Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

صدائے شب آویز – جاوید ہمایوں

by adbimiras جولائی 2, 2021
by adbimiras جولائی 2, 2021 0 comment

قمر صدیقی کی شخصیت میں کئی اکائیاں ہیں۔ ہر اکائی خود میں مکمل ہے۔ جب کسی چیز میں کئی اکائیاں ہوتی ہیں تویہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اور ان کی اپنی حدیں بھی ہوتی ہیں۔تاہم ہمہ وقت سیال بھی ہوتی ہیں، جس کے نتیجے یہ اکائیاں آپسی تعامل کے سبب کسی وجود کی تشکیل اور شناخت کرتی ہیں۔ اسے اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی درخت میں جڑ، تنے، پتے، پھول اور پھل ہوتے ہیں۔ اپنے تفاعل اور کارکردگی کی وجہ سے سب کی اپنی اپنی جداگانہ پہچان ہوتی ہے، سب کی اپنی اہمیت ہے اور سبھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سامان زندگی بہم پہنچاتے ہیں اور ہم اسے واحدے کے طور پر درخت کہتے ہیں۔ قمر صدیقی کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور کاوشوں کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ان میں گوناگوں پہلو اور اوصاف نظر آتے ہیں۔ قمر صدیقی ایک مشفق اور فعال استاد ہیں۔ اپنے شاگردوں کے تئیں نہ صرف مخلص ہیں بلکہ جدید مواصلاتی نظام کے توسط سے شاگردوں کے نصابات کے مواد کی فراہمی بھی کرتے ہیں۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے تعلق سے ان کی کوششیں اس لیے قابل تحسین ہیں۔ممبئی کے ساتھ پورے مہاراشٹر میں کہاں کہاں اردو ذریعہء تعلیم ہے، کتنے اردو میڈیم اسکول ہیں اور ان کی ضروریات و مشکلات کیا ہیں، پورا ڈاٹا بیس تیار کر رکھاہے۔دوسری طرف 1988 سے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے اپنے معیار اوررنگ و آہنگ کا رسالہ ”اردو چینل“ نکال کر ایک لائق مدیر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، جو خود میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔تیسرا بڑا وصف ان کی ادبی زندگی سے متعلق ہے اور اس میں جہاں ایک طرف نقد و تنقید کی وقیع تحریریں ہیں تو دوسری طرف شاعری کی مروجہ اصناف کی تخلیقات ہیں۔ مذکورہ اکائیوں سے جو آمیزہ تیار ہوتا ہے وہ قمر صدیقی کا شناخت نامہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مُستنصرحسین تارڑکے ناول "بہاؤ” کافکری وفنی مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین )

کسی شاعر کی تخلیقی نگارشات کی تفہیم و تقدیر کے دو اصول رائج رہے ہیں۔ اول یہ کہ براہ راست متن پر گفتگو ہو۔ دوم یہ کے اس کی شخصی زندگی کو بھی پیش نظر رکھ کر تعین قدر کیا جائے۔ پہلا اصول یقینا صائب ہے مگر اس اصول میں بھی متن کی گفتگو کے درمیان شاعر کی زندگی کی اگر ذاتی معلومات شامل نہ بھی ہوں،تب بھی متعلقہ شاعر کی علمی سرگرمیوں اور فتوحات کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ شعر (نظم و غزل وغیرہ)کے داخلی و خارجی محرکات کا تجزیہ آسان ہو سکے۔ میرے خیال میں یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ متن یا تخلیق کے تجزیے کے دوران مصنف نے کن کن مظاہر و عوامل سے اکتساب کیا ہے اور اس کے مطالعے میں کیسی کیسی کتابیں رہی ہیں اور یہ بھی کہ اس کی دوسری علمی سرگرمیاں اور کاوشات کیا رہی ہیں۔ جیسا کہ ہم میرا جی اور فیض کی علمی نوعیت کے ضمنی مواد لیتے ہوئے ان کی شاعری کے خد و خال اور احساسات و مدرکات کی تحلیل و تسہیل کرتے ہیں۔یہ علمی سرگرمیاں اور اکتسابات شاعر کے شاعرانہ جذبے کو متنوع، متمول اور افقی و عمودی طور پر وسیع کرتے ہیں۔ چونکہ شعر سینہ ء قرطاس پر آنے سے قبل مختلف اجزائے زندگی اور دنیا کے عواقب و جوانب سے ذیلی اجزا و محرکات حاصل کرتا ہے۔شاعر اس طرح اپنے خیال کی تقلیب کرتا ہے اور تب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے۔

عام طور سے قاری اپنی پہلی قرات میں جب کسی تخلیق کو پڑھتا ہے تو اس سے لطف و حظ اٹھا تا ہے،میرے خیال میں پہلی قرات ذوق کی تسکین کا باعث بنتی ہے۔ جب ہم اسی تخلیق کو سوچ اور سمجھ کر پڑھتے ہیں تو دراصل یہ قرات مطالعہ کی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے کہ تخلیق میں کیا کیا رموز و اسرار ہیں،شاعرانہ جمال کا پیمانہ کیا ہے اور اس میں زیر و بم کی کیا کیفیات ہیں۔ اس سنجیدہ قرات میں مطالعہ کرنے والا تخلیق میں موجود جوہرکی تحلیل و تجزیہ کرتا ہے اور قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جسے ہم لوگ اصطلاحی طور نقد یا تنقید کہتے ہیں۔

مذکورہ باتوں کے تناظر میں ہم دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ قمر صدیقی کے اولین مجموعہ ”شب آویز“  میں کون کون سے اہم اور شاعرانہ سر و رمز ہیں جو ہمیں احساس کراتے ہیں کہ یہ مجموعہ شاعری کی کتاب ہے۔ ہم یہ بھی دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ قمر صدیقی کے تخلیقی جذبے اور احساس کے مرکز کیا ہیں۔کیا اس مرکز سے روشنی کی شعاعیں لمحہ لمحہ نکلتی ہیں۔ اچھا شاعر اپنی تخلیق کے آئینے میں منور و درخشاں رہتا ہے۔ اس کا شاعرانہ کیف و کم اس آئینہ میں اس روشنی کی طرح ہوتا ہے جو ہر آن دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور دل گرفتہ و پیوستہ بھی کرتا ہے۔

قمر صدیقی کے مطابق ان کے شعری سفر کاآغاز1998 میں ہوا تھا۔ اس سے قبل اور اس اثنا میں کئی ایسے قومی و بین لاقوامی سانحات و واقعات رونما ہوئے، جن کو انھوں نے دیکھا۔سقوط ڈھاکہ، ایمرجنسی، اشتراکیت کی پسپائی، شہادت بابری مسجد، گودھرا کے فسادات، عراق و لیبیا اور افغانستان پر حملے اور اور ان آمرین کی بدتریں شکستیں، اکیسویں صدی میں ہندوستان کا داخلی سماجی و اخلاقی رویہ اورتبدیل شدہ منظر نامہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ آزادی کی تحریک، حاصل شدہ آزادی اور آزادی ادا کرنے کی قیمت کے قصے، پچاس ساٹھ کی دہائیوں میں نارسائی اور گھٹن کا احساس اور اس کے بعد سے لے کر تا دم ِ اشاعت ِ ” شب آویز“  انسان کا زیاں کدے میں لا انسان ہو کر رہنا اور اپنی بے مائیگی پر گریہ و ماتم کرنے کی اجازت کا نہ ملنا وغیرہ حالات و کوائف اوران کے اثرات قمر صدیقی کے ذہن و دل پرشعوری و لاشعوری طور پر مرتسم ہوئے ہیں۔ان واقعات و حادثات نے انھیں روحانی طور پرمضطرب کیا ہے تو تخلیقی سطح پر متحرک بھی۔ ان کے محسوسات اور دلی کیفیات کا اندازہ ان کی غزلوں اور نظموں کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں ایک نوع کا اضطراب و اضطرار ہے، مگر قمر صدیقی اس بے چینی کا اظہاربڑے سلیقے سے کرتے ہیں۔وہ اپنے محسوسات اور مشاہدات کو کبھی علامت کے پیکر میں پیش کرتے ہیں تو کبھی استعارے کے پیرہن عطا کرتے ہیں۔”شب آویز“ میں قمر صدیقی اپنی شاعری (نظم و غزل) کو اس پرندے کی آوازکی طرح پیش کرتے ہیں جن کے پر کتر دیے جاتے ہیں مگر یہ پرندہ اپنے پنجے کی مدد سے درخت پر جھولتاہے اور حق حق کی صدائیں لگاتا ہے، جس کی گونج سے باغ، باغباں اور چہل قدمی کرنے والوں پر افسردگی و اداسی طاری ہوتی ہے۔ یہ”شب آویز“  پرندہ دراصل قمر صدیقی کا   Creative Persona  ہے۔ یعنی شب آویز کی صدائے کرب و اذیت در حقیقت قمر صدیقی کی داستان ِ روداد ِدرد و الم ہے، جس کا احساس و اظہار ان کی شاعری میں شعر در شعر نظر آتاہے۔ شہر، شہر کے حکومتی ادارے اور شہر زادوں کی طرف سے جو اندوہناک اور اذیت ناک مظالم ہوتے ہیں اور جو دکھ جھیلنا پڑتا ہے اور ستم ناکی و زہر ناکی کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اس کا احساس عام آدمی تو کرتاہی ہے مگر خاص آدمی جیسے شاعر،ادیب،دانشور شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ قمر صدیقی شہر کی اداکاری اور فسوں سازی کاکچھ زیادہ ہی گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہیں اور کارخانہ ء طلسم ہوش ربا کو اپنے تخلیق میں پیش کرکے شاعری کے منصب کا احترام کرتے ہوئے صداقت کی باز آفرینی کرتے ہیں۔ زمانے اور انسان کی مظلومی وبے چارگی کی تجسیم اس فراست سے کرتے ہیں کہ یہ انسانی المیہ بن کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ عصر حاضر کی کربلا اور خیمہ و ماتم کا ادراک تو ہے مگر اس کا اظہار اشارے اور کنایے میں ہوا ہے۔ قمر صدیقی کے درج ذیل دو اشعار نہ صرف ان کی ذہنی و روحانی کیفیت کا انعکاس ہیں بلکہ ان کی شاعری کی اساس کے طور پرسامنے آتے ہیں۔ شعر ملاحظہ کریں:

ہر پل وہی وحشت ہے وہی رقص ِ ستم ناک

کس  لمحہ  یہاں  فتنہ ء  محشر  نہیں  ہوتا

جو قصۂ  یاس و حیرت ہے، روداد  ِشبان ِ ہجراں میں

وہ ساری آپ کی ٹھہری  ہم  تو  فقط  اعراب ہوئے

”وہی وحشت اور وہی رقص ِستم ناک “  پڑھتے ہی ہمارا ذہن اس جنگ کی طرف چلا جاتا ہے جو دراصل حسن و صداقت، حق و باطل،بادشاہت، ملوکیت اور کنبہ پروری کے خلاف تھی۔ قمر صدیقی کمال ِ ہنرمندی سے اس معرکہ ء کربلا سے استفادہ کرتے ہوئے آج کے کرب و بلا کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ لطف تو یہ کہ جنگ کربلا یا اس کے تلازمے کا کوئی لفظ نہیں ملتا ہے مگر اپنے جذبے کو بڑی فن کاری سے پیش کرتے ہیں۔ پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں ”کس لمحہ“ کہہ کر فضا کو درد انگیز بنا دیتے ہیں۔ محشر و قیامت کی طرف اشارہ کرکے یہ بھی باور کراتے ہیں کہ ہم لوگ ہمہ وقت تھوپی گئی اس جنگ میں شریک نہ ہوتے ہوئے بھی شریک ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حق و صداقت کی اس جنگ میں صادقین کی ایک قلیل تعداد تھی یعنی عددی طور پر اقلیت میں تھے۔ وہی صورت حال موجودہ منظر نامے میں ہے کہ عددی طور پر شاعر خود کومختصر ترین محسوس کرتا ہے۔ یہ شاعر اقلیت کا نمائندہ بھی ہو سکتا ہے اور مظلومین و محصورین کا فریادی بھی یا حاشیہ پر زندگی گزارنے والا طبقہ بھی، جس کی اپنی سانس ہے نہ آواز۔ صدائے احتجاج کا ذکر ہی کیا یہ تو سماجی تنظیموں کی ایک اصطلاح ہو کر رہ گئی ہے جس سے نان و نمک کی تحصیل مقصود ہے۔فی زمانہ پوری دنیا پرخوف و خاموشی کی فضا مسلط کردی گئی ہے۔ دنیا ایک نیا عالمی نظام قائم کرنے کے مراحل طے کررہی ہے۔ اسی لئے قمر صدیقی دوسرے شعر میں کہتے ہیں کہ ”ہم تو فقط اعراب ہوئے“۔انسان کا محض اعراب ہوجانا ایک سنگین صورت حال اور خطرناک پوزیشن کی نشان دہی کرتا ہے۔ اعراب کا اردو زبان میں ہونا اور نہ ہونا ایک جیسا ہے۔ انگریزی،ہندی اور دوسری زبانوں میں اعراب کی اہمیت اور افادیت کا ہم روزانہ عالمی سطح پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ گویا ہم حرف ِ بے ضرورت ہیں۔گویااردو کے حروف ہمارے لئے جبر کے نظام کا استعارہ ہوئے۔ہم کبھی اردو کو بامعنی حروف تھے اور اب ہماری حیثیت اعراب سے زیادہ نہیں کہ اردو میں اعراب کی ضرورت اور کار گزاری سے ہم واقف ہیں۔حروف سے لفظ بنتا ہے اور لفظوں کی ترتیب وتنظیم سے معنی کا نظام طے ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معنی کی تشکیل و تفہیم لفظ سے ہوتی ہے۔ فی زمانہ اور خصوصا آزادی کے بعد اعراب عضو ِ لا حاجت کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔اس شعر اور ترکیب پر قمر صدیقی کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ اب ذرا اردو کی تاریخی اورمعاشرتی معنی پر بھی غور کریں اور اسے دوسرے زاویے سے بھی دیکھنے کی کوشش کریں۔ کبھی اردو لشکروں کی زبان تھی۔ابتدائی زمانے میں آس پاس کے علاقوں کے آب و گل سے تاب و توانائی حاصل کرکے پھلتی پھولتی رہی۔ایک ایس بھی دور آیا جب یہ تہذیب کی علامت کے طور پر سمجھی اور بولی جانے والی زبان ہوگئی۔ وقت نے کروٹ بدلی، صورت حال بدل گئی اور آزادی کے بعد اس پر بندشیں ہونے لگیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زبان جو عملاً ایک تہذیب تھی اس کو انہدام کرنے کی کوششیں تیز ہوتی گئیں۔ اب یہ عالم ہے کہ اردو یا اردو تہذیب یا ہم لوگ معدوم ہوتے جارہے ہیں۔غرض کہ اعراب  اور ”فقط اعراب“  کا ہونا دراصل انسان کی بے وقعتی کو نمایاں کرتا ہے۔ اور بے مایگی اور احساس  ِبے معنویت کو شدید کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں "بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

مگر سوال یہ ہے کہ معاصرین میں قر صدیقی کا اختصاص کیا ہے اور اس کی تشخیص کس طرح ہوگی۔چونکہ اوپر لکھے گئے تمام واردات و سانحات ان کے معاصرین کی شاعری میں بھی نظر آتے ہیں۔ مختلف لوگوں کا ذہن ان واقعات کو اپنے اپنے ڈھنگ سے تجربہ کرتاہے اور اس کی تفسیر و تشریح اپنے اندازسے کرتا ہے۔ ہر شخص کے مشاہدے اور تجربے جداگانہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔  ان کو پیش کرنے کے طریقے سے شاعر کے امتیازات کی تلاش اور نشان دہی کی جاتی ہے۔ یہ وصف بعد ازاں کسی شاعر کا مخصوص رنگ ہوجاتا ہے۔یہی وہ خط ِامتیاز ہے جس کے توسط سے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا اسلوب یوں ہے۔ اسی سے شاعر کا انفراد و اختصاص قائم ہوتا ہے۔ قمر صدیقی اپنے محسوسات و خیالات کو شب آویز (پرندے)کی طرح پیش کرتے ہیں اور یہ آواز اگر ایک طرف مظلوم و محصور کی آہ و فغاں ہے تو دوسری طرف حق نامے کا اعلان نامہ بھی ہے، جس کی طرف وہ قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں۔تھوڑی دیر کے لئے اگر ہم اساطیری شہزادی سبل    Sibyl   کوذہن میں رکھیں اور خیال کریں کہ شب آویز اور سبل میں کتنی مماثلت ہے۔ سبل کو اس لئے بوتل میں بند کردیا جاتا ہے کہ وہ حسن و صداقت کی امین ہے اور اس کوپیش گوئی کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔ وہ بتا سکتی ہے کہ آنے والے قریب و بعید زمانے میں کس قدر اور کس نوعیت کا فشار و انتشار ہوگا۔ سبل کی طرح شب آویز پرندہ کو باغ میں اس حال میں رکھا گیا ہے کہ وہ آسماں کی وسعتوں میں اڑان بھرنے کے لائق نہ رہے۔ سبل کی طرح یہ پرندہ خود کو لاچار و مجبورپاتا ہے اوردرخت سے لٹک کر فغان ِ درویش کی طرح حسن و صداقت کی صدائیں لگاتا رہتا ہے۔ یہاں پر باغ اک ایسی علامت کے طور پر ابھرتا جس سے معنی کی جہات وسیع تر ہوجاتی ہیں۔ہمارے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ شعردوم میں یاس و حیرت کے قصے اور شب ِ ہجراں کی روداد کا  راوی کون ہے۔ یہ راوی پرندہ ہے جو قمر صدیقی کے حزن و الم اور یاس و محرومی کی صدا ئے دل گیر لگاتاہے۔ یہی قمر صدیقی کی شاعری کی بنیادی اصل و ماحصل ہے اور جو شب آویز کی زبان سے رزمیہ نامہ کا جزو اعظم بن کر ابھرتا ہے۔اور ان کی شاعری کامرکزہ بن جاتا ہے۔ اس سلسلے سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ جب پرندہ (شب آویز) ہمارے ذہن میں آتا ہے تو فورا ہی اس کے تلازمات باغ، گلستان، چمن، باغ بہشت، باغ عدن،چائے باغات وغیرہ آنکھوں میں رقص نظر کرنے لگتے ہیں۔ یعنی یہ پرندہ کبھی باغ عدن کا ہوتا ہے یعنی ماو رائی ہوجاتا ہے تو کبھی باغ موجود کی طرح ہمارے ارد گرد نظر آنے لگتا ہے۔ اس طرح سے ہم اس شعر کے ذریعے قمر صدیقی کی شاعری میں مابعد الطبیعات عنصر کی تلاش و تفحص بھی کر سکتے ہیں، مگر ہمیں ایسے اشعار مجموعے میں کم کم نظرآتے ہیں جو ان کے عرفان و آگہی کے علاقے کی سیاحت کرائے۔ اچھے شاعر کا حسن کمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کی شاعری کا لب و لہجہ اور رنگ و نور اس قسم کاہو کہ ہر قسم کے قاری کو اپنی طرف مرتکز کرنے کی صلاحیت رکھے۔ قمر صدیقی کی شاعرانہ ہنر مندی یہی ہے کہ ان کے اشعار خواص ہوتے ہوئے بھی عام ہیں اور عام ہوتے ہوئے بھی خاص ہیں۔ یعنی ان کی شاعری سے قاری اپنے اپنے طورپر نور و بہجت کشید کرتا ہے اور اپنے انداز سے اشعار کی تفہیم و تحلیل کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں حفیظ میرٹھی کی شعری کائنات – راحت علی صدیقی قاسمی )

درج بالا گفتگو کے تناظر میں ہم قمر صدیقی کی کتاب سے دوسرے اشعار پیش کریں گے تاکہ میرے تاثرات مزید قوت آمیز اور قابل توجہ ہو ں۔ قمر صدیقی اپنی بات مختلف انداز سے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نوع بہ نوع اشعار دوران  ِمطالعہ ان کی کتاب میں نظر آتے ہیں۔ہر شعر میں کوئی نہ کوئی خیال آفریں نکتہ ملتا ہے جس سے جہاں ایک طرف ہمارے ذہن و طبیعت کو ایک قسم کی حرارت اور سرشاری ملتی ہے تو دوسری طرف ہمیں سمت  ِ زمانہ اور نیرنگی  ِدنیا کا دراک ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں انسان کی بے چارگی، بے کسی اور لا امانی زندگی کا مقدر رہی ہے۔ ہزاروں برس کی قدیم شاعری کے نمونے اور متن کے مطالعہ سے یقین کی حد تک گمان ہوتا ہے کہ تمام ترشاعری انسان کی مظلومیت اور لا یعنیت کی داستان پیش کرتی ہے۔ گویا شاعری کے مضامین کم و بیش وہی ہیں جو ہزاروں برس پہلے تھے۔ فاروقی صاحب کے تاریخ ساز جملے سے استفادہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاعر کی پیش کش ہی درحقیقت اہم ہے کہ کہنے کو نیا کچھ ہے نہیں۔ پیش کش کے طریقے، اس کا رنگ، اس کا اسلوب، اس کی لفظیات اور لب و لہجہ سے ہی شاعر کی پہچان ہوگی اور اسی سے شاعر کا امتیاز و اختصاص قائم ہوگا۔ ہم نے بیسویں صدی میں دیکھا کہ جو بھی مضامین تخلیق کی صورت میں رقم ہوئے وہ گزشتہ صدیوں میں پیش ہو چکے تھے۔ خود ترقی پسندی (اصلی معنوں میں)اور جدیدیت کے مضامین کم و بیش ایک ہی جیسے ہیں بس فرق ہے تو پیش کش کا۔ جس کے توسط سے ہم کہنے کے قابل ہوتے ہیں کہ فلاں تخلیق ترقی پسندی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے یا جدیدیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ دونوں تحریکات اور رجحان میں زندگی ہی مشترک، قابل لحاظ اور موضوع  ِتخلیق رہی ہے۔ یعنی زندگی ہی شاعری ہے یا شاعری ہی زندگی ہے۔ میرے خیال میں باقی جو ہے وہ حاشیے پر لکھے گئے فٹ نوٹ ہیں۔ بعض ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقی توانائی کوغربت، کسان، کارخانے اور یونین وغیرہ کی تبلیغ و ترویج میں صرف کردی۔ درحقیقت اس نوع کے الفاظ و موضوعات حقیقت میں حکومت سازی کی حربیات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ کارل مارکس کو کیا خبر کہ اس کی تھیوری شعر کی تخلیق کے آلے طور پر  استعمال ہوگی اور لوگ باگ اس پر شاعری کرکے اپنی دنیا سجائیں گے۔  سچی شاعری تو وہی ہے جو قاری کے جذبے کی تسکین کرے۔ یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ غریب، کسان اور مزدور بھی تو قاری ہوئے۔ اپنی زندگی پر لکھی گئی تخلیق پڑھ کر ان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور ان کے جذبے کی تسکین ہوتی ہے۔ مگر خیال خاطر رہے کہ یہ تو سماج اور زندگی کا ایک حصہ ہے پوری زندگی نہیں۔ جو تخلیق پوری زندگی کا احاطہ کرتی ہے وہی شاعری ہے۔میرے خیال میں ترقی پسند اس نقطے پر ناکام نظر آتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں میرے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ قمر صدیقی کا جھکاؤ ترقی پسندی کی طرف ہے یا وہ جدیدیت سے متاثر ہیں۔ یہ ضرور عرض کروں گاکہ قمر صدیقی نے زندگی کو برتا، محسوس کیا اور دیکھا ہے۔زندگی اور سماج سے ملی اذیت اور دکھ جھیلا ہے جو ان کے مجموعے میں مختلف صورتوں اور شکلوں میں نظر آتا ہے۔ نوع بہ نوع احساسات و جذبات کو تخلیقی پوشا ک عطا کرنے میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں اور ہمیں ان کی پیش کش، ہنرمندی اورفنکارانہ مہارت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:

تھے کیسے  لوگ میرے خیمۂ خیال میں

گئے دنوں کی خیر ہو کہ اب طناب بھی نہیں

بادباں  رکھو سلامت یہ سفر ہے  قسط وار

اور اس کے بعد پھر ایک اور دریا آئے گا

اس طلسم  ِعصر حاضر سے جب آنکھیں جل اٹھیں

دور  جلتا  اک چراغ  ِاسم  اعظم دیکھنا

گم آشوب  ِخودی میں ہمیں ورنہ اک شہر

خوں سے تر شور سے آباد ہمارے لیے ہے

اجالا پھیلا  تھا کچھ  تیرگی سے پہلے بھی

میں جل رہا تھا یہاں روشنی سے پہلے بھی

پھر وہی خانہ ء برباد ہمارے لیے ہے

شہر غرناطہ و  بغداد ہمارے لیے ہے

ان اشعار کی قرات سے ایک مجبور و بے مایا فرد کی تصویر ابھرتی ہے جس کی اپنی سانسیں ہیں نہ زندگی کو زیست کی خواہش و اجازت۔  اس کے روز و شب حالت ِ جبر میں گزرتے ہیں۔زندگی اور دنیامیں لا محدود قیامتیں ہوتی رہتی ہیں، جن سے شاعر ہمہ وقت نبرد آزما ہوتا رہتا ہے۔اسی لامختتم کرب و اذیت میں شاعر کوکسی طرح اپنی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ان اشعار کی مدد سے ہم دیکھتے ہیں کہ قمر صدیقی اپنے رنج  ِ جسم و جاں اور  درد  ِ آشوب کو پیش کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہرکامیاب شاعر کی روح میں ایک شب آویز ہوتا ہے جس کے وسیلے سے وہ نعرۂ حق لگاتا ہے۔ اور قمر صدیقی مرحلۂ شکست و آرزو میں نفاست و طہارت سے قدم بہ قدم گذرتے ہیں۔ اپنی بے چارگی و بے امانی کے احساس و جذبہ کو بڑی ہنر مندی سے صدائے عام بنا کر پیش کرتے ہیں۔خواص کے ساتھ عوام بھی ان کے حزن و الم کا تجربہ کرتا ہے اور خود کو شاعر کی آواز سمجھتا ہے۔ یہ شاعری کی ایک خوبی تسلیم کی جاتی ہے کہ شاعر کا خیال وجذبہ قاری کے احساس  ِ جمال کا حصہ ہو۔ اس تعلق سے ن۔م۔ راشد،زبیر رضوی اور عین تابش کی شاعری کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔جب ہم ان شعرا کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے محسوسات اور ادراکات ہیں۔حالاں کہ ان تینوں شعرا کے یہاں تہذیب کی گمشدگی کی نوحہ گری ملتی ہے۔ میرا مقصد قمر صدیقی کا موازنہ ان شعرا کی شاعری سے قطعی نہیں ہے۔ میں دراصل یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قمر صدیقی کی شاعری سرسری طور پر پڑھنے کی چیز نہیں ہے۔بلکہ قمر صدیقی کی شاعری اس نقطے کی دریافت ہے جو اچھی شاعری کہلانے کا جواز  رکھتی ہے۔

شب آویزمیں چند شعر ایسے بھی ملتے ہیں جو بظاہر رنگ تغزل سے مملو نظر آتے ہیں۔ مگر ان کے بطون میں زندگی کی بے ثباتی اور لا حاصلی کی لہریں موجزن ہیں۔ افسردگی اور اداسی مختلف شکلوں اور رنگوں میں ہم آمیزنظر آتی ہے۔تاہم ان کی غزلوں سے ایک قسم کی تازگی و تمازت کا اادراک ہوتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

اس ہجر تیرہ شب کے بجھتے چراغ سارے

جلنے سے داغ  دل کے  تنویر ہوگئے ہیں

سوار عشق کی وحشت ہے اوج اب کے

ترے  دیار میں پہنچا  تو  پا  پیادہ  ہوا

نہ کچھ  گلہ نہ  التفات  ہجر کی سیاہ رات

فرامشی کا دور ہے سو اب عذاب بھی  نہیں

آنکھوں میں عکس ِخواب ِ گراں ہے مرے لئے

سب  بجھ چکے چراغ  دھواں ہے مرے لئے

مذکورہ گفتگو اور اشعار کی روشنی میں کہا جاسکتاہے قمر صدیقی کی شاعری درحقیقت یاس و حسرت کی تفسیر اور روداد شبان ہجراں کی علامتی داستان ہے اور یہ مجموعہ ”شب آویز“ ہر خاص و عام کے احساس و جذبے کے انعکاس کا استعاراتی نوحہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

٭ مضمون نگار معاصر اردو شاعری کے اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

جاوید ہمایوںشب آویزقمر صدیقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اخلاقی اقدار اور امن ویکجہتی کے پیغام کا تمثیلی بیانیہ: سب رس – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن
اگلی پوسٹ
اکبر الٰہ آبادی ، نفسیاتی استعماریت ، توپ اور پروفیسر کی طاقت” – پروفیسر ناصر عباس نیّر

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,141)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں