عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
ساحر لدھیانوی کا یہ شعر عورت کی موجودہ سماجی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ ہر دور میں عورتوں کے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے جیسا کہ آج کا بے درد سماج کر کر رہا ہے ۔ تاریخ کے اوراق کو جب ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو اس سچائی سے ہم روبرو ہوتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے ہی عورتوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے ہیں ۔ یونان ہو یا فارس ، ہندوستان ہو یا چین ہر جگہ اور ہر دور میں مردوں کا سافٹ ٹارگیٹ صرف عورتیں ہی رہی ہیں ۔ جب دل چاہا اپنایا اور جب جی چاہا اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی بلکہ دھتکار دیا، یہاں تک کہ عورتوں کے خرید و فروخت کی بھی ایک تاریخ رہی ہے۔ دور جاہلیت میں عربوں کے یہاں لڑکیوں کی پیدائش کو منحوسیت سے تعبیر کیا جاتا تھا اور حد تو یہ تھی کہ لڑکیوں کی پیدائش پر اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا ۔ یہاں ہندوستان میں بھی ایک ’ستی‘ نام کا ایک سماجی نظام رائج تھا، یعنی جب کسی عورت کا شوہر انتقال کرجاتا تھا تو اسے اپنے شوہر کے لاش کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا ۔
رفتہ رفتہ وقت نے کروٹ بدلا اور جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو بڑی حد عورتوں کی زندگی میں بھی تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں۔ اسلام نے عورتوں کو وہ حق دیا جس کی وہ حقدار تھیں ۔ جو صدیوں میں نہیں ہو سکا تھا وہ رحمت اللعٰلمین کے مبعوث ہونے کے بعد ہوا ۔ اگر یہ کہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ اسلام نے عورتوں پر احسان عظیم کیا ہے ۔ ورنہ ہر دور اور ادوار میں عورتوں کو صرف ایک کھلونہ ہی سمجھا جاتا رہا تھا ۔
مذہبِ اسلام میں خواتین کا ایک الگ ہی مقام ہے ۔ اسلام نے جس قدر عورتوں کا مرتبہ بتایا ہے اس طرح کا مرتبہ دوسرے مذاہب میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔
عورتوں کے مقام کو سمجھنے کے لئے قرآن اور احادیث نبوی ﷺ میں ہزارہا روایات موجود ہیں جو عورتوں کے مرتبے کو بڑھاتی ہیں ۔
ایک جگہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
ـجس شخص نے ان بیٹیوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری لی اور انکے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے بچاو کا سامان بن جائیں گی (بخاری شریف :5595)
نبی کریم ﷺ کی ایسی متعدد احادیث موجود ہیں جن سے عورتوں کی مذہبی اور سماجی حیثیت مستحکم ہوتی ہے۔ بیٹیوں کی ذمہ داری اور ان کے ساتھ اچھے سلوک سے واضح ہوتا ہے کہ اپنی گھروں کی عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ہے ۔ وہ بیٹی ہو یا گھر کی بہو ۔
آج کل سماج میں یہ برائی عام ہوتی جا رہی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو تو بیٹیاں سمجھتے ہیں لیکن دوسرے کے گھر سے آئی ہوئی بہو کو غلام سے بدتر سمجھنے لگے ہیں ۔ یہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جو بہو ہمارے گھر میں اپنا گھر بار ، اپنے والدین رشتہ ناطہ سب کچھ ہمارے لئے چھوڑ کر آئی ہے اگر ہم اسکے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے تو پھرکون کرے گا ۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی جہاں بہو بن کر جائے وہاں اسکے ساتھ بہو والا سلوک ہو اور ہمارے گھروں میں جو بہوئیں آئیں ہم ان کے ساتھ لونڈیوں والا سلوک کریں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ بہترین سلوک اور برتاؤ کی تاکید کی، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آکر مثالیں پیش کیں ۔ ’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہوں(ترمذی:کتاب المناقب: باب فضل ازواج النبی، حدیث: 5983)
ایک اورروایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدفرمائی ’ حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں (مسلم: کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء، حدیث: 8641)
؎ ام المومنین’حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روائت ہے کہ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں اس آدمی کا ایمان زیادہ کامل ہے جس کا اخلاقی برتاو (سب کے ساتھ اور خاص طور سے)بیوی کے ساتھ جس کا رویہ لطف ومحبت کا ہو۔ (المستدرک: کتاب الایمان: حدیث: ۳۷۱)
آج کل ہمارے معاشرے میں ایک نئے طریقے کی بیماری گھر کرتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے ہو تو اس شوہر کو بیوی کا غلام کہا جاتا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ۔ ایسی بات کرنے والا قطعی مومن نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات تو اپنے گھر والوں اور خاص کر اپنی بیوی کے ساتھ اچھے برتاو سے پیش آنے کی ہے ۔
سرورِ کائنات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ازواج کے ساتھ کس طرح بے تکلف، پر لطف اور دوستانہ تعلقات تھ رکھتے تھے اسکا اندازہ مندرجہ ذیل واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جو کہ موجودہ سماج کے لئے ایک سبق ہے۔
ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا کہ: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو دونوں حالتوں کا علم مجھے ہوجاتا ہے، حضرت عائشہ نے پوچھا کہ: یا رسول اللہ! کس طرح علم ہوجاتا ہے؟ آپ نے فرمایاکہ: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو ’’لا وربّ محمد‘‘(محمد کے رب کی قسم)کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو، اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو ’’لا ورب ابراہیم‘‘(ابراہیم کے رب کی قسم)کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو، اس وقت تم میرا نام نہیں لیتیں؛ بلکہ حضرت ابراہیم کا نام لیتی ہو، حضرت عائشہ نے فرمایا: (یا رسول اللہ! میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں)نام کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتی (بخاری: کتاب الأدب: باب مایجوز من الھجران من عصی، حدیث: 6078)
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ کے گھر میں تھے اور ان کی باری کا دن تھا، حضرت عائشہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک حلوہ بنایا اور حضرت سودہ کے گھر پر لائیں اور لا کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، اور حضرت سودہ بھی سامنے بیٹھی ہوئی تھیں، ان سے کہا کہ تم بھی کھاو،حضرت ِ سودہ کو یہ بات گراں گزری کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب میرے یہاں باری کا دن تھا تو پھر یہ حلوہ بنا کر کیوں لائیں؟ اس لیے انھوں نے کھانے سے انکار کردیا، حضرت عائشہ نے حضرت سودہ کے منہ پر مل دیا، حضرت سودہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں آیا ہے کہ ’’جزاء سیئۃ سیّئۃ مثلھا‘‘یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے تو تم بھی بدلے میں اسی کے بقدر برائی کرو؛ لہٰذا بدلہ میں تم بھی ان کے منہ پر حلوہ مل دو؛ چنانچہ حضرت سودہ نے تھوڑا سا حلوہ اٹھا کر حضرت عائشہ کے چہرے پر مل دیا، اب دونوں کے چہرے پر حلوہ ہی حلوہ ہے ، اور یقابل رشک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ سرور ِ کائنات ﷺ کے سامنے یہ سب کچھ ہوا ۔، اس دوران حضرت عمر کی آمد ہوئی توحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو منہ دھونے کو کہا (مسند ابی یعلی: مسند عائشہ: حدیث:۶۷۴۴، دارالمأمون، دمشق، مجمع الزوائد: باب عشرۃ النساء: حدیث: 7683)
قابل غور بات یہ ہے کہ اس واقعے میں ایک سبق چھپی ہوئی ہے کہ آپ تھوڑے سخت ماحول کو بھی ہنسی اور مذاق سے خوشگوار بنا سکتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہزاروں ایسی مثالیں ہیں جس میں آپ نے اپنی ازواج کے ساتھ ہنسی اور مذاق بھی خوب کیا کرتے تھے ۔
رسول اللہ نے تو اپنی بیوی کے ساتھ دوڑ بھی لگائی ہے ۔ لیکن آج اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ دوڑ لگائے گا تو اس شوہر اور بیوی کو اسلام سے ہی خارج کر دیا جائے گا۔ جبکہ میاں اور بیوی کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لئے اس سنت سے بہتر دوسرا اور کوئی راستہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ رسول اللہ اور حضرت عائشہ کے بیچ رننگ (دوڑ لگانے)کا دلچسپ واقعہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی تو پیدل دوڑ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہوا تو میں جیت گئی اور آگے نکل گئی، اس کے بعد جب (موٹاپے) سے میرا جسم بھاری ہوگیا تو (اس زمانے میں بھی ایک دفعہ)ہمارا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو آپﷺ جیت گئے، اس وقت آپ نے فرمایا: یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہوگیا(ابوداود: کتاب الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: ۸۷۵۲)
میاں بیوی کے بیچ خوشگوار اور مضبوط رشتے کے لئے اس سے بہتر کیا کوئی دوسری مثالیں مل سکتی ہیں ؟ شرط یہ ہے کہ ہم تعلیمات نبوی ﷺ کو پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم سنت نبوی ﷺ اور تعلیمات نبوی ﷺ سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ ہمیں یہ پتا ہی نہیں کہ اسلام کیا ہے اور اسلام کیا نہیں ہے۔
ایک اور واقعہ آپ خود دیکھیں اور سمجھیں کہ میاں اور بیوی کا رشتہ کس قدر انمول اور نایاب ہے ۔ اس رشتے کی مثالیں کسی دوسرے رشتیں مین ہر گزنہیں مل سکتی ہیں ۔
حضرتِ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ خدا کی قسم! میں نے یہ منظر دیکھا ہے کہ (ایک روز)حبشی نابالغ لڑکے مسجد میں نیزہ بازی کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کھیل دکھانے کے لیے میرے لیے اپنی چادر کا پردہ کر کے میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوگئے، (جو مسجد میں کھلتا تھا)میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے درمیان سے ان کا کھیل دیکھتی رہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری وجہ سے مسلسل کھڑے رہے؛ یہاں تک کہ(میرا جی بھر گیا)اور میں خود ہی لوٹ آئی۔ (مسلم: باب الرخصۃ فی اللعبۃ اللتی لا معصیۃ فیہ فی ایام العید: حدیث:892)
ویسے یہ بھی سچ ہے کہ سماجی طور پر ہر رشتے کی اہنی اہمیت ہے ۔ ہر رشتہ ایک دوسرے پر فوقیت رکھتا ہے ۔ ماں کا اپنا مقام ہے ، باپ کی اپنی اہمیت ہے ، بہن کا کوئی جواب نہیں اس لئے ہر رشتوں کی قدر ہماری ذمہ داری ہونی چاہئے ۔
ہر رشتوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں تو انشاء اللہ سماج کی تقریبا برائیاں دم توڑتی ہوئی نظر آئین گی ۔ اسکے لئے شرط ہے کہ آپ پہلے خود مسلمان بنیں۔
دوسری بات جو موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے بہت ضروری ہے کہ بیٹیوں کو سماجی طور پر وہ اہمیت نہیں مل پار ہی ہے جسکی وہ حقدار ہیں ۔ بیٹیوں پر ہر کوئی اپنے اپنے طریقوں سے ظلم کر رہا ہے ۔ پہلے بیٹیاں اپنے ماں باپ کے گھروں میں الگ تھلگ محسوس کرتی ہیں پھر جب دوسرے کے گھر بیاہ کر جاتی ہیں تو وہاں بھی انہیں کوئی خاص توجہ نہیں مل پاتا ہے ۔ اگر یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ بیٹیاں اپنی پوری زندگی اپنے وجود کو تلاش کرنے میں ہی نکال دیتی ہیں ۔
جہیز سماج کے لئے ایک مہلک مرض بن چکا ہے ۔ اس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں ہماری بیٹیاں موت کے آغوش میں چپ چاپ سو جاتی ہیں ۔ جب کوئی گجرات کی عائشہ کی طرح معاملہ ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم ہائے توبہ مچاتے ہیں اور پھر ان لاکھوں لڑکیوں کو بھلا دیتے ہیں ۔ ذرا سوچئے ہمارے ذہم میں کتنی عائشہ کی طرح لڑکیاں ہیں جو جہیز کی خاطر موت کی نیند سلا دی گئیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ذہن میں وہ لڑکیاں نہیں ہیں تو سماج میں جہیز کے لئے لڑکیاں ماری نہیں جا رہی ہیں ۔ یہ بھی سچ ہے کہ جہیز کے خلاف ملک میں ایک سخت قانون بھی موجود ہے اسکے باوجود اتنی اموات حیران کرتی ہیں ۔
جہیز کے خلاف ملک کے کئی صوبوں میں پوری طرح پابندی ہے لیکن وہ بھی صرف کاغذی بن کر رہ گئے ہیں ۔ اسکے لئے قانون تو ٹھیک ہے لیکن سماجی طور پہ لوگوں کو ایک مہم چلانا ہوگا ۔ اس میں قائدین اور علماء کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا ۔ سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنے کے لئے راغب کرنا ہوگا ۔ ہر لڑکیوں کے والدین کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ آپ کے صرف بیٹے ہی وارث نہیں ہیں بلکہ بیٹیاں بھی آپکی وارثین میں ہیں ۔
جہیز کے لئے کہیں نا کہیں لڑکیوں کے والدین بھی ذمہ دار ہیں ۔ جس دن سے لڑکیوں کے والدین نے اپنی لڑکیوں کو جائیداد سے بے دخل کرنا شروع کر دیا اس دن سے جہیز ایک مہلک مرض کی شکل اختیار کر لیا ۔ ہمارے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی لڑکیوں بھی اپنی جائیداد میں حصہ دار بنائیں ۔ ان لڑکیوں کو یہ قطعی احساس نہ دلائیں کہ انکے جائیداد میں انکا کچھ حصہ نہیں ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میں نے کئی لڑکیوں کو اپنے گھر والوں سے جہیز کے لئے لڑتے اور جھگڑتے دیکھا ہے ۔ ان کو یہ کہتے سنا ہے کہ آپ نے مجھے کیا دیا ہے ۔ کیا میں اس قابل بھی نہیں تھی کہ مجھے کچھ دیکر رخصت کیا جاتا؟ اسکی وجہ صرف والدین کو اپنی وراثت میں لڑکیوں کو شامل نہیں کرنا ہے ۔
اسلام نے جس قدر ایک بیٹے کو والدین کا وارث بنایا ہے ٹھیک اسی طرح بیٹیوں کو بھی جائیداد کا وارث بنایا ہے ۔ اسلام کے مطابق جو بھی بیٹیوں کا حصہ ہوتا ہے اسے ضرور دیں ۔ اس سے جہیز کی لعنت پر ضرور لگام لگے گا ۔ جب ہم اور آپ اپنی بیٹیوں کو عزت بخشیں گے تو ان بیٹیوں کے سسرال والے بھی عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
ہم تو اس اسلام کے ماننے والے ہیں جس میں بیٹیوں کو ’’اللہ کی رحمت’’قرار دیا گیا ہے۔بیٹیوں کو والدین کے لئے دخول جنت کا عظیم ذریعہ کہا گیا ہے ۔
فرحت ناز
ہندی نیوز ریڈر، آل انڈیا ریڈیو،دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

