جدیدیت اورنوآبادیات/ناصرعباس نیّر- امان اللہ محسن
"جدیدت اورنوآبادیات”ناصرعباس نیّرصاحب کی تازہ کتاب ہے،جوحال ہی میں اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس سےشائع ہوئی ہے۔اردوادب کےمعاصر منظر نامے پر ناصرعباس نیّرصاحب کا نام علم وادب سےشغف رکھنے والے اصحاب کے لیےمحتاجِ تعارف نہیں۔ ان کاکام ان کے موئثّر اورمؤقّر تعارف کے لیے کافی ہے۔شایداسی لیے انھوں نےاس کتاب کی لوح پر اپنےنام کےساتھ "ڈاکٹر” کا سابقہ لگانا بھی گوارا نہیں کیا۔بہ ظاہراس معمولی سےطرزِ عمل کے پسِ پردہ عقل والوں کےلیےبڑی نشانیاں ہیں۔بہ ہرحال مذکورہ بالاکتاب "جدیدیت” کےحوالےسے قاری کونئی حیرتوں میں مبتلا کرتی ہے۔اس کتاب کاایک ایک جملہ مصنف کےفہم وادراک اورعلم وفضل کی وسعت پرمہرِتصدیق ثبت کرتاہے۔کتاب کا اسلوب ایساہےکہ مصنف کی ،زبان کے خلاقانہ استعمال کی مہارت،صلاحیت واستعداد اورابلاغ کی قابلیت و لیاقت پررشک ہوتا ہے۔بیان میں سلاست ایسی کہ پوری کتاب میں کہیں ابہام نام کونہیں ملتا۔موضوع ایسا اہم اورمواد ایس انایاب کہ اردو ادب میں اس سےپہلےاتنےاہم موضوع پراس تناظر میں نہیں لکھاگیا۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )
اس کتاب میں” اردوادب میں جدیدیت،یورپی جدیدیت اورنوآبادیاتی جدیدیت کے تصورات کامطالعہ”اس اندازسےکیاگیاہےکہ بہت سی آرا، دعووں اوربیانیوں کی شکست وریخت ہوتی ہوئی نظرآتی ہے۔مصنف نےکوئی دعویٰ نہیں کیا بس صرف شہادتیں اوردلائل دےکرایک خیال پیش کیاہےکہ "جدیدیت”اپنی اصل میں ایک ایسا ذہنی رویہّ اور ساخت ہےجونظری اعتبار سے”آفاقی”ہے اورتجربے کے اعتبار سے "مقامی”،”انفرادی” ،”ذاتی”اور”انسانی” ہے۔اس پرکسی قوم ،خطے،مذہب ،علم ،ثقافت،آئیڈیالوجی کی اجارہ داری نہیں ۔جدیدیت ایک ایسا تصور ہےجس پرمغرب کی اجارہ داری کا نظریہ مغالطے پرمبنی ہے۔ اس کتاب سے کئی نکتےاصحاب علم ودانش پر منکشف ہوتےہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص "جدیدیت”کےتصور کو اپنی اصل روح کےساتھ نہیں سمجھتا تووہ علم وادب اورزندگی سے متعلق جارحانہ اورمتشددّانہ رویےّکاحامل ہوسکتا ہے ۔ "جدیدیت”کو ٹھیک طورپرنہ سمجھنےسےکس قدرعلمی وادبی تاریخ میں عجیب وغریب قسم کےمظاہر سامنے آتے ہیں یہ بھی اس کتاب سے انکشاف ہوتاہے۔مغرب اورمشرق ایک دوسرےکو اپناغیر کیوں سمجھنے لگے، کلاسیکی اور جدید علوم سے متعلق مغالطے کیسے پیدا ہوئے،مشرقی اورمغربی ،قدیم اورجدیدعلوم کی تفریق کیسے پیدا ہوئی ،ان سب سوالوں کے جواب اس کتاب کے متن سےمترشح ہیں۔اگرآپ جاننا چاہتے ہیں کہ جدیدیت کی کتنی متنوع صورتیں ہیں اور ان کوکیسے الگ الگ شناخت کیا جاسکتاہے اورسب جدیدیتوں میں کیا مشترق ہے تو اس کتاب کوضرور پڑھیے۔اس کتاب میں مغربی جدیدیت، فلسفیانہ جدیدیت،جمالیاتی جدیدیت،نوآبادیاتی جدیدیت،استعماری جدیدیت،انگریزی ادب کی جدیدیت،جرمن ادب کی جدیدیت، فرانسیسی ادب کی جدیدیت،اردو ادب کی جدیدیت،بیدل کی جدیدیت،غالب کی جدیدیت اور آفاقی اور انسانی جدیدیت جیسی اصطلاحوں سےکماحقہ آگاہی حاصل ہوتی ہے۔اوراس آگاہی اورشعور سےقاری کوان تمام جدیدیتوں کے ادب کےکئی پہلووں کوبھی سمجھنےمیں مددملتی ہے۔ میرے خیال میں جدیدیت کے ان متنوع مظاہر کےافتراق و امتیازات اوراشتراکات کوسمجھے بغیر، دینا بھرکے جدیدادب کی عام طورپر اوراردوزبان کےجدیدادب کی خاص طورپر درست تفہیم ممکن نہیں۔اس کتاب کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ "جدیدیت اور مغرب”نہ تو لازم وملزوم ہیں اور نہ مغربی جدیدیت ہی صرف "جدیدیت” کا واحد اور مستند متن ہے۔یہ کتاب نہ صرف جدیدیت سے متعلق نئے انکشافات کرتی ہے بلکہ ادب اور زندگی سے متعلق ،قاری کے تجربے اورعلم میں بے پناہ وسعت کاسبب بھی ہے۔اس کتاب سےجدیدیت کے لغوی ،تاریخی اورفلسفیانہ مفاہیم کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ہم مذکورہ کتاب کومغربی جدیدیت کےمتبادل بیانیےکےطورپر بھی دیکھ سکتےہیں۔ لیکن نشانِ خاطر رہے مصنف نے کہاہےکہ”مغربی جدیدیت کامتبادل بیانیہ،جدیدیت مخالف بیانیہ نہیں؛دونوں میں تضاد نہیں،صرف فرق ہے۔مثلاًسب جدیدیتوں میں ایک بات مشترق ہے:اپنی دنیا خود اپنےانسانی،طبعی وسائل سے پیدا کرنااور لمحہ موجود میں پیداکرنا” (یہ بھی پڑھیں کیاکسی نظریے کوموت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟ – پروفیسر ناصر عباس نیر )
ادب وآرٹ کاایک بنیادی وظیفہ حیرت میں اضافہ کرنا،تخیّل کومہمیز لگانا اور لطف وانبساط سے قاری پر ایک سرشاری کی کیفیت طاری کرنا بھی ہے۔اس حوالے سے بھی یہ کتاب پڑھنےوالے کو مایوس نہیں کرتی۔ ایک علمیاتی طرزِاستدلال کی حامل ہونے کے باوجود یہ کتاب اپنے اسلوب اور مواد کی وجہ سےایسی ہے کہ دورانِ مطالعہ ایک سنجیدہ قاری کوبوریت اور تکان کاکوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔اس کتاب کی فہرست میں پیش لفظ،مقدمہ(دونوں مصنف نے خود ہی لکھے ہیں)اورچھ ابواب شامل ہیں۔اس کتاب کےچھ مضامین کے ساتھ ساتھ پیش لفظ اورمقدمہ بھی خاصے کی چیزیں ہیں اورچشم کشا ہونے کےساتھ حیرت زابھی۔پہلاباب”یورپی جدیدیت،نوآبادیات اوراور اردو جدیدیت "کےموضوع پرہے۔اس باب میں یورپی جدیدیت کو سمجھنے کےلیے "فلسفیانہ جدیدیت”اورجمالیاتی جدیدیت”کی دوالگ الگ اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں اور دونوں کےفرق وامتیازات کےساتھ ساتھ ان کےاشتراکات کوبھی واضح کیاگیاہے۔اس کےعلاوہ نوآبادیاتی جدیدیت کوبہ طور ایک استعماری جدیدیت کےحربےکےطورپراردوادب پراپناتسلط جمانے کو،دلائل وشواہدکےساتھ پیش کیاگیاہے۔اس کےساتھ ہی اردوادب کی مختلف طرح کی جدیدیتوں کااستعماری جدیدیت کےخلاف برسرِپیکار ہونے کوبھی نشان زد کیا گیا ہے۔
کتاب کادوسراباب”بیدل:جدیدیت اورخاموشی کی جمالیات” کےعنوان کےتحت قائم کیاگیاہے۔اس باب میں بیدل کی شاعری کےگلشن سےایسے پھولوں کومنتخب کیاگیاہےجن سےایسی عطرکشیدہوتی ہوئی دکھائی گئی ہےکہ بیدل کی جدیدیت کی خوشبو سےیہ باب مہک اٹھا ہے۔بیدل کی شاعری میں جدیدیت کےاس مشرقی لالہ زار کی طرف ،اس تناطرکےساتھ شاید یہ پہلی نگاہ اٹھی ہے اور جدیدیت کے "آفاقی”اور "مقامی” ہونےکےساتھ ساتھ ایک ذہنی رویہ ّ ہونےکی شہادت مشرقی ادب سےفراہم کی گئی ہے۔کتاب کا تیسرا باب”انگریزی استعمار اورغالب کی جدیدیت”کےنام سےلکھاگیا ہے۔غالب کی شاعری کی کتنی ہی شرحیں لکھی گئی ہیں لیکن غالب کی شاعری کے استعمارکےخلاف مزاحمت کےاس شان دار پہلو کومتنی شواہدکےساتھ اس اندازسےپہلےکسی نےنشان زد نہیں کیا۔اس باب سےیہ بھی معلوم ہوتاہےکہ کلامِ غالب کی شرح لکھتےہوئےکس طرح بڑے بڑوں نے ٹھوکرکھائی۔غالب کی جمالیاتی جدیدیت کو منکشف کرنےکی یہ کاوش، اپنی نوعیت اورقدرکےلحاظ سےمنفرد و یگانہ قسم کی ہے۔غالب کی جدیدیت کی پیش کش کےلیےجس طرح "آزادگی” اور "وحشت” جیسی اصطلاحوں کوکلام غالب سےوضع کیاگیا ہے،اس سےفاضل مصنف کےعلم اورخلاّقانہ صلاحیت کےساتھ ساتھ ذہن وفکرکی بالیدگی کااندازہ لگاناچنداں دشوار نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ” کہانی ، تصور حقیقت، علامتی افسانہ ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
چوتھا باب”نوآبادیاتی جدیدیت کی صبح اورمشرقی علوم کی شام” کے عنوان سے قائم ہے۔اس باب میں مشرق اورمشرقی علوم سے متعلق استعماری جدیدیت کےتشدّد اوراستعماری مستشرقین کےعلمیاتی تشددکےحربےکےپردےکوچاک کیا گیا ہے۔نوآبادیاتی جدیدیت کےرائج کردہ تصورِمشرق کوکس طرح استعمارنےلوگوں کےاذہان پرمسلط کیااوراس سےکیانقصان ہوا اس کا اندازہ کتاب کےاس اقتباس سےلگایا جاسکت اہے:”اگرہمیں یہ کہاجائےکہ جدیدعہدکےسب سےبڑےتشدّد کا نام لیں توہم بلاتوقف استعماری مستشرقین کے اس علمیاتی تشدّد کا نام لیں گےجوانھوں نےمشرق کےتصورمیں سےفطری علوم کےخارج کرنےکی صورت میں کیااوراگرسب سے بڑے المیےکو نشان زد کرنا پڑےتو اہم اہلِ مشرق اورخصوصاً مسلمانوں کےاس علمیاتی تشدّد کو سہہ جانے یعنی اپنی ثقافتی شناخت میں مذہب کو واحد عنص رکے طور پر تسلیم کرنے اور مادی علوم وفنون کی اپنی ہی روایت سےدست بردار ہونےکوکہیں گے”۔اس ایک چھوٹےسے اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ آج ہمارےہاں بہت سارےعلمی قضیوں اورجارحانہ اورمتشدد رویّوں کےپسِ پردہ کون سے محرکات ہیں اور ہمارے ہاں مکالمے کے بجائے مجادلےکی فضاکیوں کرپروان چڑھی۔
کتاب کاپانچواں باب”اردومیں کلاسیکیت اورجدیدیت کےمباحث”کےنام سےباندھاگیاہے۔اس باب میں اردوادب میں کلاسیکی، کلاسیکیت اور جدیدیت جیسی اصطلاحوں سےمتعلق پیدا ہونے والے مغالطوں کی اساس تک رسائی حاصل کرنےکی تگ ودوکی گئی ہے۔ان مغالطوں سےہمارے اذہان پر اپنےقدیم اورکلاسیکی علوم کی روایت سےمتعلق جوجوغلط فہمیاں پروان چڑھیں ؛ان کےہمارے علمی و ادبی میدان پرجو اثرات مرتسم ہوئے،وہ کس کس طرح اورکہاں کہاں آجتک چلےآرہےہیں،یہ سب بھی ان مباحث سےآئینہ ہوجاتاہے۔ان اصطلاحات سےمتعلق مغالطوں نےاردوادب کےتنقیدی سرمائےکوکس طرح متاثر کیا اس سوال کاجواب بھی اس باب کےمباحث سےآشکاراہے۔آخری باب”انسانی اختیارکےاثبات ونفی کی کش مکش” کا خالدہ حسین کےافسانوں کےمطالعہ کےحوالےسےپیش کیاگیاہے۔اس باب میں خالدہ حسین کےافسانوں میں سےمثالیں پیش کرتےہوئے”جدیدیت”کےبنیادی اصول کی اطلاقی جہات کودکھیاگیاہے۔یہ اس بات کاعملی ثبوت ہےکہ، جدیدیت ؛ایک ذہنی رویہ اورساخت ہےاوراپنی اصل میں مغربی نہیں بلکہ بہ یک وقت آفاقی اور مقامی ہونےکےساتھ ساتھ بشرمرکزہے۔آخر میں ،میں اس بات کی طرف متوجہ کرناچاہتاہوں کہ اس کتاب سےمتعلق یاکسی بھی کتاب سےمتعلق تمام بنیادی باتوں کوایک مضمون میں سمودینانہ صرف کارِدشوار ہےبلکہ ناممکن بھی ہے۔مذکورہ کتاب کےمضامین کےمعیار اور قدر کا درست اندازہ آپ خودکتاب پڑھ کرلگاسکتےہیں اس مضمون کامقصد صرف اتناہی ہےکہ ایک بلند پایہ کتاب کو خراجِ تحسین پیش کیاجائے اور اس کتاب کو پڑھنےکی تحریک اور ترغیب پیدا ہوسکے۔میرےخیال میں یہ کتاب اردوادب کی تاریخ میں ایک بہت بڑا کارنامہ ہےجس کوہمیشہ یاد رکھاجائےگا۔کافکا نےجوکہاتھا کہ”ایک کتاب کاکام اس کےسوا کیا ہوسکتا ہےکہ وہ ہمارے اندر کے منجمدسمندرکےلیےایک تیشہ بنے”۔میرےخیال میں یہ کتاب کافکاکےاس قول پرپورااترتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ناصر عباس نیر۔۔روشنی کا استعارہ – رانا محبوب اختر )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

