وبا کے موسم میں تاثراتی وبائیہ شاعری کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ وبا کے موسم کا ادب بھی مرتب کیا گیا۔ شاعری یا ادبی اظہار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ہنگامی حالتوں سے نباہ کم کم کرتا ہے۔ ہنگامی ضروتوں کے مدنظر لکھے گئے ادب کا بڑا ذخیرہ اردو میں موجود ہے ۔ آزادی کے زمانے میں حریت کی شاعری اور ملی نسبتوں سے مغلوب ادب کا وافر ذخیرہ موجود ہے ۔ اس ذخیرے کی ماہیت پر غور کریں تو کم چیزیں ہی ایسی باقی بچتی ہیں تو وقت کے گزران کو سہار اپنے اثر ومعنی کو باقی اور پائیدار رکھنے میں کامیاب رہی ہوں۔ شاعری کی معنویت اور قوت اس کی معنی آفرینی اور تعمیمی انسلاک میں ہے۔ اسے انسان کے بنیادی احساس و عرفان کی ترجمانی اور اس سے ہم آہنگی کا کڑا کوس وقت کے جبر سے آزاد ہوکر طے کرنا ہوتا ہے۔ اپنے حال سےہم رشتہ ہوکر حال پر قانع اور ہم عصرصورت حال میں محدود ہوجانا معیاری ادب کامطمح نظر نہیں رہاہے۔ یہ ایک طرح سے ادب کی کمزوری ہی ہے کہ وہ وقت کی گرد سے محفوظ نہ رہ سکے اور ایک خاص صورت حال کے نشاط یاغم کو انگیز کرتے ہوئے ٹمٹما کر تما م ہوجائے۔ یہ بات دستاویزی وموضوعی اور تجریدی و تجسیمی مضامین کونبھانے والے ، ہر دو طرح کی تخلیقات کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ دستاویزیت پر مبنی، وقت کے چوکھٹے میں قید ادب میں حصار وقت سے آزاد ہونے والے اوصاف ہوتے ہیں۔ یہ اوصاف اظہار اور انسانی توکائناتی تعامل کی عکاسی سے حاصل ہوتے ہیں۔ غزل اردو کے جملہ اصناف میں شہہ سخن ہے ؛ اس صنف سخن میں وقت اور دستاویزیت کی قید اگرچہ نہیں لیکن لفظی نظام کی تشکیل وترتیب میں بے احتیاطی اور ہنگامی ترغیب وعوامی طلب کے ساتھ فیشن کی پیروی ایسی غزلوں کاموجب بنتی ہے جو وقت کے حصار میں دم توڑنے کومجبور ہیں۔ اس کی ایک سامنے کی مثال اس زخمی کبوتر سے دی جاسکتی ہے جوامن کے مجروح اور لب جاں سفیر کی حیثیت اختیار کر سکتا تھا لیکن وہ گجرات کے منظر میں قربان ہوکر ایک تاریخ اور وقت کی ایک تصویر کا پابند ہوگیا۔ یہ ہنگامی ترغیب اور عوامی طلب کے شرائط پر پورااترتا تھا اس لیے خوب خوب نچایا اور گھمایا گیا لیکن آج اس کا انجام کیا ہے؟ یہ سب کو معلوم ہے۔ بات یہ کہنی ہے کہ وبا کی صورت حال بھی ایسے ایک ادب اور غزلیہ شاعری کوناگزیرکیے ہوئے ہے اور یہ ناگزیر ی نہ زیادہ بھلی نہ بری ؛ طلب اور کھپت کا مسئلہ ہےجو چلتا آرہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ایسی صورت حال میں کسی ایسے کلام کو منظر عام آنا جواپنے لفظی نظام اور معنیاتی جہان میں تازہ کاری کی مثال ہوتے ہوئے وقت کی آنچ سے محفوظ رہنے کی قوت رکھتاہو؛ اہل ذوق کے لیے شوق وتحیر کی خبر سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اس وقت احمد محفوظ صاحب کی غزل پیش نظر ہے۔ (یہ بھی پڑھیں جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں۔ایک تعبیر- تفسیر حسین )
یہ غزل محض غزل نہیں ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک معنیاتی وصوتی آہنگ کی تشکیل ہے۔ صوتی آہنگ تو بالکل سامنے کی چیز ہے۔ اسے بنانے میں سہولت اور پرکاری کوجس طرح پیش نظر رکھاہے وہ اپنے آپ میں صناعی وفنکاری کی دلیل ہے۔دیکھنے میں سہل اور سوچ کر دیکھیے تو ممتنع کی کیفیت سے دوچارکرتی ہے۔ پوری غزل غنائی ماتم کے تاثر سے لبریز ہے
۱۔ کیا سینہ ہے گلستاں کی صورت
ہر گل ہے چراغ جاں کی صورت
پہلاشعر یعنی مطلع اپنے ترکیبی نظام میں مانوس الفاظ رکھتاہے لیکن یہ مانوس الفاظ مانوس معنی کے حامل نہیں ہیں۔ اس کی معنیاتی ترکیب ذرا دور کے معنی سے کی گئی ہے اوراس کے معنی مصرعۂ ثانی سے طے ہوتے ہیں۔ اسے طے کرنے میں’ چراغ جاں ‘کا لفظ کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ یہی لفظ گل کے معنی بھی متعین کرتا ہے اور مصرعۂ اول میں گلستان کے معنی تک ہمیں رسائی دیتاہے۔ گل بمعنی پھول کے نہیں ؛فلیتہ یاجلی ہوئی چراغ کی بتی کے معنی میں مستعمل معلوم ہوتاہے۔ انسانی نفوس کی رحلت اور ان سے ہماری قربت نے غم کو سینے کا داغ بنا لیا ہے۔ یہ داغ ایک کا نہیں ہے اس میں سینکڑوں شامل ہیں۔ اس لیے اب سینے نےگلستان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ زندگی سے رہا ہونے والا ہر فرد جلی ہوتی بتی کی صورت ہے اور یادوں میں زندہ ہے ۔ اس کا بخشا ہوا داغ مفارقت تازہ ہے؛ سو چراغ جاں کی صورت ہونا خوب ہے۔ میر کہتے ہیں:
نور چراغ جان میں تھا کچھ یوں ہی نہ آیا لیکن وہ
گل ہو ہی گیا آخر کو یہ بجھتا سا دیا افسوس افسوس
اب” ہر گل ہے چراغِ جاں کی صورت ” شعر کی قرأت میں آسانی پیدا ہو گئی۔ یہاں گل اور گلستان کے متداول معنی سے گریز کی صورت روشن ہوجاتی ہے۔ شعر شدت تاثر سے لبریز ہے۔
۲۔رہرہ کےزمین دیکھتا ہوں
میں دیکھ کے آسماں کی صورت
دوسرا شعر اپنے معنیاتی نظام میں کلاسیکی غزل سے ہم رشتہ ہے۔ آفت اور حادثے کی نسبت آسمان کی طرف کرنا کلاسیکی شعراء کا عام وطیرہ رہا ہے۔ شعر میں کسی آفت ، حادثے یا آسمان کی ستم رانی کا کوئی مذکور نہیں۔ ایک منظر ہے مشاہدے کا اور اس میں ساری بے کسی وافسردگی کا قصہ خاموشی سے بند کردیا گیا ہے۔ میر کے اشعار ہیں:
اول زمینیوں میں ہو مائل مری طرف
جو حادثہ نزول کرے آسمان سے
اور
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
اب زیر بحث شعر پر غور فرمائیے کہ یہ بیک وقت منظر وکیفیت کا حامل ہے۔ یہ ذاتی تاثر کاشعر ہے لیکن وہ ذاتی تاثر صورت حال کے سیاق میں ذاتی نہیں رہتا کُرّہ جاتی بن جاتا ہے۔ یہاں آسمان کی ستم ظریفی پر واضح نوحہ گری سے احتراز ہے۔ شعر خاموش کیفیت کے اظہار سےتأسف کی ایسی زنبیل بن گیا ہے جو ہر ایک کے کام کی ہے۔ اس سلسلۂ الفاظ کا ایک شعر آتش کا بھی دیکھیے:
نہ چھوڑے گا کسی کو آسمان بے گور میں بھیجے
سمجھ زیر زمیں اس کو جو بالائے زمیں آیا
شعر بہت واضح ہے اور رائج مضمون کی پیروی کرتا ہے۔ ایک بار اور زیر بحث شعر ایک نظر دیکھیے:
رہرہ کے زمین دیکھتا ہوں
میں دیکھ کے آسمان کی صورت
شعر کی خوبی یہ ہے کہ یہ توضیح وتصریح سے اجتناب کرتا ہے۔ یہ زمین وآسمان کا کوئی واضح کردار متعین نہیں کرتاکہ آسمان کی سمت گری ملاحظہ کی جارہی ہے یا پھر اہل زمیں کی بے کسی وبے بسی ہی اس ملاحظے کی اصل وجہ ہے۔ اس طرح شعر کے امکانیمعانی کئی طرح سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ یہ مرگ انبوہ کی صورت حال کو واضح کرتاہے۔ یہ مشاہدہ سے ہونے والی حیرت وتأسف کی ترجمانی کرتا ہے؛ عاجزی کےدعائیہ طرز اظہار کی اک صورت بھی شعر میں پوشیدہ ہے۔ زمین وآسمان ایسے مقابل علائم میں بدل گئے ہیں جو معنیکے پھیلاؤ اور توسیع کو ناگزیر کرتے ہیں۔
٣۔جان تیر کی طرح کیوں نہ نکلے
جب تن ہو کڑی کمان کی صورت
کمان کوابرو اور خمیدہ جسم دونوں کے مقابل لایا جاتاہے۔ یہاں تو کمال ہی ہو گیا ہے۔ روح وجسم کے مقابل جس تیر وکمان کو رکھا ہے ، وہ اپنے آپ میں لا جواب وبے مثال ہے۔ یہاں بھی ایک طرح سے لفظیات کی معنوی توسیع ہے۔ تیر وکمان کے الفاظ جسم کے عام تجربے ،حسن ودید اور عشقیہ مضمون کے بجائے ایک ایسے تجربے کو بیان کرنے میں صرف ہوئے ہیں جوموت کا تجربہ ہے۔ یہی پہلو شعر کی تب وتاب کو دوبالا کردیتا ہے۔ میر جی کہتے ہیں:
شوق میں تیر سے چلے اودھر
ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ
جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے
مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم
احمد محفوظ صاحب کا شعر حسن کے حضور حاضری یاحسن کی طرف کھنچنے کا مضمون سامنے نہیں لاتا۔ وہ راست طورپر قفس عنصری سے روح کی پرواز کو کیفیت دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے؛اس لیے کمان وتیر کی پائمال راہ سے الگ رستہ بناتاہے۔ روح کے نکلنے یا جان کے جانے کی ایسی کیف آور تعبیر ہے کہ بن کہے اپنی داد وصول کرتا ہے۔
۴۔ دیکھی تھی یقین کی ایک جھلک سی
پھرتا ہوں عجب گماں کی صورت
اضداد کا کیا ہی خوب استعمال ہے۔ زندگی کی رمق اور موت کی بے چہرگی کے درمیان ہراساں رہنے کی کیفیت کو کس خوبی سے نظم کیا ہے۔ یقین کو گمان کے مقابل میر نے بھی نظم کیا ہے وہ کہتے ہیں:
ہے مجھ کو یقیں تجھ میں وفا ایسی جفا پر
گھر چاک برابر ہوئے اس میرے گماں کا
ہم کہہ سکتے ہیں کہ زمانی بعد یا پھر غالب شعری فضا کے زیر اثر پیدا ہونے والا لہجاتی فرق زیر بحث شعر میں دیکھا جاسکتاہے۔ شعر متکلم کی خودکلامی اور انکشاف کی جس واردات کو سامنے لاتا ہے وہ ذات کے آشوب سے قاری کو دوچار کرتی ہے۔
اگلے شعر میں غیر یقینی صورت حال کی توسیع ہے۔ زندگی کرنے کے عام طور کا مفقود ہونا، غم کے آسیب اور خوف وخدشے کے آشوب کا بدستور قائم رہنا صبح کی روشنی کی کیفیت تو نہیں ہو سکتا ،اسے شب درمیاں کی صورت ہی کہا جاسکتاہے۔
٥۔پھرشاموسحرکہاںکہجبہے
ہستی شب درمیاں کی صورت
صورت حال کی ابتری نے وحشت کو اوج کمال پر پہنچا دیا ہے گو ضبط کی آزمائش انتہا کوپہنچ کر این آں کرتے کرتے چیں بول جاتی ہے اور ناطقہ چیختا ہے:
٦۔اباورنہیں ہے تاب وحشت
بس دیکھ چکے جہاں کی صورت
اوپر غزل کے معنیاتی آہنگ کا ذکر ہوا تھا۔ اس غزل کے معنیاتی آہنگ کو بیان کرنا ہو تو اسے کس طرح بیان کیا جائے۔ یہ معاملہ ہرقاری کی صوابدید ،اس کے بیدار احساس ،افتاد طبع اور سخن فہمی پر مبنی ہے کہ وہ غزل کی داخلی معنیاتی تسلسل کو کس طرح دریافت کرتا ہے۔ میں اپنی بساط بھر غزل کے مجموعی تاثر کو بیان کرتاہوں۔
زندگی کے چراغ لو دے رہے تھےکہ اچانک بھبھکنے لگے۔ہوا تیز ہوگئی یا پھر ہوا رک رک کے پہنچ رہی تھی۔ انھیں ٹھیک کرنے کی تدبیریں ہوئیں۔ بہتیرے ٹھیک ہوئے اور بہت سے بجھ گئے۔ ان کی بتیاں مردہ گردنوں کی طرح جھول گئیں۔ یا زمین پر ٹوٹ کر گر پڑیں۔ اب انھیں چراغ کی گردن پہ سجانا ممکن نہ رہا۔ چراغ کے ساتھ تو کوئی میکانیکی تدبیر ممکن تھی لیکن یہ روشنی اور نور کے بقعے بنانے والے چراغ تو چراغ نہیں ،چراغ جاں تھے، جن کی بتیوں کو کھینچنے اور روشنی کو بحال کرنے کا کوئی نسخہ ہمارے پاس نہیں۔ کیا کریں اس غم کو سجائے سینے پر گلستاں کا منظر دیکھتے ہیں۔ گل یعنی بجھ کر ٹوٹی اور گری ہوئی بتیوں سے آراستہ گلستاں۔ اس گلستاں کو دیکھنے کی سکت اور اسے گلستاں بلانے کا حوصلہ سب میں کہاں۔ ایسی بے سرو سامانی اور مرگ انبوہ کی صورت ہے کہ صاحب عرش کی طرف نگہ اٹھتی ہے اور اس سے بے کسی کا شکوہ کرتا ہوں۔ مالک یہ کیا صورت ہو گئی زمین کی ، قافلے والےسب اپنی ہستی کو زمین کا پیوند کرتے جاتے ہیں۔ یہ چرخکیوں کر دشمن ہوا ہے یہ کب تک دشمنی نباہے گا۔ پیرفلک زمانے سے زمین پر حادثوں کا سازشی چرخہ کاتتا رہا ہے۔ اس بوڑھے کی ستم سامانیاں تمام ہونے کا نام نہیںلیتیں۔ یہ سلسلہ کب تلک جاری رہے گا۔ صاحب عرش کب اہل فرش پر مہرباں ہوں گے؟ ہو جائیے۔ جانیں کس کسم پرسی سے قفس سے رہا ہورہی ہیں۔ یہ سانسیں اٹک اٹک کر انسانوں کوخمیدہ بنائے دیتی ہیں۔ وہ کھانس کھانس کرکمان ہوا جاتاہے۔ زندگی وجود میں چھبتے چھبتے آخر خود تیر ہو گئی ہے اور جسم کی کماں سے کس سرعت سے رہاہوئی۔ آہ انسان خود ہی تیر ہے خود ہی کمان اور خود ہی قتیل۔ سارے اثاثے زندگی سے موت کی طرف بڑھنے کے اسی میں دھرے ہوئے ہیں۔ زندگی یقین کی صورت جگمتاتی اور چہچہاتی ہے اور اب تو بس ایک ڈھڑکا ہے کہ کب یہ جاتی رہے۔ بس زندگی کا وہم بچ رہے۔ یقین کا تابناک چہرہ سرابی گمان میں بدل گیا ہے۔ غیر مستحکم ہونے کا ہولناک تجربہ ہے جو ہم پر ہو رہا ہے ۔ ہم تو تماشائی بھی نہیں۔ ایک مجبور مشاہد ہیں جسے بہر صورت گماں سے گزرتے رہنا ہے۔ کیفیت واحساس سے معمول بے دخل ہوگیاہے۔ کو ئی صبح طلوع نہیں ہوتی۔ سورج نہیں چڑھتا اور نہ ہی شام کے منظر سے رابطہ بچا ہے۔ یہ بیچ رات کی تاریکی حصے میں رہ گئی۔ اندھیرے میں ٹامک ٹو ئیاں مارتا ہوں۔ معلوم نہیں کون کون اس نامعلوم اور نادیدہ شب خون کا شکار ہوکر بسترمرگ پر جا پہنچا ہے۔ زندگی کا یہ کیسا قحط ہے؟ جہاں شکم سیر دنیا موت کی ارزانی سے گزرتی جاتی ہے۔ یہ نادیدہ قحط زندگی کو ارزاں کیے ہوئے قحط الرجال بپا کرنے کے درپہ ہے۔ایسی وحشت ، ایسوں ایسوں کے بچھڑنے کا غم ، اب اس سے سوا نہیں۔دنیاکا یہ چہرہ دیکھنے کا اب حوصلہ نہیں۔ اس طرح پوری غزل میں معنیاتی کا آہنگ کا ایک تسلسل قائم ہوجاتا ہے۔ صوتی ومعنیاتی آہنگ مل کر غزل کی کیف آفرینی تیز تر کردیتے ہیں۔
غزل کے اندر موجود معنیاتی وصوتی آہنگ سے کیف آوری اور معنی آفرینی کی جو صورت کسب ہوتی ہے۔حسیات پر جس طرح وہ اثر انداز ہوتی ہے؛ نثر میں اس کیفیت ومعنویت کے ممزوج کو تیار کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ میں ناممکن اس لیے نہیں کہتا کہ نادر الوجود کاوجود میں آجانا بہر صورت امکان میں ہے۔اس غزل کے معنیاتی امکانات وسیع ہیں۔ یہ قدرتی آفات کی مختلف صورتوں میں انسانی احساس کی ترجمانی کرتی ہے۔ کسی غالب طاقت کے ذریعے مغلوب آبادی کی کسم پرسی پر منطبق کی جاسکتی ہے ؛ اس میں زمان ومکان کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس غزل کا ہر شعر مختلف موقع ومحل کا ترجمان بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طرح اس غزل کی خوبیاں ظاہر وباہر ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

