حفیظ میرٹھی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، ان کی شعری کائنات میں غزل کی حکمرانی ہے، غزل گوئی ہی ان کی شناخت کا باعث ہے، غزل گوئی ہی ان کی شاعری کا نمایاں پہلو ہے، انہوں نے جس زمانے میں غزل کی وادی میں قدم رکھا، وہ ترقی پسند تحریک کے شباب کا زمانہ تھا، میرٹھ میں بھی ترقی پسندوں کی سرپرستی میں نشستیں منعقد ہوتی تھیں،جن میں ترقی پسند تحریک کے افکار و نظریات کا غلبہ رہتا تھا، نظم کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی تھی، مسلسل کسی ایک موضوع پر خیالات پیش کرنا موزوں اور مناسب سمجھا جاتا تھا،میرٹھ ہی نہیں پوری ادبی دنیا اسی روش پر گامزن تھی، نظم کی روایت ترقی کر رہی تھی، غزل پر اعتراضات کئے جارہے تھے،اسے فرسودہ اور بے وقت کی راگنی خیال کیا جارہا تھا، اس کے موضوعات و لفظیات کو فرسودہ و قبیح تصور کیا جا رہا تھا،شاعری کا مسائلِ زندگی سے ہم آہنگ ضروری تصور کیا جانے لگا تھا، شعراء کی پوری توجہ اسی جانب مرکوز تھی۔
حفیظ نے اس دور میں غزل گوئی کا فریضہ بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیا ، اور کسی نظریے و تحریک کے پابند نہیں ہوئے،غزل کو ایسے موضوعات اور افکار عطا کئے، جن کا تصور غزل کے پیرایہ میں کم ہی ہوتا ہے، فرسودہ خیالات سے اجتناب کیا، روایتی طرز اختیار نہیں کیا،قدیم لفظیات کے ذریعے ہی نئے معانی تخلیق کئے۔
زندگی جن مشکلات و مصائب سے دوچار ہوتی ہے، سماج و معاشرہ جس کربناک صورت حال کا مشاہدہ کرتا ہے،غربت و افلاس جن ہولناک مناظر کو تخلیق کرتا ہے، حفیظ نے ان کو غزل کے موضوعات میں تبدیل کردیا، زندگی کے نشیب و فراز ،سماج و معاشرہ کی صورت حال کو دیکھا محسوس کیا، اور اسی احساس کو غزل کا نازک پیکر عطا کیا،اور اس خوبی کے ساتھ کہ اس کا حسن بھی باقی رہا،تشبیہات و تمثیلات اور استعارات و علامات کی کائنات بھی سجی رہی، اور کائنات کا چہرہ بھی غزل کے آئینے میں نظر آنے لگا، اس کے چہرے پر لگے زخم بھی نمایاں ہوگئے، اور ان کا مرہم بھی تلاشنے کی کوشش کی گئی ، ان موضوعات کو اختیار کرنے کے باوجود حفیظ کی غزلیں خبروں کاروپ لینے اور سپاٹ پن سے محفوظ ہیں ، اور ان کا تغزل بھی باقی ہے،وہ غزل کے نرم و نازک اور خوبصورت پیکر کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوئے، جوان کی بڑی کامیابی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’داستانِ ناتمام‘ اور نظام الدین اسیر ادروی – راحت علی صدیقی )
ان کے موضوعات روایتی نہیں ہیں، وہ پرانے جام کو نیا پیمانہ عطا کرنے کے عادی نہیں ہیں، وہ مشاہدہ کے لئے کھلی آنکھیں، اور محسوس کرنے کے لیے دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں، اور ان موضوعات پر گفتگو کرنے کے لئے ایک نظریہ رکھتے ہیں، جو انہیں سچ کہنے کی ہمت اور حوصلہ عطا کرتا ہے، رات کو رات کہنے کی جرأت دیتا ہے، ان تمام عناصر سے مل کر حفیظ کی غزل وجود پذیر ہوتی ہے، اور سوز دروں اس کے تاثر کو دوبالا کردیتا ہے۔ پروفیسر عتیق احمد صدیقی اُن کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’جو کچھ اس شاعری میں نظر آتا ہے وہ رسمی اور تقلیدی نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق قلبی محسوسات سے ہے، یہ مشاہدات وسیع ہیں اور ان کی وسعت کی وجہ سے شاعری کو متنوع موضوعات ملے ہیں اور یوں وہ خود کو روایت کے محدود درائرے سے آزاد کرسکی ہے اور نسبتاًایک کھلی فضا میں سانس لیتی نظر آتی ہے۔‘‘
(حفیظ میرٹھی، فن اور شخصیت، ص:27)
رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا
جس سمت دیکھئے وہیں رستے ہوئے سے زخم
ویسے بڑا حسین ہے دور ترقیات
خون اس دور گرانی میں بہت سستا ہے
رات پھر ایک قتل ہوا گائوں میں پانی پر
کیا برا وقت ہے مفلسوں کے لئے لیے
خون بیچا گیا روٹیوں کے لئے
بہت سے اشعارہیں جن کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے، اور ان کی شاعری میں موجود سماج و معاشرہ کی صورت حال کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔
حفیظ نے انا کے آبگینہ پر چوٹ نہیں آنے دی ہے، ضرورت اور انا کی جنگ میں ضرورت ہی فتح یاب ہوئی، ان کی شاعری میں خودداری و انا کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جو ان کے مزاج کی عکاس ہیں،ذاتی زندگی میں بھی انہوں نے انا و خودداری کو اپنا شعار بنایا، جھکنا ان کا شیوہ نہیں تھا۔
ہم ضرورت اور انا کی کشمکش دیکھا کئے
بھیک ٹھکرایا کئے دامن بھی پھیلایا کئے
کر و فر کی زندگی پر موت کو ترجیح دی
مجھ کو درباری قباؤں سے کفن اچھا لگا
حفیظ لوگوں سے ملتے جلتے تھے، ان کے تعلقات وسیع تھے، بے غرض تعلق رکھتے تھے، تملق کوان کی زندگی میں دخل نہیں تھا، البتہ لوگوں کے مزاج پہچاننے اورانسانوں کو سمجھنے میں انہیں کمال حاصل تھا، اس پہلو کی جانب انہوں نے اپنی غزلوں میں بھی رہنمائی کی ہے، اور انسانی مزاج کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔
حفیظ کی غزلیں انسانی زندگی کو پیش آمدہ مسائل و احوال کی عکاس ہیں، زندگی کی تلخیاں اُن کے اشعار کے موضوعات ہیں۔ ان کی شاعری میں زمانے کا درد و غم ہے، تو وہیں زندگی کے تکلیف و شدائد نے بھی ان کی شاعری میں خاصی جگہ پائی ہے۔ حفیظ نے عشقیہ موضوعات پر زیادہ توجہ صرف نہیں کی ہے، اُن کی شاعری میں عشق حقیقی اور عشق مجازی کا دائرہ محدود ہے، انہوں نے محبوب کے غم کو بھی شاعری کا موضوع بنایا ہے، اور اس کی اداؤں کا بھی تذکرہ کیا ہے، اس کی یادوں سے دل کو بہلایا بھی ہے، ان تمام پہلوؤں کے باوجود حفیظ کی عشقیہ شاعری کا دائرہ محدود ہے، اور انہوں نے حیا کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑا ہے،ان کا تصور عشق بلند ہے، وہ سطحیت سے پاک ہے، شہوت کی تکمیل ان کے عشق کا مقصد نہیں ہے،ان کی آنکھیں ہوس سے پاک ہیں، عیش محبت کا حصول اُن کا شیوہ نہیں ہے، وہ فرض محبت کی ادائیگی کے علم بردار ہیں، محبوب کی یادوں سے لطف اندوز ہونا ان کی عشقیہ شاعری کا اہم باب ہے، وہ محبوب کی ایک جھلک ہی سے سکون حاصل کرلیتے ہیں، اور اپنے معیار و وقار کو عشق کی پر خطر و خاردار وادیوں میں بھی محفوظ رکھتے ہیں،محبوب کے لئے سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں، چاہے وہ محبوب کی سکون بخش یادیں ہی کیوں نہ ہوں، ان کی شاعری میں عشق حقیقی کی مثالیں بھی نظر آتی ہیں:
کاش ہمارا فرض محبت
عیش محبت پر چھا جائے
ہر گھڑی عہد محبت ہر نفس پاس وفا
بیڑیاں یہ بھی ہیں لیکن ان کی پہنائی ہوئی
خود اس نے کہا ہے تو بھلادوں
جاناں سے زیادہ غم جاناں تو نہ ہوگا
ابھی دیوانہ بنوں گا ابھی آئے گی بہار
اُن کے دامن سے عزیز اپنا گریباں تو نہیں
وہ دینی مزاج کے حامل تھے، روزہ نماز کے پابند تھے، اسلامی شعار اپنانے کو باعث فخر گردانتے تھے، اللہ تعالیٰ کا عشق ان کے مزاج کا حصہ تھا، جو ان کی غزلوں میں بھی موجود ہے، اسلامی طرز زندگی کو بہتر سمجھتے تھے اور جس طرح خود اس کو اپناتے، اسی طرح دوسرے مسلمانوں سے بھی توقع رکھتے تھے، مسلمانوں کی اسلامی احکامات سے روگردانی انہیں تکالیف میں مبتلا کرتی تھی، علماء سے تعلق رکھتے اور ان کی قدر کرتے اگر کوئی خامی نظر آتی تو اس کا بھی اظہار کرتے تھے۔
یہ خانقاہ ہے بازار تو نہیں لیکن
طرح طرح کے یہاں کاروبار ہوتے ہیں
اے شیخ حرم اب کوئی پیغام عمل دے
یہ لاکھ دعاؤں کی دعا میرے لئے ہے
انسانی جذبات و احساسات کے قدردان تھے،اخلاقی اقدار کی پامالی انہیں تکلیف میں مبتلا کرتی تھی، اس تکلیف کا اظہار ان کی غزلوں سے بھی ہوتا ہے، حفیظ انقلابی مزاج کے حامل تھے، وہ برائی کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے، انقلاب کی قندیل روشن کرنا، ان کی فطرت کا خاصہ تھا ، وہ انقلاب کا انتظار کرنے والوں میں سے نہیں تھے، بلکہ انقلاب پیدا کرنا ان کی خواہش تھی، جس کا اظہار ان کی غزلوں میں جابجا ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں حمایت علی شاعر :میں ہوں سدا سلامت بھی – راحت علی صدیقی )
حفیظ کی غزلوں میں علامہ اقبال کا رنگ بھی نظر آتا ہے، انہوں نے عشق و عقل اور خرد و جنوں کو بھی اپنی شاعری کا موضع بنایا ہے، جہاں اقبال کا نظریہ ہی اُن پر غالب ہے اور عقل کے مقابلے میں عشق کو انہوں نے فوقیت دی۔ خرد کو جنوں سے کم تر گردانا ہے۔ حفیظ کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے اور اس رنگ کو محسوس کیجئے:
کرد کرتی حقیقت آشنا کیا
سوائے وہم اُس کے پاس تھا کیا
جن کو اہل خرد کا ہاتھ لگا
اور الجھیں وہ گتھیاں لوگوں
مسلک عشق تو سیدھا سادہ تھا
عقل نے ڈال دی الجھنوں کی طرح
حفیظ نے اپنی غزلوں میں جن موضوعات کو اختیار کیا ہے، اس سے یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے، کہ انہوں زندگی کو قریب سے دیکھا، اور اس پر تبصرہ کیا ہے، اور اصلاح حال کی کوشش کی، ان کی غزلیں ہر اس موضوع کو بڑی چابک دستی کے ساتھ بیان کرتی ہیں، جو نام نہاد نظم نگاروں کے موضوعات ہیں، ان تمام موضوعات کو حفیظ کسی نظرئے اور کسی تحریک کی پابندی کے بغیر بیان کرتے ہیں ، اور پورے طورپراپنے احساس کو غالب رکھا ہے، البتہ اس بات کو یقینی طور کہا جاسکتا ہے کہ ان کے یہاں نئی لفظیات نہیں ہیں، انہوں نے جدید علامات اورلفظیات نہیں تراشی ہیں،بلکہ لفظیات میں وہ میر و غالب کے ہی پیروکار نظر آتے ہیں، ان کا کمال یہ ہے کہ اس قدیم لفظیات کو انہوں نے جدت کے حامل موضوعات عطا کئے ہیں، جس کے باعث وہ غزل گوئی میں کامیاب ہوئے، حالانکہ کہیں ان کی لفظیات میں جدت بھی نظر آتی ہے، لیکن عام طورپر وہ ان کا طرز شاعری نہیں ہے۔ انہوں نے سادہ و آسان الفاظ کی جانب رغبت کی ہے، مشکل ترین الفاظ اُن کی غزلوں میں کم نظر آئیں گے۔ حفیظ کی غزلوں کو سمجھنے کے لئے لغت کی حاجت کم ہوتی ہے، اُس کے ساتھ ہی ان کی غزلوں میں غنائیت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، اُن کی غزلیں زبان پر جاری ہوجاتی ہیں، اُن کا غزل پڑھنے کا انداز بڑا دلچسپ اور سادہ تھا، ایسا لگتا تھا جیسے آواز دل سے نکل رہی ہے اور دل پر دستک دے رہی ہے۔ حفیظ ایک کامیاب غزل گو تھے، حالانکہ انہوں نے نعت، منقبت، سلام، نظم، مرثیہ ،مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، اپنے احساسات و جذبات کو بخوبی پیش کیا ہے ،جس میں اُن کے افکار و نظریات عیاں ہیں ، غزل کے علاوہ دیگر اصناف سخن میں اُن کی شعری کائنات میں معمولی مقدار میں ہیں، اُن کو انگلیوں پر شمار کیا جاسکتا ہے، اُن میں سب سے زیادہ مقدار نعت کی ہے، جس سے حفیظ میرٹھی کے مزاج، عقیدہ اور فکر کی جانب بخوبی رہنمائی ہوتی ہے، وہ اسلامی روایت و اقدار کے ترجمان ہیں، اسلام ان کے قلب میں رچا بسا ہے،اسلامی طرز زندگی کے دلدادہ ہیں، اسلام اور اسلامی روایات کو انسانیت کے لئے نجات کا باعث گردانتے ہیں، انسانیت کی کامیابی کا زینہ تصور کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک ادا کے دیوانے ہیں، آپ کی خدمات کے قدرداں ہیں، آپ کے کمالات و معجزات کو پیش کرتے ، آپ نے انسانیت کی خیرخواہی و فلاح کے لئے جو عظیم کارنامے انجام دئیے، حفیظ میرٹھی کے نظرمیں وہ کارنامے بے مثال ہیں ، تاریخ انسانی ان کمالات کا دوسری مرتبہ مشاہدہ نہیں کرسکی ہے،ساتھ ہی اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی اطاعت کے بغیر کامیابی نہیں ہے، حب رسول اللہ کا اندازہ ان کے نعتیہ اشعار سے بخوبی ہوجاتا ہے، ملاحظہ کیجئے نعت کے چند اشعار اور ان کی قلبی کیفیت کو محسوس کیجئے:
دوائے درد لے کر مرہم زخم جگر لے کر
رسول پاک آئے منصب خیرالبشر لے کر
بحر و بر پر چھا گئی عظمت رسول اللہ کی
مرحبا یہ شان و شوکت رسول اللہ
ادب سے یہ موتی ان کی آنکھوں میں سجادوں گا
میری آنکھیں تو پُر کیا ہوا گر ہاتھ خالی ہیں
حفیظ میرٹھی کی کلیات میں چودہ نعتیں ہیں، جن کے مطالعے سے رسول اللہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اور شاعر کے عشق رسول کی کیفیت بھی نمایاں ہوتی ہے، اس کے باوجود حفیظ میرٹھی اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں اور صاف طورپر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ رسول کی عظمت ان کے شایان شان بیان کرنا حفیظ کے بس سے باہر ہے۔
ملاحظہ کیجیے یہ شعر :
کتنی ہی حفیظ آپ کریں نعت کی کوشش
ممکن ہی نہیں ہوسکے شایان محمد
حفیظ رسول اللہ سے محبت کرتے ہیں ان کے اصحاب سے محبت کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، دل سے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ،وہ اسلام کے اُن عظیم خدام کے مدح سرا ہیں، اسلام کی ترویج و اشاعت میں جنہوں نے بھرپو حصہ لیا ہے، اُن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے کردار و عمل کو قابل تقلید گردانتے ہیں، ان کے اوصاف و کمالات کو بیان کرتے ہیں، ان کی خدمات کو بیان کرتے ہیں،ان کی عظمت کا نقشہ کھینچتے ہیں خاص طور پر صحابہ کا وہ مقدس طبقہ جس نے اشاعت اسلام کے لئے جان و مال رشتہ داری وطن ہر شئے کو داؤ پر لگایا تھا ، اُس طبقے کے لئے حفیظ میرٹھی کا قلب محبت و عقیدت کے جذبات سے مملو ہے، جن کی عکاسی ان کے مناقب سے بخوبی ہو جاتی ہے، حفیظ نے خلفاء راشدین میں سے صدیق اکبر عمر فاروق عثمان غنی کے مناقب کو بیان کیا ہے اور اس خوبی و خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ ہر شعر محبت و عقیدت کا مظہر ہو گیا ہے، اور ان کی قلبی کیفیت کا ترجمان بن گیا ہے، حفیظ میرٹھی نے نواسائے رسول حضرت حسین کے مناقب کو بھی اپنے اشعار میں پیش کیا ہے جس سے اہل بیت سے ان کے تعلق اور محبت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے،دو سلام بھی ان کی شعری کائنات میں موجود ہیں، جن میں آل رسول کی محبت کربلہ کی عظمت اور آل رسول کو پیش آمدہ صورت حال کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے مناقب اور سلام کے چند اشعار:
جو اصحاب پیمبر ہیں مقدس ہیں منور ہیں
علامات چراغ مسجد و محراب و منبر ہیں
فقط نام خدا نام محمد کو چھوڑ کر گھر میں
جو سب کچھ پیش کردیتے ہیں وہ صدیق اکبر ہیں
فتح و ظفر کا قافلہ بڑھتا چلا گیا
یہ دور وہ تھا جس میں قیادت عمر کی تھی
ہجرتیں بھی خیر سے دو اور ذوالنورین بھی
یہ فضیلت سلسلہ در سلسل عثمان کی
للہیت سے بال برابر نہیں ہٹی
انسانیت نواز سیاست حسین کی
سلام کا یہ شعر بھی ملاحظہ فرمائیں:
کرب و بلا کی جنگ نے پردے اٹھا دئے
اب حق حجاب میں ہے نہ باطل حجاب میں
حفیظ میرٹھی نے چند نظمیں بھی کہی ہیں، جن کے موضوعات اور فکر کا دائرہ محدود ہے، کچھ رثائی نظمیں ہیں، مثلاً اپنی اہلیہ کی وفات پر انہوں نے نظم کہی ہے،حفیظ کی دو شادیاں ہوئیں، لیکن اس کے باوجود انہیں تنہائی کی تلخ زندگی سے واسطہ پڑا، شریک حیات کی جدائی کے غم سے وہ ٹوٹ گئے، درد وغم کی اسی کیفیت کو انہوں نظم کا پیکر عطا کیا ہے، دوسری شادی کے بعد وہ سنبھلے اور زخم مندمل ہونے لگا، لیکن دوسری اہلیہ کی وفات پر وہ زخم ناسور بن گیا، قلب کی کیفیت ناگفتہ بہ ہوگئی، جیسے دریا میں تلاطم بپا ہوجائے، آہ و بکا سینہ چیر کر باہر نکل آئے، انہی کیفیات سے حفیظ زوجۂ ثانی کی وفات پر دوچار ہوئے اور غم کے جذبات و احساسات کو نظم کا لباس عطا کیا، نظم کا عنوان ہی اس حقیقت کی جانب مشیر ہے، ’’میں ٹوٹ گیا ہوں‘‘ اور ’’درد ہمارا ‘‘وہ تمام چیزیں ان دونوں نظموں میں جمع ہوگئیں، جو رثا کی بنیاد ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں راحت اندوری -اردو مشاعروں کا کامیاب شاعر – راحت علی صدیقی )
حفیظ جن علمی و ادبی شخصیات کو پسند کرتے تھے، ان کے نظریات و فکر پر اعتماد کرتے تھے، جن کا فن و فکر انہیں متاثر کرتا تھا، جن کے علم و ادب کے ثنا خواں تھے، ان شخصیات کی شان میں نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا ہے، اور ان کے مقام و منصب، ان کے افکار اور ان کی شخصیت کی خوبیاں و خصوصیات ظاہر کی ہیں، ان میں مولانا مودودی کی شان میں ’’نذرانہ عقیدت‘‘ ہے، جو لندن کے ایک پروگرام میں پیش کیا، روش صدیقی اور بہادر شاہ ظفر کی یاد میں کہی گئی نظمیں ہیں، جو مختصر ہیں، لیکن ان شخصیات کے کمالات کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں۔
حفیظ کسی ادبی نظریئے کے پابند نہیں رہے، وہ ترقی پسند تحریک کے سکہ بند موضوعات تک محدود ہیں، اور نہ ہی کسی ادبی تحریک و تنظیم کی پابندی انہیں گوارا ہے، ان کی اپنی فکر اور اپنا دائرہ ہے، جس کی حدود کے باوجود وہ کامیاب ہیں، البتہ ابتدائی دور میں جب انہوں نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا تو ادبی دنیا میں ترقی پسند تحریک بام عروج پر تھی، اور میرٹھ بھی اس کے اثر سے خالی نہیں تھا، میرٹھ میں ظ انصاری کی صدارت میں ترقی پسندوں کی نشستیں ہوتی تھیں، حفیظ بھی ان میں شریک ہوتے تھے اور اپنا کلام پیش کرتے تھے، ایک نشست میں حفیظ نے اپنی نظم نغمۂ آدم سنائی جس کے حوالے سے ظ انصاری رقم طراز ہیں:
’’ظ انصاری نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا کہ نشست شروع ہونے سے پہلے ترقی پسند ادب پر جو گفتگو ہورہی تھی اس کے خلاصے کے طور پر میں یہ کہ سکتا ہوں کہ حفیظ صاحب کی نظم’’ نغمۂ آدم‘‘ مکمل ترقی پسند ادب ہے۔‘‘
(حفیظ میرٹھی حیات اور شاعری، ص:32)
حالات حاظرہ پر مبنی نظمیں بھی حفیظ کی شاعری میں موجود ہیں، جیسے ان کی نظم ایمرجنسی ہے،اور اس کے علاوہ آزادی ہے، انہوں نے دعائیہ نظمیں بھی کہیں ہیں، اور شادی کے موقع پر سہرے بھی لکھے اور ’’شبھ کامنائیں‘‘ کے عنوان سے ایک نظم کہی ہے، جو شادی کی خوشی کے اظہار دعاؤں اور مبارکباد پر مبنی ہے۔
حفیظ میرٹھی ہندو مسلم اتحاد و اتفاق کے علمبردار تھے، اتحاد و اتفاق کے قیام کے لیے انہوں نے دینک جاگرن اخبار کی فرمائش پر ’’امن کی شبنم‘‘ نظم کہی ہے، حالانکہ وہ اس طرح فرمائشی شاعری کو پسند نہیں کرتے تھے اور اسے دباؤ کی شاعری کہتے تھے، اس کے باوجود انہوں نے ’’امن کی شبنم‘‘ نظم کہی اور اتحاد و اتفاق کی کوشش کی، فساد کے زخموں پر مرحم ررکھا۔
ملاحظہ کیجئے اس نظم کے اشعار:
امن کی شبنم سے ہی کھلتے ہیں تیوہاروں کے پھول
اب نہ لے چمن میں کوء آگ برسانے کانام
ہم اگر تڑپیں گے تم بھی بے مزہ ہوجاؤگے
کون لے گا ماتمی ماحول میں گانے کانام
حفیظ میرٹھی کی نظم’’ارتقاء‘‘ بھی خوب ہے، جو انسان کی مادی ترقی اور سماجی اخلاقی مذہبی تنزلی کو بیان کرتی ہے، اس کے علاوہ،’’گیٹ اپ‘‘ کے عنوان سے بھی انہوں نے نظم کہی ہے، جو قرآن کریم کی ظاہری خوبیوں کو بیان کرتی ہے، اس کے الفاظ، چھپائی، رسم الخط وغیرہ کے حسن کو ظاہر کرتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ادب اطفال اور آج کے ادیب۔ایک جائزہ – ذوالفقار علی بخاری )
حفیظ میرٹھی کی نظموں میں بھی غزلوں جیسی نغمگی موجود ہے، ان کی نظمیں سادہ ہیں،غزل کی سی غنائیت ان کی نظموں میں موجود ہے، علاما ت و استعارات پیچیدہ الفاظ اور بعید الفہم طرز کی بو بھی ان کی نظموں میں موجود نہیں ہے، موضوع سادہ، مفہوم بالکل واضح ہے، البتہ الفاظ کی نغمگی، سوز اور قلبی کیفیت کا برملا اظہار ان کی نظموں کو دلچسپ اور خوبصورت بناتاہے، جس سے انتہائی محدود ہونے کے باوجود حفیظ کی نظمیں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں، حالاںکہ یہ نظمیں فطری طور مصنف کے غزل سے لگاؤ کی بین دلیل ہے۔
٭٭٭
راحت علی صدیقی قاسمی
گاؤں،محمد پور مافی،، پوسٹ کھتولی،
ضلع مظفرنگر، یوپی، پن 251201
رابطہ : 09557942062
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

