالب بَلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
لیکن انھیں ایک بلا کے بعد دوسری بلا حاصل ہو جاتی اور اس کے ماتم کے لیے تنہا غالب موجود ہوتے۔
’مرثیۂ عارف‘ اموات اور غمناکی کے اس سلسلے میں ایک ایسے موڑ پرلکھا گیا ہے جب غالب رنج وغم کے ٹھیک بیچ میں موجود ہیں۔ کچھ رنج اور ملال انھیں خون کے آنسو رُلا چکے ہیں لیکن ابھی ایسے کتنے مراحل باقی ہیں، یہ کون جانتا ہے؟ ابھی تو انھیں ۱۷؍برس اور جیناہے اور شاید غموں کے سترہ اور پہاڑ اُنھیں کاٹنے پڑیں۔ بھلے مغلیہ سلطنت کی چمک ماند پڑچکی ہو لیکن قلعۂ معلّا میں ایک جھِل مل روشنی قائم ہے۔ اس صورتِ حال میں استادِ شہہ شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کی پیری بھی غالب کے لیے ایک اُمّید کی کِرن بنی ہوئی ہے۔ کہنا چاہیے کہ ہار اور جیت، غم اور خوشی کا ایک ایسا موڑ ہے جہاں پچھلا اندھیرا بھی تعاقب کر رہا ہے اور مستقبل کی روشنیاں بھی پردے کے اوٹ سے بوند بوند ٹپکتی ہوئی معلوم ہورہی ہیں۔ غالب نہ تو پوری طرح سے شکست کی آخری دہلیز تک پہنچے ہیں اور نہ ہی انھیںایسا یقین ہوگیا ہے کہ اُن کی زندگی میں اب کوئی روشنی کی کرن نہیں پھوٹے گی۔ زندگی اور حالات کے اس موڑ پر غالب نے اپنے تخلیقی اظہار کا بغیر کسی بڑے اعلان کے ایک ایسا مکمّل نمونہ پیش کیا جسے ہم ’مرثیۂ عارف‘ کہتے ہیں۔
دس شعر کی یہ غزل مطلع اور مقطع یا غزل کے عمومی انداز کے سبب اوّل و آخر غزل ہے اور پڑھنے والے اِسے موضوع کے اعتبار سے بھلے مرثیہ سمجھیں لیکن لسانی روایت اور مسلّمہ ادبی نظام میں یہ غزل کی طرح سے ہی تسلیم شدہ ہے۔ غالب اگر چاہتے تو اِسے دیوان میں الگ سے شخصی مرثیے کے طور پر شامل کر سکتے تھے لیکن انھیں بھی احساس تھا کہ اس تخلیق کی بنیاد غزل ہے اور وہ غزل کو مرثیہ اور مرثیہ کو غزل بنارہے ہیں۔ یہ مرثیہ مرحوم عارف سے گفتگو کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن ساتھ میں خدا اور پھر پورا زمانہ مخاطبت میں شامل ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ شبہہ ہونے لگتا ہے کہ کون سی بات کس سے کہی جارہی ہے یا شاعر کے اصل مخاطب کسی خاص شعر میں کون ہیں۔ لیکن ایک نکتہ یہاں پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک شعر یا مصرع اس طرح سے ادا کیا جائے کہ وہ کئی دوسروں سے بھی مخاطبت کا ذریعہ بن جائے تو یہ شعرو ادب کا ایک قیمتی کام یاہنر کی دلیل ہے۔ غالب یوں بھی معنوی تکثیریت کے جویا تھے۔
’مرثیۂ عارف‘ غالب کے تصّورِ موت کا اشاریہ ہے۔ آغاز میں گفتگو کی سطح بہت غیر متعلّق اور معروضی رہتی ہے مگر مرنے والے سے اُن کا یہ کہنا کہ تمھارے لیے تو یہ ضروری تھا کہ میرا انتظار کرتے لیکن تم نے ایسا نہیں کیا اور تنہا اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ ایسی حالت میں تم اب اُس میعاد تک تنہاہی رہو جب تک ہم وہاں بلا نہ لیے جائیں۔ منطق کے اعتبار سے پہلے شعر میں بہت معقول دلیل ہے لیکن اس کے بعد جب یہ شعر آتا ہے :
مٹ جائے گا سر، گر تِرا پتھّر نہ گِھسے گا
ہوں درپہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
تو یہ بات دھیان میں آتی ہے کہ مخاطبت کی سطح بدل گئی اور اب یہ بات خدا کے پیشِ نظر رکھی جارہی ہے۔مو لاکے در کا پتھّر گھِس جائے یا سرمٹ جائے لیکن وہاں سے ہٹنا نہیں ہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اس شعر سے غالب کون سا کام لینا چاہتے ہیں؟ کہیں ایک غیر متعلّق سا حمدیہ یا عارفانہ بیان تو یہاں شاملِ غزل نہیں کردیا گیا؟ یہ الزام بہت حد تک نادرست نہیں ۔ غالب نے غزل کی ہیئت کا جب استعمال طے کیا تو اُنھیں یہ بھی معلوم ہے کہ مرثیے میں غزلیہ فضا بندی کے لیے حسبِ ضرورت ایسے اشعار شامل کرنے میں پریشانی نہیں ہوگی لیکن اس کی ایک تاویل یہ بھی ہے کہ موت کے ماحول میں ایک دعائیہ یا حمدیہ کیفیت پیدا کردینے سے تخلیق کی مکمّل صورت اُبھر کر سامنے آجائے گی۔ اس لیے عارف سے شکوہ کرنے میں جو جرح کا اندازہے، وہ یہاں بھی قائم ہے اور اﷲ سے مرنے والے کے لیے کچھ طلب اور موت سے واپسی اور جسم و جان کی حصولیابی جیسے جذباتی امور دوسرے شعر میں زیرِ بحث آگئے ہیں۔
غالب کو یہ معلوم تھا کہ وہ ایک شخصی مرثیہ لکھ رہے ہیں۔ اس لیے رفتہ رفتہ اُنھوں نے اس تخلیق کو نجِی اور بے تکلّف بنانے کی مہم شروع کی۔ یہیں اُن کے استدلال اور نفسیاتِ انسانی کی سوجھ بوجھ کا بے تکلّفانہ اظہار ہوتا ہے۔ آج اور کل کا ذکر کرکے زندگی اور کاینات کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے اور غالب کی دلیل یہ ہے کہ عارف ابھی توکل ہی آئے ہیں اور آتے ہی آج ہی واپس ہونے کی بات کررہے ہیں۔ ایسے موقعے کی کیفیت غالب نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ کسی کوہمیشہ نہیں رہنا لیکن ردیف کا پُراثر استعمال کرتے ہوئے یہ بیان سامنے آتا ہے کہ ’کوئی دن اور‘ تو رہا ہی جا سکتا تھا۔
چوتھے شعر میںغالب پھر عارف سے ہی مخاطب ہیں۔ ہر رخصت ہونے والا باقی ماندہ لوگوں سے یہی کہتا ہے کہ پھر قیامت میں ملاقات ہوگی۔ غالب نے اسے براہِ راست بیان کی طرح پیش کرکے ایک قول بنایا ہے : جاتے ہوئے کہتے ہو: ’قیامت کو ملیں گے‘۔ پھر اس پر اگلے مصرعے میں وہ تبصرہ کرتے ہیں : ’کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور‘۔ یہاں بھی منطق کی وہی صلاحیت کام آتی ہے جس کے لیے غالب پہچانے جاتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر گزرنے والے نے کہا کہ اگلی ملاقات صبحِ قیامت میںہو گی تو غالب اپنے جذبات پیش کرتے ہوئے ایک علاحدہ تاویل قائم کرتے ہیں کہ میرے لیے قیامت کا اور دوسرا کون سا دن ہوگا؟قیامت تو آج ہی آگئی ہے کیوںکہ ہمارا زین العابدین خاں عارف داغِ مفارقت دے گیا۔ گذشتہ شعر میں جس طرح کل اور آج کا استعمال تھا، یہاں قیامت کی رعایتیں ہیں۔ اس شعر میں ایسا لگتا ہے کہ شاعر رفتہ رفتہ جرح کی سختی اور استدلال کے معیار کو بڑھاتا جاتا ہے۔
’مرثیۂ عارف‘ کا پانچواں شعر پھر خدا سے مخاطبت کے لیے نازل ہوتا ہے۔ اردو معاشرے میں یہ شعر ضرب المثل کے طور پر استعمال میں آتا ہے۔ موقع دکھ کے ساتھ ناراضگی کا بھی ہے۔ خدا کو مخاطب کرنے کے بجاے غالب نے آسمان کو مخاطب کیا لیکن جو خدائی ازل سے ہو، اُسے اس غم وغصے میں ’فلکِ پیر‘ کہتے ہوئے غالب کیوں جھجکتے؟ بوڑھا آسمان کہہ کر غالب نے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں لیکن وہ لفظوں کے ہر کھیل کے ماہر بھی ہیں۔ اس لیے اُن کا سوال ہے کہ عارف تو ابھی جوان تھا، ایسے میں ’فلکِ پیر‘ یہ تو بتاؤ: ’کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور‘۔ یہاں منطق، رعایت اور برجستگی کے ساتھ جذبے کا ایک نَپا تُلا اظہار ہے جہاں سطحِ آب پر کوئی شورنظر نہیں آتا اور ایک کامیاب وکیل کی طرح ایک فریق کے لیے جرح جاری رہتی ہے۔ لیکن انضباط کا یہ پہاڑ ایک آن میں زمین پہ گرجاتا ہے اور اپنے عزیز کا ماتم دار ناراضگی میں لڑنے جھگڑنے کے انداز میں وہ مصرع کہتا ہے جو عوام و خواص میں بے حد مقبول بھی ہے اور لاکھوں اور کروڑوں کے دلوں کی آہیں اور کراہیں اس میںاپنے آپ شامل ہو گئی ہیں: ’کیا تیرا بگڑتا جونہ مرتا کوئی دن اور‘۔
اگلے شعر میں غالب کی کیفیت بدلتی ہے۔ آغاز کے وقت محسوس ہوتا ہے کہ غالب عارف سے گفتگو کررہے ہیں کیوں کہ بہت سادہ انداز میں وہ کہتے ہیں : تم ماہِ شبِ چاردہم تھے مرے گھر کے –– تم سے واضح ہو جاتا ہے کہ مخاطبت عارف ہی سے ہے لیکن عارف سے ایسے اعلان کی کیا ضرورت ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ اعلان عارف سے زیادہ دوسرے لوگوں اور پھر اُس ’فلکِ پیر‘ کے لیے ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ ہمارا چودھویں کا چاند ہمیشہ کے لیے گہن آلود ہوگیا۔ لیکن غالب کی شاعرانہ مہارت اور استعجاب پیدا کرنے کی کیفیت کا پتا کرنا ہو تو اس شعر کا دوسرا مصرع دیکھنا چاہیے۔ خدا سے لے کر کاینات کے ہر ذرّے تک عارف کی مرکزیت کا اعلان کرنے والے غالب اب بولتے نہیں ہیں۔ کوئی آواز اور ٹیس نہیں اُبھرتی بلکہ مظاہر میں وہ عارف کو ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ خود کلامی میں کیا سادہ سا مصرع کہتے ہیں جس میں اندر سے جذبوں کی مرصّع کاری اور مینا نگاری دیکھنے کو جی چاہتا ہے:
’پھر کیوں نہ رہا ،گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور؟‘
یہاں غالب آثار میں زندہ حقائق کی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گمشدنی کی یہ عجیب کیفیت ہے۔ شعر میں ظاہری طور پر یہ پتا بھی نہیں چلتا کہ یہ کوئی جذباتی یا درد وغم کے اشاروں سے لبریز شعر ہے۔ دلوں کا بوجھ یہاں لفظوں میں پیوست ہوگا، یہ شعر کی اوّلین قرأت میں جھلکتا ہی نہیں لیکن جب مجنو نانہ انداز میں اپنے گھر کے حالات اور بہ قولِ غالب ’نقشا‘ ملاحظہ کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ’ماہِ شبِ چار دہم‘ کیا گیا، زندوں کی رونقیں اور جان بھی سمیٹتا چلا گیا۔ اسی لیے اب گھر تو ہے لیکن گھر کا وہ نقشا نہیں جو چودھویں کے چاند یعنی عارف کے موجود ہونے سے قائم ہوتا تھا۔ ہماری زبان میں ایسے شعر کم ملتے ہیں جہاں سطحِ آب پر ٹھہراو اور سکون ملے لیکن زیریں سطح پر شورِ قیامت برپا ہو۔ یہ شعر اسی انداز سے سامنے آتا ہے۔
’مرثیۂ عارف‘ کا ساتواں شعر بھی ضرب المثل کے طور پر ہمارے سامنے ہے اور مخاطبت کے لیے غالب نے پھرعارف کو چُنا ہے۔ گذشتہ اشعار میں منطق کی سطح عالمانہ تھی۔ یہاں عامیانہ اور کاروباری انداز اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ لین دین کے معاملے میں عارف تم کون سے ایسے کھرے آدمی تھے؟ تمھارے یہاں اونچ نیچ کی کیفیت شامل رہتی تھی۔ غالب سوال کرتے ہیں کہ کیا تم ایسا نہیں کر سکتے تھے: ’کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور‘ ۔ عارف کے مزاج کی عامیانہ صورتِ حال کو سامنے رکھ کر غالب نے ایک حیرت انگیز منطق یہ پیدا کی کہ جب دنیا میں قرض دینے والوں کو بہت بار تقاضا کرنے کے بعد اُن کی طلب پوری کرتے تھے تو ملک الموت کے ساتھ اگلی تاریخ پر معاملے کو ٹال دینے میں آخر کون سی قباحت پیدا ہوگئی۔ موت بَرحق ہے لیکن غالب اپنے عزیز کے وصال کے غم میں کچھ اس طرح دل گرفتہ ہیں کہ اُنھیں انسانی زندگی کے سارے دانو پیچ یاد آجاتے ہیں اور خواہش یہ ہے کہ اِن سب کو آزما کر بہر صورت عارف کو بچا لیا جائے۔ اس شعر کی ظریفانہ کیفیت بھی قابلِ توجّہ ہے کیوں کہ منطق میں ظرافت کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ بات صرف غالب کے شعری نگارخانے میں ممکن ہے کہ وہ مرثیہ کہتے کہتے ظرافت کا لبادہ اوڑھ لیں اور شعری کیفیت اور اثر انگیزی میں یک سرِ مو تخفیف نہ ہو بلکہ پڑھنے والے پر اس کے اثرات بڑھ جائیں۔
اگلے شعر میں مخاطبت تو نہیں بدلتی لیکن عارف سے گفتگو کی سطح گھریلو ہوجاتی ہے۔ یہاں غالب یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ ممکن ہے تمھیں مجھ سے نفرت ہو اور ضیاء الدین خاں نیّر سے بھی لڑائی ہو لیکن کیا گھر میں بچّوں کا تماشا تمھیں کچھ دن اور نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ یہ بھی منطق کی ایک الگ سطح ہے۔ یہاں جانے والے کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ بزرگوں سے لاکھ شکایت ہو لیکن بچّوں کا کیا قصور یا اُن سے کون سی نفرت کہ گھر کی چہل پہل سے منہ موڑ کر دوسرے سفر پر روانہ ہو جایا جائے؟ نویں شعر میں پھر عارف ہی سے گفتگو جاری رہتی ہے۔ غالب کا کہنا ہے کہ تمھاری زندگی جو گزری، وہ پورے طور پر پُراَزاِنبساط نہیں تھی لیکن غالب کا مشورہ اسی قدر سادہ انداز میں سامنے آتا ہے : کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور۔ یہاں زندگی کے لیے ’مُدّتِ خوش وناخوش‘ کی عجیب ترکیب آزمائی گئی ہے جس سے زندگی کیسی گزری ، یہ صاف طور پر سامنے آجاتا ہے۔ اسی لیے اس شعر میں جرح کا انداز نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پَے بہ پَے منطق کے بعد غالب کے سامنے گزارش یا عمومی صلاح کے علاوہ اب کوئی تیر آزمانے کے لیے نہیں بچا ہے، اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری زندگی حقیقت میں مدّتِ خوش وناخوش ہی تھی لیکن اس کے باوجود تمھیں تھوڑے دن اور جینا چاہیے تھا۔
اس مرثیے کے آخری شعر یعنی مقطع میں مخاطبت بدلتی ہے اور غالب اب عوام سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے میں ایک عجیب وغریب صورتِ حال کا ذکر ہوا ہے۔ غالب سے کوئی سوال کرتا ہے کہ آخر وہ کیوں اب تک جی رہے ہیں؟ اس کے جواب میں غالب کا کہنا ہے کہ پوچھنے والے نادان ہیں۔ مطلعے میں عارف کو اپنی آمد کا انتظار کرنے کووہ کہہ چکے ہیںاور اس سے بڑھ کرعارف کے وصال کو قیامت کا دن قرار دے چکے ہیں۔ مقطعے میں آخری طور پر وہ کہتے ہیں کہ غالب اس لیے جیتے ہیں کیوں کہ اُن کی قسمت میں مرنے کی تمنّا آج نہیں ’کوئی دن اور‘ مکمل ہوگی۔ عارف کی موت جب قیامت سے بڑھ کر ہے تو غالب کے لیے جینا اور مرنا کیا؟ اس غزل میں آغاز سے جرح کا انداز ہے لیکن تمام مناطق جب ختم ہوجاتی ہیں تو آخری مصرعے میں غالب نصیب کے لکھے کو پتھّر قرار دیتے ہیں اور بڑی صفائی سے کہتے ہیں کہ غالب اس لیے زندہ ہے کہ اُس کے مقّدر میں مرنا آج کے دن نہیںلکھا ہے۔ یعنی اُسے کسی اگلے موقعے کا انتظار کرنا ہے۔ شکایت، منطق اور دلیل تمام حربوں کے بعد غالب اب زندگی کی ایسی عمومی سطح پر چلے آتے ہیں جہاں حیات وموت کا رکھوالا کوئی دوسرا ہے، اس پر یقین کرلیا جائے۔ یہ آخری طور پر تسلیم کرلیا جائے کہ زندگی اپنے قبضے کی شَے نہیں، جبرِ مشیّت کے سامنے کوئی چارۂ کار نہیں۔ جو جیتا ہے، وہ بھی اس لیے جیتا ہے کیوں کہ اُس کی قسمت میں آج مرنا نہیں لکھا اور جو گزر گیا، وہ اس لیے گزر گیا کیوں کہ اس کی زندگی میں کوئی دن اور جینانہیں لکھا تھا۔
یہ عجب اتّفاق ہے کہ شارحینِ غالب نے اس مرثیے کو بہت کم اپنی توجّہ کا حصّہ بنایا ۔ زبان اور مضمون کی سادگی نے اکثر و بیش تر شارحین کو اس غزل یا اس کے اشعار کی تعبیرو تشریح کے عمل میںزیادہ اُتر نے نہیں دیا ۔ اس وجہ سے اس غزل کے مطالعے میں بہت سارے معروف شارحین سے ہم استفادہ نہیں کر سکتے ۔ بعض نے چند جملے لکھے یا کسی ایک شعر پر اپنے تاثرات کے لیے گنجایش پیدا کی ۔ اس کے باوجود اس غزل کی تعبیر وتشریح کے مرحلے میں چند شارحین کی آرا سے استفادہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ پانچویں شعر کے پہلے مصرعے :’ہاں ،اے فلکِ پیر، جواں تھا ابھی عارف‘ کے بارے میں نظم طباطبائی کا تاثر یہ ہے کہ یہاں ’ہاں‘ کا استعمال نا درست ہے ۔ لیکن بے خود موہانی نے ہاں کہتے ہوئے آغازِ کلام کرنے کی متعدّد تعبیریں پیش کی ہیں ۔ شاداں بلگرامی نے ’ہاں ‘ کو کلمۂ تنبیہہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے استعمال کو مصرعے میں موزوں مانا ہے ۔
دوسرے شعر : مٹ جائے گاـ۔۔۔۔۔۔۔۔کےبارےمیںبعضشارحینکیتعبیریںمختلفہیں۔عبدالباریآسیعارفکیقبرکیلوحپرناصیہفرسائیکےعملکیبات کرتے ہیں ۔بے خود موہانی نے بھی لحد سے ہی سر ٹکرانا مراد لیا ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ شارحین نے ہر شعر میں بدلتی ہوئی مخاطبت کو بنیادی اہمیت نہیں دی یا عجلت میں یہ فیصلہ ممکن نہ ہوا کہ یہاں مخاطبت کی سطح بدلتی ہے۔ یہاںاگر عارف کی جگہ پر خداکو مخاطب مانا جائے تو اس قدر زورآوری اور شدت کی منطق سمجھ میں آ جاتی ہے ۔یہ اس لیے بھی موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اگلے اشعار میں مخاطبت خدا سے پھر قائم ہوتی ہے جہاں فلکِ پیر کی ترکیب آزمائی گئی ہے ۔خدا نے ہی عارف کو موت دی ہے تو یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شکایت اور عاجزی بھی سب سے زیادہ اسی کے حضور پیش کی جائے ۔
ماہِ شبِ چار دہم والے شعر کی تعبیرمیں عبدالباری آسی نے چودھویں کے چاند کے بہ تدریج گھٹنے کے بعد پوشیدگی کی کیفیت سے غالب کے استعارے کی وضاحت کی ہے ۔مقطعے کے سلسلے سے علامہ بے خود موہانی نے ردیف کی مناسبت سے ’کوئی دن اور‘ کی یہ تعبیر پیش کی ہے کہ ’یہ غم زیادہ دن تک جینے نہ دے گا ‘ لیکن پہلے مصرعے کی توجیہہ میں انھوں نے کہاہے کہ غالب کو عارف سے اتنی محبت تھی کہ لوگوں کو فراقِ عارف میں ان کے زندہ رہنے کی امید نہ تھی۔ یہ متن سے الگ معنٰی کی تلاش کے علاوہ اور کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔ اسی طرح فلکِ پیر کی توجیہہ بھی بے خود موہانی کے یہاں غیر ضروری طور پر قصّہ گوئی کی حدوں تک پہنچ جاتی ہے۔
شعرِ غالب میں ہر عظیم شاعر کی طرح حیات و موت کے مظاہر پر بار بار گفتگو ملتی ہے۔ غالب کے خطوط بھی زندگی کی کُھلی کتاب کے اوراق سے مکمّل ہوئے ہیں لیکن غور کرنے پر یہ پتا چلتا ہے کہ غالب تو اصل میں موت کے مظاہر کے محرِّر ہیں۔ دیوانِ غالب کے چنندہ مقطعوںاور منتخب اشعار پر ایک نظر ڈال لیجیے تو یہ بات ازخود واضح ہو جائے گی کہ موت کے بارے میں غالب کی شاعری میں کیسی کثیرالجہات کیفیات ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر اگر خطوطِ غالب کے صفحات تک پہنچیں تو وہاں بھی زندگی سے الگ، موت کے اس ذائقے پر عجیب وغریب ارتکاز اور انحصار ملتا ہے۔ روز موت کا انتظار اور زندگی کے اختتام کا جو اعلانیہ ہے، اس سے غالب کا فلسفۂ موت وضع ہوا ہے۔
غالب کے یہاں موت ایک ایسا مضمون ہے جس سے اُن کے ذہن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ عام انسان کی طرح بلا شبہہ وہ زندگی کے ماتم دار ہیں۔ وہ روتے بھی ہیں اور رونے والوں کے ساتھ شریک بھی ہوتے ہیں۔ ہر غم سے چھٹکارے کی سبیل بھی ڈھونڈتے ہیں۔ قدرت سے انصاف اور بے انصافی کی بحث بھی چھیڑتے ہیں لیکن حالی نے جو کہا کہ مرزا بنیادی طور پر ’حیوانِ ظریف‘ ہیں تو وہ شَے ہر موڑ پر قائم رہتی ہے۔ وہ اس مرثیے میں بھی موجود ہے۔ کون ہے جو موت کے مضمون کو کھیل تماشے کی طرح رقم کردے۔ موت کو کبھی استہزائیہ انداز میں اور کبھی بالکل تماشا بنا دینے کی غالب کے یہاں جو صورت نظر آتی ہے، وہ اردو کے کسی دوسرے شاعر میںشاید ہی نظر آئے۔ ظرافت کی کیفیت میں ڈرامائی صورت کی شمولیت سے ایک نیا اسلوبِ بیان قائم ہوتا ہے۔ ایک طرف طنز و ظرافت اور ڈرامائی اسلوب؛ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ نفسِ مضمون میں موت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اسی طرح سے ایک حیرت انگیز زندگی ہے جیسی خود غالب کو ملی تھی لیکن اُسے عام کرتے ہوئے انھوں نے اپنی شاعری اور نثرمیں موت کے سلسلے سے ایک خاص اسلوب کو وضع کیا جہاں زندگی کی سب سے اہم گفتگو ایک طرف ظرافت کے پیکر میں قائم ہوتی ہے تو دوسری طرف ڈرامے کی بوالعجبیاں بھی اس میں تمام وکمال پیوست ہوتی ہیں۔ یوسف مرزا کے نام پہلے اُن کا ایک خط ملاحظہ کریں :
’’کیوں کر تجھ کو لکھوں کہ تیرا باپ مرگیا اور اگر لکھوں تو پھر آگے کیا لکھوں کہ اب صبر کیا کر۔ مگر صبر؟ یہ ایک شیوۂ فرسودہ ابناے روزگار کاہے۔ تعزیت یوں ہی کیا کرتے ہیں اور یہی کہا کرتے ہیں کہ صبر کرو۔ ہاے ایک کا کلیجہ کٹ گیا ہے اور لوگ اُسے کہتے ہیں کہ تو نہ تڑپ۔ بھلا کیوں کرنہ تڑپے گا۔ صلاح اس امر میں نہیں بتائی جاتی۔ دعا کو دخل نہیں۔ دوا کا لگاو نہیں۔ پہلے بیٹا مرا، پھر باپ مرا۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ بے سروپا کس کو کہتے ہیں تو میں کہوں گا یوسف مرزا کو۔‘‘ (۱۸۶۰ء)
اس خط کو آخر کیا کہا جائے۔’ یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہے‘ ؛ ’گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھر وکہ میں‘؛ ’ ایک مرگِ ناگہانی اور ہے‘ ؛’ نَے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں ‘ جیسے مصرعے غالب نے آخر کس عالم میں کہے ہوں گے۔ یہ سب موت کو ایک کھیل تماشے کی طرح بسر کرنے والے فن کار کے احوال ہیں۔
’مرثیۂ عارف‘ میں بھی غالب کا شعری اسلوب اپنے فنّی کمال کے اُس مقام پر ہے جہاں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہاں ماتم ہے کہ استہزا ہے۔ حالت یہ ہوتی ہے کہ کہیں کہیں یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے۔ انگریزی شاعر ورڈس ورتھ نے لوسی (Lucy) کی وفات پر اپنی مشہور نظم کے آٹھ مصرعے کچھ اس طرح سے کہے تھے :
A slumber did my spirit seal;
I had no human fears;
She seemed a thing that could not feel
The touch of earthly years.
No motion has she now, no force;
She neither hears, nor sees;
Roll’d round in earth’s diurnal course
With rocks and stones and trees.
غالب کے اس بہترین یوروپی ہم عصر کی کیفیات ملاحظہ کیجیے ۔ Contemporary climate of thoughtشاید اِسے ہی کہتے ہیں۔ ورڈس ورتھ بھی جذبوں کے انضباط کا عجیب پیمانہ وضع کرتا ہے: I had no human fears.
غالب کو بھی مرنے سے کوئی خوف نہیں۔ مرنے اور جینے دونوں کو وہ کسی کھیل تماشے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ یہ زندگی کی وہی کیفیت ہے جو غالب نے حالات کی ستم ظریفی سے مقابلہ کرنے کے لیے وضع کی تھی۔ یہاں موجود اور ناموجود کے احوال باطل ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی جیت ہار ہو جاتی ہے اور شکست آواز بن جاتی ہے۔ وہ ہمیں ایک نئے فلسفۂ زندگی کے اسباق سکھاتے ہیں اور یہ وہ رنگ ہے جسے دنیا سے الگ کرکے غالب نے اپنے لیے مخصوص کررکھا تھا کیوں کہ جو زندگی انھیں ملی تھی، وہ عمومی طور پر اگر گزاری جائے تو بیچ میں ہی سب کچھ تہس نہس ہو کررہ جائے گا۔ٹھیک ویسے ہی جیسے اس عہد میں ہمارے ملک کا ہو رہا تھا لیکن جب معاملہ ایک نابغۂ روزگار کا ہو ؛اور اُسے معلوم ہے کہ وہ عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہے تو اسے کیوں نہ موجود زندگی کے ہر اصول سے خود کو الگ کر لینا چاہیے اور اپنی زندگی کے لیے کوئی الگ اصول بنانا چاہیے۔ بھلے یہ اصول عام انسانی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا ہو لیکن اگر غالب کو جیے جانا ہے تو یہی اصول کارگر ہو سکتا ہے۔ غالب کی زندگی اور شاعری دونوں میں یہ ایسے سنہرے اَطوار ہیں جنھیں انھوںنے خاص طور پر اپنے لیے تشکیل دیے تھے۔
’مرثیۂ عارف‘ پہلی سطح پر تو عارف ہی کا مرثیہ ہے لیکن اس کے داخل میں اترتے ہی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ صرف عارف نہیں بلکہ غالب کا بھی مرثیہ ہے اور قرأت کی اگلی سطح متعیّن کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں موت کا تذکرہ تو ظاہری ہے، اصل بات حیاتِ غالب کے مضمرات میں پیوست ہے۔ دنیا کی بڑی زبانوں میں ایسے شعرا ہاتھ کی انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں جن کی شاعری میں حیات اور موت ایک ایسے مرکزے پر اِستادہ دکھائی دیں جہاں یہ سمجھنا مشکل ہو جائے کہ کہاں سے موت اور حیات کا سلسلہ الگ الگ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے مرثیۂ عارف ہمارے کسی بھی ادبی نقّاد کے لیے امتحان کا باعث ہے کہ اِسے موت کی شاعری سمجھا جائے یا زندگی کی۔ اگر اِسے عارف کے انتقال سے جوڑا جائے تو پھر غالب کی موت کے مظاہر کیوں اس میں گڈمڈ ہوجاتے ہیں؟ غالب تو اپنی موت کا اعلان کرتے ہی ہیں کہ وہ صرف اس لیے جیتے ہیں کیوں کہ اُن کے مرنے کا ’کوئی دن اور ‘ مقرّر ہے۔ یہ تو اپنا ہی مرثیہ کہنا ہے۔ عارف اور غالب کے مرثیے سے گزرتے ہوئے جب اس متن کو ہم مزید توجّہ عطا کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں زندگی کا بھی کوئی طور ہے جسے شاعر موت کے تذکرے میں سمو کر ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اسی لیے ’مرثیۂ عارف‘ واقعتا ایک ’گنجینۂ معنٰی کا طلسم‘ بن گیا ہے۔
’مرثیۂ عارف‘ میں یہ سب باتیں ہوں، اور اُسے اگر ایک بڑا لسانی نگار خانہ نہ سمجھیں تو غالب کے ساتھ ساتھ ہمارے ادبی رویّوں کی قدروقیمت سے منہ موڑنے جیسا ماحول قائم ہوگا۔ ذرا یاد کیجیے کہ غالب نے جو ردیف منتخب کی، اس کا مقصد کیا ہے؛ ’کوئی دن اور‘۔ اختتام پر ’اور‘ لفظ کا استعمال کرنا آخر کس جہانِ معنٰی کی طرف ہمیں لے جانا چاہتا ہے۔ اس ردیف میں ہی غالب نے نفسیات اور زبان کا ایک کھیل، اور کوئی خاص جادو چھپا کر رکھ دیا ہے۔ کسی مصرعے میں کوئی بتا دے کہ یہ جو ردیف ’کوئی دن اور‘ ہے، اس سے یقین کا مرحلہ اُبھر تا ہے یا گمان کا؟ معمولی سے لفظوں سے ایسا اسلوبیاتی تنوّع پیدا کرنا پتا نہیں کسی اور فن کار کے لیے قدرت نے طے کیا تھا یا نہیں۔ یہ کمال صرف غالب کے حصّے میں آیا کہ تین عمومی ہندی الاصل الفاظ جن میں سے دو قواعد کے اعتبار سے ضمنی حیثیات کے حامل ہیں؛ اُن سے ایسے معنوی نظام کا خاکہ مرتّب کر دیا جائے جہاں کتابِ تہذیب و ثقافت اور نظام ہاے فلسفہ کی ندیاں سرپٹکتی ہوئی دیوانہ وار سجدہ ریز ہورہی ہوں۔ یہ غالب ہی کر سکتے تھے کہ بے معنٰی لفظوں سے ایسا نگار خانہ تیار کریں جس پر ہماری زبان کا اسلوبیاتی وقار اور اِتراتا پھرے۔
غالب کا یہ مرثیہ اقرار اور انکار، حیرت اور قبولیت، گذشتہ اور آیندہ اور آخر آخر حیات اور موت کے گھماسان سے برآمد ہوتا ہے۔یہ دس شعر نہیں، زندگی کے دس روپ ہیں اور ان میں سے ہر روپ ایسا ہے جس کے دس بیس رنگ اور متعیّن کیے جا سکتے ہیں۔ غالب کو اگر اس بات پر فخر ہے کہ وہ آنے والے دور کے گلشن کے غزل خواں ہیں تو اس پہ ایمان لانے کے لیے اُن کی سینکڑوں تخلیقات کے پہلو بہ پہلو مرثیۂ عارف بھی خاص اہمیت کا حامل ہے جس کے چند جلوے گذشتہ صفحات میں ہم دیکھنے کی کوشش کر چکے لیکن غالب کی مجموعی شاعری کے تناظر میں اس طلسم کی مزید شوقِ معنٰی کے ساتھ وضاحت بہر طَور درکارہے۔
DR. SAFDAR IMAM QUADRI,
Head, Department of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)
Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)
Email: safdarimamquadri@gmail.com Mobile: 09430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

