خیال کی انجانی دنیاؤں کی سیر کرنے والے شاعر سے کیسے یہ ممکن ہوگا کہ وہ زندگی کے رومانی پہلوؤں سے گریز کا انداز اختیار کرے۔ باصر کی شاعری کے غیر رومانی آہنگ کو پہچاننے کے لیے ہم نے گذشتہ صفحات میں توجہ کی ہے مگر ایک مکمل شاعر زندگی کے اس پہلو سے کیوں کر علاحدگی رکھ سکتا ہے۔ باصر کی غزلوں میں عشق اور رومان کے تجربات ان کے مختلف اسلوب کا حصہ بن کر بڑے سلیقے کے ساتھ ہماری توجہ میں آتے ہیں۔ رومان کی اس کیفیت میں باصر کی انفرادیت تو جھلکتی ہی ہے مگر کئی بار ناصر کاظمی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں مگر اس پر وہ اکتفا نہیں کرتے۔ اس میں کلاسیکی مفاہیم بھی شامل ہیں اور بالکل نئے اور انوکھے کیف بھی۔ زندگی کے مختلف اور تہذیب و ثقافت کے جن اجنبی ذائقوں سے باصر سلطان کاظمی کی نئی بود و باش عبارت ہوئی، اس سے بیان کے دوچار اور دریچے بھی وا ہوئے۔ باصر کے رومانی او ر عاشقانہ اشعار کو پڑھتے ہوئے ان پر بہت مشکل سے روایتی ٹھپا لگایا جاسکتا ہے۔ بہ ظاہر غیر رومانی منطق کے سہارے چلنے والے اس شاعر کے جسم و جان میں ایک خوب خوب رومانی زندگی اپنے جلوے لٹاتی رہتی ہے، اسے جاننے اور سمجھنے کے لیے ذیل کے اشعار ہماری توجہ کا مرکز بنیں تو لطف آسکتا ہے:
(یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
(یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
نئے ساتھیوں کی دھُن میں تری دوستی کو چھوڑا
کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے
ہم ہی اسے آواز نہ دے پائے وگرنہ
اس نے تو بڑے پیار سے دیکھا تھا پلٹ کر
شکوہ کیا نہ ہم نے، پوچھا نہ حال تم نے
ڈرتے رہے ہیں شاید ہم ایک دوسرے سے
اب چاہے در بہ در ہی پھریں ہم تمام عمر
کافی ہے یہ کہ دل میں تمھارے کبھی رہے
ہم ابھی کچھ نہیں کہتے کہ جدائی ہے نئی
بھول جانا تجھے آسان بھی ہے مشکل بھی
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
فائدہ یہ ہے بچھڑنے کا کہ دل میں وہ مرے
ہے حسیں اتنا ہی جتنا کہ بچھڑتے ہوئے تھا
رومان کے یہ عام مناظر نہیں کہے جاسکتے۔ تجربات اور مضامین نئے ہیں جن میں نئی تہذیبی فضا اور ثقافت کی مختلف بنیادیں آسانی سے اپنا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ باصر کے یہاں عشق زندگی کے اگلے سفر تک ہمیں نہیں لے جاتا۔ یہ بھی سوچنا غلط ہوگا کہ دیوانگی کی جو بنیادیں مشرق میں ہیں، شاعر اس گہرائی تک مغرب میں رہتے ہوئے کیسے پہنچ سکتا ہے؟ ہمیں یہ غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ پروانہ وار عشق کا راگ مغرب والوں کو کہاں میسر ہے؟ ذیل کے اشعارمیں باصر کی شاعری کے اس رنگ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
شریکِ سازشِ دل ایسا کون تھا باصر
تو جس کا نام بھی ہم کو بتا نہیں سکتا
مرے سفر میں کئی منزلیں پڑیں لیکن
تری گلی میں عجب طرح دل دھڑکتا ہے
مجھ کو جلنا ہی تھا تو پھر اے دوست
میں تری رات کا دِیا ہوتا
آؤ کہ گِن سکوں گا نہ شامیں فراق کی
یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تِل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ
کسی کو حسرتِ دیدار نے ہلاک کیا
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھوگے بار بار تصویر
یہ سوچ کر کہ ملے گا ضرور اب کے جواب
نہ جانے لکھے ہیں خط کتنی بار اپنے نام
باصر محبت کے دیوانہ وار حوصلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ محبت میں جب جینا اور مرنا ایک ہوجائے اور خواب یا حقیقت کا فرق مٹ جائے تو اِسے عشق کی معراج مانتے ہیں۔ یہ بات صرف میر اور میر حسن کی شاعری کے لیے مخصوص نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ صرف پچھلے عہد میں ایسا ہوا ہے۔ زندگی ہے تو اس کی ہزار شیوگی بھی رہے گی اور جب تب اسے ہم دیکھ پائیں گے۔ باصر کے ذیل کے اشعار میں زندگی کا یہ رنگ اور عشق کا وارفتہ وار ڈوبنا ابھرنا بڑی آسانی سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
چمکی تھی ایک بر ق سی پھولوں کے آس پاس
پھر کیا ہوا چمن میں،مجھ کو خبر نہیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
یا تو مجنوں کی سی وحشت ہی دکھا ئی ہوتی
زندگی ورنہ قرینے سے بتائی ہوتی
نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے، تو ہی بجھا
یہیں زندگی ساز سے سوز کی آنچ تک پہنچتی ہے۔ باصر ظاہری طور پر باطنی کیفیات میں مبتلا زندگی کا پیکر نہیں معلوم ہوتے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی کے عاشقانہ طور کر (کو) سنبھالنے کے بعد شاعر اس انسانی سوز تک نہیں پہنچے جس کے بغیر شعر کو ادبِ عالیہ کا حصہ بناناممکن نہیں۔ کائنات، زندگی اور انسان کے کس گیت کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لافانی ہے؟ یہ تو کھلی حقیقت ہی ہے کہ ہمارے سب سے سُریلے بول سب سے غمگین کیفیت کی ترجمانی میں خلق ہوئے ہیں۔ باصر سلطان کاظمی کے یہاں زندگی کے ایسے محزوں نغمے کم نہیں ہیں۔ ضبط کی دیواریں غم کے ایوان بناتی چلتی ہیں اور انسان نڈھال ہوکر اس کیفیت کو اپنی جان کا حصہ بنائے رکھتا ہے۔ میر صاحب پہلے ہی بتا چکے ہیں: لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا۔ باصر کے ایسے اشعار قیمتی اثاثہ ہیں جہاں وہ صرف عاشقانہ شکست و ریخت سے دوچار نہیں ہوتے بلکہ اس جان کے زیاں کو بیت المال کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ کریں جہاں زندگی کا یہ مشکل اور گاڑھا رنگ ہماری توجہ کا حصہ بنتا ہے:
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصر
کون سا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
ہے وہی لاحاصلی، دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑنا ہے، کوہکن کوئی بھی ہو
چہکتی بولتی دھڑکن ہوئی ویران کیوں کر
کوئی پوچھے کبھی آکر مرے بیمار دل سے
بچھڑنے والے اپنے ساتھ کیا کیا لے گئے باصر
یہ دنیا دل نشیں اتنی نہیں اب، جتنی پہلے تھی
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
آج بارش ہوئی تو کیا باصر
جب زمیں جل رہی تھی، تب نہ ہوئی
کیوں ہے چہرا ترا اُترا اُترا
آنکھ بھی تھوڑی سی نم دیکھتے ہیں
باصرسلطان کا ظمی اس سوزِ دروں کے قیدی بن کر میر کی طرح یا بہت حد تک اپنے والد ناصر کاظمی کی طرح نڈھال ہوکر جینے پرقانع نہیں۔ زندگی کی ایک لَے اگر غم انگیز ہے تو شاعر کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس صارفی سماج میں دردو سوزو جستجو و آرزو کی قیمت کون سمجھنے والا ہے۔ زندگی نئے مسئلوں کی دہلیز تک کچھ اس انداز سے چلی آئی ہے کہ اب آمنے سامنے کا مقا بلہ ہے۔ باصر سلطان کاظمی اپنے عہد کے اس بدلتے انداز و اطوار سے پورے طور پر با خبر ہیں۔ برِ صغیرسے جاکر وہ برطانیہ میں ضرور مقیم ہوئے مگر براہِ راست انھوں نے درجنوں ممالک کے ادبی اسفار کیے ہیں جہاں یورپ،ایشیا، امریکہ جیسے بڑے برِ اعظم شامل ہیں۔ وہ ہم عصر زندگی کو صر ف ایک جذباتی ہیجان میں مبتلا ہو کر نہیں دیکھتے بلکہ اس سے آگے نکلتے ہیں اور عصرِ حاضر کی ہر سانس اور دھڑکن کو بہ غور سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کی جہاں دیدنی نے ہی ایسے مواقع عطا کیے ہیں کہ وہ زندگی کو بنانے کی جگہ بگاڑنے والے نظام کا بھی ایک تنقیدی جائزہ لیں۔ اس مرحلے میں ان کے یہاں ایک مخصوص طنز یہ اسلوب پیدا ہوتا ہے۔ باصر کی شاعری میں ایک جگہ خالص ظریفانہ رنگ بھی موجود ہے مگر ا ن کی ایسی شاعری جہاں اپنے عہد کے مختلف انداز کے نظام اور طریقہ ہاے کار کا جائزہ لینا ہوتو اپنے آپ ایک طنزیہ رنگ سامنے آجاتا ہے۔ دنیا کوجس اطمینان اور قرار سے چلنا چاہیے، دنیا اس ا نداز سے نہیں چل رہی ہے۔ باصر سلطان کاظمی اسے گہرائی سے اپنے شعر کا موضوع بناتے ہیں۔ اپنے عہد کے معاملات و مسائل کے احتساب میں باصر سلطان کاظمی کا تجزیاتی ذہن انھیں جن نتائج تک پہنچاتا ہے، اس کے مظاہر ذیل کے اشعار میں واضح طور پر نظر آتے ہیں :
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصر مکیں کہیں
دوستو محفوظ مت سمجھو تم اپنے آپ کو
ایک گھر کی آگ سے لگ جائے گی ہر گھر کو آگ
اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین
اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ
مثلِ سیارگاں بنی آدم
اپنے اپنے مدار میں مصروف
چند چھینٹے پڑے تھے بارش کے
شہر میں ہر طرف ہوا کیچڑ
زندگی تو اسی طرح سے ہے
کبھی آسان اور کبھی مشکل
عصرِ حاضرکے مختلف امور پر غور و فکر کرتے ہوئے حقیقت نگاری کے بہت سارے رنگوں کو ابھارنے میں باصر کامیاب ہوتے ہیں۔ جس زندگی کو وہ بہ نظرِ غائردیکھتے ہیں، وہاں انسانیت کی شکست اور عام لوگوں کا نقصان ہی نظر آتا ہے۔ آخر یہ زندگی ہمیں ایسی کیوں ملی؟ باصر زندگی اور کائنات کے تجزیے کے مرحلے میں ایسے حقائق کی تلاش اور پیش کش میں مصروف نظر آتے ہیں جہاں زندگی صرف مشکل نہیں نظر آتی بلکہ حالات اتنے دگر گوں ہو گئے ہیں کہ انھیں سنبھالنا مشکل ہے۔ باصر کے یہاں موجودہ عہد کی ایسی ہی ہیبت ناک تصویریں جگہ جگہ نظر آتی ہیں :
یہ بھی اب کے بھری بہار میں دیکھ
باغ میں کوئی گل شگفتہ نہیں
یہاں نہ جینے کاوہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آکر رہو پرائی جگہ
معلّق ہو گئے باصر فضا میں
زمیں چھوٹی تو روٹھا آسماں بھی
اب ہم ہی کریں گے صاف یہ شہر
ہم نے ہی اسے کیا ہے گندا
ہیں سارے کے سارے آدم خور
شہروں میں جو شیر چیتے ہیں
سر بلندی کی آرزو کے ساتھ
دل میں کچھ خوفِ انہدام بھی ہے
زندگی جب ایسی مشکل رہے گی تو چارو ناچار اپنے آپ ایک طنز یہ اسلوب پیدا ہوگا۔ اس کے بغیر باتیں وہاں تک نہیں پہنچ پائیں گی جہاں تک شاعر کو پہنچاناہے۔باصر سلطان کاظمی زندگی کے دردو سوز کو بیان کے مرحلے میں طنز کے لہجے میں تبدیل کر تے ہوئے اپنے غم و غصّے کو واضح کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گفتار کے اسلوب پر قابو کے باوجود کہیں کہیں بیان میں برہنگی بھی نظر آتی ہے جو ہمارے عہد کا ایک لازمی حصّہ ہے۔ طنز نگار جب اپنی باتیں کرے گا تو اس میں کچھ نہ کچھ غزل کے عمومی مزاج اور آزمائی ہوئی زبان کی توسیع کرتے ہوئے اپنا نیا کلام بھی اُسے پیش کرناہوتاہے۔ باصر سلطان کاظمی کے یہ اشعار ملاحظہ کریں جہاں ان کا طنزیہ اسلوب اپنی واضح شکل اختیار کرتاہوا معلوم ہوتا ہے:
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں باصر
یہ کیا دنیا بنائی ہے خدا نے
ایسے پڑے ہوئے ہیں لبوں پر ہمارے قفل
ہم بھول ہی گئے ہیں کہ منہ میں زبان ہے
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصر آگہی تو
ابھی زمین پہ جنّت نہیں بنی یارو!
جہاں کے قصّے سناتے ہو، ہم وہاں بھی رہے
باتیں تو بڑی بڑی کریں گے
میدان میں طفل سے ڈریں گے
ہوئی کسی کی توجہ نہ جس عمارت پر
اُسی کے ملبے میں بکھری ہیں جا بہ جا خبریں
باصر اپنے عہد کے مسئلوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے سیاست دانوں کے اعمال تک پہنچتے ہیں۔ دنیا واقعتا ایک سیاسی بساط ہے اور لوگ باگ کی حیثیت شطرنج کے مہروں سے زیادہ نہیں۔ ایوانِ اقتدار میں چال چلتے ہیں اور پیادہ سے لے کر وزیروں تک موقع بہ موقع اوندھے منھ گرتے ہیں۔ بس شہ کو مات نہیں ہے۔ اقتدار کی طاقت دنیا میں روز بہ روز بڑھتی ہی گئی۔ جمہوریت کی آمدکے باوجودمزاج میں بادشاہت کچھ اس طرح سے رواں دواں ہے کہ عام انسان کی شکست اور اس کے بکھراوکے علاوہ کوئی اور خوش کُن بات نظر نہیں آتی۔ باصر شاید اسی لیے اپنی شاعری میں ایوانِ سیاست پر سخت ضرب لگاتے ہیں۔ وہ زندگی اورکائنات کے ہر موڑ پر گراوٹوں کے اسباب کی تلاش میں اصحابِ اقتدار کو بجا طور پر طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ باصر کے یہاں اس کی مختلف سطحیں ہیں۔پہلی سطح اصولیات کی ہے۔ چند اشعار اس سلسلے سے ملاحظہ ہوں:
ہو اقلیمِ شہنشاہی کہ جمہوری ولایت
رعایا کی کبھی ہوتی نہیں سرکار دِل سے
اگر محکوم ہی رہنا تھا ہم کو
تو کیا جمہوریت، کیا بادشاہت
بہت بھاگے تھے باصر آمروں سے
ملی دنیا میں ہر جا بادشاہت
اس مرحلے میں ’میرِ کارواں‘ زیرِ بحث آتے ہیں۔ اقبال نے یقیں محکم، عمل پیہم،محبت فاتحِ عالم کے اوصاف پہچانے تھے۔ دوسری جگہ ’خوے دل نوازی‘ کی اصطلاح ظاہر کی۔ اقبال نے کہا کہ اس کے بغیر کوئی کارواں سے ٹوٹا اور کوئی حرم سے ہی بدگماں ہو گیا۔ باصر سلطان کاظمی کے یہاں کوئی مذہبی اصطلاح اکثر و بیشتر نظر نہیں آتی مگر اقبال کی اس اصطلاح کے نئے معنیٰ تلاش کرنے میں وہ گریز نہیں کرتے۔ ان کا تجزیہ بڑا سفّاک ہے اوراس میں ہر دل کی آواز پیوست ہو گئی ہے: (یہ بھی پڑھیں مقدمۂ تنقیدچہ ومضمون چہ – مبین صدیقی )
رہتا ہے کارواں سے الگ میرِ کارواں
اے اہلِ کارواں یہ عجب رہبری ہوئی
جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصر
کچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی رہے
باصر اس نظام کی نا اہلی پر بڑے سلیقے سے اپنی منطقیں پیش کرتے ہیں۔ طنز میں زہر افشانی سے ان کا زیادہ سرو کار نہیں۔وہ اسی سا دہ انداز میں اپنی نہایت مشکل باتیں بھی پیش کر دیتے ہیں۔ حالات کی بے یقینی اور اس بے یقینی میں جرم کس کا ہے، اس پہلو کو غورو فکر کا موضوع کچھ اس طرح سے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں چند اشعار:
کبھی سزا بھی ملے گی اُسے مگر فی الحال
یہی بہت ہے بُرے کو بُرا کہا تو گیا
سرکار کا ہے اپنا ہی معیارِ انتخاب
یارو کہاں کی خوبیاں، کیسی خرابیاں
باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے، سنوارا کم ہے
آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو
مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک
دیس کی کایا پلٹنے کے لیے
ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت
شاخِ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے
اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ
سیاسی امور پر تحلیل و تجزیہ کا یہ رنگ باصر کی شاعری میں اور بھی کئی انداز سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ بڑی محنت اورمحبت سے نئی توجیہات پیش کرتے ہیں۔ کبھی ہم زیرِ لب مسکراتے ہیں اور کبھی ہماری آنکھیں بھر جاتی ہیں۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ کریں جہاں چوتھے شعر تک پہنچتے پہنچتے باصر کہنے کی ایک نئی بات سامنے لے آتے ہیں اور عوام کی عدالت میں یہ سوال اٹھا دیتے ہیں کہ لوگ ادیبوں شاعروں اور مفکر وں کی بھی کبھی سنیں گے یا صرف سیاست دانوں کے چکر میں ہی ہلکان ہوتے رہیں گے۔
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہ دام شکایت
ہے اتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے
خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا
کب تک کروگے اہلِ سیاست پہ اعتبار
یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی
باصر اس احتساب میں کسی حصولیابی کے لیے نہیں آئے۔ وہ ذاتی نفع نقصان سے الگ اپنے عہد اور زندگی کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ زندگی سے ان کا معاملہ ایک قناعت پسند اور فقر و فاقہ کو حرزِ جاں بنائے رکھنے والے انسان کا ہے۔ انھوں نے انسان کے تذ بذب اوراس کی وابستگیوں کو بھی نگاہ میں رکھا مگر آخری طور پر وہ طمع و حرص سے دورایک گو شۂ عافیت ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا
مسافروں کی طرح ہم رہے‘ جہاں بھی رہے
مرا اعمال نامہ مختصر ہے
تہی دستم ولیکن شادمانم
مل گئی دنیا ہی میں ہمیں
باصر سزا جزا کافی
آسائشِ دنیا کا سامان کچھ ایسا ہے
چھوڑا بھی نہیں جاتا‘ ڈھویا بھی نہیں جاتا
باصر سلطان کی شاعری کے موضوعاتی مطالعے میں اگر دوستی دشمنی کا موضوع شامل نہ کیا جائے تو یہ بے انصافی ہوگی کیوں کہ ان کے یہاں عصرِ حاضر کے تناظر میں اس آفاقی رشتے کی طرح طرح سے جانچ پڑتال ملتی ہے۔ جدیدیت کے زمانے میں مظہر امام کا یہ شعر لوگوں کی زبان پر تھا:
دوستوں سے ملاقات کی شام ہے
یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا
سلطان اختر نے بھی اپنے ارد گرد کا جب جائزہ لیا تو یہ شکایت کی:
اس سے ملنے کی بات تھی لیکن
دوستوں نے اچک لیا اتوار
باصر کاظمی نے نئی دنیا کے اس مسئلے کواپنے طور پر دیکھا اور سمجھا ہے اور پھر مسئلے کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوستوں اور دشمنوں کو ایک انداز سے پانے کے عذاب میں آج شاید سب مبتلا ہیں مگر با صر نے اس اجتماعی تکلیف کو گہرائی سے محسوس کیا اورایسے پُٖر اثر اشعار پیش کیے:
پھرہمیں جستجو ہوئی اس کی
دشمنی جس کی دوستی جیسی
ویسے تو وہ دوست ہیں سبھی کے
کام آتے ہیں پر کسی کسی کے
کیا بات کرتے ہو دوستی کی
قابل نہیں وہ تو دشمنی کے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں، اس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے، ہمارا کم ہے
ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا
وہ بھی دشمن سے جا ملا ہے، ٹھیک
دشمن کی نہیں کوئی ضرورت
آپس ہی میں ہم لڑیں مریں گے
میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تک
باصر بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے
ایک دشمن کی کمی تھی باصر
وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی
دوستی میں دیکھتے ہیں وہ بس اپنا فائدہ
پھول پھل سے اُن کو دل چسپی ہے، پودے سے نہیں
ہے دوستی کی طرح دشمنی کا اپنا لطف
حریف بن کے ملے ہو تو یاریوں بھی سہی
باصر کی شاعری کے غیر رومانی اور ظریفانہ انداز و اطوار پر اس مقالے کے آغاز میں جو بحث کی گئی ہے، اس کا ایک پُر لطف ذائقہ ان کی شاعری میں استعمال شدہ محاورات اورضرب الامثال کے ساتھ ساتھ تعداد اور ہندسوں کے استعمال میں نظر آتا ہے۔ ہر بڑے شاعر کے یہاں کلاسیک سے استفادہ کی یہ ایک عمومی صورت ہے مگر باصر سلطان کاظمی نے جس بڑی تعدادمیں انھیں استعمال کیا ہے، اس پہ حیرت ہوتی ہے اور فی زمانہ ایسی مثالیں کم یاب ہیں۔ یہ روایت سے اکتساب تو ہے ہی لیکن ردِّ تشکیل کے طور پر باصر ہماری شہری زندگی کو کھیل کھیل میں آئینہ کر دیتے ہیں۔ باصر یہ بھی خطر ہ مول لیتے ہیں کہ نئی زندگی کے بیان میں ان کا اسلوب اپنے عہد کی کلفتوں کے حوالے سے کہیں ظریفانہ آہنگ میں ہمیں قید نہ کر لے۔ یہ شاعر اور قاری دونوں کے لیے بے حد مشکل گھڑی ہے مگر شاعر ان مراحل میں پورے طور پر کامیاب نظر آتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حسن سولہ سنگھار میں مصروف
کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا
کرتاہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات
تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں
جو کبھی پہلے تین چار میں تھے
عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
انھیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی
کچھ راہ نماؤ ں کے بیانات کی حد تک
خوب ہیں پھول جو دوچار کھِلے ہیں باصر
چارچھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ
اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
کیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ
باصرسلطان کاظمی کی ادبی حیثیت کی کئی جہات ہیں۔ بیانِ غزل میں ہی صفحات پر وں سے اڑتے چلے گئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ پڑھنے والے سے کیا کیا کہا جائے۔ شاعری میں نظم نگاری اور نثر میں ڈراما نگاری پر بھی اظہارِ خیال ضروری تھا۔ اسے ابھی بہ شرطِ زندگی موخّر کرتے ہیں۔ باصر کی شاعری کچھ الگ انداز کی ہے اور ہماری زبان کے عمومی رویوں سے بار با ر الگ ہوتی ہوئی معلوم پڑتی ہے۔ ایسا ادب جو ہمارے سانچے سے ذر ا مختلف ہو، اسے پہچاننے اور پرکھنے میں اکثر دشواریو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باصر کے لیے ان کے والدِ گرامی کی شاعری ایک موثر حوالے کی طرح رہی اور شاید اس طور پر بھی ان کے فن کو پرکھنے کی کوشش کی گئی مگریہ شاعر کچھ ایسا مختلف انداز رکھتا تھاجسے پورے طور پر پانے کے لیے اپنی روایتِ شعر سے الگ ہو کر بھی دیکھنے کی ضرورت تھی۔ یہ کام اکثر و بیشتر توجہ کے ساتھ نہیں ہوا۔ اس مضمون میں اس سمت ایک ابتدائی کوشش کی گئی ہے جس سے یہ توقع ہے کہ باصر فہمی کی بعض آسانیاں پیدا ہوں گی اور شاعر کے قدردانوں کی تعداد میں لازمی طور پر اضافہ ہوگا۔
Dr. Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

