یہ تحریر ہم انسان کے لیے لکھ رہے ہیں اسے پہنچے یا نہ پہنچے روئے سخن اسی کی طرف رہے۔ لکھتے وقت قلم لڑکھڑانے کا خطرہ بغل میں ضرور ہے کہ کسی بھی سمے انسان آدمی بن سکتا ہے۔ لیکن یہ غرور بھی ہے کہ اواںٔل زمانے سے عہد حاضر تک قلم کبھی شکست خوردہ نہیں دیکھا اسی لیے امید ہے آج بھی فتح یاب ہوئے گا۔
عالم بالا سے انسان کو جو خصلتیں یا عادتیں(پسندیدگی یا ناپسندیدگی) ودیعت کی جاتی ہیں۔ اسی میں انسان کھو جاتا ہے یا یوں کہیے کہ انہی عادات و خصائل کے غلامی کا طوق گلے باندھ لیتا ہے۔ دھبے پاؤں قلم سرکنے کی کوشش کروں گا تو یہ لکھوں گا غیر شعوری طور پر انسان خود کو ڈھونڈتا ہے۔حال آنکہ وہ چاہے تو اس مخصوص داںٔرہ سے نکل سکتا ہے طرف دوسرے کے بنیادی اور فطری طور پر وہ اسی میں خود کو پر سکون پاتا ہے۔اور ہماری نظر میں اس سکون میں ژولیدگی ڈراؤنی کہانی سنتی دیکھائی دیتی ہے۔بہر حال جب کبھی ہم کہیں چلتے ہیں تو آس پاس وہ خوشبو تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو ہمارے ناک کو بھلی لگتی ہے۔ یا اس شخص کو ڈھونڈنے کی جتن کرتے ہیں جو ہمیں بہت بھاتے ہیں۔ یا اس پھول کو سونگھنے کی خواہش رکھتے ہیں جس سے ہماری ذہنی کدورت دور ہوتی ہے۔ یا اس مکان کے سائے میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں جو ہمارے بدن کے موافق ہوتی ہے۔یا اس جملے کو ادا کرنا چاہتے ہیں جس سے ہماری نقطہ نگاہ زیادہ واضح ہوتی ہے۔یا اس سبق کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر ہماری گرفت ممکن محسوس ہوتی ہے۔بعینہٖ وہ شعر پسند کرتے ہیں جس سے ہمیں کچھ نسبت ہوتی ہے۔یعنی شاعر نے جس فلسفہ محبت، نشاطِ وصل یا سوزشِ ہجر کا نقشہ کھینچا ہوا ہوتا ہے۔ان سے ہماری کچھ Attachment ہوئی تو ہم اچھل اچھل کر داد دیتے ہیں۔ اہل علم و فراست قبیلہ شاید اسے شاعرانہ نسبت کہتے ہیں۔ لیکن یہاں فطرت میں گستاخانہ اور مدلل تغیر لانا ناممکن نہیں ہوتا۔اس بے راہ روی کی اصل وجہ کثیر مطالعہ، وسیع مشاہدہ، زبان سے مانوسیت اور تجرباتی علم میں مضمر ہے۔ آسان بھاشا میں کہنے کی کوشش کروں گا تو یہ کہوں گا کہ وسیع المطالعہ و مشاہدہ انسان پیمانِہ شاعرانہ نسبت کی ناپ تول سے بغاوت کرلیتا ہے۔ان حالات میں انسان خیال کی عمدگی کا پیمانہ ہاتھ میں تھمانے کا گر جان لیتا ہے اور یہاں انسان فطرت کی طرف سے ودیعت شدہ عادات و اطوار میں بدلاؤ لانے کی جانب محو سفر ہوجاتا ہے۔ایسے میں مرحلہ چناؤ گھٹن احساسات کے حوالے ہوجاتا ہے۔عام انسان اس وقت ورطہ حیرت میں مبتلا ہوتا ہے جب کسی شاعر کے پورے کلام میں محض ایک آدھ شعر بالا انسان کے دل کو موہ لے۔سنیے میاں!یہ سفر ایسے حالات سے بھی گزرتا ہے جس میں مذکورہ انسان بعض اوقات کسی شاعر(چھوٹا اور بڑا) کے محض ایک مصرعے پر وجد کے حوالے ہوجاتا ہے۔عجیب ہے ناں یہ انسان بھی کبھی سیلاب میں سے خود کو بچا کے آ جاتا ہے تو کبھی مٹھی بھر پانی میں غرق ہو جاتا ہے۔
زنہار یہ نقطہ شعر تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ناول،ڈراما اور افسانے کے زمین پر بھی یہی ہل چلایا جائے۔
یاد دہانی نوٹ : داخلی تحریک کے دوران بیشتر اوقات شاعر تخلیقِ شعر کے مرحلے میں انسان جننے جیسی تکلیف سے گزرتا ہے۔
م_ح مسرور
تاریخ 3 مئی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

