"حکیم الامت نقوش وتاثرات ” کے دوران مطالعہ مولانا عبد الماجد دریا بادی رح کا جب یہ خط نظر سے گذرا جس میں مولانا نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں سورہ کہف کی اس آیت وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا کے متعلق مولوی محمد حسن امروہوی کا ایک تفسیری نکتہ پیش کیا ، وہ یہ کہ ہے تین سو اور نو لانے میں لطیفہ یہ کہ بہ حساب شمس وہ مدت پورے تین سو سال کی تھی ، اور قمری حساب سے وہی مدت تین سو نو سال کی تھی ، کیونکہ ہر صدی میں قمری وشمسی کیلنڈر میں تین سال کا فرق ہوجاتا ہے ۔
حضرت تھانوی رح نے جواب میں لکھا ” میں ان کو مدت سے جانتا ہوں ، بالکل مجازفات اور تخمینیات سے کام لیا ہے تحقیق سے مس نہیں ، میں نے ان کی تفسیر بھی دیکھی ہے ، ناشافی ، ناکافی ، ناوافی ہے "۔
آگے مولانا دریابادی صاحب مولوی محمد حسن امروہوی کی تفسیر کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں ,,مولوی محمد حسن صاحب امروہوی کی پوری تفسیر دو جلدوں میں ہے اور اس کا نام” غایۃ البرھان فی تاویل القرآن” ، اس وقت تک میری نظر سے اصل تفسیر نہیں گذری تھی ، بعد کو پڑھ کر حضرت کی رائے سے اتفاق کرنا پڑا ، حقیقت سنجی سے کہیں زیادہ اس میں صفحہ صفحہ پر خیال آفرینی ہے ، اور مجھے تو مرزا صاحب قادیانی بلکہ مولوی محمد علی لاہوری بھی ان کے اچھے خاصے خوشہ چیں نظر آۓ گو ان غریب کا حوالہ شاید کوئی بھی نہیں دیتا ۔ (یہ بی پڑھیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ : فضائل و مناقب – محمد اشفاق عالم نوری فیضی )
البتہ نفس اس قول کے غیر محقق ہونے کے باب میں حضرت مولانا کے ارشاد سے ایک حد تک اختلاف ہے ، اور ابن کثیر ، معالم ، بحر المحیط ، جلالین ، روح المعانی وغیرہ سب میں اس کا ذکر موجود ہے ،،۔
اس خط کو پڑھ کر مولانا محمد حسن امروہوی کو جاننے کا اشتیاق بڑھا ، کئ سوشل سائیٹس پر تلاش کیا لیکن نتیجہ صفر ، بالآخر فیسبک پر ان کی تفسیر کے بارہ میں استفسار کیا ، محترم جنید صاحب امروہوی نے لکھا کہ انہوں اس تفسیر کے بعض اوراق مولانا کے پوتوں کے پاس دیکھا ہے ، اسی طرح مفتی شعیب ندوی صاحب ناگپوری نے مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تین اقساط پر محیط مقالہ کا ایک صفحہ کمنٹ باکس میں نشر کیا ، اس نے شوق اور بڑھادیا ، مولانا گیلانی کے اس مقالہ کو تلاش کرنے لگا لیکن یہاں بھی مقصود تک رسائی نہ ہوسکی ، ٢٣جولائ ظہر کے بعد جب فیسبک نوٹیفکیشن کیا چیک کیا تو بے انتہا خوشی ہوئی کہ مفتی صاحب نے مولانا گیلانی کا مقالہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں مہیا کرادیا ہے ، مفتی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مقالہ پڑھنا شروع کردیا ۔
حضرت گیلانی کا تین قسطوں پر مشتمل یہ مقالہ” معارف” میں بعنوان "ہندوستان کا ایک مظلوم مولوی ” شائع ہواتھا ، پہلی قسط میں مولانا گیلانی نے مغربی افکار و آراء کی ہندوستان میں نشوونما اور فروغ اور عہد بہ عہد اس کی ترقی کا اختصارا جائزہ لیا ہے ، حضرت گیلانی کی تحقیق کے مطابق مغربی افکار و نظریات کا عمل دخل دور اکبری سے ہی شروع ہوچکا تھا ، خود اکبر ان دانشورانِ فرنگ کا زبردست حامی تھا، ان دانشوران کی اثر پزیریوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ، یہاں تک کہ مغل حکومت کا چراغ گل ہوگیا ، اب مغربی تہذیب وتمدن نے زبردست یورش کی ، سیاست ، صحافت ، ادب اور مشنری نے اسلامی تعلیمات واحکام پر چو طرفہ حملہ شروع کیا ، بہت سے لوگوں نے ان حملوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے اور کچھ نے اپنی خدمات کو تصنیف وتالیف میں محدود کردیا ، اسی گروہ میں مولانا محمد حسن امروہوی ہیں ۔
مولوی صاحب مظلوم کیوں ؟
مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح مولوی محمد حسن امروہوی کی مظلومیت کی وجہ بیان کرتے لکھتے ہیں :
” اسی میدان میں علمی وفکری حیثیت سے اس وقت جب گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا ایک "غریب” مولوی کے قلم نے گوشہ میں بیٹھ کر جو کام کیا تھا ، چرچا تو اس کے کاموں کا ہر جگہ کیا گیا ، اس کے بہت سے خود آفریدہ نکات ونظریات لوگوں نے اپنی طرف منسوب کرکے خوب پھیلایا ، لیکن اس بد قسمت مظلوم مولوی کا نام لوگوں کے حافظہ سے خداہی جانتا ہے کیوں نکل گیا ، آج میں اسی بھلے بھلائے مظلوم مولوی سے لوگوں کو روشناس کرنا چاہتا ہوں "۔
تعلیم وتربیت :
مولانا محمد حسن امروہہ کے رہنے والے نقوی خاندان کے سید ہیں ، ان کی تاریخ پیدائش وفات معلوم نہیں ، تعلیم اپنے وقت کے مشاہیر سے حاصل کی ، علوم نقلیہ و عقلیہ کے جامع اور طب کے ماہر ہیں ، ان کے استاذہ میں مولانا فضل حق خیرآبادی ، مفتی صدرالدین آزردہ اور امام الأطباء حکیم امام الدین دہلوی یکتائے روزگار حضرات ہیں ، اپنی تعلیم کے متعلق خود یوں رقمطراز ہیں :
” اس فقیر اضعف عباد عبد الدھر محمد حسن امروہوی نے طفولت سے ارباب تحقیق و اصحاب یقین کی خدمت میں تربیت پائی ہے ۔
فلسفہ مشائیہ واشراقیہ وعلوم کلامی عقلیہ خدمت یگانہ آفاق مثل افضل المحققین مولانا فضل حق خیرآبادی سے وکتب نقلیہ مثل حدیث وتفسیر استاذ زمانہ مولانا مفتی صدرالدین مرحوم دہلوی سے اور طب امام الأطباء حکیم امام الدین دہلوی سے ” (مقدمہ تفسیر ص ١٤) ۔
ابتدائی مشغلہ :
تعلیم سے فراغت کے بعد طبابت کو اپنا پیشہ بنایا ، اس طرح وہ مہارانا سروپ سنگھ ریاست اودے پور کے طبی عملہ میں داخل ہوگیے ، سروپ سنگھ کے بعد مہارانا شمبھو سنگھ سے متعلق ہوگیے ۔
عملی ذوق :
ان کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب انہیں ریاست اودے پور کے زمانۂ قیام میں اجمیر جانے کا اتفاق ہوا ، یہاں گورنمنٹ کالج کی لائبریری دیکھ کر ان کا دل للچایا اور کثیر مشاہرہ والی نوکری ترک کردی ، اور پڑھنے لکھنے کو اوڑھنا بچھونا بنایا ۔
دوسری قسط :
انیسویں صدی عیسوی میں جب قدیم درسگاہ کے فضلاء جدید علوم و فنون اور تحقیقات جدیدہ پر نظر غلط بھی نہیں ڈالتے تھے ، انہوں اپنی ذاتی محنت اور لگن سے جدید علوم اور تحقیقات سے واقفیت حاصل کی اور ان کو اپنے حریف نصاری کو زیر کرنے میں خوب استعمال کیا ، اس قسط میں مولانا گیلانی رح نے ان کی بہت سے آراء نقل کرکے ان کے انتقال ذہن اور استنباط کی داد ہے ، انہوں نے اپنی تفسیر میں جہاد ، تعدد ازواج اور غلامی پر بھی خوب لکھا ہے ۔
کتب خانہ اسکندریہ کی آتش زنی کا واقعہ :
ان جدید اعتراضات میں سے ایک اہم اعتراض کتب خانہ اسکندریہ کی آتش زنی کا واقعہ ہے ، اب کتب خانہ اسکندریہ کوئی مسئلہ نہیں رہا ، مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ اس قضیہ کو صاف کر گیے ، لیکن انیسویں صدی میں اس واقعہ کو آڑ لے کر مستشرقین مسلمانوں کو علم دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے ، اس واقعہ کے متعلق مولانا امروہوی لکھتے ہیں :
” یہ امر محض غلط ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کا قدیم کتب خانہ جلایا جیسے گبن ، سینٹ کرائی ، وپلو ٹارک ، اس کی تصریح کرتے ہیں ، بلکہ کتب خانہ مذکور سیزر قیصر کے وقت جلایا گیا "(مقدمہ تفسیر ص ٤١)۔
تیسری قسط :
تیسری قسط میں مولانا گیلانی نے گذشتہ نوشتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کے ذکر کے متعلق مولوی محمد حسن کے خیالات و آراء کو شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا ہے ، توریت ، انجیل ، وید کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہونا ثابت کیا ہے ،
اس قسط کے شروع میں محقق گیلانی صاحب نے یاجوج ماجوج کے متعلق امروہوی صاحب کے افکار ذکر کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن باعث طولانی اس مبحث کو اگلی قسط کے لیے اٹھا رکھا ، چوتھی قسط مجھے نہ مل سکی ۔
تفسیر غایۃ البرھان فی تاویل القرآن کا مقدمہ :
تفسیر غایۃ البرھان کے متعلق اوپر ذکر ہوچکا کہ یہ تفسیر دو جلدوں میں ہے ، اس میں حقیقت کے مقابلے میں قیاس آفرینی زیادہ ہے ، حضرت تھانوی کی رائے بھی اس تفسیر کے بارہ میں گذر چکی ہے ، مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی رائے بھی وہی جو ان دو حضرات کی ہے البتہ اس تفسیر کے شروع میں جو ایک ضخیم مقدمہ ہے جس میں امروہوی صاحب نے بہت سے قیمتی نکات بیان کیے ہیں ، اس کے بارہ میں سلطان القلم محقق گیلانی اپنی رائے یوں درج کرتے ہیں :
"ان کی تفسیر کا مقدمہ انصاف کی بات یہی ہے کہ پست سی پست چیزوں کے ساتھ کافی بلند نتائج بلند پر بھی مشتمل ہے ، ان کے خاص طریقۂ بیان سے اپنے آپ کو مانوس بنالینے کے بعد چاہاجاۓ تو کافی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے "۔
آخری بات :
ان کے عقائد معجون مرکب ہیں ، مولانا گیلانی نے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے یہ اچھی باتوں کے ساتھ ایسی باتوں کی بھی تایید کرجاتے ہیں کہ ان کے متعلق کہنا پڑتا ہے "يؤمن بكل حق وباطل "، یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور محمد علی لاہوری نے ان کی تفسیر سے خوب فائدہ اٹھایا ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت خوب۔ اور جزاکم اللہ خیراً۔
جناب گیلانی نے تیسری قسط میں جو ملخص پیش کیا ہے، ان آرا کا تقابل جناب عنایت رسول چریا کوٹی کی تصنیف”بشریٰ” سے بہت مفید علمی مضمون بن سکتا ہے۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے