Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگنصابی مواد

اکبر الٰہ آبادی ، نفسیاتی استعماریت ، توپ اور پروفیسر کی طاقت” – پروفیسر ناصر عباس نیّر

by adbimiras جولائی 2, 2021
by adbimiras جولائی 2, 2021 0 comment

اکبر کی ردّ استعماری جہت بہ یک وقت ظاہری اور باطنی ہے۔ اردو کے وہ پہلے تخلیق کار ہیں جنھوں نے منکشف کیا کہ استعمار یت داخلی اور نفسیاتی بھی ہوتی ہے۔

توپ کھسکی پروفیسر پہنچے

جب بسولہ ہٹا تو رندہ ہے

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے

جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے فقط سرکاری ہے

وہ کہتے ہیں یہ ٹھیک ہے ہم کہتے ہیں جی ہاں

بالفعل تو ہم اس کے سوا کچھ نہیں کرتے

اصل یہ ہے کہ استعماریت ،’ایک نئی دنیاپیدا اور مسخر کرنے ‘کا نہایت ولولہ خیز ،پر شکوہ تصور ہے ۔اس کے اجزا نہ صرف ایک دوسرے سے مربوط ہیں ،بلکہ یہ مسلسل نمو کرتے ،آگے سے آگے بڑھتے ،نئی وسعتیں اور نئی گہرائیاں تسخیر کرتے ہیں۔اپنے تجسس و تحقیق کی اس نہ مٹنے والی پیاس کی مدد سے استعماریت اپنی ’اصل‘ کوان لوگوں سے چھپانے میں اکثر کامیاب ہوتی ہے،جنھیں یہ نشانہ بناتی ہے ۔اپنے عمل میں استعماری تصور اس ہاتھی کی طرح ہوتا ہے جو کہیں داخل ہونے سے پہلے اپنی سونڈ سمانے کی اجازت چاہتا ہے اور رفتہ رفتہ اپنے پورے جثے کو بھی کھینچ لاتا ہے،اور پھر ساری ترتیب بدل ڈالتا ہے؛تاریخ،جغرافیے ،نفسیات کی۔تاریخی طورپر استعماریت اپنا آغازتجارت و سیاست سے کرتی ، استحکام ثقافت کے ذریعے حاصل کرتی اور اپنی تکمیل نفسیاتی تبدیلیوں کی صورت میں کرتی ہے۔اکبر کے مصرعے ’توپ کھسکی پروفیسر پہنچے ‘ میں یہی تاریخی حقیقت بیان ہوئی ہے ۔قمرالدین احمد نے اسی ضمن میں اکبر کی گفت گو کا حوالہ دیا ہے کہ ’’ یورپین سیاست ،میدان ِ جنگ اور مکاتب دونوں سے یکساں مفید کام لیتی ہے ۔اہل ِ یورپ پہلے جنگ کے تمام شدائد پورے کرکے زیر کرتے ہیں۔اس کے بعد مفتوحہ ملک میں اپنے مدارس جاری کرکے قلوب کو اپنے رنگ پر لاتے ہیں‘‘ ۔اکبر داخلی استعماریت کے کچھ اسباب اورچند اثرات کو ظریفانہ طرز میں پیش کرتے ہیں۔ مثلاً یورپ والے ایک ایسے اختیار کے حامل ہیں کہ جو چاہیں ہندوستانیوں کے دلوں میں بھر دیتے ہیں۔خاص طور پر سرکاری تعلیم کے ذریعے جسے اکبر بازاری کہتے ہیں۔لفظ’بازاری‘ میں ذو معنویت ہے؛بازار ،تجارت کی شے اور گھٹیا۔نو آبادیاتی تعلیم ،ادنیٰ درجے کی سرکاری نوکری ’خریدنے‘کا ذریعہ ہے ،اور یہ شخصیت کی تہذیب و تطہیر کے بلند مقصد سے تہی ہے،اور اس لیے گھٹیاہے۔یہ تعلیم آدمی نہیں ،کلرک پیدا کرتی ہے۔ سماج کو آدمی نہیں ملتا،البتہ سرکاری انتظامی مشینری کو سستے داموں پرزے ضرور مل جاتے ہیں۔اکبر نے تعلیم اور کلرک کے اس تعلق کو کئی مقامات پر طنز کا نشانہ بنایا ہے۔مثلاًان کا مشہور شعر ہے:ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے؍بی اے ہوئے،نوکر ہوئے،پنشن ملی پھر مر گئے؛کھا ڈبل روٹی ،کلرکی کر خوشی سے پھول جا۔سوال یہ ہے کہ کیا استعمار زدوں کو یہ علم نہیں ہو پاتا کہ ان کی طبیعت تبدیل کی جارہی ہے؟اگر علم ہوتا ہے تو وہ اس تبدیلی کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کرتے؟یہ دونوں سوال طاقت کی حرکیات سے متعلق ہیں۔

توپ اور پروفیسر،دونوں طاقت کامنبع ہیں۔ایک طاقت کی مادی شکل ہے اور دوسری ذہنی و علمی ۔اکبر کا یہ انکشاف غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ نو آبادیات دو قسم کی طاقتوں کی مدد سے قائم ہوتی ہے ۔بارود کی طاقت (توپ )اور علم کی طاقت (پروفیسر)۔وہ ان کی مدد سے نو آبادیاتی طاقت کی حرکیات کو واضح کرتے ہیں۔ہر چند دونوں طاقت کی الگ الگ قسمیں ہیں،مگر وہ ایک ہی نظام کی تشکیل میں مرحلہ وار کام میں لائی جاتی ہیں۔بارود کی طاقت کے ذریعے آدمی کی عصبی قوت مفلوج کی جاتی اور علم کی طاقت کی مدد سے اس کی ذہنی و تخیلی توانائی پر تصرف حاصل کیا جاتا اور پھراسے خاص رخ پر ڈھالا جاتا ہے۔اکبر کی نظر کو بلاشبہ داد ملنی چاہیے کہ وہ عصبی اور ذہنی طاقت میں تعلق دریافت کرتی ہے ۔ عصبی طاقت کے مفلوج ہوجانے کے بعد علم کی طاقت کام کرنا شروع کرتی ہے ۔تاہم اس رشتے کی نوعیت تاریخی ہے ،نامیاتی نہیں۔یعنی نو آبادیات نے بارود وعلم کی طاقتوں کے باہمی تعلق کا یہ تصور پیش کیا ہے ،اس کے علاوہ بھی دونوں کا رشتہ ممکن ہے ۔(یہ بھی پڑھیں "بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

اکبربارود اور علم کی طاقت کی دونوں صورتوں کو دیسی علامتوں کے ذریعے بھی واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں:بسولہ اور رندہ۔رندہ کسی حدتک پروفیسر کا مقامی مترداف بنتا ہے ،مگر بسولہ توپ کا مترادف نہیں،اس لیے کہ بسولہ لکڑی کو چھیلتا ہے،توپ کی طرح اس کے پرخچے نہیں اڑاتا۔البتہ رندے کے ذریعے جس طرح چھیلی ہوئی لکڑی کی سطح ہموار کی جاتی ہے ،اس کے بھدے ،ٹیرھے ترچھے حصوں کو صاف کیا جاتا ہے ، اسی طرح پروفیسر بھی ایک نیا ذہن،نیا زاویۂ نظر تشکیل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔اکبر داخلی استعماریت کی ضمن میں طاقت کی جس حرکیات کو واضح کرنا چاہتے ہیں،وہ بسولے اور رندے سے عمدگی سے واضح ہوتی ہے۔استعمار کار اپنی رعایا کو شے(لکڑی) سمجھتا ہے،اپنے علم کی طاقت سے اسے خاص شکل دیتا ہے،سوچنے، سمجھنے اور دنیا کو جاننے کے خاص زاویہ ء نظرکی تشکیل کرتا ہے۔اصل یہ ہے کہ داخلی استعماریت کی تشکیل میں بسولہ ہٹتا نہیں،پہلے بسولہ کام کرتا ہے ،اور پھر رندہ۔استعمار کا کام اچھا خاصابڑھئی کا کام ہے۔ہندوستانیوں کے شے بننے کی بات اکبر نے ایک قطعے میں کہی ہے:

یہ بات غلط کہ ملک اسلام ہے ہند

یہ جھوٹ کہ ملکِ لچھمن و رام ہے ہند

ہم سب ہیں مطیع و خیر خواہِ انگلش

یورپ کے لیے بس ایک گودام ہے ہند

گویا یورپ کی طاقت نے ’ہم سب‘ہندوستانیوں کو اشیا میں بدل دیا ہے؛ہماری انسانی شناختیں مسخ کردی گئی ہیں۔’وہ ‘جو کچھ کہتے ہیں ،’ہم ‘ بس ہاں کرتے ہیں؛ہمیں حکم ِ خاموشی ہے ،اور ہم اس کو بجا لارہے ہیں ۔(بسولہ اور رندہ چل رہے ہیں)۔’ان ‘ کے پاس زبان ہے اور ہم فقط ’کان ‘ ہیں۔جھوٹ اور سچ میں امتیاز کرنا ہمار اکام نہیں،سننا ہمارا فرض ہے اوراسے ’ہم ‘ ادا کیے جارہے ہیں۔ایک مقام پر اکبر کا طنز شدید ہو گیا ہے : شکر چشم و گوش کرتا ہوں مگر یارب یہ کیا ؍آنکھ بھنگے کے حوالے کان مچھر کے سپرد۔شناختوں کے مسخ ہونے کو ایک دوسری جگہ ، ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے حوالے سے بیان کیا ہے: ہم تو انسان سے بنے جاتے ہیں بندر اے حضور؍آپ خوش قسمت تھے بندر سے جو انساں ہو گئے۔ شے،اور بندر داخلی استعماریت کے پایہ ء تکمیل کو پہنچنے کی علامتیں ہیں۔دونوں بنیادی انسانی وصف،شعورِ انفرادی اور قوتِ ارادی سے محروم ہوتے ہیںجو اپنی حالت کو بدلنے،تاریخ کا رخ تبدیل کرنے ،اور طاقت کی حرکیات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔اکبر چوں کہ ظرافت نگار ہیں،اس لیے وہ تاریخی عوامل کے تجزیے کے بجائے،ان کے اثرات کو موضوع بناتے ہیں۔تاہم وہ اس امر کی طرف اپنے مخصوص طنزیہ پیرائے میں اشارہ ضرور کرتے ہیں کہ داخلی استعماریت یک طرفہ نہیں ہوتی؛ استعمار زدہ بھی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ ’اطاعت و خیر خواہی ‘یا معمولی فائدے کی غرض سے خود کو شے کے طور پرقبول کر لیتا ہے،یا پھر بندر کے مرتبے پر قناعت کر لیتا ہے۔دوسرے لفظوں میں وہ توپ کی طاقت کے آگے آدمی کو بے بس ضرور سمجھتے ہیں،مگر پروفیسر کے سامنے نہیں؛مادی طاقت باہر سے حاصل کرنا پڑتی ہے،مگر ذہنی وتخیلی طاقت اندر سے برآمد ہوتی ہے،اور یہی وہ طاقت ہے جو آدمی کو شے یا بندر بننے سے روک سکتی ہے ؛بسولے اور رندے کے آگے بے بس لکڑی کی طرح پڑے رہنے سے باز رکھ سکتی ہے۔اکبر اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ عصبی طاقت کے چھن جانے کے باوجود ذہن کی طاقت کا احیا ممکن ہے ۔جوہر کے وجود پر مقدم ہونے ،یاشعور کے مادے پر فائق ہونے کے اس تصور کی وجہ ہی سے اکبر داخلی استعماریت سے نجات کا امکان پیش کرتے ہیں۔ایک قسم کی رجائیت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اکبر کے نزدیک ’اندر ‘سے مراد اپنے تخیل میں محفوظ اپنی ’ہسٹری و لٹریچر ‘ ہے ،جسے وہ اساس سمجھتے اور عظمت ِ گزشتہ کا تفاخر آمیز وسیلہ خیال کرتے ہیں۔درج ذیل قطعے میں اسی جانب اشارہ کرتے اور ان لوگوں کو طنز کی زد پر رکھتے ہیں جو اپنی سہل انگاری کی وجہ سے ’اندر کی طاقت ‘سے بے خبر رہتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ” جنسی گھٹن ، جنسی ہوس اور بنیادی بے معنویت” – پروفیسر ناصر عباس نیّر)

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا

چار دن کی زندگی ہے کوفت سے فائدہ

کھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا

اکبرتقلیدِ یورپ ،داخلی استعماریت اور حافظے کی گم شدگی کوباہم منسلک قرار دیتے ہیں۔تاریخ کو مسخ کرنے ،رومی و غزالی کی جگہ سپنسر و مل کو رائج کرنے کا ذمہ دار استعمار ہے،مگر اپنے تاریخی حافظے سے دوری کے ذمہ دار خود ہندوستانی ہیں۔اکبر اس ضمن میں اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہبوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیتے ۔وہ اس رائے کے حامل محسوس ہوتے ہیں کہ اندر ؍ذہن ؍حافظے کی طاقت کو اس طرح مفلوج نہیں کیا جا سکتا ،جس طرح عصبی طاقت کو۔دوسرے لفظوں میں وہ بارود کی تباہ کن طاقت کا انکار نہیں کرتے،مگر ذہن کی طاقت کے مقابلے میں اسے ’محدود‘ سمجھتے ہیں۔بارود پرخچے اڑاسکتا ہے، مگر رندہ بے جان لکڑی سے نئی نئی اشیا خلق کر سکتا ہے؛رندہ لکڑی میں اس شبیہ کو منتقل کرسکتا ہے،جسے رندہ چلانے والے کے تخیل نے تراشا ہوتا ہے؛سادہ لفظوں میں’علم کی طاقت‘ اصل میں تخلیقی ہوتی ہے،اور یہ اسی وقت طاقت ور کا استعماری آلہ بنتی ہے ،جب کوئی خود کو شے کے طور پر ،لکڑی کے طور پر قبول کرلے؛بارود کی طاقت چوں کہ ایک مقام پر سمٹی ہوتی اور محدود ہوتی ہے، اس لیے اس پر اجارہ ممکن ہے،مگر ’علم کی طاقت‘ پر اجارہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے ،جب کوئی شخص یا گروہ اس طاقت کے سامنے اسی طرح جھک جائے ،جس طرح رندے کے آگے لکڑی ،یا پروفیسر کے سامنے اندھے مقلدین ،یک سر غیر تنقیدی رجحان کے حامل اشخاص؛ بندر کی طرح کرتب دکھانے والے،سہل انگار،اپنے حال سے بے خبر،حافظے کی گم شدگی کے مریض اور مستقبل کے سلسلے میں جانوروں کی طرح بے حس۔اکبر ایک جگہ کہتے ہیں : اوروں کی کہی ہوئی جو دہراتے ہیں؍وہ فونو گراف کی طرح گاتے ہیں؛ خود سوچ کے حسب حال مضمون نکال ؍انسان یوںہی ترقیاں نہیں پاتے ہیں۔فونو گراف کی طرح میکانکی انداز میں ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں دہرانے والے ،مقلدِ محض اپنے اندر کی طاقت سے ،محض اپنی سہل انگاری ،یا معمولی مفاد پرستی کی وجہ سے بے خبر ہوتے ہیں۔وہ نقل ِ وضعِ مغربی اورکلرکی کے جنون میں اپنی اس آزادی کو کھو دیتے ہیں جو اپنی ثقافت و تاریخ سے ایک زندہ ربط کے لیے ناگزیر ہے۔اسے اکبر قوم کی بدبختی قرار دیتے ہیں۔

کیا کہوں میں اس کو بد بختیِ نیشن کے سوا

اس کو آتا نہیں اب کچھ امیٹیشن کے سوا

یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اکبر ذہن کی طاقت کا جو تصور رکھتے ہیں،وہ احیائی ہے ، تخلیقی نہیں۔ وہ تقلید یا امیٹیشن کو اس لیے قوم کی بد بختی کہتے ہیں کہ وہ اجداد کے افسانے بھول چکی ہے ۔دوسرے لفظوں میں ان کی نظر میں داخلی استعماریت سے بچنے کی موزوں صورت اپنی ہسٹری و لٹریچر کو اپنے حافظے کا حصہ بنائے رکھنا ،اور اپنی ثقافتی شناخت کی علامتوں کا احیاہے ۔ نئے تناظر میں اس ہسٹری و لٹریچر کی توجیہ و تعبیر کیاہو سکتی ہے ، اور کس طرح نئے تخلیقی رویے پیدا ہوسکتے ہیں،یہ باتیں اکبر کی ردّا ستعماری جہت کا حصہ نہیں بن پاتیں۔اکبر کا مقصود ذہن کی لامحدود ، تخلیقی طاقت کی طرف توجہ دلانا نہیں۔ انھیںاپنے ثقافتی حافظے کی گم شدگی اور بازیافت تک محدود بساط ِ ذہن کا تصور پیش کرنا منظور تھا۔

(اردو ادب کی تشکیل جدید، مطبوعہ 2016ء سے اقتباس )

 

نوٹ: یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیّر صاحب کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد ممنون ہیہں۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

اکبر الہ آبادیناصر عباس نیر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
صدائے شب آویز – جاوید ہمایوں
اگلی پوسٹ
غزل۔ احمد فراز

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں