آجکل سوشل میڈیا پر ایک شعربہت گردش کر رہا ہے
عید کی کیا خوشی ہوگی روزہ داروں میں
نئے کپڑوں سے زیادہ کفن بک گئے بازاروں میں۔
کہیں یہ خیال نثر میں بھی ملتا ہے۔ اس تعلق سے مجھے چند باتیں کہنی ہیں (واضح رہے کہ راقم الحروف کوئی عالم یا دانشور نہیں ہے بلکہ ایک عام انسان ہے)۔ عید کیا ہے؟ عید دراصل روزہ داروں کا شکرانہ ہے ایک خوشی ہے اس بات کی کہ انھوں نے پورے روزے رکھے۔ اسی کا شکرانہ ادا کرنے کے لیے دورکعت نماز پڑھی جاتی ہے۔ عید ین کی چند سنتیں بھی ہیں افضل اور احسن طریقہ یہ ہے کہ اگر ہمت ہے تو نئے کپڑے پہنیں اگر نہیں ہے تو جو سب سے اچھے کپڑے ہیں انھیں پہنے۔یہ ہے عید۔
آپ آخر کون سی عید منانا چاہتے ہیں اور کون سی خوشی منانا چاہتے ہیں۔ کہیں آپ وہ والی عید منانے کے خواہش مند تونہیں جس میں چوراہوں پر ڈی جے رکھ کر ڈانس کیا جاتا ہے۔یاد رکھیے ایسی عید منانے کی تو آپ کو اسلام تب بھی اجازت نہیں دیگا جب کہ ہر طرف سے عیش و عشرت کی بارش ہو رہی ہو۔دراصل ہم خرافات کو خوشیاں سمجھ بیٹھے۔عید کا مطلب خوشی ہے اور مسلمان ہر خوشی اور غم میں اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ آپ ہر اس طریقے سے خوشی منا سکتے ہیں جس میں شرک نہ ہو۔
اب اصل بات کی طرف آتے ہیں ملک میں حالات بہت نا گفتہ بہ ہے ہر طرف مایوسی ہے وبا کی وجہ سے ایسے ایسے لوگ دنیا سے چلے گئے کہ جن کی کمی شاید ہی پوری ہوسکے۔لیکن جو گئے ہیں اللہ کے حکم سے گئے ہیں جو بچ گئے ہیں ایک نہ ایک دن وہ بھی اس دار فانی سے کوچ کر جائیں گے۔جب تک ہم زندہ ہیں ہمیں شریعت کی پابندی کرنی ہے اسلام میں بیوی کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ کسی موت پر تین دن سے زیادہ افسوس کرے۔ یہاں میرے کہنے کامطلب نہیں کہ کسی کے عزیز کا انتقال ہوگیا وہ تین دن کے بعد ناچتا پھرے۔ بلکہ میرے کہنے مطلب ہے کہ اپنی زندگی کو معمول پر لے آئے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو یقین جانیے کفن سے زیادہ کپڑے ہی بکتے اور سلتے۔ لہذا اسلام کے طریقے سے اور موجودہ دور میں حکومت کی گائیڈ لائن کے حساب عید منائے احتیاط برتیے مایوسی نہ پھیلائے اپنے پیارے پیارے بچوں کو خوش کیجیے غریبوں کا خیال رکھیے۔ جو کچھ اللہ نے دیا اس میں سے خوشی خوشی کھائیے اور کھلائے۔عید روزہ داروں کے لیے اللہ تحفہ ہے اس تحفہ کو قبول کیجیے۔
پچھلی پوسٹ

