Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

اک نہ اک بُت تو ہر اک دل میں چھپا ہوتا ہے [کیفی اعظمی :ایک ترقی پسندشاعر کا جدّت پسند رجحان]- ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras فروری 28, 2021
by adbimiras فروری 28, 2021 0 comment

اردوکی ترقی پسند شاعری کے سرماے کا بالاستیعاب مطالعہ ہمیں اس بات کے لیے متوجہ کر تا ہے کہ اسے مختلف اورمتخالف ادبی رویوں کے آئینے میں بھی بہ نظرِ توجہ دیکھا جائے۔ خاص طور سے موضوع و اسلوب کی مشہور حدود سے نکل کر اس سرمایۂ ادب کا مطالعہ ہمارے لیے نئے جہانِ معنی کی سیر کے مترادف ہے۔وہ شعرا جنھوں نے بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی میں اپنے کاموں سے ہمیں متوجہ کیا تھا،اس نسل کی طبعی عمر اب ایک صدی سے آگے بڑھ چکی ہے اور ایسے فن کاروں کے وصال کا بھی ایک زمانہ بیت چکا ہے۔تحریک کے طور پر آج نہ ترقی پسندی موجود ہے اور نہ ہی جدیدیت کا زور بچا ہو ا ہے۔ایک دوسرے کے ادب کو خارج کرنے کے بجاے اب اوصاف اور رویوں کی بنیاد پر شعر فہمی کا امتزاجی ذوق پروان چڑھ رہا ہے۔اب تجزیے میں نہ کوئی وقتی اُبال ہے اور نہ ہی خارج کرنے کا کوئی جبر۔فیضؔ ان معنوں میں خوش نصیب تھے کہ مختلف طرح کی حدود کے باوجود ان کے شاعرانہ طلسم کو سمجھنے کے لیے نئے وسائل کا استعمال ایک زمانے سے ہو تا رہا ہے مگر دوسرے ترقی پسند شعرا کے کلام کا جائزہ ان پہلوؤں سے ابھی تک نہیں لیا جا سکا ہے کہ ان میں ترقی پسندی کے علاوہ بھی کوئی نیا اور کارآمد ادبی رویّہ موجود تھا۔جوش ملیح آبادی ،مجاز لکھنوی ،مخدوم محی الدین اور معین احسن جذبی جیسے شعرا کی طرف ابھی تک ہم نے تحلیل و تجزیے کے نئے رویّوں کے ساتھ دستکیں نہیں دیں۔علی سردار جعفری ،کیفی اعظمی،ساحرلدھیانوی کے فکر و فن کے نئے دریچوں تک ہمارے نقاد کہاں پہنچتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیںگھر آنگن کا شاعر : جاں نثار اختر – ڈاکٹر سلمان فیصل )

افسوس اس بات کا ہے کہ ردّتشکیل کے دور میں ہمارے مذکورہ فن کاروں کو ان کے بنے بنائے چوکھٹے میں ہی دیکھنے اور سمجھنے کی کوششیں قائم و دائم ہیں۔اکثر ترقی پسند نقادوں نے اپنے عہد اور تحریک کے فن کاروں کاجائزہ لیتے ہوئے ان کی کثیر جہت شخصیت کی طرف توجہ نہیں کی۔جدید نقادوں نے غالباًایک ردّعمل کا سلوک رکھااور ان کے لیے یہ آسانی رہی کہ پورے ترقی پسند سرمایۂ ادب پرایک خطِ تنسیخ کھینچ دیں۔اس میں ترقی پسند ادب کے معروضی احتساب اور نئے تناظر میں اس کے جائزے کا کام شروع ہی نہیں ہو سکاجس سے اردو کا ایک بڑا ادبی سرمایہ نئے اور تازہ تر اصولوں کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکے۔کیفی اعظمی اور دوسرے شعرا کھلے طور پر اس کا شکار ہوئے۔اس مقالے میں اس بات پر توجہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیفی اعظمی کی شاعری میں ترقی پسند فکر و فن کے لوازم کے ساتھ ساتھ جدیدیت کے اوصاف بھرے پڑے ہیں۔اس تجزیے سے یہ بات بھی واضح ہو پائے گی کہ اپنے موضوع اور اسلوب دونوں جہتوں سے کیفی اعظمی نے ترقی پسندی کی حدود کو توڑ کر نئے راستوں کی ہم سفری کا نشانہ مکمل کیاہے اور اسی لیے انھیں صرف ترقی پسند نقطۂ نظر سے موضوعِ بحث بنانے میں اس بات کی مشکلیں قائم رہیں گی کہ آدھے ادھورے فن کار تک ہم پہنچ سکیں گے اور ہم مکمل شاعر کو پرکھنے کا فریضہ ادا نہیں کر پائیں گے۔

کیفی اعظمی کی شاعری کا آغاز بہت کم عمری میں ہوا۔ ترقی پسند شعرا میں سب سے پہلے جن لوگوں کے مجموعے شایع ہوئے، ان میں عمر کے اعتبار سے کیفی اعظمی ہی سب سے چھوٹے تھے۔ ’جھنکار‘ اور ’آخرِ شب‘ مجموعوں کے درمیان صرف تین برس کا فرق ہے جس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وقت کیفی کی طبیعت کتنی رواں تھی۔ انھوںنے ابتدائی دور میں جی لگا کر شعر کہے اور اس سرمایے کو عوام تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی مگر ان دو مجموعوں کے بعد جب تیسرا مجموعہ ۲۷؍برس کے بعد ’’آوارہ سجدے‘‘کے نام سے شایع ہوااور اسی زمانے میں ان کے فلمی نغموں کا مجموعہ بھی سامنے آیا۔ کیفی اعظمی کی وفات ۲۰۰۲ ء میں ہوئی۔ ’’آوارہ سجدے‘‘ کے بعد انھوںنے جو کچھ لکھا، اسے ان کے کلیات میں ضمیمہ کے طور پر شامل کردیا گیا ہے جس سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ انھوںنے شعر گوئی سے خود کو لاتعلق کرلیا تھا۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کیفی کی شاعرانہ سرگرمیوں میں طول طویل وقفے بہت ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی ۱۰؍برسوں میں انھوںنے جی لگا کر شعر کہے اور ’’آوارہ سجدے‘‘ میں شامل کلام کو دیکھیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ۱۹۶۲ء سے ۱۹۷۴ء کے دوران ۱۲؍برسوں میں انھوںنے سرگرمی سے نظمیں پیش کیں۔ کیفی اعظمی کی طبعی عمر ۸۴؍برس رہی اور انھوںنے اپنی شعر گوئی کا آغاز پندرہ برس کی عمر سے پہلے کرلیا تھا۔ اس اعتبار سے ان کی مشقِ سخن کی میعاد ۷۰؍برس نظر آتی ہے مگر وفورِ شعر کے نقطۂ نظر سے اس میں بہ مشکل دو دہائیاں زور آور معلوم ہوتی ہیں ورنہ ادبی اعتبار سے باقی دور میں وہ خاموش رہے یا سیاسی کارکن کے طور پر سرگرم عمل رہے۔ شاید اسی لیے کیفی اعظمی کا سرمایۂ سخن بہت مختصر ہے اور ان کے دیگر ہم عصروں سے ان کا مقابلہ کریں تو ان کی تحریریں مقدار کے اعتبار سے بہت قلیل معلوم ہوتی ہیں۔

کیفی اعظمی کی ابتدائی شاعری جو ان کے پہلے دونوں مجموعوں میں شامل ہے، اس کا زمانہ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ء تک تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ دور ہندستان میں ترقی پسند ادب کے عروج سے ہم رشتہ ہے۔ مخصوص موضوعات پر شعر کہنے کا عمومی چلن تھا اور ایک خاص اسلوب کے لیے بھی خود اختیار کردہ جبر موجود تھا۔ شاید اسی لیے اس دور کے تمام بڑے شعرا کے یہاں چند مخصوص موضوعات اور گنے چنے الفاظ و تراکیب کی تکرار ملتی ہے۔ فیض، مخدوم سے لے کر مجروح تک یہ سلسلہ نظر آتا ہے۔ مجروح سلطان پوری نے جب اپنی غزلوں کے امتیازات واضح کرنے کے مرحلے میں یہ دعوا بھی کردیا تھاکہ فیض سے پہلے انھوںنے اردو غزل میں بعض مخصوص رموز و علائم شامل کیے۔اس سے نقادوں کوایک نئے پہلو سے ترقی پسند شاعری کو دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ موضوع اور اسلوب دونوں سطحوں پر اس عہد کے تمام شعرا تحریکی بنیادوں پر اس طرح یک آواز تھے کہ بہت تھوڑے سے ایسے پہلو ہیں جن کی وجہ سے ان کے انفرادی رجحان کو فوری طور پر سمجھا جاسکتا تھا۔ ہم عصر تخلیقی فضا کا یہ جبر ترقی پسند شعری سرمایے کی مختلف جہتیں روشن کرنے میں مشکلات کھڑی کرتا ہے۔ جن شعرا نے نظم نگاری کے ساتھ غزل گوئی پر بھی توجہ کی، ان کی شناخت میں کچھ انفرادی پہلو سامنے آئے مگر کیفی اعظمی نے ہر دور میں گِن چُن کر اتنی محدود تعداد میں غزلیں کہیں جس سے انھیں غزل گو کے طور پر پہچاننا مشکل تھا۔ اس دور کی نظموں پر فیض، مخدوم، جذبی اور مجاز کے اثرات زیادہ تھے۔ کیفی اس دور میں سیاسی اور ادبی تحریک کار کے طور پر بھی مشغول رہے۔ شاید اسی لیے دورِ اول میں کیفی ترقی پسندوں کی صفِ اول میں شاید ہی گنے جاسکتے تھے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ کیفی کے ابتدائی دونوں شعری مجموعوں سے فیض کے ابتدائی دونوں مجموعوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ فیض کیوں کر سکۂ رائج الوقت بنے اور اس عہد میں کیفی ثقافتی تحریک کار یا سیاسی کارکن کے طور پرہی زیادہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

ایک طویل خاموشی کے بعد کیفی اعظمی کا نیا شعری مجموعہ ۱۹۷۴ء کے آخری زمانے میں شایع ہوا۔’ آوارہ سجدے‘ نظم اس سے بارہ برس پہلے انھوںنے لکھی تھی، اسے ہی انھوںنے کتاب کا عنوان بنایا۔ یہ اس دور کی شاعری تھی جب ترقی پسندی کا زور تقریباً ختم ہوچکا تھا اور اردو میں جدید ذہن کے شعرا و ادبا نئے مزاجِ شعر کی تعمیر و تشکیل میں منہمک تھے۔ ’’آوارہ سجدے‘‘ نام کی استعاراتی جہت پر غور کریں تو یہ بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ ایک غالی ترقی پسند کو ایسا سرنامہ کیسے سوجھا۔ جس شخص نے’’ جھنکار‘‘ سے اپنا اعلانیہ شعری سفر شروع کیا ہو، اسے کہاں سے یہ استعاراتی لَے حاصل ہوگئی۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کیفی اعظمی نے یہ نظم کمیونسٹ پارٹی کی تقسیم پر لکھی تھی جس کا اظہار انھوںنے ان لفظوں میں سرنامے کے ساتھ ہی کردیا تھا: ’کمیونسٹ اکائی کے ٹوٹنے پر‘۔ غور کیجیے تو یہ ایک شہر آشوب ہے یااسے مرثیہ کہا جا سکتا ہے۔ کیفی کی کلاسیکی تربیت اچھی خاصی تھی حالاںکہ انھوں نے اپنی شاعری میں اسے آزمانے سے گریز کا راستہ چنا مگر جس کی کلاسیکی تربیت نہ ہوگی، اسے ایسا عنوان بنانا کیسے آئے گا؟ اسے عام ترقی پسندوں یا خود کیفی اعظمی کی مذہب بیزاری سے جوڑ کر اس لیے نہیں دیکھا جاسکتا کیوں کہ نظم کا نفسِ مضمون اور اندازِ فکر کسی رد عمل یا غصے کی طرف ہمیں نہیں لے جاتا۔ اسی لیے کیفی کو یہ استعارہ سمجھ میں آیا اور انھوںنے اپنی خالص کلاسیکی تربیت سے اس عنوان کو انگیز کیا۔ بعد میں انھوںنے ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کے دوسرے اجلاس کو لکھ کر یہ واضح کردیا کہ اپنے اسلاف کے اسلوب بیان پر وہ کیسی قدرت رکھتے ہیں۔

بھیمڑی کانفرنس کے بعد سے ہی ترقی پسندی کیمقابلے ادب کے دوسرے پیمانے نظر آنے لگے تھے۔ اس سے پہلے ہی’ حلقۂ اربابِ ذوق‘ کے افراد اور اخترالایمان نے ترقی پسند موضوعات میں توسیع اور بعض اوقات رد عمل کی پیش کش شروع کردی تھی۔ ناصر کاظمی، ابنِ انشا اور خلیل الرحمان اعظمی ادب کی بساط پہ نئی مہریں بچھانے میں مشغول تھے۔ موضوعات کے تئیں نئے برتاو کا ماحول پیدا ہورہا تھا اور اس کے لیے پھر نئی زبان اور رموز و علائم کی طرف توجہ پیدا ہورہی تھی۔ کیفی اعظمی کے تیسرے مجموعے میں اس نئے ادبی انداز کا واضح عکس نظر آتا ہے۔ ایسا ادب اور سماج میں ہمیشہ نہیں ہوتا کہ صرف بزرگوں کے ہی نوعمروں پر اثرات ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی ہوتا رہاہے کہ نئے لکھنے والے اپنے بزرگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ’’انگارے‘‘ کی اشاعت کے بعد پریم چند صرف چار برس زندہ رہے مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ اتنی مدت میں نئے لکھنے والوں سے وہ متاثر نہیں ہوئے۔ آخری چار برسوں میں پریم چند کے یہاں افسانوی موضوعات میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔ اسی طرح کیفی اعظمی کے اس مجموعے ’’آوارہ سجدے‘‘ کے ایک بڑے حصے کا مطالعہ جدیدیت کے موضوعاتِ شعر اور اسلوبِ بیان کے حوالے سے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بڑا تخلیق کار خود کو ہر وقت بدلنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ نئے ادبی اور سماجی رویوں سے اگروہ مطابقت نہ قائم کرے تووہ فن کار خود کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔اسی لیے کیفی اعظمی نے اپنی ادبی سرگرمیوں میں حسبِ ضرورت نئے رویوں کو شامل کیا اور اپنی شناخت کے نئے معیار مقرر کیے۔

’آوارہ سجدے‘ نظم میں موضوع تو خالص ترقی پسندانہ ہے اور کیفی نے ذیلی عنوان شامل کرکے اسے اور بھی برہنہ بنادیا ہے مگر قدرتِ کلام کا ثبوت اس کے اس علامتی نظام میں ملتاہے جہاں بھولے سے بھی کیفی کمیونسٹ نظام کے بکھراو پر ایک لفظ نہیں کہتے۔ زوال کی کہانی اور خوابوں کی شکستگی کا بیان ہے مگر شاعر ضبط کے ساتھ بیان کے مراحل روشن کرتا ہے۔ اپنی ناامیدی، خوف ، غم اور غصہ سب کے بیان کے لیے صرف چار مصرعے سامنے آتے ہیں۔ ترقی پسند شاعری میں بیان کا یہ ضبط فیض کے علاوہ شاید ہی کہیں نظر آجائے۔ نظم سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اپنی لاش آپ اٹھانا کوئی آسان نہیں

دست و بازومرے ناکارہ ہوئے جاتے ہیں

جن سے ہر دور میں چمکی ہے تمھاری دہلیز

آج سجدے وہی آوارہ ہوئے جاتے ہیں

 

راہ میں ٹوٹ گئے پانو تو معلوم ہوا

جز مرے اور میرا راہ نما کوئی نہیں

ایک کے بعد خدا ایک چلا آتا ہے

کہہ دیا عقل نے تنگ آکے خدا کوئی نہیں

یہ نظم اگر ۱۹۶۲ء کے بجاے ۱۹۵۲ء یا ۱۹۴۲ء میں کہی گئی ہوتی تو شاعر کے یہاں اسلوبیاتی علامت پسندی اور موضوعاتی غیر برہنگی کا دور دور تک پتا نہیں ہوتا اور یہ نظم بالکل دوسرے انداز سے مکمل ہوتی۔ کیفی اعظمی نے اسی دور میں اپنی ایک مشہور نظم پیش کی تھی— ’مکان‘۔ اس کا موضوع بھی کم ترقی پسندانہ نہیں۔ زندگی اور کائنات کی تعمیر کا سلسلہ ہے۔ وقت کا جبر اور اس سے مقابلہ کرکے آگے بڑھنا ہے مگر تمام ترقی پسندانہ گفتگو کے باوجود بیان کا ڈھب کچھ ایسے ابھرتا ہے جیسے اس زمانے کے نئے شعرا اپنی بات کہہ رہے ہوں۔ چار مصرعے ملاحظہ کریں:

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

سب اُٹھو، میں بھی اٹھوں، تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو

کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

’آخری رات‘ نظم میں جو لفظیات آزمائی گئی ہیں، اگر اس نظم کے کچھ مصرعے عادل منصوری، محمد علوی یا مظہر امام کی بعض نظموں میں شامل کردیے جائیں تو شاید ہی کسی کو یقین ہوگا کہ یہ مصرعے کیفی اعظمی جیسے ترقی پسند شاعر نے کہے ہیں۔ کیفی نے جدید شاعری کے مرغوب لفظوں کے ساتھ ساتھ کچھ خاص معنوی دنیا بھی یہاں شامل کرکے ہمیں چونکایا ہے اور اس بات کے لیے آمادہ کیا ہے کہ کسی بھی شاعر کو اس کے بند چوکھٹے میں دیکھ کر نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسلوبیاتی اعتبار سے کیفی کس طرح یہاں مختلف ہیں، اسے آپ نظم کے ان مصرعوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں:

کھُلتے جاتے ہیں سمٹے سکڑے جال

گھُلتے جاتے ہیں خون میں بادل

اپنے گلنار پنکھ پھیلائے

آرہے ہیں اسی طرف جنگل

گل کرو شمع، رکھ دو پیمانہ

آج کی رات ہم کو سونے دو

 

شام سے پہلے مرچکا تھا شہر

کون دروازہ کھٹکھٹاتا ہے

اور اونچی کرو یہ دیواریں

شور آنگن میں آیا جاتا ہے

کہہ دو ہے آج بند مے خانہ

آج کی رات ہم کو سونے دو

’عادت‘ نظم کا بڑا حصہ اس بات کا اعلان ہے کہ کیفی اعظمی اپنے عہد کے نئے شعرا سے موضوع و اسلوب کی مناسبتیں قائم کرسکتے ہیں۔ اس نظم میں حالاںکہ’ روشنی ،چاندنی اور زندگی چاہیے‘ کی گردان ہے جس سے اس کا ترقی پسندانہ انسلاک پیدا ہوتا ہے مگر نظم کے انجام میں ایک مصرعہ کچھ اس طرح سے سامنے آتا ہے:

میں نے ڈر کے لگا دی کنویں میں چھلانگ

غور کرنے کی بات ہے کہ آخر یہ بات کیوں سامنے آگئی؟ یہ ۱۹۶۵ء کی نظم ہے۔ شاعر نے اسے اگر ۲۵-۲۰ برس پہلے کہا ہوتا تو اس نظم کو فرار پسندی اور قنوطیت کے حوالے سے دیکھا جاتا مگر شاعر نے اپنے عہد کے مزاجِ شعر کو انگیز کرتے ہوئے نئی سمتِ شعر کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ ۱۹۶۵ء میں ہی ’’دائرہ‘‘ عنوان سے کیفی اعظمی کی ایک نظم سامنے آئی تھی۔ یہ عنوان بھی کسی پرانے ترقی پسند شاعر کے یہاں بہ مشکل نظر آئے گا۔ جدیدیوں کا تو یہ مشہور لفظ ہے اور نہ جانے کتنی نظم اور افسانے اس عنوان کے ارد گرد سامنے آئے۔ کیفی نے اپنے عہد کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں، خواب اور تمنائوں کے بہ تدریج مٹنے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ نظم قائم کی ہے۔

کھونے اور مٹنے یا نیست و نابود ہونے کے موضوعات ہر چند صرف جدیدیت کے پیدا کردہ نہیں، اردو میں تو میر اس کی سب سے مشہور مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں مگر کیفی اعظمی کی اس نظم میں زبان کا برتاو اس بات کا کھلے طور پر اعلان ہے کہ یہ نظم جدیدیت کے معلوم اور مشہور کیف سے پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے۔ نظم کے ابتدائی دو بند سے ہی یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ کس طرح جدید ادبی رویوں کی پرچھائیں یہاں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ ملاحظہ ہوں:

روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگے

پھر وہیں لَوٹ کے آجاتا ہوں

بارہا توڑ چکا ہوں جن کو

انھی دیواروںسے ٹکراتا ہوں

روز بستے ہیں کئی شہر نئے

روز دھرتی میں سما جاتے ہیں

زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمی

وہ بھی اب روز ہی آجاتے ہیں

جسم سے روح تلک ریت ہی ریت

نہ کہیں دھوپ، نہ سایہ، نہ سراب

کتنے ارمان ہیں کس صحرا میں

کون رکھتا ہے مزاروں کا حساب

نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہے

دل کا معمول ہے گھبرانا بھی

رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہا

ایک عادت ہے جیے جانا بھی

اس نظم کے آخری دو مصرعے پڑھنے سے پہلے یہ اندازہ مشکل ہے کہ کیفی اعظمی نے جدیدیت کو آخر کس حد تک انگیز کیا ہے مگر جیسے ہی ہم نظم کے نقطۂ عروج تک پہنچتے ہیںتب یہ مصرعے نظر آتے ہیں:

رام کب لوٹیں گے، معلوم نہیں

کاش راون ہی کوئی آ جاتا

یہاں اُس عہد یا اس سے ذرا پہلے اختر الایمان کی نظموں پر توجہ کیجیے ۔ ’’ایک لڑکا‘‘ ۱۹۵۳ء کی نظم ہے۔ اس کا اختتام نظم کے پورے سلسلۂ خیال کو اچانک مسمار کرکے رکھ دیتا ہے۔ ’’بنت لمحات‘‘ مجموعے کی نظمیں اسی دور سے عبارت ہیں۔ ’دوسرا سوال‘ ،’قبر‘، ’کل کی بات‘ جیسی نظمیں ہمارے خوابوں کے بکھراو کے رد عمل کی کہانیاں ہیں جسے ادبی اصطلاح میںDisillussionmentکہا جاسکتا ہے۔ کیفی اعظمی نے اس نظم کے آخری مصرعوں میں اس کیفیت کو شامل کرکے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ نئے اسالیبِ بیان پر وہ کیسی بھرپور قدرت رکھتے ہیں اور جدید ادبی رویوں کو سمجھنے اور انھیں پانے کے لیے کس طرح مستعد ذہن کے مالک ہیں۔ اگر ان مصرعوں کو ترقی پسندی کے عہد شباب میں لکھا گیا ہوتا تو لازمی طور پر یہ الزام عاید ہوتا کہ یہ رجعت پسندی اور فراریت کا آئینہ دار ہے۔

’ابنِ مریم‘ نظم کا رجحان پورے طور پر ترقی پسندانہ ہے اور وقت کی تبدیلیوں کے حوالے سے ابنِ مریم کو شاعر یاد کرتا ہے اور پھر سے اپنے عہد میں بلانا چاہتا ہے مگر اس نظم کا چوتھا بند کچھ ایسی زبان اور موضوع کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ ہم چونک جاتے ہیں۔ یہ بھی یاد آتا ہے کہ کس طرح تلازمۂ خیال کے سہارے شاعر اپنی نظم کو مختلف اسالیب میں پیش کرنے کا ملکہ رکھتا ہے۔ قدرے طویل نظم میں اس انداز کی تکنیک حلقۂ ارباب ذوق کے شعرا کے یہاں نظر آتی ہے یا پھر جدید شعرا کے یہاں اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر نظم کے سلسلۂ خیال میں دانستہ رکاوٹ پیدا کرکے نئے معنوی مزاج کی تشکیل کیفی اعظمی کچھ اس انداز سے کرتے نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں چند مصرعے:

جھونپڑوں میں گھِرا یہ ویرانہ

مچھلیاں دن میں سوکھتی ہیں جہاں

بلّیاں دور بیٹھی رہتی ہیں

اور خارش زدہ سے کچھ کتّے

لیٹے رہتے ہیں بے نیازانہ

دُم مروڑے کہ کوئی سر کُچلے

کاٹنا کیا، وہ بھونکتے بھی نہیں

کیفی اعظمی کی ایسی نظمیں جن میں جدید مزاجِ شعر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، ان میں’ دوپہر‘،’ بہروپنی‘، ’نذرانہ‘، ’کھلونے ‘وغیرہ کو بہ غور دیکھنا چاہیے۔’ دوپہر‘ میں تذبذب اور ہاں یا نہیں کے بیچ زندگی کی جس کیفیت کا بیان ہے ، وہ ہمیں جدیدیت کے نفسِ مضمون کے قریب لے آتا ہے۔ ’بہروپنی‘ نظم میں اگرچہ سب کچھ ترقی پسندانہ ہے اور یہاںایک مخصوص ترقی پسندانداز بھی نظر آتا ہے مگر ’بہروپنی ‘کی جس ہیبت ناک انداز میں تصویریں پیش کی گئی ہیں، وہ ترقی پسندوں کے دور میں شاید ہی ممکن تھا۔ نذرانہ نظم میں محبوب کی طرف سے جو رویہ نظر آتا ہے، وہ ترقی پسند شاعری میں بہرحال نہیں ہی مل سکتا تھا۔ محبوب بھلا ایسا قناعت گزار اور Passive   ترقی پسند شاعری میں کیسے مل سکتا تھا:

تم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو

اور کچھ دیر پکاروں گا، چلا جائوںگا

یہ نئے عہد کے عاشق کا کردار تھا۔ صارفیت جس کا مقدر ہے اور اس کی دیوانگی پر ہزار قدغنیں وقت نے لگا رکھی ہیں۔ اسی لیے یہ شعر نئی معنوی فضا قائم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جدید اسلوبِ شعر پر کس طرح کیفی اعظمی کو قدرت حاصل ہے، اس کا اندازہ ان کی نظم’ کھلونے‘پڑھنے سے لگ سکتا ہے۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ کریں:

ریت کی ناو، جھاگ کے مانجھی

کاٹھ کی ریل، سیپ کے ہاتھی

ہلکی بھاری پلاسٹک کی کلیں

موم کے چاک جو رُکیں نہ چلیں

 

اون کے تیر، روئی کی شمشیر

صدر مٹّی کا اور رَبر کے وزیر

اپنے سارے کھلونے ساتھ لیے

دستِ خالی میں کاینات لیے

دو ستونوں میں باندھ کے رسی

ہم خدا جانے کب سے چلتے ہیں

نہ تو گرتے ہیں نہ سنبھلتے ہیں

یہ لفظ محمد علوی کے قلم سے برآمد نہیں ہوئے۔ ایسے تجربے اطہر نفیس یا صلاح الدین پرویز کے بھی نہیں ہیں۔ کمال یہ ہے کہ اپنے وقت کا معتبر ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی نے جدیدیت کے مفاہیم اور زبان کی باریکیوں کو کچھ اس انداز سے اپنے شعری سفر کا حصہ بنایا کہ آسانی سے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک ہی شاعر دو تحریکوں کے اسالیبِ بیان پر یکساں قدرت رکھ سکتا ہے۔

کیفی اعظمی کی مشہور نظم ’ایک لمحہ ‘۱۹۷۳ء میں لکھی گئی۔ اس سے پہلے اختر الایمان اپنی مشہور نظم ’بنتِ لمحات ‘لکھ چکے تھے جہاں دو محبت کرنے والے جو ایک دوسرے سے مل نہ پائے، انھیں’ بنتِ لمحات‘ قرار دیا گیاہے۔ اخترالایمان کی جدید حسیت کے تو سب قائل تھے اور کون ہے جو  انھیں ترقی پسند دائرے میں پہچاننے پر اصرار کرتا ہے مگر کیفی اعظمی کی نظم اسلوب کی سادگی اور بیان کی معصومیت کے ساتھ اس سلیقے سے ڈھل گئی ہے جس سے کوئی تخلیق شہہ پارہ بنتی ہے۔ موضوع کو زیادہ پھیلائے بغیر اور عاشقانہ کیفیت کو زیادہ ہلکا کرنے سے گریز کرکے اس نظم کو اس لمحاتی کیف کے لیے وقف کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے جدیدیت نے مضمون کے طور پر ایک اعتبار بخشنے کی کوشش کی تھی۔ نظم کے اختتام کے مرحلے میں گرمیِ جذبات سے دور پربت پہ برف کے پگھلنے جیسے تلازمے پیش کرکے کیفی نے بالآخر ایک جدید نظم کو ترقی پسندانہ آہنگ میں بدل کر اپنی فنی مہارت کا ثبوت بھی پیش کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

زندگی نام ہے کچھ لمحوں کا

اور ان میں بھی وہی اک لمحہ

جس میں دو بولتی آنکھیں

چاے کی پیالی سے جب اٹھیں

تو دل میں ڈوبیں

ڈوب کے دل میں کہیں

آج تم کچھ نہ کہو

بس یوں ہی بیٹھے رہو

ہاتھ میں ہاتھ لیے

غم کی سوغات لیے

گرمیِ جذبات لیے

کون جانے کہ اسی لمحے

دور پربت پہ کہیں

برف پگھلنے ہی لگے

’’آوارہ سجدے ‘‘کی آخری نظموں میں ’سومناتھ‘ نظم بھی اپنے نفسِ مضمون کے اعتبار سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔ عنوان سے جو مذہبی کیفیت پیدا ہورہی ہے، وہ نظم پڑھتے ہوئے بہت دور چلی جاتی ہے۔ ترقی پسند اور ان سے پہلے بھی دیگر شعرا نے ایسے عنوانات قائم کیے یا ایسے موضوعات منتخب کیے تھے مگر کیفی اعظمی نے ایک نئے شاعر کی ذمہ داری کو محسوس کیا اور پرانا موضوع کس طرح نیا ہوتا ہے یا بڑے کاریگر کے ہاتھ میں کوئی شَے کس طرح بدل جاتی ہے، اس کا ثبوت اس نظم میں پورے طور پر مل جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کیفی اعظمی ’سومناتھ‘ یا بت کدے کے روایتی مزاج سے مختلف ذہن و کردار کے مالک رہے ہیں۔ انھیں اپنی یہ بات معلوم تھی، اس لیے ایک علاحدہ سومناتھ کی ضرورت ہے یا بت شکنی اور بُت پرستی کے بیچ ہمیں کیا چاہیے، اس کا توازن جدت پسند فکر میں ہی حاصل ہوسکتا تھا۔ چند مصرعے ملاحظہ ہوں:

گر خدا ٹوٹے گا، ہم تو نہ بنا پائیں گے

اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑے نہ اٹھا پائیں گے

تم اٹھا لو تو اٹھا لو شاید

تم بنالو تو بنالو شاید

تم بنائو تو خدا جانے بناؤ کیسا

اپنے جیسا ہی بنایا تو قیامت ہوگی

پیار ہوگا نہ زمانے میں محبت ہوگی

دشمنی ہوگی، عداوت ہوگی

ہم سے اس کی نہ عبادت ہوگی

 

وحشتِ بُت شکنی دیکھ کے حیران ہوں میں

بُت پرستی مرا شیوہ ہے کہ انسان ہوں میں

اک نہ اک بُت تو ہر اک دل میں چھپا ہوتا ہے

اس کے سو ناموں میں اک نام خدا ہوتا ہے

’سانپ‘ اور ’پُر سکون سمندر‘ نظموں کو پڑھتے ہوئے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ترقی پسند شاعر جدید لب و لہجے کی گھنی چھائوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح کیفی اعظمی کے بعض فلمی نغموں کو ملاحظہ کیجیے تو جدید لہجے کی دھمک سنائی دے گی۔’ کاغذ کے پھول‘،’ شعلہ و شبنم‘ اور ’حقیقت ‘کے نغموں سے اس بات کی وضاحت ہوسکتی ہے کہ کیفی اعظمی نے فلمی نغموں میں بھی اپنے نئے اسلوب بیان کی شمولیت سے کارآمد شعری نمونے خلق کیے۔ یہ اتفاق ہے کہ کیفی اعظمی نے جدیدیت کے عہد میں طویل وقفے قائم کیے اور تسلسل کے ساتھ شعر کہنے کے مقابلے قطعِ تعلق کو ہی گوارا کیا۔ اگر انھوںنے ’’آوارہ سجدے‘‘ کے بعد کی ربع صدی میں باضابطہ نظم گوئی اور غزل گوئی پر توجہ کی ہوتی تو ہمیں اندازہ ہے کہ ایسے ادبی نمونے بڑی تعداد میں سامنے آتے۔ ۱۹۶۰ء کے بعد کی پوری ترقی پسند شاعری کا اس جہت سے بہ تفصیل مطالعہ اب بھی باقی ہے جس میں یہ پتا لگایا جاسکے کہ ترقی پسند شعرا پر کس حد تک جدیدیت کے اثرات قائم ہوئے۔ ٹھیک اسی طرح اس بات پر بھی تحقیق لازم ہے کہ جدید شعرا کے یہاں ترقی پسندانہ موضوعات یا اسالیب بیان کی کچھ بازگشت ہے یا نہیں۔ کیفی اعظمی کی ۱۹۶۰ء کے بعد کی شاعری کا تجزیہ ہمیں پورے طور پر ایسے ثبوت بہم پہنچاتا ہے جس سے ایسے نتائج نکالنے میں ہم حق بجانب ہوتے ہیں کہ وہ ترقی پسند اندازِ فکر کو جامد اور ساکت نہیں سمجھتے تھے بلکہ وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ وہ خود کو مضمون اور بیان دونوں پہلوئوں سے بدلنے میں کامیاب رہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا آخری شعری مجموعہ ’’آوارہ سجدے‘‘ سب سے زیادہ زیرِ بحث نہ ہوتا۔ شاید ہی کسی ترقی پسند شاعر کا کوئی شعری مجموعہ جو اس دوران شایع ہوا ہو، بحث و تمحیص کے مرکز میں رہا ہو مگر کیفی کا یہ مجموعہ نئے مزاجِ شعر سے ہم آہنگی کے سبب توجہ سے پڑھا گیا اور آج ان کے لیے یہی نشانِ امتیاز ہے۔

 

DR. SAFDAR IMAM QUADRI,

Head, Department of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)

Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)

Email: safdarimamquadri@gmail.com  Mobile: 09430466321

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

صفدر امام قادریکیفی اعظمی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
حضرت علی المرتضیٰ کر م اللہ وجہہ کی خلافت اور اہم کارنامے – حافظ محمد ہا شم قادری مصباحی
اگلی پوسٹ
غالب کا ’مرثیۂ عارف‘: ایک تنقیدی تجزیہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں