بدلتے پیمانے (ڈاکٹر یوگیندر ناتھ شکل) /مترجم:ڈاکٹر حدیث انصاری – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
افسانچہ ،منی افسانہ یامنی کہانی یہ تینوں مترادف لفظ ہیں اور ایک ہی صنف منی کہانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں جسے پچھلے تین چار دہائیوں سے ادبی دنیا نے ایک علیحدہ صنف کی حیثیت سے تسلیم کرلیا ہے جس میں ہیئت و تکنیک کے نت نئے تجربے ہو رہے ہیں۔اردو میں صنف افسانچہ یا منی کہانی کی روایت اردو بڑے اور معروف افسانہ نگار سعادت حسین منٹو کے ’سیاہ حاشیے‘ سے ہوتی ہے جو 1948میں منظر عام پر آیا تھا۔چونکہ ’سیاہ حاشیے‘جس وقت تحری کیا گیا تھا اس وقت منٹو کے سامنے افسانچہ ،منی افسانہ یا منی کہانی کا اردو میں کوئی تصور نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کوئی نمونہ موجود تھا جب کہ دیگر زبانوں کے ادب میںیہ ایک صنف کی حیثیت سے موجود تھی۔ممکن ہے منٹو نے وہاں سے اخذ و استفادہ کیا ہو ،لیکن یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کہیں سے اخذ کیا ہے ۔بہر کیف اردو میں اس صنف کی ابتدا منٹو کے ’سیاہ حاشیے ‘ سے ہی ہوتی ہے۔اس کے بعد ایک طویل فہرست ہے جس نے اس صنف کو جلا بخشی۔اس فہرست سے قطع نظر میرے گفتگو کا محور و مرکز سر زمین اندور میں درس و تدریس اور تحریر میں مصروف ہندی کے کہنہ مشق اور مختصر کہانی کار یوگیندر ناتھ شکل ہیں جو پچھلے تیس برسوں سے مسلسل ادبی ریاضت میں مصروف عمل ہیں۔ان کے 500سو سے زائد مختصر افسانے ،چند تحقیقی و تنقیدی مضامین ملک کی مختلف ادبی رسائل و جرائد کی زینت بن چکے ہیںنیز ان کی کہانیوں کے تراجم ملک کی مختلف زبانوں مثلاً گجراتی،پنجابی،سندھی،انگریزی،سنسکرت،کنڑ،مراٹھی اور مالوی میں ہو چکی ہیں اور ان زبانوں میں مقبول عام بھی ہیں۔ابھی تک اردو میں ان کی کہانیوں کا ترجمہ نہیں ہوا تھا چنانچہ اردو میں ترجمے کا کام ڈاکٹر حدیث انصاری نے بہت ہی دلجمعی اور باریک بینی سے کیا ہے اور اس کے فنی لوازم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس مجموعے کا نام ’’بدلتے پیمانے‘‘ رکھا ہے۔
اس مجموعے میں شامل افسانچوں کا انتخاب ،ان کی ترتیب و تزئین خود حدیث انصاری نے ہی کیا ہے اور مترجم کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا جوہر بکھیرا ہے اور ہندی کی صلابت و ثقالت اور اردو کی لطافت و نزاکت سے ترجمے کو دو آتشہ بنا دیا ہے۔چونکہ ترجمہ نگاری کا عمل ایک مشکل ترین عمل ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات کی نہیں ،لیکن ڈاکٹر انصاری نے اس مشکل ترین مرحلے کو جس آسانی سے سر کیا ہے اس سے ان کے تخلیقی ذہن اور زبان پر قدرت کاملہ کا اندازہ ہوتا ہے ۔ترجمے کا مطلب صرف دوسری زبان کا پیرہن پہنانا نہیں ہے بلکہ جس زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہو تو مترجم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان دونوں زبانوں کی لسانی ساخت ،اس کی بنت،اس کی تہذیب و ثقافت ،اس کے رکھ رکھائو کا صحیح اندازہ ہونا چاہئے ورنہ مصنف کا نقطہ نظر کچھ سے کچھ ہوجائے گا ۔ڈاکٹر انصاری نے اس ترجمے میں مذکورہ باتوں کا پورا پورا خیال رکھا ہے،کیونکہ وہ مشرقی تہذیب کے پر وردہ ہیں اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب یعنی دو اعلٰی زبان ہندی اور اردو کے لسانی،تہذیبی اور ثقافتی اصولوں پر انھیں دسترس حاصل ہے جس کا بین ثبوت’’بدلتے پیمانے‘‘ ہے۔اس ترجمے کے عمل سے ایک زبان دوسری زبان سے ،ایک ادب دوسرے ادب سے ،ایک قوم دوسری قوم کے فکر و شعور سے آشنا ہوئی ہے اور مترجم ابلاغ و ترسیل کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔
’’بدلتے پیمانے ‘‘ مختصر کہانیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں تقریباً 112مختصر کہانیاں شامل ہیں اور ہر کہانی ایک صفحہ یا اس سے کم ہی پر مشتمل ہے۔اس میں شامل کہانیاں متنوع موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔اس ترقی یافتہ سماج میں زندگی،انسان،سماج،معاشرہ،سیاست ، مذہب، افکار ونظریات ،اقدار و روایات،اصول ضوابط،اخلاقیات،تعصب،تنگ نظری، عریانی، زنا،فریب،مکاری،ظلم اور زیادتیوں نے کتنے پیمانے بدلے،ان بدلتے پیمانوں کا اندازہ اس مجموعے کے مطالعے کے دوران ہوگا۔اس مجموعے میں شامل پہلا افسانچہ’تصویر‘ ہے جس میں موجودہ تعلیمی زبوں حالی کے ساتھ ملک میں پھیلی غریبی ،دہشت گردی ،فرقہ وارانہ فسادات،بدعنوانی،اور بے روزگاری کا نقشہ کھینچ کر تلخ حقائق کی تصویر کشی کی ہے۔دوسرا افسانچہ’آپ بیتی‘ ہے۔آپ بیتی دراصل انسان کی اپنی زندگی کا آئینہ ہوتا ہے اس میں کذب اور جھوٹ نہ کے برابر ہوتا ہے مگر انسان کا اپنے آپ سے روبرو ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ اس آپ بیتی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ’فن کار‘ میں اختر میاں کی فنکاری اور ’چراغ‘ میں والدین کے دوچشم و چراغ یعنی بڑا بیٹا اور چھوٹا بیٹا دونوں کا ان کی امیدوں پر پانی پھیرنا یعنی بہن کی شادی میں والدین کا ہاتھ نہ بٹانا،’جنون ‘ میںانسان جنونیت کے عالم میں کس طرح حیوانیت کا کام انجام دیتا ہے اور انسانیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے یہ اس کہانی سے ظاہر ہوتا ہے۔’تحفہ‘ میں تعلیمی اداروں میں در آئے کرپشن کی لعنت ہے ۔’فریب‘ میں انسانی مکر و فریب،’’جیب کترے‘‘میں ہندوستانی محکمہ پولیس کی اصلیت،’’بے بسی‘‘ میں حقائق کی پردہ پوشی اور سچ کہنے کی مشکلات ، ’’دانشمندی‘‘ میں ایمان دار افسران کے بے ایمان بننے کے اسباب، ’’آدمی‘‘ میں انسان اور حیوان کے مابین فرق مٹانے والا جذبہ خود غرضی نمایاں ہوا ہے۔مذکورہ بالا افسانچوں کے علاوہ بہت سارے دیگر افسانچے ایسے ہیں جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یوگیندر ناتھ شکل کے افسانچوں میں امیر غریب، ادنیٰ، اعلیٰ، ٹیچر، مزدور، کلرک، دوکاندار، نیتا، سپاہی، افسر، ڈرائیور اور مرد و عورت وغیرہ عام کردار پائے جاتے ہیں جو مختلف مقامات پر مختلف حالات کے دائروں میں نت نئے مسائل سے دوچار نظر آتے ہیں۔ان سب کے اپنے اپنے مسائل ہیں جن سے وہ جوجھتے ہیں۔ایسے افسانچوں میں بھوت،حسد،بارش،فریب،تعلیم یافتہ،بندھن،خلش،ذہنیت،عاجزی،سایہ ،دانا اور مرغا،نئی رپورٹ،نیم فوجی،بوائے فرینڈ،جرم، شیطان،اپنے اپنے خواب،جیب کترے،بے جان جسم،دانش مندی،راون اور قدامت پرست وغیرہ قابل ذکر ہیں جو عام انسانی زندگی کے شب و روز کا حصہ ہیں ۔ یوگیندرناتھ شکل کے افسانچوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عام فہم ہے،غیر رسمی اسلوب اور انداز بیان ہے۔ان کے کردار ہمارے چلتے پھرتے کردار ہیں نہ کہ ماورائی اور خیالی کردار۔ان کی زبان صاف اور ششتہ ہے ۔انہوں نے اپنے کرداروں سے عہد حاضر کے ان واقعات و حادثات کی نشاندہی کی ہے جن کی طرف لوگ کم سے کم دھیان دیتے ہیں۔اسلئے اس مجموعے کو پڑھتے ہوئے ہمارے سامنے وہ تصویریں آتی ہیں جو ہماری زندگی کی دیکھی بھالی تو ہیں لیکن انھیں رک کر دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا،اور اگر دیکھتا بھی ہے تو اس پر سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔اس مجموعے میں جتنی تصویریں ہماری روز مرہ کی زندگی کی پیش کی گئی ہیں وہ سب مصنف کے ذاتی مشاہدے کا حصہ ہیں۔کم وقت میں آسانی سے اس مجموعے کو پڑھا جا سکتاہے۔ زبان و بیان اور مصنف کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے ۔ البتہ160 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 350روپیہ بہت زیادہ ہے۔یہ قاری کے جیب پر گرانبار ثابت ہوگا۔امید ہے کہ اہل علم کے حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

