تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول ( مسجد اقصی) کو لے کر یہود ہمیشہ سازشیں کرنے میں سر گرم عمل رہے ۔لیکن تاریخ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں نے ان کے مذموم عزائم کو ریزہ ریزہ کرنے میں ہر ممکن کوشش کی اور خدائے واحد کی نظر میں سرخ رو ہوئے۔
یروشلم کے شمال میں واقع یہ مسجد خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس مقام ہے جس کے تقدّس کی گواہی قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام کی زبانی یوں دی ہے۔
يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ الَّتِىۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ
(اے برادرانِ قوم، اس مقدّس سر زمین میں داخل ہو جاو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے)
امیر المومنین عمر فاروقؓ کے دورمیں یہ مقام امن کا گہوارہ بنا رہا لیکن یہودیوں کے خونی پنجے پھر سے بیت المقدس کے وجود میں گڑ گئے۔پھر مسجد میں وہ تبدیلیاں بھی رونما ہوئی جن سے شرک کی بو آنے لگی گرجا گھر کا تعمیر ہونا،مختلف رہائش گاہوں کا قیام مسجد کے وجود پر داغ کی صورت نظر آنے لگے۔
لیکن پھر ایک بار دور ظلمت نے کروٹ لی اور قوم کا محسن،امت مسلمہ کا محافظ،خلفائے راشدین کی وراثت کا محافظ سلطان صلاح الدین ایوبی نے میدان میں آ کر القدس کو یہودیوں کے قبضہ سے آزاد کرایا۔
یہ وہی سلطان ہے جس نے اپنی راہ میں حائل ہر چٹّان کو چور کردینے کا حوصلہ دکھایا
یہ وہی سلطان ہے جس نے مسجد اقصی کو اپنی آنکھ کا تارا بنایا
یہ وہی سلطان ہے جس نے خاکِ مقدّس کے ہر ذرّے کو عزّت بخشی اور فاتح بیت مقدّس کی حیثیت سے تاریخ میں اپنی پہچان بنائی۔
عالم اسلام میں خوشیوں کی لہریں دوڑ گئی کہ مسلمانوں کو اپنی میراث واپس مل گئی تصور کیا جائے تو واقعی تاریخ کا یہ سنہرا دور ناقابل فراموش رہا ہوگا۔
لیکن صہیونی تحریک کے نتیجے میں ١٩۴٨ میں قائم ہونے والی ریاست اسرائیل نے ١٩٦٧ میں اس مقدّس مقام پر ناجائز قبضہ کر لیا۔
اس مختصر تاریخ سے بتانا یہ مقصود ہے کہ ٧١ عیسوی سے ( جب یہودی مسجد سے بے دخل ہوئے) ١٩۴٨ تک کا یہ وقفہ کوئی معمولی وقفہ نہیں،صدیاں گزر گئی لیکن یہود مسجد اقصی پر قابض ہونے کے اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے مسلسل کوشاں رہے اور آج اسے ہمارے ہاتھوں سے گئے ایک قلیل عرصہ نہیں گزرا عالم اسلام اپنی غیرت کو سلائے کسی معجزے کے انتظار میں ہے۔
اور اہل فلسطین کی صدائیں مسلم ممالک کو پکار رہی ہے کہ "اے اسلام کے رکھوالوں ،تمہاری یہ مجرمانہ خاموشی یہود کے ناپاک ارادوں کو مزید شٙہ دے رہی ہے تمہاری یہ معزرت خواہانہ سوچیں تمہیں لے ڈوبے گی ۔ خدا را اپنے مقام کی بلندی کو نظرانداز نہ کرو”
ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی یہ مظلوم صدائیں بھی اگر ہمیں بیدار نہیں کرتی تو اپنے ایمان کا جائزہ لینا ہم پہ واجب ہے۔ کیونکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان تکلیف سے دو چار ہو تو دوسرا بھی درد کے اس احساس سے محروم نہیں ہوسکتا۔اسلام نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی طرح قرار دیا ہے پھر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں ہو اور دوسرا سکون میں یہ ممکن نہیں۔
کیونکہ
جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعیں ہے
جو جبر کا منکر نہیں وہ منکرِ دیں ہے
مسجد اقصی کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرنے والے یہ مٹھی بھر سرفروش اسرائلی جیلوں میں صعوبتیں برداشت کررہے ہیں وہ معصوم بچے بھی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
وہ منتظر ہیں کہ کاش پھر کوئی عمر فاروقؓ پیدا ہو۔۔۔
وہ منتظر ہیں کہ پھر کوئی عبیدہ بن الجرح آئے
وہ منتظر ہیں کہ پھر کوئی صلاح الدین ایوبی آ کر ظلم کی یہ زنجیر توڑ دے ۔
اس وقت دنیا بھر میں مذہبی انتہاپسندی کے نام پر اسلام کے خلاف چیخنے والے، حقوق انسانیت، رواداری اور عدم تشدد کے جھوٹے علمبردار یہودیوں کی اس تاریخ کو یاد کیجیے جب ۲۱ اگست 1969 کو آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل نے قبلہ اول میں آگ لگا دی تھی اس آگ نے صرف مسجد اقصیٰ کے درودیوار کو نقصان نہیں پہنچایا تھا اس نے دنیا کے گوشے گوشے میں موجود ہر کلمہ گو کے سینے کو آگ میں جھونک دیا تھا، اس دہشتگردانہ ظلم کی چنگاریاں آج بھی ہمارے سینوں میں دہکتی ہیں، تقریباﹰ ۳ گھنٹوں تک اس آگ نے قبلہء اول کو اپنی لپیٹ میں رکھا، ایک بڑا حصہ جل گیا جس میں بہت ہی تکلیف دہ واقعہ یہ بھی ہوا کہ امت اسلامیہ کے ہردلعزیز سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے نورالدین زنگی ؒ کے جس منبر کو اپنے سینے سے لگاکر زندگی بھر جنگ کرتے ہوئے اسے مسجدِ اقصیٰ میں نصب کیا تھا وہ منبر بھی اس آگ کی لپٹ میں آگیا تھا، ۵۱ سال پہلے جس طرح عالمِ اسلام کے قبلہءاول کو یہودیوں نے آگ کے حوالے کیا وہ صیہونی عزائم اور ان کے انتہاپسند ہونے کا ایک تاریخی ثبوت اور زندہ گواہی ہے، یہ گواہی یہودیوں کی مکّار اور بظاہر دلفریب انسانی حقوق کی نعرے بازیاں خود ان کی تاریخی شہادت سے جھٹلاتی ہیں… جب تک ہم انبیاء کی سرزمین اور انبیاءِ اسلام کے قبلہءاول کے اردگرد سے ایک ایک ظالم یہودی کو نکال کر باہر نہیں کردیتے اپنی تاریخ کا ایک ایک مرحلہ ہم یاد رکھیں گے اور اپنی نسلوں کو بھی یاد کرائیں گے_ (یہ بھی پڑھیں حسّان ؓبن ثابت اور محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ گوئی :ایک تقابلی مطالعہ- ڈاکٹریوسف رامپوری)
لیکن آج تو حالات بالکل برعکس نظر آتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ بہت کم مسلمان اس مقدس مسجد کی تاریخ و اہمیت سے واقف ہوں گے۔غفلت اور لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ خدانخواستہ مسجد اقصی کو کوئی زک پہنچانے کی کوشش کی جائے تو روئے زمین پر پھیلی اس قوم کی بیشتر آبادی اس خبر سے بےخبر نظر آئے گی کیونکہ ہم غافل اور لاپرواہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے لاتعلق بھی ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں کی اسی غفلت کو دیکھ کر فلسطینی مظلوموں کی یہ آہ نکلتی ہے کہ۔۔۔
تم شہر اماں کے رہنے والے
درد ہمارا کیا جانو۔۔۔۔۔
یہاں خون کی ندیاں بہتی ہیں
انسان کا کوئی مول نہیں
اپنے ہی وطن میں بے گھر ہم
تم حال ہمارا کیا جانو۔۔۔۔
یہ بھی ہماری پستی کی ایک وجہ ہے کہ قبلہ اول کے لیے اٹھنے والی ہماری آوازیں مخصوص دن کے احتجاج پر مشتمل ہوچکی ہیں کیونکہ ہم وقت قیام سجدوں میں گرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ کسی ایک دن کو یوم القدس کے طور پر منا کر اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے تو ایک عظیم شاعر نے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ہم ایسے اہل جنوں پر ہنسے نہ کیوں اے دنیا
کہ سر کٹا کے سمجھتے ہیں کامراں ہوئے
ہمیں یہ غفلت کے پردے ہٹا کر اپنی نسلوں کو بیدار کرنا ہوگا کہ مسجد اقصی ہماری ہے ،اس کے گنبد اپنے وارثوں کو آواز دے رہے ہیں کہ اے ایوبی کے فرزندوں یہ سرزمین تمہارے قدموں کی چاپ سننے کے لیے بیتاب ہیں۔تم اس کے فاتح نہ سہی اس کے محافظ تو بن سکتے ہو
تاکہ روز محشر اللہ اور اس کے رسول کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچو۔
بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ
. . ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

