جو پوچھا کسی نے، یہ شمع کس نے جلای ہے
اندھیرے میں روشنی کی ، یہ چمک کہاں سے آئی ہے
وہ جو طلاطم تھا، لا علمی کا
زمانے میں چھایا ہوا
اس طلاطم میں علم کی شعاعیں
یہکس نے پھیلائی ہیں؟
۔ جواب آیا کہ-
جس کے سر ،عزت و محبت کا تاج ہے
جس سے تعلیم کا آخر ہے ، آغاز ہے
جس کی محنت سے مستقبل کی پرواز ہے
جس کی حکمت سے تابندہ ہر راز ہے.
تجسس کی پیاس بجھاتے ہیں جو
الجھنوں کی گتھی سلجھاتے ہیں جو
کامیابی سے وابستہ ، اپنے تجربات سے
ہمیں منزل کی راہ ، دکھاتے ہیں جو.
حق و باطل کی تمیز کو سکھانے والے
ہر سکھ دکھ میں ساتھ ، نبھانے والے
لبادہ اتار کر ، نارسائی کا ذہن سے
تعلیم و تربیت کا ، ذمہ اٹھانے والے
شاگرد کی رہنمائی کو، اپنی خواہش سے لڑے
صبر و تحمل کا ہاتھ تھامے ، متحرک وہ رہے
کہاں سے لاؤں میں الفاظ ، اس کی وضاحت کو ثنا
جس تقدس کو ذمانہ یہ ، استاد کہے…
ثنا شمیم

