شہناز رحمن کا افسانہ”شب تاب“پر انگریزی فکشن کا اسلوب نمایاں ہے۔اس کے بیانیہ میں روانی اور مکالمے بڑے چست اور درست ہیں جن سے فلسفہ اور فکر کی روشنی پھوٹتی ہے۔افسانے کے دو مرکزی کردار رامین اور خودراوی ہے۔جن کے مکالموں سے افسانہ آگے بڑھتا ہے۔ان مکالموں میں بلا کی گہرائی اور فلسفیانہ پہلو پوشیدہ ہیں جو قاری کے دل و دماغ کو روشنی دیتے ہیں۔رامین زندگی کے فلسفہ اور موت کے اسرار و رمواز پر بڑی گہری گفتگو کرنے والی ایک ایسی کردار ہے جو ایک ہسپتال میں آنکھ کی لیڈی ڈاکٹرہے۔راوی بھی اسی اسپتال میں نوکری کرتا ہے۔ شفٹنگ الگ الگ ہونے کے باوجو ان دونوں کی ملاقات اکثر ہو جایا کرتی ہے۔اس دورانیہ راوی گفتگو سے ہٹ کر خالص نجی زندگی کے موضوع پر باتیں کرنا چاہتا ہے لیکن رامین کی منتشر مزاجی اور پریشان طبیعت اسے ایسا کرنے سے روکتی ہے۔اس پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ مریض کی روحانی اذیتیں اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔معزور و مجبور آنکھوں کی تھکن زندگی کے بوجھ سے اکتا کر موت کی خواہش مند آنکھوں کی تڑپ، زندگی کی لذتوں سے محروم آنکھوں کی حسرتیں اور انسانی آنکھوں کی اندرونی اذیتیں رامین کو اندر سے بیچین رکھتی ہیں۔افسانہ نگار کی چند خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ معاصرمسائل کو پیش کرنے کے لیے کردارکے نجی پیشے کے کیس ہسٹری کا سہارا لیاہے اور فنی شعور کی پختگی کا ثبوت دیا ہے۔
”ویران و منتشر ہوتے گھر کو وہ حال کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے،اسی لیے اسے یہ بیماری لاحق ہوئی ہے۔اسے موتیابین کے مریض کی آنکھوں میں فسادات کی دہشت کا نقش نظر آتا ہے۔بتا رہی تھی کہ احباب کی سلگتی لاشوں سے اٹھنے والا دھواں مریض کی آنکھوں میں اس قدر بھر گیا ہے کہ اسے دھند لانظر آنے لگا ہے۔eye strokeوالی آنکھوں میں اسے ہوس نظر آتی ہے۔“ ( شب تاب ،مئی 2021،آج کل)
افسانے کے راوی کو یہ احساس ہے کہ رامین اب بینائی سے محروم آنکھوں سے اس کے دکھوں کو پڑھ کر داونچی ہونے کا ثبوت دینا چاہتی ہے کہ اسے بھی سامنے کا منظرتھری ڈائیمنشنل کی بجاے دوسطحی نظر آتا ہے جس کی وجہ سے وہ لازوال تصویریں پینٹ کی تھی۔ راوی رامین کی نظر التفات سے نظر انداز ہوا ہے پھر بھی اس کو یہ خوش گمانی ہے کہ:
”وہ مجھ سے لاکھ چھپائے لیکن اس کی آنکھوں نے سارے راز عیاں کردیے ہیں۔اب اس کے سارے دکھ میرے ہیں“
(شب تاب ،مئی 2021،آج کل)
مدہوش کردینے والی آنکھوں والی رامین کے پاس قدرت کا یہ عطیہ بھی ہے کہ وہ ظاہری تکلیفوں کے ساتھ روحانی اذیتوں کا بھی تشخیص کرلیتی ہے۔راوی کی نگاہ میں رامین کی قدرو قیمت قلو پطرہ جیسی ہے جواتنی خوبصورت نہیں تھی جس قدر شیکسپیئر کی تحریروں نے اسے بنا دیا تھا۔پروگرام سے رامین جب چلی جاتی ہے تب افسانے کا راوی کف افسوس یہ سوچ کر ملتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بیگ احساس کا افسانہ ”کھائی“ کا تجزیاتی مطالعہ – مہر فاطمہ)
”ہر طرح کی تحریر پڑھ لینے والی ان آنکھوں نے میرے چہرے،میری آنکھوں اور میرے سراپا پہ لکھی ہوئی تحریر کیوں نہ پڑھی۔ہماری زندگی میں غمگینی کے لمحات طشتریوں میں پیش کیے جاتے ہیں اور خوشی کے دو لمحوں کے لیے جگر کو خون کرنا پڑتا ہے۔“ شب تاب ،مئی 2021،آج کل
رامین زندگی کے فلسفہ اور موت کے اسرار و رموز پر پڑی گہری گفتگو کرنے والی ایک ایسی کردار ہے جو ہسپتال سے نکل کر گھر جاتی ہے۔ چائے پی کر گھنٹوں لیپ ٹاپ پر مریضوں کی آنکھیں غور سے دیکھتی رہتی ہے۔وہ اس کو اپنے پیشے اور مصروفیت کا جزو سمجھتی ہے۔وہ ایک ایسی Eye speclistہے جو اپنے پیشے کو عبادت کا درجہ دیتی ہے۔قدرت نے اس کی آنکھوں کو بھی بڑی خوبصورت بنایا ہے۔ایک دن وہ راوی کے ساتھ ہری ہری گھاس پر ٹہلتے ہوئے سوچتی ہے۔
”آنکھوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جو چیز یں قابل توجہ ہوتی ہیں انہیں وہ دیکھ ہی نہیں پاتیں،ساری زندگی وہ ایک اسرار اور ایک راز کی طرح رہ جاتی ہیں اور جن چیزوں کو دیکھنا اتنا ضروری نہیں ہوتا وہ پتلیوں سے چپک کر رہ جاتی ہیں۔“
(شب تاب ،مئی 2021،آج کل)
افسانے میں ضمنی طور پر انگریزوں کے زمانے کی تعمیر کردہ مغربی طرز کی تاریخی عمارت کا تذکرہ،اور داونچی کی آنکھ کی بیماری ایکزوٹوپیا جس میں مریض کو تھری ؎ڈائی مینشنل سطح کی جگہ سامنے کا منظر دو سطحی نظر آتا ہے کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں بیان ہوا ہے۔افسانے میں اس کا بھی ذکر ہے کہ رامین کا مضمون ”Artificial Inteligence کے دور میں گلوکوما کے علاج“ پر اسے کافی مبارکبادیاں ملی تھیں لیکن وہ اس سے مغرور نہیں ہوتی ہے بلکہ پروگرام کے دوران اصرار کے باوجود مہمانوں کی صف میں نہیں بیٹھی بلکہ مسکراتی ہوئی پچھلی صف کی آخری کرسی پر جاکر بیٹھ گئی۔یہ رامین کی انکساری نہیں بلکہ یہ اس کے اندر کی آگہی ہے کہ انسان جس دن عرفان کی منزل تک پہنچ جائے گا تو اسے اپنی بلندی پر غرور نہ ہوگا۔اس طرح افسانہ نگار افسانے کی فضا میں فلسفہ کی خوشبو بکھیرنے کی کوشش کی ہے۔افسانے میں رامین سے مل کر راوی کے اندر جو بیماری پیدا ہوئی تھی اس کا علاج اس کتاب میں نہیں تھا جس کا اجراء اس پروگرام میں ہونے والا تھاجس کے لیے صاحب کتاب نے بطور خاص رامین کو مدعو کیا تھا۔افسانے کی چند خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ بظاہر کتا ب پرگفتگو ہورہی ہے لیکن بلواسطہ عشق و محبت کی باتیں ان مکالموں کی تہہ میں کرنٹ کی طرح بہہ رہی ہیں جس کو رامین اور راوی دونوں سمجھ رہے ہیں لیکن سمجھ کر بھی ناسمجھ بن رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ماورائے ازدواج رفاقتوں کا بیانیہ (پرویز شہریار کے دو افسانوں کے حوالے سے) – حقانی القاسمی)
”واقعی آنکھوں ک بیماریوں سے متعلق کیسی کیسی اہم معلومات ہیں اس کتاب میں“ ”آنکھیں انسان کے لیے کتنی عظیم نعمت ہیں لیکن یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے اندر جمع کئے ہوئے خوابوں کو خود نہیں دیکھ سکتیں۔انہیں ان خوابوں کے بھیانک پن اور حسرت کا بھی اندازہ نہیں ہوتا۔“میرے کسی رد عمل کا انتظار کئے بغیر اس نے دوسرا جملہ کہا:”میں نے ایک مریض کی آنکھوں کا معائنہ کیا تھا۔تشنہ خوابوں نے اس کی بینائی غارت کردی تھی“ ”کیا تم نے کبھی ان خوابوں کی اذیت محسوس کی ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے؟“میرے جواب کا انتظار اس نے اس بار بھی نہیں کیا اور بولتی گئی۔”خواب اگر ادھورے رہ جائیں تو ادھورے پن کی بازگشت ساری زندگی انسان کا پیچھا کرتی ہے۔“ ”خوابوں کے بوجھ تلے کراہتی اور سسکتی آنکھوں والے مریض اب کچھ زیادہ ہی آنے لگے ہیں“ شب تاب ،مئی2021،آج کل
المختصر ادب کی سیاہ لکیروں میں دل کی باتیں یا اس کی رعنائیاں سمٹتی ہیں تو وہ دل کی زبان بولنے لگتی ہیں۔لفظوں کی اس جادو گری سے جب شجر ادب کی شاخوں پرفکر یادل ی جذبے کے جب شگوفے کھلتے ہیں تو اس کی خوشبو سے چمنستان ادب ہی معطر نہیں ہوتا ہے بلکہ قاری کی اندرونی دنیا بھی مہک اٹھتی ہے۔ایسا ہی کچھ شہناز رحمن کا افسانہ ”شب تاب“کے مطالعہ کے دوران محسوس ہوتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
شکریہ ادبی میراث
اور عظیم اللہ ہاشمی صاحب کا بے حد شکریہ