بڑے بھیا نے اپنی شادی کیلئے حامی بھر لی ہے اس خبر سے گھر میں سارے افراد کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے… برسوں کی کوشش آخر آج کامیاب ہو ہی گئی….. سب ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کررہے تھے
بھیاکیلیےلڑکی توپہلے ہی پسند کرلی گئی تھی پھر بڑے ماموں نے کہا
"جب سب کچھ طے ہے تو اگلے ہفتے بعد نماز جمعہ نکاح کی تقریب کا اہتمام ہوگا”
جب بھیا نے سنا تو امی کو جاکر صاف صاف کہہ دیا ” میں نے شادی کیلئے حامی ضرور بھر لی ہے پر میں دسمبر کے مہینے میں ہی شادی کرونگا”
گھر کے تمام افراد کے درمیان چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں کئیوں نے بھیا کا مذاق بھی اڑایا…. پھر مل بیٹھ کر یہی طے پایا کہ بھیا اتنی مشکل سے راضی ہوئے ہیں اس سے پہلے بات بگڑ جائے انکی بات مان لی جائے امی جان جن کو بھیا کی شادی کی جلدی تھی منھ بسور کے کہنے لگیں” دسمبر آنے میں ابھی چھ مہینے باقی ہیں پتہ نہیں اس وقت تک زندگی ساتھ دے گی بھی کے نہیں” پھر ماموں نے انہیں دلاسا دیا اور بات دسمبر کیلئے ہی طے ہوگئی
لیکن میرے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا… آخر بھیا نے دسمبر کا مہینہ ہی کیوں کہا…. جب کسی طرح اس بات کا سراغ نہیں ڈھونڈ پایا تو ہمت کر کے بھیا سے ہی پوچھنے انکے کمرے میں داخل ہوا بھیا کسی کتاب کا بڑے انہماک سے مطالعہ کر رہے تھے میں انکے بغل میں کھڑا ہوگیا کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد مجھے کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑا میرے کھانستے ہی وہ چونک پڑے
"کیا بات ہے یہ ہونکوں کی طرح کیوں کھڑے ہو” میری زبان لڑکھڑانے لگی
"ج ج جی… ک ک ک کچھ پوچھنا تھا آپ سے”
"تو پوچھو” بھیا نے مجھے گھورا
"آ آ آپ ناراض تو نہیں ہونگے”؟؟؟؟
"ارے تمہارے سوال سے میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگا” بھیا مسکراۓ….. انکی مسکراہٹ سے میری ہمت بڑھی اور میں نے جلدی سے پوچھ لیا
"بھیا آپ نے اپنی شادی کیلئے دسمبر کے مہینے پر ہی زور کیوں دیا….گھر کے لوگ کیسی کیسی باتیں بنا رہے ہیں ”
بھیا ایکدم سے سنجیدہ ہوگۓ… اچانک آٹھے اور کونے میں پڑے صندوق سے ایک شیروانی نکالی اور مجھ سے پوچھا”اسے پہچانتے ہو؟؟؟
” ارے یہ تو ابو کی شیروانی ہے ابو اسے اکثر جاڑے میں پہنا کرتے تھے”
"بھائی ابو آج ہمارے درمیان موجود نہیں انکی شیروانی جن میں انکا لمس انکی خوشبوبسی ہےاس شیروانی کو جب میں اپنے نکاح کے وقت زیب تن کرونگا تو مجھے لگے گا "ابو” میرے ساتھ ہیں”
میں دوڑ کر انکے گلے لگ گیا…. ہم خوب روۓ اور ابو کی شیروانی بھی ہم دونوں کے درمیان لپٹی رہی.

