Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

انجم عثمانی کے افسانوں میں قصباتی زندگی کی عکاسی – ڈاکٹر عزیر احمد

by adbimiras اپریل 20, 2021
by adbimiras اپریل 20, 2021 0 comment

ہم عصر افسانہ نگاروں میں جن لوگوں نے قصباتی زندگی کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے ان میں ایک اہم نام انجم عثمانی کا بھی ہے۔ ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ “شب آشنا” 1978، “سفر در سفر” 1984،  “ٹھہرے ہوئے لوگ” 1998اور  “کہیں کچھ کھو گیا ہے” 2011۔ انجم عثمانی پیشہ سے صحافی ہیں آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن سے وابستہ رہے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ٹی وی اور ریڈیو میں وقت کی کیا اہمیت ہے ؟ وہ کم سے کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تین سے چار صفحات میں بہترین سے بہترین افسانے تخلیق کر لیتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں اقلیتوں کے مسائل، قصبوں کی ویران حویلیاں، بدلتی قدریں، انسانیت کی پستی ، ٹوٹتے بکھرتے خواب جیسے موضوعات ہیں۔ جدیدیت کے زیر اثر انہوں نے کچھ علامتی افسانے بھی تخلیق کیے ہیں لیکن اچھی بات یہ رہی کہ وہ جدیدیت کی بھول بھلیوں میں گم نہیں ہوئے۔ ان کے علامتی افسانے بھی ترسیلی سطح پر کامیاب ہیں۔

انجم عثمانی کے افسانوں میں دیہات اور شہر کے بیچ کی کڑی “قصباتی زندگی “کی مرقع کشی کے بہترین نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قصبوں کی ویران حویلیاں دراصل ایک خاص قسم کی تہذیب کے زوال کی داستانیں ہیں۔ ان حویلیوں  کی بوسیدہ دیواروں میں مکینوں کی عظمت گزشتہ کی داستانیں رقم ہیں۔  “شہر گریہ کا مکین”، “ٹھہرے ہوئے لوگ” ،”ڈھلواں چٹان پر لیٹا ہوا آدمی” سبھی افسانے قصباتی حویلیوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

“شہر گریہ کا مکین” ایک المیہ کہانی ہے۔ اس افسانے میں فسادات کی تعبیر آندھی سے کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی آندھی ہے  جو پہلے ہی شہروں کو اپنے چپیٹ میں لے چکی ہے اب اس کا دائرہ بڑھتے بڑھتے قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچ چکا ہے۔ راوی کو خونی آندھی میں ماموں کبوتر والے کے مارے جانے پر افسوس کے ساتھ تعجب بھی ہوا کہ وہ تو میلاد کے ساتھ رام لیلا بھی کھیلا کرتے تھے۔ اس کو اس بات پر حیرت ہے کہ ایسی گنگا جمنی روایت کے امین کو کوئی کیوں کر نقصان پہنچا سکتا ہے؟ آدھے ادھورے مکالمے خوف کی اس شدت کو ظاہر کرتے ہیں جو طویل اور تفصیلی مکالموں کے ذریعہ ممکن نہیں ہے:

“کیا ہوا تھا ماموں کو “اس کے رندھے گلے سے آواز نکلی ۔

“بیٹا وہ آندھی۔۔۔۔”

“یہاں بھی ۔۔۔”

ہاں بیٹا اب تو یہاں بھی ۔۔۔”

“ماموں تو رام لیلا ۔۔۔”

ہاں، بیٹا پھر بھی ۔۔۔اچھا  ہوا تو آگیا کم از کم اپنے گھر ۔۔۔۔”

سب کے چہرے زرد تھے،  عصر کا وقت تھا، سب ہی ماموں کے جنازے میں  شرکت کے لیے جانا چاہتے تھے ۔

“گھر کو اکیلا چھوڑنا  ٹھیک نہیں ۔”ماں بولی

“کسی کو گھر میں ہونا چاہیے ۔ آج کل حالات ۔۔۔”

میں رہ جاتا ہوں گھر پر آپ سب ہوآئیے ۔”

وہ  جلدی سے بولا ، اتنی جلدی سے کہ اس  سے پہلے کوئی اور نہ بول پڑے”

(شہر گریہ کا مکین : مجموعہ: ٹھہرے ہوئے لوگ، ص 23)

“یہاں بھی ۔۔۔” اور “ماموں تو رام لیلا ۔۔۔” جیسے جملے یہ بتاتے ہیں کہ راوی کو فسادات کی آگ شہر سے آگے بڑھ کر دیہات تک پہنچنے پر افسوس کے ساتھ تعجب  بھی ہورہا ہے۔ اس سے زیادہ تعجب تو اس پر ہورہا ہے کہ ماموں کبوتر والے تو ہندومسلم دونوں کے چہیتے تھے۔ شادی بیاہ  یا تیوہار کسی کا بھی  ہو ماموں سب میں شریک ہوتے تھے۔ ان کی شہادت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ فرقہ پرست ایسے لوگوں کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

راوی کے علاوہ باقی سبھی لوگ کبوتر والے ماموں کے جنازے میں جاتے ہیں لیکن کوئی بھی واپس نہیں آتا قصبے کا بڑا مکان جس میں لائٹ نہیں ہے لالٹین روشن کی جاتی ہیں۔ لالٹین بھی بھبھکنے لگتی ہے۔  راوی اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے اس کو بار بار خیال آتا ہے کہ اب تک تو ان لوگوں کو آجانا چاہیے۔ وہ نہیں آتے ہیں۔ وہ لالٹین لے کر الماری کھول کر کتابیں تلاش کرنے لگتا ہے ۔ دادا جان کے الماری کھولتا ہے اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہاں پر تو کتابیں ہونگی۔ کتابوں کی جگہ کئی عددچوہے اس پر گر پڑتے ہیں۔  یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں پر کتابیں ہونے چاہیے تھے وہاں پر مردے دفن ہیں۔کتابیں  تہذیب کی علامت ہوتی ہیں۔ ثقافت کی علامت ہوتی ہیں۔ ان  کا غائب ہونا تہذیب ثقافت کے خاتمے کی علامت ہے۔ راوی لالٹین لے کے دروازے پر بیٹھ جاتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ اس کی لو نہ بجھے۔ یہ لوامید کی بھی ہو سکتی ہے کہ شہر میں امن و امان قائم ہو گا۔ قصبوں میں امن و امان قائم ہو گا۔ اور یہ لو اس اُمید کی بھی ہے کہ جو لوگ جنازے میں گئے ہیں زندہ واپس آجائیں گے۔ لیکن اس کی یہ ساری کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں اور کہانی ایک ایسے المیہ پر ختم ہوتی ہے کہ قاری دیر تک خود کو اس ڈراؤنی فضامیں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات پورے ہندوستان میں ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا شکار عموماً نہتے اور معصوم ہوگ ہوتے ہیں۔  یہاں اس افسانے میں راوی کی زبانی افسانہ نگار نے کچھ ایسے معصوم سوالات کھڑے کیے ہیں جو واقعی قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

“افسانہ ٹھہرے ہوئے لوگ” دراصل قصباتی  زندگی اور شہری زندگی کا ایک بہترین موازنہ ہے۔ راوی شہر کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے مقابلے گاؤں اور قصبے کی زندگی کو ٹھہری ہوئی زندگی اور وہاں کے رہنے والوں کو ٹھہرے ہوئے لوگ قرار دیتا ہے۔  افسانےکا یہ  حصہ ہمیں یہ بتلاتا  ہے کہ  گاؤں کی ٹھیری ہوئی  زندگی میں  کچھ قدریں بھی ہیں  جن کی حفاظت کرنے والے آج بھی زندہ ہیں۔ راوی جب لڑکی کو یہ کہہ کر شہر چلنے کو کہتا ہے کہ تم تو یونی ورسٹی میں پڑھ کر آئی ہو۔ اس پچھڑے علاقے میں کیا کروگی؟ میرے ساتھ تم بھی اسی تیز رفتار زندگی کا حصہ بن جاؤ۔ تو وہ کہتی ہے:

” ٹھیک ہے جاؤ کتابیں پڑھو، کچھ دن بعد تم بھی  کتابیں لکھ ڈالو تاکہ دوسرے پڑھیں۔  کامن روم میں لڑکیوں کی سماجی برابری،  ادب کے جمود،  انسان کی تنہائی، سیکس کے موضوعات پر سگریٹ کا تلخ دھواں چھوڑتے ہوئے بحثیں کرو۔ تاکہ انسانی الجھنیں سلجھ سکیں۔ بھلے ہی حویلی کے منڈیر پر جمی کائی اور گہری ہوتی رہے۔ اونچی اونچی چھتوں پر مکڑیوں کے جالے لپٹے رہیں  اور ایک دن دیمک اس ساری حویلی کوزمیں دوز کردے۔  لیکن تمہیں اس سے کیا ؟ تمھیں تو دنیا کے  مسائل سلجھانے ہیں۔ اس حویلی کی پامال  ہوتی روایات، پاسداری ، اور وضع داری سے تمھیں کیا مطلب میں؟ تمھیں  تو ایک وسیع تیز رفتار دنیا چاہیے۔ جس کے چاروں طرف کوئی دیوار نہ ہو۔ جو چاہے جب چاہے جلائے۔

کچھ دیر رک کر اس نے پھر کہنا شروع کیا مگر میں، میری دنیا یہی ہے۔ مجھے یہیں اسی دنیا میں مہندی کے  ا سی درخت کو پانی دینا ہے۔ حویلی کے کھنڈر کو صاف کرنا ہے۔تاکہ باہر کی تازہ ہوائیں آسکیں۔۔۔۔اور سوچو ہم بھی چلے گئے تو کھائی اور گہری ہوتی جائے گی۔تم اور ہم سب کتابوں کے بے جان صفحوں میں نئی زندگی کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے۔  کوئی نئی تعمیر نہ ہو پائے گی۔ اور یہ حویلی کھنڈر بن جائے گی”

(ٹھہرے ہوئے لوگ)

تعلیم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ شہر میں جاکر جو کچھ تعلیم حاصل کی جائے اس کا ثمرہ بھی شہر کودے دیا جائے۔ شہر سے جو کچھ سیکھ کر آئیں اس کو ہم گاؤں دیہات اور قصبوں کی تعمیر میں بھی لگائیں۔ اگر یوں ہی لوگ دیہاتوں اور قصبوں سے نکل کر شہروں میں جائیں گے اور پھر کبھی نہ لوٹیں گے تو یہ عمارتیں زمیں بوس ہوجائیں گی۔ شہروں کو اسی طرح خام مال ملتا رہے گا اور گاؤں کی جھولی ہمیشہ خالی رہے گی۔ حویلی کی منڈیر پر جمی کائی کے اور گہرے ہونے کا خوف، اور مکڑیوں کے جالے اور دیمکوں کا خوف دراصل اس بات کے لیے ہے کہ اپنی جڑوں کو چھوڑنے کے بعد ہماری اصل فنا ہوجائے گی۔ تعلیم وتعلم ایک اہم چیز ہے۔ اس کی اپنی اہمیت ہے لیکن پرانی روایات اور اس سے جڑی چیزوں کی حفاظت اور اس کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری نئی نسل کے کندھوں پر ہے جسے نئی نسل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ( یہ بھی پڑھیں  مشرقی تہذیب کا ترجمان: انجم عثمانی -ڈاکٹر سیفی سرونجی )

“گھنٹی والے بابا “انجم عثمانی کا ایک شاہکار افسانہ ہے۔ گاؤں دیہات میں خاص خاص مواقع پر گھنٹی بجانے کی روایت رہی ہے۔ اسی گھنٹی کی آواز سے عید کی اطلاع ملتی تھی۔ اسی سے کسی کی میت یا کسی حادثہ کی اطلاع ملا کرتی تھی۔ یہ قصباتی زندگی کا ایک لاؤڈ اسپیکر ہوا کرتا تھا جسے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ دیہات میں اب بھی بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر مرغ باگ نہ دے تو صبح نہیں ہوگی۔ اسی طرح گھنٹی والے بابا کی گھنٹی کے بارے میں بھی راوی کا خیال ہے کہ اگر وہ نہ بجے تو زندگی کے معمولات رک جائیں گے۔ راوی کا معصوم ذہن یہی سوچتا تھا کہ عید اسی گھنٹے کے بجانے سے ہوتی ہے۔ اگر گھنٹی والے بابا سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ گھنٹی بجا دیا کریں تو عید بھی ایک سے زائد مرتبہ ہوجائے۔

راوی کا خیال ہے کہ گھنٹی والے بابا کی گھنٹی کی آواز بھی مختلف ہوا کرتی تھی۔ صرف گھنٹی کی آواز سن کر معلوم ہو جاتا کہ خوشی کا اعلان ہے یا غمی کا۔ عید کے موقع پر گھنٹی کی آواز سن کر گھر قصبہ کا ماحول کیسا ہو جاتا تھا۔ انجم عثمانی کی زبانی سنیں:

” ۔۔۔جب عمارت کی چھتوں سے لوگ رات کو آسمان پر چاند ایسے تلاش کرتے جیسے کوئی ہوئی اولاد کو یا انجانے صحرا میں  بھٹکا ہوا پیاسا پانی کو، اس رات بابا زینہ اندر سے بند نہ کرتے اور آبادی کے نہ جانے کتنے لوگ جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی گھنٹے کے اردگرد جمع ہوجاتے  اور باری باری سے موسلی ہاتھ میں لے کر گھنٹہ پیٹتے چنانچہ بہت دیر تک  گھنٹہ رک رک کر بجتا رہتا اور ولولہ انگیز موسیقی  کا لطف دیتا اس رات گجر کی آواز سے بستی کا چپہ چپہ گونجنے لگتا بازاروں اور گلیوں محلوں میں لوگوں کی چہل پہل پڑھ جاتی پڑھی جاتی ۔ بچے اپنے نئے کپڑوں اور شیرینی کے لیے مچلنے لگتے عورتیں زور زور سے باتیں کرتی ہوئی  گھروں کے کام جلدی جلدی  نپٹانے لگتیں۔ دالانوں اور باورچی خانوں میں چوڑیوں کی کھنک گونجنے لگتی چاند آسمان سے اتر کر ہونٹوں پر  مسکن بنا لیتا ۔کچی چھتوں  کے نیچے رہنے والے معصوم اپنے آنسو پونچھ ڈالتے۔ اور مسکراہٹوں کے اس جھرمٹ میں جگہ بنانے لگتے جس سے وہ سارے سال  محروم رہتے یا رکھے جاتے تھے ۔ ہم بھی اس مجمع میں  شامل ہوتے اور گھنٹہ بجا کر محسوس کرتے آج کا چاند ہماری ہی وجہ سے نکلا ہے”

(گھنٹہ والا بابا)

افسانہ نگار کا کمال یہ ہے کہ اس نے پوری قصباتی زندگی کو اسی ایک گھنٹے کے گرد اس طرح جمع کر دیا ہے کہ قصبے کی پوری فضا آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ خاص طور پر عید کے موقع پر گھنٹے کی آواز اور اس کے نتیجے میں قصبے کی چہل پہل ، قصبے کی عورتوں کا رویہ  وغیرہ اس طرح بیان کیا ہے کہ جیسے سبھی چیزیں سوئی ہوئی تھیں گھنٹے کی آواز سنتے ہی اچانک بیدار ہوگئیں۔ راوی کو چاند کی رات کی خوشی  اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس دن بے روک ٹوک کوئی بھی گھنٹہ بجا سکتا ہے۔ اس دن کے علاوہ کسی اور دن ہر خاص و عام کو گھنٹہ بجانے کی اجازت نہیں تھی۔ جس کو بچے حسرت بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ دنیا کا سارا کاروبار اسی گھنٹہ کے بجنے سے چلتا ہے گھنٹہ بجاتے ہوئے بچوں کو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس مرتبہ کی عید ان کی بدولت ہی ہوئی ہے۔

افسانہ نگار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا کا کاروبار کسی ایک کی وجہ سے نہیں رکتا ہے۔ زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے۔ آج  گھنٹہ والے بابا گئے ہیں کل میری بار بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن دنیا کسی ایک کی وجہ سے نہیں رکے گی۔ جس طرح گھنٹے کی آواز بابا کے مرنے کے بعد بھی آتی رہی۔

انجم عثمانی کا تعلق علما برادری سے ہے علم کی نگری دیوبند سے ان کا تعلق ہے جو خود ایک قصبہ ہے۔ غالباً یہی وجہ سے کہ ان کے افسانوں میں قصبوں کی بازگشت بڑی شدت سے سنائی دیتی ہے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ انجم عثمانی کی افسانہ نگاری پر روشنی ڈالتے ہوئے  لکھتے ہیں :

“انجم عثمانی کی اپنی تخلیقی شناخت تہذیبی کرائسس مسلمان متوسط طبقے کی معاشرت کی فضا سازی اور اقلیتی معاملات و مسائل کی  دردمندی سے قائم کرتے  ہیں تاہم  ان کی بعض کہانیوں میں مولسری کا ایک پیڑ  بھی ہوتا ہے جس کی رنگت اور بھینی بھینی بو سے گھر اور کبھی کبھی پورا معاشرتی وجود مہک اٹھتا ہے۔  غالباً یہ بچے بوڑھے لڑکے لڑکیوں یا ادھیڑ عمر کی عورتوں کا معاشرتی اندرون بھی ہے جہاں گھر آنگن کی چہار دیواری کی چہچہاہٹ گھریلو پیار و محبت کی اپنائیت ہے کہیں کہیں  جنس کی دبی دبی چنگاری بھی ہے لیکن وہ شعلہ نہیں بنتی بلکہ ارتفاعی طور پر ماں  کے دست شفقت میں ڈھل جاتی ہے شاید  یہ کیفیت بھی اس بنیادی معاشرتی منظر نامے کا ایک حصہ ہے جو کرائسس سے دوچار ہے۔ لیکن زندگی تو زندگی ہے جہاں بھی موقع ملتا ہے یہ لو دینے لگتی ہے اور دمک اٹھتی ہے۔ فنکار  کا ایک    کام یہ بھی تو ہے کہ درد  کے دشت سے  گزرتے ہوئے بشارت کی آواز پر بھی نظر رکھے”

مجموعی طور پر انجم عثمانی کے افسانے گاؤں اور شہر کے بیچ کی ایک کڑی قصباتی زندگی کی عکاسی پر منحصر ہیں۔ انہوں نے قصباتی زندگی اور وہاں کے معاشرے کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ اگرچہ ان کے افسانوں میں دیہات نہیں لیکن انہوں نے قصباتی  زندگی کے حوالے سے جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ دیہی زندگی پر بھی صادق آتا ہے۔

٭٭٭

 

ڈاکٹر عزیر احمد

اسسٹنٹ پروفیسر،

اسلام پور کالج، اسلام پور، مغربی بنگال

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

انجم عثمانیعزیر احمد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مشرقی تہذیب کا ترجمان: انجم عثمانی -ڈاکٹر سیفی سرونجی
اگلی پوسٹ
ايام معدودات (گنتی کے چند دن) – حنا خان

یہ بھی پڑھیں

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں