کبھی یوں بھی تو ہو
کہ عکس ِ خواب
حقیقت کے آئینے میں نظر آۓ
دعا ، تقدیر بن جاۓ
دعا، تاثیر بن جاۓ
دعا ،تنویر بن جاۓ
دعا، اکسیر بن جاۓ
میری روح کو قرار آۓ
بے قرار ذہن و دل
بے چین نظر
الجھنوں کا بوجھ
کشمکش کی دھوپ
میرے درودیوار سے اتر جاۓ
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ آنسو کی آب وتاب سے
بے رونق شہر ِ ذات پر نکھار آۓ
پلکوں پہ رکا کوئی بے قیمت موتی
گہر نایاب بن جاۓ
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ میں نور کا پیکر بن جاؤں
تیرگی میں جگنو
راستے میں چراغ
دھوپ میں بارش
اذیت کی خاردار رہ گزر پر
راحت کا شجر بن جاؤں
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ منبع خیر بنوں
ماتھے کی شکن نہیں
وجہ تسکین بنوں
اداس، بوجھل لمحوں
بے نور، ویران ساعتوں میں
دریچوں کا حسین منظر بن جاؤں
کبھی یوں بھی تو ہو
کبھی یوں بھی تو ہو


2 comments
سر مجھے ایک مضمون شائع کرانا تھا۔اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہو گا
آپ اپنا مضمون ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیج دیں