ادب: عکاس حیات/ ایم ۔عالم – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اردو کے ادبی منظرنامے پر ایم۔عالم کی شخصیت متنوع جہت کی حامل ہے۔انھوں نے بیشتر نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنی ایک منفرد شناخت مستحکم کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے نہ صرف خاکے، انشائیے،افسانے، انٹرویوز،اور تبصرے لکھے بلکہ اپنے ادبی مضامین کے ذریعہ ملک کے سیاسی، سماجی،معاشی،قومی وملی اور لسانی مسائل کو موثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔یہی نہیں بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعہ ملک کے عوام کوخواب غفلت سے بیدار کرنے کا بھی کام انجام دیا۔نیز مشرقی تہذیب و تمدن کی اصل روح کوقاری کے اندر اتارنے کی بھر پور سعی کی۔ان کی تحریریں ملک اور بیرون ملک کی متعدد ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ایم ۔عارف نے انھیں مضامین کو بہت ہی محنت اور لگن کے ساتھ ترتیب دے کر مصنف کی تخلیقی اور تنقیدی بصیرت کو عام قارئین تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔زیر تبصرہ مجموعہ مضامین میںکل تیرہ(13) مضامین کے علاوہ ڈاکٹر ایم۔ عارف کا ’’ایم۔ عالم کا تخلیقی سفر‘‘اور محمد محسن عالم کا’’پہلا ورق ‘‘ شامل ہے ۔ایم۔عارف نے اپنے مضمون میںایم۔ عالم کی زندگی کے نشیب و فراز، ادبی سفرکی تفصیل،خاندانی جاہ وحشمت اور سلطنت مغلیہ کی ملازمت کی اجمالی تفصیل،ٹانڈہ ضلع فیض آبادیوپی سے بتیا بہار تک کے سفراور مختلف مصائب و آلام کی روداد کو بہت ہی موثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔ایم۔ عالم کے تخلیقی سفر کو پڑھتے ہوئے یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ کسی بھی ازم کے پابند نہیں تھے بلکہ ان کی اپنی ایک آزادانہ فکر تھی جس کو وہ اپنی تخلیقات اور تنقیدات میں پیش کرتے تھے۔ایم عالم کی فیاضی، مہمان نوازی،مطالعہ کا شوق،پیشہ اور غیر پیشہ وارانہ درس و تدریس سے وابستگی کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔اس مضمون سے ایم عالم کی زندگی کے گوناں گوں پہلوئوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
کتاب میں شامل پہلا مضمون’اردو ہماری مادری زبان ہے‘۔ جذباتیت اور خطیبانہ اسلوب سے بھر پورمعلوماتی مضمون ہے۔اردو جسے مشترکہ تہذیب کی زبان کہا گیا ،جسے ہندوستان کی لِنگوا فرینکا کی زبان کہا گیا ،جس نے ملک کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا، جس کی ہندوستانیوں نے اپنے خون سے پرورش و پرداخت کی آج اسے کس طرح تعصب کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے،یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اردو زبان کسی خاص فرقے ، مذہب ، قوم یا کسی خاص خطے اور علاقے کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کی زبان ہے۔ اس مضمون کو پڑھتے ہوئے ایم۔ عالم کی تخلیقی نثر اور افسانوی رنگ و آہنگ سے لطف اندوز بھی ہونگے اور اردو زبان کے متعلق سوچنے اور غور وفکر کرنے پر مجبور بھی ہونگے۔دوسرا مضمون’ادب عکاس حیات‘ ہے۔اس مضمون میں ادب کے گوناں گوں پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ادب کو زندگی کا آئینہ، زندگی کا عکاس اور ترجمان قرار دیاگیا ہے وہیں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ادب صرف اظہار ذات یا ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیںبلکہ یہ ایک نظریہ حیات ہے۔ ادب ہماری سائیکی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، اس مضمون کو پڑھتے ہوئے اندازہ کر سکتے ہیں۔یہی مضمون کتاب کا عنوان بھی ہے۔تیسرا مضمون ’ زمین زندگی کی شاعری ہے ‘میں فرنگی شاعر کے مقولے کی اہمیت اور اس کی افادیت کو بہت ہی مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔زمین، زندگی اور شاعری کو ایک ساتھ اور الگ الگ کرکے دیکھا جائے تویہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیںکہ یہ تینوں ایک ہی تسبیح کے دانے اور ایک ہی لڑی میں مربوط ہیں۔یہ ایک ہی تسبیح کے دانے اور ایک ہی لڑی میں مربوط کیسے ہیں ؟ اس کی تفصیل کے لئے پورے مضمون کی تفصیلی قرأت کیجیے تاکہ زمین، زندگی اور شاعری کی جہت آپ پر بھی واضح ہو جائے۔چوتھا مضمون ’تشکیل معاشرہ کے لئے تعمیری فکر و نظر نا گزیر ہے‘ میںایک مہذب اور پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کیسے کی جا سکتی ہے، اس کے لئے کن کن عنا صر کی ضرورت ہوتی ہے،کون کون سے افکا ر ونظریات کام کرتے ہیں،مہذب معاشرے کی تشکیل میں تعلیم و تربیت کا کیا رول رہا ہے،والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں کیا ہیں،انھیں اپنے فرائض منصبی کو کس طرح نبھانا چاہیے وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔پانچواں مضمون’معاش اور معاشرہ‘ ہے۔یہ بھی اہم مضمون ہے جس میں لفظ’ معاش‘ ’ معاشرہ ‘اور’ بدمعاش ‘ وغیرہ کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کر کے سماج اور معاشرے میں اس کے مثبت و منفی اثرات کو واضح کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے۔چھٹا مضمون’بہار میں اردو افسانہ نگاری ‘ہے۔ادبی نقطۂ نظر سے یہ ایک اہم مضمون ہے جس میں بہار کے تخلیق کاروں کے تخلیقی کارناموں کا تفصیل سے احاطہ کرتے ہوئے1904میں علی محمود کی صنف افسانہ میں سب سے پہلی تخلیق’ چھائوں‘اور ’ایک پرانی دیوار‘ کو نہ صرف بہار کا بلکہ اردو کا پہلا افسانہ اور افسانہ نگار مانا ہے۔اس کے بعد مسلم عظیم آبادی، نورالہدیٰ ندوی،علی اکبر کاظمی،زبیر احمد،آفتاب حسین اور مآثر عظیم آبادی کا ذکر کیا ہے۔اس کے بعد جمیل مظہری،اختر اورینوی،سہیل عظیم آبادی،شین مظفر پوری،شکیلہ اختر،سید محمد محسن، غیاث احمد گدی، انور عظیم، شبلی ابراہیمی، جمیل احمد گدھائی پوری،کلام حیدری، الیاس احمد گدی،شکیل الرحمن، شاکر کریمی،عظیم اقبال، گربچن سنگھ،احمد یوسف، رضوان رضوی،شفیع مشہدی، شمس ندیم، مناظر عاشق ہرگانوی،سید احمد قادری،عبدالصمد، ذوقی، احمد صغیر، صغیر رحمانی، شموئل احمد،مشتاق احمد نوری کے علاوہ اور بہت سے نئے لکھنے والوں کے افسانوی مجموعوں کی روشنی میںان پر اجمالاً روشنی ڈالی ہے جس سے بہار میں اردو افسانے کی سمت ورفتارمتعین کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔مذکورہ بالا مضامین کے علاوہ جو دیگر اہم مضامین ہیںان میں’اقبال کا فلسفۂ حیات،سعادت حسن منٹو کے فکر و فن میں عورت ذات، اردو ادب کا ایک درخشاں کہانی کار آنجہانی راجندر سنگھ بیدی، عالم طنزیات کا قطب مینار آنجہانی فکر تونسوی، محقق اعظم قاضی عبد الودود، ’’ظ انصاری اور خسروو کا ذہنی سفر‘‘ ایک مطالعہ‘ ’زیر لب ایک جائزہ‘وغیرہ ہیں جن کے مطالعے سے ایم۔ عالم کی فکری جہات اور وسعت مطالعہ کے ساتھ ان کی بے باک اور ازم سے خالی مثبت زاویہ فکر کا پرتو سامنے آتا ہے۔یہ کتاب جسے ایم۔ عارف نے بہت ہی محنت اور خلوص کے ساتھ ترتیب دیا ہے اس سے ان کے ادبی لگائواور ادب شناسی کا جوہر کھل کر سامنے آتا ہے۔اس کتاب میں پروف اور طباعت کی کوئی غلطی نظر نہیں آئی۔سر ورق دیدہ زیب ہے، قیمت مناسب ہے۔امید ہے کہ علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔

