دنیا کی ہر شاعری حقیقت میں حیات و کاینات کے حصولِ آگہی کا ایک طَور ہے۔ ہزاروں سوال اور ان کے جواب کی تلاش ہماری زندگی ہے۔ کارخانۂ حیات سب کو حیران و ششدر کردیتا ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں یہ آسان کہاں ہوا کہ زندگی میں رنگوں کی پہچان کر لی جائے۔ میرنے کہا:
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
یہ بھی اک عمر پہ ہوا معلوم
پہنچا جو اپنے آپ کو تو پہنچا خدا کے تئیں
معلوم یہ ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
انسانی زندگی کا یہ عجیب و غریب خاصہ ہے۔ جاننا اور نہیں جاننا کے درمیان اتنا کم فاصلہ ہے کہ کسی کے لیے یہ سمجھنا بھی دشوار ہے کہ اس نے کس قدر کاینات کو دیکھا اور جتنا دیکھا، کیا ان مظاہر کو آنکھوں اوردل میں ا تار پایا۔ اسی لیے صوفیہ نے کہا کہ جاننے کی آخری منزل سے نہیں جاننے کا آغاز ہوتا ہے۔ کوئی اسے عرفانِ ذات کہتا ہے اور بعض اسے ہی جبرِ مشیت کہتے ہیں۔ انسان کا سادہ سا کام ہے، اسے جیے جانا ہے مگر اس کی زندگی کس سمت جائے گی اور اسے اعتبار حاصل ہو گا یا نہیں، کسے پتا؟ سلطان اختر نے زندگی کی بوالعجبی پر غور کرتے ہوے انسان کی معصومانہ فکری نہج سے اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں جب مظاہرِ کاینات کے بارے میں خدا سے گفتگو قائم ہو تی ہے تو گفتار کا اسلوب عالمِ دیوانگی میں اکثر الگ مقام پہ ہو تا ہے:
اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یارب، لامکاں تیرا ہے یا میرا
سلطان اختر نے بھی اپنی شاعری کے ایک بڑے حصے میں خدا اور خدائی کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ اندازِ گفتگو کو اگر دیوانگی کے لواز م کے بغیر پہچانا جائے تو مذہبی جبینوں پر شکنیں آجا ئیں گی۔ سلطان اختر کو پہلے ہی سے معلوم ہے:’باخدا دیوانہ باش و بامحمد ہوشیار‘۔ اس دیوانگی میں سلطان اختر نے ایسے شعر کہہ دیے ہیں جو پتا نہیں آگہی کے کس آسمان سے تعلّق رکھتے ہیں۔ ایسے اشعار میں خدا سے بے تکلّفی، بے باکی اور کبھی کبھی طنز کی بھی کیفیت سامنے آتی ہے۔ ’انتساب‘ میں درجنو ں ایسے اشعار ہیں جہاں بیان کا ڈھب ہمیں اس موضوع پر ان کے نئے طور کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ ایساآخر کیوں نہ ہو جب کہ سلطان اختر نے اپنے مجموعے کا انتساب اسی بے تکلّفی سے ’خدا کے نام‘ سے کیا ہے۔ جب داخلی سطح پر شاعر اس کیفیت میں مبتلا ہو تو اہلِ دنیا کو حرف گیری کا کاہے کو حق پہنچتا ہے۔ ایسے چند اشعار ملاحظہ کیجیے جہاں سلطان اختر خدا اور خدائی کے مسئلو ں پر کس مقام سے الجھتے ہوئے نظر آتے ہیں: (یہ بھی پرھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
میں تجھ پہ روشن ہوں لیکن تو مجھ میں روٗپوش
ایسے میں تو ناممکن ہے تجھ سے نباہ خدا
ایک دو دن زمین پر بھی گزار
آسماں سے کبھی اُتر یا رب
میں ڈوبنے لگا تھا کہ بے ساختہ کھُلا
گمراہیوں کے دشت میں مجھ پر خدا کھُلا
ہم مطمئن ہیں اُس کی رضا کے بغیر بھی
ہر کام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی
لِپٹی ہوئی ہے جسم سے زنجیرِ مصلحت
بے دست و پا ہیں لوگ سزا کے بغیر بھی
سننے کی طرح سُن نہ سکا آج تک خدا
میرا ہر ایک حرفِ شرر رَایگاں ہُوا
خدا تو دُور تھا، اپنا سُراغ پا نہ سکے
حریفِ عقل حصارِسگاں میں قید رَہے
بھاگ کے سارے دشت و بیا باں شہروں میں گھُس آئے ہیں
دریا دریا آگ لگی ہے، اے مولا تو پانی دے
خدا اپنی وسعت میں سمٹا رہا
مَیں بکھرا ہُوا اُس کی راہوں میں تھا
اپنے ہونے کا یقیں، اُس کے نہ ہونے کا گماں
یہی احساس تو دیوانہ بنائے گا بہت
ان اشعار کو بہ غور ملاحظہ کر نا چاہیے۔جدید شاعری پر کبھی کبھی خدا بیزاری کا ٹھپّا لگتا ہے۔ یہا ں جدیدیت کی اس روایت سے اگر استفادہ بھی کیا گیاہے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سلطان اختر کی شاعری کی دوسری صورتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ جب ہم صوفیانہ توجیحات پر سلطان اختر کے بہت سارے اشعار کو تولنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ واقعتاً کشف ِ ذات اور کشفِ کائنات کے جذبوں سے لیس نظر آتے ہیں۔اس وجہ سے ان کی شاعری کو خدا بیزاری کے بجاے دوسر ے معنوی کیف کے ساتھ متعلق کرنا چاہیے۔
’انتساب‘ کی شاعری کا مطالعہ اگر غزل کے مخصوص عشقیہ تنا ظر میں کیا جائے تو ہمیں مایوسی نہیں ہوگی۔جس زمانے میں سلطان اختر نے شعر کہا،وہ دور عام طور سے غیر عشقیہ مضامین کی بحالی کا ہے۔سلطان اختر نے بھی اپنی شاعری کے بڑے حصّے کو غیر عشقیہ مضامین کے لیے ہی مخصوص رکھامگر جذبۂ محبت کی ترجمانی کے بغیر کا ئنات کا ایک ذرّہ بھی کیسے حَرَکت کر سکتاہے۔اس پہلو سے سلطان اختر کے اس پہلے مجموعے کا مطالعہ کرنا لازمی ہے، اور اس سے اس نتیجے تک بھی پہنچا جا سکتا ہے کہ نئے موضوعات اور کلاسیکی اعتبار سے مستحکم کا موں کو سلطان اختر نے کس سلیقہ مندی کے ساتھ پایہئ تکمل تک پہنچایا ہے۔ چند اشعار اس تعلق سے ملاحظہ ہوں:
میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی
توٗ وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں
کوئی بادل تو برس جائے برسنے کی طرح
کوئی موسم تو مِری پیاس بُجھانے آئے
جلتے ہوئے بدن کی تمازت نہ کم ہوئی
بے کار جا کے لیٹے تھے ہم سرد گھاس پر
مُدّتوں دَر بَدَرِی یاد رکھے گی اخترؔ
مَیں نے پایا ہے بہت خاک اُڑا کر اُس کو
کبھی کبھی تو لُٹا ہم سے کم نصیبوں میں
بہت بچا کے نہ رکھ قُرب کا خزانہ توٗ
پھر اُس کی یاد کا دامن ہی کام آئے گا
نہ جانے کون سی منزل پہ حوصلہ چھوٹے
ان عاشقانہ اشعار کے باوجود سلطان اختر کی شاعر ی کا یہ شناخت نامہ نہیں ہے۔’انتساب‘کی حد تک غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلطان اختر کے یہاں اپنے زمانے اور زندگی کاجو احتساب چلتا رہتاہے،اس کے رنگ و آہنگ سادہ نہیں ہیں۔اکثر شکست خوردگی اور احساس ِ زیاں کے لوازم سے ان کی شاعری گھِری ہوئی نظر آتی ہے۔کبھی کبھی تو پوری غزل لٹنے،کھونے اور نیست ونابود ہوجانے کے پیکروں میں زندگی کے تار کو مزید الجھاتی ہوئی ملتی ہے۔یوں بھی سلطان اختر غزل کی ریزہ خیالی کے کچھ زیادہ قائل نظر نہیں آتے اور اکثر و بیشتر ان کے اشعار ایک جیسی معنوی کیفییت کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایک خوش گوار ہمواری ہے جس کی وجہ سے انھوں نے روحِ عصر اور اپنی صناعی کو شیر وشکر کر کے ایک مشکل اسلوب کا آمیزہ تیار کیا ہے۔ ایسے اشعار میں زندگی میں رَدّ و قبول کا ایک ایسا سلسلہ نظر آتا ہے جہاں سیاہ وسفید الگ الگ نہیں بلکہ ان کی یکجائی سے کچھ نئی صورتیں تیار ہوتی ہیں۔ مگر اس پر زور، پسپائی اور زوال کا ہی رہے گا۔ خوف اور بے اعتباری کے جنگل میں انسان کی کیفیت ان کے ہاں کچھ یوں نظر آتی ہے: (یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
وہی ہانپتے کانپتے روز و شب
وہی سہمی سہمی فضا ہر طرف
وہی لَوٹتے سے قدم چار سوٗ
وہی ڈوبتی سی صدا ہر طرف
وہی رات دن کا سفر در سفر
وہی سر پھرا راستہ ہر طرف
وہی پست ہوتے ہوئے حوصلے
وہی تیز رَو فاصلہ ہر طرف
وہی تہہ بہ تہہ خوف کی چادریں
وہی سب لرزتا ہوا ہر طرف
سانس اُکھڑی ہوئی، سوٗکھے ہوئے لَب کچھ بھی نہیں
پیاس کا نام ہی روشن ہے، بس اب کچھ بھی نہیں
شعری مجموعہ ’انتساب‘ اگرچہ 1994ء میں منظرِ عام پر آیالیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا معتدبہ حصّہ1960ء سے 1980ء کے دوران تخلیق ہوا تھا۔ یہ کلام بیشتر جدید ادب کے ترجمان سمجھے جانے والے رسائل میں محفوظ ہوا تھا۔بعد کے دونوں مجموعوں کے کلام کو بھی ان کی اشاعت کے اعتبار سے غور کیا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان دونوں مجموعوں میں 1980ء سے اب تک یعنی پینتیس چھتیس برس کا کلام شامل ہے۔رسائل میں اشاعت اور تخلیقِ شعر کے زمانے کو سامنے رکھیں تب بھی یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ان دونوں مجموعوں میں واضح طور پر کوئی زمانی فصل متعین نہیں کی جا سکتی۔2014ء میں ’غزلستان‘اور 2016ء میں ’برگِ خوش رنگ‘کی اشاعت سے یہ نہیں سمجھنا چا ہیے کہ دونوں مجموعے الگ الگ دور کی شاعری کو محیط ہیں۔مگر یہ بات متعین ہے کہ دونوں مجموعوں کی شاعری کو ’انتساب‘ کی شاعری سے علاحدہ طور پر سمجھنا اور موضوعاتی،اسلوبیاتی اور زمانی فصل کا تعین کرنا ایک لازمی کام ہونا چاہیے۔
1980ء کے بعدکی سلطان اختر کی شاعری اپنے لفظی نظام کے اعتبار سے پچھلی شاعری سے مختلف نظر آتی ہے۔ ہر چندکہیں کہیں پچھلا انداز لوٹ آتا ہے لیکن یہ عمومی رویہ نہیں۔موضوعات بھی جگہ جگہ نئے نظر آتے ہیں۔اسلو ب کی سطح پر سلجھا ہوا آہنگ نئے اندازِ شعر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مشقِ سخن میں اضافے کی وجہ سے بیان میں بہ تدریج ترقی اور صفائی بھی نظر آتی ہے۔غزلوں میں اشعار کی تعداد میں بالعموم اضافہ نظر آتا ہے حالاں کہ ایک غزل میں دس بارہ اشعار کی موجودگی سے ہر جگہ یہ ضمانت نہیں ملتی کہ سلطان اخترکی ان غزلوں میں براے بیت اشعار نہیں ہیں۔1980ء کے بعد کی کم و بیش ڈھائی سو غزلوں میں ایک بڑی تعداد طرحی غزلوں کی بھی ہے۔ جن اساتذہ اور ہم عصروں کے مصرعوں کو آزمانے کی کوشش ہوئی ہے،قدرتِ کلام کے ثبوت کے لیے ایسی غزلوں میں اکثر شاعر نے نئے نئے قافیے جڑنے کی کوشش کی۔ مگر یہ سوال قائم ہوتاہے کہ ایک اختر اعی ذہن کے فن کار کو مجلسی آداب اور مقامی بنیا دوں پر خود کو کیوں صرف کرنا چاہیے؟
سلطان اختر کی نئی شاعری میں روایت کا ایک سلیقہ مند پرتَو نظر آتا ہے۔ جدیدیت کا ادبی ماحول اب ختم ہوچکا تھا اور ’انتساب‘ میں سلطان اختر جس اسلوب کی منتہا پر تھے، اس کے لیے تو ہرگز ماحول سازگار نہ تھا۔ سلطان اختر نے ہر دور کی شاعری میں روایت سے کچھ سیکھنے سمجھنے میں ہرگز کوتاہی نہیں کی تھی مگر اب انھیں روایت کے اُن عناصر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پڑی جن کے بغیر نئے ماحول میں شعر گوئی کا سکّہ قائم ہونا مشکل تھا۔ کسی بھی شاعر کی زندگی کا یہ بڑا نازک موڑ ہوتا ہے جب جدّت کے ہزار تجربوں کے بعد اس کے لیے اپنی روایت کے گُل بوٹوں کو چننے کی ضرورت پیدا ہوجائے۔ کبھی کبھی ایسے ہی موڑ پر جدید شاعر خالص کلاسیکی رنگ کا حامل ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے پچھلے رموز و علائم سے ازخود دست بردار ہوجاتا ہے یا ردِّعمل کی گولیاں کھاتے ہوئے خالص روایتی شعر کہنے کی مجبوری اوڑھ لیتا ہے۔ سلطان اختر کی نئی شاعری میں اگرچہ واضح طور پر تبدیلیاں نظر آتی ہیں لیکن جدید لب و لہجے سے دست برداری یا اعلانِ نجات کی کوئی خوٗنظر نہیں آتی بلکہ ایک سلجھا ہوا ارتقائی سلسلہ ملتا ہے جہاں ایک مشّاق شاعر وقت کے بدلنے کے ساتھ نیا لب و لہجہ اختیار کرلیتا ہے اور فکر و خیال کی قدرے مختلف دنیا آباد کرکے اپنے فن کا نیا مدار قائم کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں روایت اور انحراف کا توازن:سلطان اختر – ڈاکٹر عمیر منظر )
سلطان اختر ادبی رویوں کی تبدیلی کے اس مرحلے میں کسی عرصہئ صفر سے چھلنی نہ ہوئے۔ انھوں نے مفرّس اور معرّب ترکیبوں سے جدید شاعری کے زمانے میں جس کلاسیکی کیفیت کی تشکیل کرکے اپنے لیے ایک نیا لہجہ مقرر کیا تھا، اسی زینے سے وہ اپنی نئی شاعری کے اسلوبِ فکر کو شہپر عطا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی شاعری جدیدیت کے عہد سے ملتی ہوئی اور پھر اگلے مرحلے میں الگ ہوتی ہوئی معلوم ہونے لگی۔ صرف تراکیب کی دنیا سے نئی تخلیقی فضا قائم کرنا دشوار ہے۔ سلطان اختر نے نئے دور میں اسی پر قناعت کرلینے کی مجبوری نہیں اوڑھی۔ جدید شاعری کا انوکھاپن، لہجے کا بانک پن اور نئے استعارے وضع کرنے کا شوق انھوں نے اپنے دل و جگر میں بسایا ہوا تھا۔ اس کا انھیں یہ صاف صاف فائدہ حاصل ہوا کہ ان کی نئی شاعری نئے پُرانے کی آمیزش کے سلیقہ مند ہنر سے نئے ادبی منظر نامے کی تعمیر و تشکیل کے لیے سامنے آنے لگی۔ اس بحث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ سلطان اختر نے فکر اور اسلوب کے توازن میں اپنی نئی شاعری کے لیے جاے پناہ تلاش کی اور اسی ادبی رویّے سے وہ گذشتہ تین چار دہائیوں سے اسی معیار و اعتبار پر قائم ہیں۔ ان کے یہاں فکری و فنّی ٹھہراو یا تھکن کے آثار نظر نہیں آتے۔ ان کی لگاتار مشقِ سخن اس بات کا تقاضہ کرتی رہی ہے کہ ان کے اوصاف و امتیازات کی معقول پڑتال کی جائے۔
Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

