کوئی بھی زبان اپنی قوم کے افراد کا وہ بیش قیمتی سرمایہ ہوتی ہے جسے ذہین افراد اگر قدر کی نگاہ سے نہ دیکھیں تو چند ہی دہائیوں میں ان کی قوم کو دنیا حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے۔ اس لیے ہر قوم نے اپنے ادبی سرمایہ اور ان کے مالکان کو سر آنکھوں پر بٹھاکر اپنی تہذیب و اقدار کی حفاظت کی ہے۔ سخنوران دانش چاہے وہ کسی بھی خطے یا علاقے کی زمین سے وابستہ رہتے ہوں اگر زبان ایک ہو تو زمینوں کے ٹکڑے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
ایسے ہی ایک ادبی ستارے نے یکم اکتوبر ۱۸۹۸ئ کو پشاور پاکستان کے افق پر جنم لیا جو زمین پر اپنی ادبی کرنوں کو بکھیرنے میں معاون ثابت ہوا۔ جی ہاں ۔نام تھا سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ شاید سیاسی حالات کی وجہ سے انہیں غیر ملکی کہہ کر اتنی نقادانہ پذیرائی کا معترف نہیں جانا گیا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ یہ صرف اور صرف ملک اردو زبان و ادب کا ہے باشندہ ہے۔ دانشور اور فنکار یہ ایسے صیغے میں شمار کیے جاتے ہیں جن کی جڑیں پورے کرۂ ارض میں پیوست ہوکر اپنی روشنی سے فلک سے جڑے رہتے ہیں۔ اس لیے ان کا کوئی علاقہ یا ملک نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم جائے پیدائش کی مناسبت سے کسی بھی طول البلد یا عرض البلد کو متعین کرلیں۔ لیکن یہ صرف انتظامی حد تک ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس نفس کو ہم اس جائے میں قید نہیں کرسکتے۔ وہ آزاد ہوتا ہے۔ اس کے ہنر کی پرواز تمام خطوں میں یکساں ہوتی ہے۔ پطرس کی تخلیقات پر بھی ہندوستان میں اتنی مقبولیت کی حامل نہیں سمجھی گئیں جتنی سمجھی جانا چاہیے تھیں یا طرز تغافلانہ کے اسباب کوئی اور رہے ہوں گے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پطرس نہایت غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی شگفتہ تحریروں کے باعث وہ اردو طنز و مزاح نگاری کے سنہرے باب میں ایک منفرد اور معتبر مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کے نثری اثاثے میں اپنی طرز تحریر سے ایک نئی روش کی روایت کی بنیاد ڈالی جو بتدریج آگے اپنے نقوش ثبت کرتی چلی گئی۔ ان کی تحریر کی عظمت و شان و شوکت تمام نثر نگاروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ کیونکہ ان سے پہلے طنز نگاری و مزاح نگاری کو صرف دل آزاد صنف تحریر ہی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پطرس نے اس کے صحیح مفہوم سے آشنائی بخشی۔ مزاح میں سلیقہ، تہذیب، رواداری، وسعت قلبی، فن، مہارت، گہری سماجی بصیرت اور بلند حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے جو پطرس کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ انہوں نے برملا دکھادیا کہ طنز کی اساس تحقیر، تذلیل، ریاکاری اور بدذوقی پر مبنی نہیں ہے۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں فکری بلندی، اعلیٰ ادبی ذوق، اسلوب کی خوبصورتی اور طنز و مزاح کا جداگانہ احساس، اقدار کی قدر و منزلت پائی جاتی ہیں۔ ان کی تحریروں کا سرا کبھی بھی کیکٹیس محسوس نہیں ہوتا۔ پطرس تو کانٹوں کے ساتھ گلاب پیش کرتے ہیں کہ پھول کی موجودگی کانٹوں کی اہمیت واضح کردیتی ہے اور قاری اسے گلے لگالیتا ہے۔ ان کی فنی دسترس اور اسلوب زبان مشکل ترین عمل کو بھی آسان بنادیتی ہے۔ یہ ساری صفات ان کی اپنی ہیں۔ اس میں کسی تقلید کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ یہ ساری خداداد صلاحیتیں ہیں جس کو پطرس بروئے کار لانے میں ذرا بھی نہیں چوکے۔ ان کی تحریروں کا سحر تقریباً پچھتر اسی سالوں سے چلا آرہا ہے۔ ان کے ہمعصر نثر نگاروں کے مقابلے میں ان کی عمیق متانت اور علمی استعداد اپنا الگ مقام رکھتی ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں دبے کچلے دلوں کی راحت کا سامان بنی اور یہ ایک ایسی مثال ہے جہاں ادب برائے انسانیت کھڑا نظر آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نیر مسعود کی دانش و بینش (مکاتیب کے حوالے سے) – ڈاکٹر عمیر منظر )
عام خیال ہے کہ پطرس صرف اور صرف خالص مزاح نگار تھے۔ لیکن ان کی تحریر میں پوشیدہ فنی و فکری فلسفہ کی تازگی انہیں مزاح نگار کا مقام عطا کرتی ہے۔ خشک اور ادراک کے بوجھ تلے دبے جذبات کو لطافت کے ساتھ وسعت نظر دیتے ہوئے قاری کے دلوں تک پہنچانا صرف ایک انتہائی بصیرت افروز ادیب کا ہی خاصہ ہوسکتا ہے۔ پطرس نے یہ ثابت کردکھایا تھا۔ لبوں پر پھیلنے والی مسکراہٹیں یکایک گہری علمی سنجیدگی کا رخ لے لیتی ہیں۔ سماج و معاشرہ پر ان کی تنقید میں بھی تنوع اور تمکنت نظر آتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے نہایت سنجیدگی سے ادب کا مطالعہ کرکے نئی جہت کی بنیاد رکھی۔
عام طور سے دیباچہ نویسی میں وضعداری کے بندھے ٹکے اصول درپیش ہوتے ہیں۔ انداز بیان اور نوعیت پر رسماً فیض پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن پطرس کے ہاں یہ کیفیت نہیں پائی جاتی۔ ان کے تحریر کردہ دیباچوں میں بھی بلا کی علمی، تنقیدی اور تجزیاتی مبارزت طلبی نظر آتی ہے۔ حالانکہ وہ خود اس سے دلچسپی رکھتے ہوئے نہیں دکھائی پڑتے تھے۔ اس بات کی تصدیق پطرس کے ان خیالات سے ہوتی ہے۔
’’کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیباچوں کا مرض ہندوستان میں بڑھ رہا ہے۔ ملا کتاب شائع کرتا ہے تو حاجی اس پر دیباچہ لکھتا ہے۔ حاجی قلم اٹھاتا ہے تو ملا اس کا تعارف کراتا ہے۔ مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کہ من ترا ملا بگویم تو مرا حاجی بگو۔ یہاں تو خیر کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں ابھی تک جہلائ کی کثرت ہے اور ہمارے اہل قلم اتنی دقیق باتیں لکھتے ہیں کہ جب تک ایک مصنف کے نکات اسی پائے کا دوسرا مصنف بمجرد اشاعت لوگوں کے سامنے حل کرکے نہ رکھ دے، بنی نوع انسان کی ایک بہت بڑی تعداد اس کے فیض سے محروم ہوجاتی ہے۔ لیکن غنچہ تبسم (کتاب کا نام) کے ایک نسخے کے ہمراہ چار چار حکمائے زبان کا پرچہ ترکیب ارسال کرنا زیرے کے منہ میں اونٹ کے برابر ہے۔ تکمین کاظمی صاحب (صاحب کتاب) کے نام اور ان کے ادبی کارناموں سے ہندوستان کا ہر پڑھا لکھا آدمی کم و بیش واقف ہے۔ کیا ان کی اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ جب تک چار آدمی انہیں کندھا نہ دکیں وہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔‘‘
لیکن اتنی ہوتے ہوئے بھی پطرس نے کئی عمدہ دیباچے لکھے اور نئی فکر و فلسفہ کی روش بھی دکھائی۔
پطرس کے سفر نامے بھی کم دلچسپ نہیں۔ قاری کو ہر لمحہ میں اپنا ہمسفر بناتے ہوئے وہ زندگی کے نشیب و فراز سے واقف کراتے رہتے ہیں۔ ان کا ایک ایک تجربہ قاری کو کسی بزرگ دوست کی یاد دلاتا ہے۔ جہاز کے سفر سے متعلق یہ چند سطریں:
’’ہم ساحل سے بہت دور نکل آئے۔ ہوا تیز ہونے لگی۔ میں دور افق کو بے معنی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ یکلخت معلوم ہوا جیسے افق کچھ اور ہے۔ جیسے ترازو کی ڈنڈی ایک طرف کو جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ لمحے بھر کے بعد آپ دوسری طرف جھک گئے۔ ایک دو منٹ نہ گزرے تھے کہ ایسے معلوم ہوا جیسے کسی نے دفعتاً ٹخنوں اور گھٹنوں کے پیچ ڈھیلے کردئیے ہیں۔ معدے میں ایک برف کا گولہ بہت زور سے نیچے کو گرا۔ انتڑیوں نے اچھل کر پھیپھڑوں کے ایک گھونسا مارا اور کھوپڑی کے اندر کلیجے نے آہستہ آہستہ پنڈولم کی طرح جھولنا شروع کیا اور پھر قے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابتدائے عشق تھی۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں اردو کی اولین نسائی آواز: رشیدۃ النساء بیگم – رخسار پروین )
پطرس نے کئی افسانے، ڈرامے اور ناولٹ کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ لیکن اس میں بھی قلم کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ وہ تراجم کے بجائے تخلیق محسوس ہوتے ہیں اور نہ قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی دوسری غیر ملکی زبان اور تہذیبی، ثقافتی پس منظر میں اس تحریر کو باصرہ نواز کررہا ہے۔ لگتا ہے مانو یہ اپنے ہی دیس کی مٹی کی تحریر ہو۔ ان ہی اوصاف کی بنائ پر ان کی تحریر اردو ادب کے جواہر پارے بن کر اپنی تابناکی بکھیر رہی ہے۔
شخصیات سے متعلق تحریروں میں تو پطرس نے ایسے انوکھے پہلو نمایاں کیے جن سے مذکورہ شخصیتیں بھی نام دینے سے قاصر ہوں گی۔ ہر شخصیت کا الگ ہی زاویہ پیش کرتے ہوئے اپنے تجزیاتی نتائج کو نئی نسل کے سامنے ایک انوکھے اور منفرد انداز سے پیش کیا۔ اقبالؔ پر تحریر کردہ یہ چند سطور ملاحظہ کیجیے:
’’۔۔۔۔۔۔۔ مذہب اسلام کے غائر مطالعہ نے جو اقبال نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک مسلسل جاری رکھا۔ اس کے افق خیال کو وسعت بخشی۔ وہ ایک ایسی تمدنی نصب العین کا قائل تھا جو انسانوں کو وطنوں اور قوموں کے اختلافات کی سطح سے بلند کردے۔ کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو صرف اس لیے ملٹن کی شاعری سے لطف اندوز نہ ہوں کہ وہ اس کے مذہبی عقائد سے متفق نہیں لیکن دوسرے لوگوں کے لیے جو کولاج کے لفظوں میں کسی شاعر کے کلام کا مطالعہ کرتے وقت افکار کو مجملاً معطل کردیتے ہیں۔ اقبال رہتی دنیا تک مشرق کا سب سے زیادہ ولولہ انگیز شاعر رہے گا۔‘‘
اسی طرح عصمت چغتائی کی تحریروں پر اپنی مستند رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
’’۔۔۔۔۔۔۔ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لیے باعث فخر ہے انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دئیے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی راستے آنکھوں سے اوجھل تھے، اس کارنامے کے لیے اردو خوانوں کو ہی نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا چاہیے۔‘‘
پطرس کی شاعری میں جذبات کی سچائی ایک ایک لفظ سے پھوٹتی ہے۔ ان میں معشوق کے تئیں دیوانگی نہیں پائی جاتی بلکہ وہ اپنے محبوب کو زندگی کے اتار چڑھاؤ سمجھاتے ہوئے ایک خاردار روش پر ہوا کے دوش پر سوار چلتے ہیں۔
یہ میں نے کہہ تو دیا تجھ سے عشق ہے لیکن
میرے بیان میں ایک لرزش خفی بھی ہے
وفا طلب ہے تیرا عشق اور میرے دل میں
تیری لگن کے سوا اور بے کلی بھی ہے
مگر ہیں اور بھی طوفان اس زمانے میں
کہ جن میں عشق کی ناؤ شکستنی بھی ہے
پطرس کو فنون لطیفہ کے بیشتر صیغوں سے دلچسپی رہی۔ موسیقی، مصوری، اور ادب میں دل سے طبع آزمائی کی۔ شاعری، مکتوبات، سفر نامے، مضامین، افسانے، تراجم سب ہی کچھ لکھا۔ ماہر تعلیم اور ماہر نشریات کے طور پر بھی اپنے ہنر دکھائے۔ آخر کار ۱۵ دسمبر ۱۹۵۸ئ کو نیویارک میں آخری سانس لے کر اس دنیا کو الوداع کہا۔
٭٭٭٭٭
ہاجرہ بانو
پلاٹ نمبر ۹۳، سیکٹر اے،
سڈکو این ۱۳،حمایت باغ،
اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۸۔
ریاست مہاراشٹر-
موبائل: 9860733049
E-mail: hajra857@g-mail.com
نوٹ- یہ مضمون جناب حقانی القاسمی صاحب کے توسط سے حاصل ہوا، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

