Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

ظریفانہ ادب کا فنّی اختصاص – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras ستمبر 7, 2021
by adbimiras ستمبر 7, 2021 1 comment

ظرافت نگاری ایک صبرآزما صنفِ ادب ہے۔ فنی اعتبار سے ظرافت، مزاح اور طنز کے درمیان لطیف سا فرق ہے۔ اربابِ نظر کے یہاں ان تینوں کی امتیازی خصوصیات سے متعلق اختلاف رائے ملتا ہے اور ان کی آرا اس قدر پیچیدہ اور مبہم ہیں کہ ظرافت، مزاح اور طنز کی افہام و تفہیم گنجلک اور گڑبڑہوکر رہ جاتی ہے۔دیگر اصنافِ ادب کی طرح ظرافت کا تعلق بھی فرد، سماج، معاشرہ اور انسانی فطرت سے براہِ راست ہے۔شدتِ تاثیر اور اثر انگیزی کے سبب سنجیدہ شاعری کے علاوہ کوئی بھی صنف اس رنگ کی ثانی نہیں۔ظرافت کا محرک کسی بھی قسم کی سماجی ناہمواری، اخلاقی گراوٹ، ذہنی پستی، جسمانی نقائص، جنسی بے راہ روی، غمِ جاناں و غمِ دوراں، رسم و رواج کی پابندی، سیاسی ہلچل، غلامی، بے جا پیرویٔ مغرب، رشوت خوری، چور بازاری، فرقہ پرستی، رجعت پرستی، ترقی پسندی میں عدمِ توازن، جمہوریت، بے جا آزادیٔ نسواں، اقتصادی زبوں حالی، انجمن سازی، نعشوں کی سوداگری، کفن چوری،ناتمامیٔ زندگی و دنیا وغیرہ بے شمار موضوعات ہیں جن پر ظرافت نگار کی حسِ مزاح کلیلیں بھرتی ہے، اس کے اندر ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے۔اس کے دل و دماغ میں ترنگیں اٹھنے لگتی ہیں۔ فنکار اپنے احساس کے اظہار پر مجبورہوجاتا ہے۔اسی اظہارِ احساس کو ظرافت کہتے ہیں لیکن اس احساس کے ساتھ غور و فکر کی دعوت ہو تو مزاح اور اصلاح کا راز مضمرہو تو طنز بن جاتا ہے۔

ظرافت زندگی اور معاشرے میں ایک خوشگوار فضا کی تشکیل کرتی ہے۔ ہمارے ارد گرد جو بے اعتدالیاں، تفاوات اور بدنظمیاں روز و شب ظہور پذیر ہوتی ہیں، ان پر ظرافت نگار مسکراتا ہے اور اپنے قاری کو بھی انبساط و تبسم کی دعوت دیتا ہے۔تمام ناقدین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ طنز و ظرافت میں بیّن فرق ہے۔ کچھ ناقدین مزاح اور ظرافت کو مترادف تصور کرتے ہیں اور ان کے خیال میں مزاح کا مقصد بھی ہنسنا ہنسانا ہے۔جب کہ مزاح ہنسی کے ساتھ ساتھ غور و فکر کے لیے بھی مجبور کرتا ہے۔جس منزل پر ظرافت اپنا کام تمام کرتی ہے، وہاں سے مزاح کی ابتدا ہوتی ہے اور اختتام طنز و ہجو پر۔تبسم ایک نعمت ہے جو لمحے بھر کے لیے میسر آتا ہے اس لیے ظرافت ایک رحمت بن جاتی ہے۔ ظرافت کا دائرہ کافی وسیع ہے اور جڑیں کافی گہری۔تبسم ایک عالمگیر جذبہ ہے اور ظرافت تبسم کا بدل۔ظریفانہ ادب کی تخلیق کے لیے طنز و مزاح کا امتزاج لازم و ملزوم ہے۔صرف تبسم بکھیرنے اور مسرت و انبساط کے اظہار سے ادب معرضِ وجود میں نہیں آسکتا۔ اس روشنی میں مزاح اور طنز کو ظرافت کا اجزائ ترکیبی قرار دیا جاسکتاہے۔ ہجو بھی طنز و مزاح سے مختلف چیز ہے لیکن طنز و مزاح سے جداہوکر اپنی انفرادیت برقرار نہیں رکھ سکتی۔غلام احمد فرقت کاکوروی ، خواجہ عبد الغفور وغیرہ نے اقسامِ ظرافت کی ایک طویل فہرست پیش کی ہے۔ ان کے خیال کے مطابق:

’’اردو میں بیس اقسام کی ظرافت پائی جاتی ہے جو حسبِ ذیل ہیں۔(۱) ظرافت (۲) مزاح (۳) طنز (۴) وٹ یا بذلہ سنجی (۵) تمسخر (۶) رمز (۷) ہزل (۸) عریانی (۹) ہجو (۱۰) پھکڑ (۱۱) فحاشی (۱۲) لطیفہ (۱۳) آوازہ (۱۴) حاضر جوابی (۱۵) فقرہ بازی (۱۶) خمریات (۱۷) ضلع جگت (۱۸) ریختی (۱۹) جلی کٹی (۲۰) پیروڈی۔‘‘ ۱؎

ظرافت کی یہ اقسام درست سہی لیکن ادب میں ظرافت ، مزاح، طنز، ہجو اور پیروڈی کے علاوہ دیگر اقسام انھی کے مختلف پہلو ہیں جن کا مزاح، طنز اور تحریف سے طریقۂ کار یا طنز مزاح نگار کے طریقۂ اظہار اور ردِ عمل سے زیادہ تعلق ہے۔ان کی حیثیت محض حربوں کی ہے۔خوشگواری اور ناگواری کی صورتیں ہیں۔ ان میں منفی صورتوںکی اہمیت ہے نہ مقام۔غلام احمد فرقت کاکوروی ، خواجہ عبد الغفور، ڈاکٹر شوکت سبزواری اور ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’وٹ‘‘ کے لیے ’’بذلہ سنجی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے جب کہ دوسرے ظریفانہ ادب کے ناقدین ’’وٹ‘‘ کے لیے ’’ظرافت‘‘ ہی استعمال کرتے ہیں۔مذکورہ بالا اقسامِ ظرافت کے درمیان مفاہمت پیدا کرتے ہوئے درج ذیل انواعِ ظرافت ہوسکتی ہیں:

(۱)  مزاح        (۲)  طنز          (۳)  ہجو          (۴)  پیروڈی

مزاح:

مزاح؛ظرافت اور طنز کی درمیانی کڑی ہے۔مزاح نگار اپنی نگاہِ دوربیں سے زندگی اور معاشرے کی ان ساری برائیوں، خامیوں اور کوتاہیوں کو اپنے اندر جذب کرتا ہے، جس سے اس کی حس اور اصلاح کا جذبہ بیدار ہوجاتاہے۔ اظہارِ احساس کے وسیلے سے عوام کو اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ وہ زندگی اور معاشرے کے آبلوں پر انگلیاں رکھ کر ان کے مداوا کے لیے انسان کو برانگیختہ کرتا ہے۔ لیکن اس کا رویہ ہمدردانہ ہوتا ہے، جارحانہ نہیں۔نشترزنی تو طنز نگار کا کام ہے ۔ بقول ڈاکٹر وزیر آغا:

’’مزاح نگار اپنی نگاہِ دوربیں سے زندگی کی ان ناہمواریوں اور مضحک کیفیتوں کو دیکھ لیتا ہے، جو ایک عام انسان کی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔دوسرے ان ناہمواریوں کی طرف مزاح نگاہ کے ردِ عمل میں کوئی استہزائی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ ان سے محفوظ ہوجاتاہے اور اس ماحول کو پسند کرتا ہے جس نے ان ناہمواریوںکو جنم دیا ہے۔ چنانچہ ان ناہمواریوں کی طرف اس کا زاویۂ نگاہ ہمدردانہ ہوتاہے۔‘‘  ۲؎ (یہ بھی پڑھیں فروغِ اُردو زبان میں انتظامیہ کی حصّہ داری – پروفیسر عبدُ البرکات )

مزاح نگار معاشرے کی زہرناکی کو پی جاتا ہے اور متھ کر امرت میں متبدل کرکے پیش کرتا ہے جو بہت ہی مشکل کام ہے۔ہنستے ہنستے زہر کا پیالہ پینا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔مزاح نگاری آگ کا دریا پارکرنے کے مترادف ہے۔تھوڑی سی لغزش مزاح کو مذاق اور پھکڑ میں تبدیل کردیتی ہے۔مزاح کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر اسلوب احمد انصاری تحریر کرتے ہیں:

’’مزاح نگار کا مقصد ضرررسانی کبھی نہیںہوتا، اس کا مطمحِ نظر اصلاحی اور افادی بھی نہیں ہوتا۔یہ اور بات ہے کہ اس کا یقین اور طنز کے تیروں کا نشانہ بننے کے بعد ہمارے اندر احساسِ نفس جاگ جائے جو پایان کار ہماری اصلاح کا موجب بنے لیکن یہ مزاح نگار کا مقصدِ اوّلین نہیں ہوتا۔اس کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ ہمارے غیرآہنگ افعال اور خود بینی و خود نمائی کے مظاہر کا تماشا خود دیکھے اور دوسروں کو دکھاوے اور ان سے انبساط حاصل کرنے کا سامان فراہم کرے۔‘‘۳؎

پروفیسر اسلوب احمد انصاری کا یہ خیال درست ہے کہ مزاح نگار کا کام صرف مظاہر کا دلچسپ انداز میں تماشا دیکھنا اور اور دکھانا ہوتا ہے، اصلاح اور افادی پہلو کی وضاحت نہیں۔وہ اس کام کو طنز نگار پر چھوڑدیتا ہے۔

دراصل مزاح نگاری طنز سے مشکل اور لطیف فن ہے۔ مزاح کے سامنے طنز اور ہجو کا بحرِ بے کراں ٹھاٹھیں مارتا ہے تو پشت پر عریانی، فحاشی، پھکڑبازی وغیرہ جیسے قعرِ مذلت۔ان دونوں کے درمیان مزاح اپنا مقام متعین کرتا ہے جو پل صراط پر چلنے سے کم نہیں۔مزاح تیر و نیزہ کھا کے زخموں پر مسکراتے ہوئے پھاہا رکھنے کا نام ہے۔اس روشنی میں مزاح کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ مزاح ایک ایسا عالمگیر جذبۂ رحمت و نعمت ہے جو معاشرے کے منفی و سنجیدہ حالات میں بھی انبساط ومسرت کے گوہر آبدار سے، انسان اور انسانیت کے دامن کو بھردیتا ہے۔ایسا تبسم عنایت کرتا ہے جو ہماری کوتاہیوں، خامیوں اور بوالعجبیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتا ہے(لیکن خندہ پیشانی کے ساتھ) مزاح کا یہ پیام ہے کہ ہر حال میں خوش رہو اور شکر بجا لاؤ اور فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے۔

مزاح کئی طرح سے پیدا کیاجاسکتا ہے۔ تضادِ موازنہ مزاح کے لیے ایک اچھا حربہ ہے۔اس حربہ کے تحت موازنہ میں ایسی ناہمواریاں پیدا کی جاتی ہیں جس سے ہنسی کی سبیل نکل آئے۔ مثلاً کنہیالال کپور کا یہ جملہ ’’شیخ سعدی سے لے کر شیخ چلی تک‘‘ اس جملہ میں ’’سعدی اور چلی کا موازنہ کس قدر مضحکہ خیز اور شگفتہ ہے۔اس طرح مزاح نگار تکرارِ لفظی اور رعایتِ لفظی کے توسط سے بھی مزاح پیدا کرتا ہے۔ایک مخصوص فضا اور کردار کے وسیلے سے بھی مزاح کی راہ ہموار کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مزاح نگار کے تجربہ میں جس قدر وسعت، تنوع، رنگا رنگی و ہمہ گیری ہوگی اور جس قدر وہ ذکی الحس و بیدار مغز ہوگا، مزاح کے محرکات اسی تناسب سے اس کے یہاں پائے جائیں گے۔کامیاب اور ادبی مزاح پیدا کرنے کے لیے زبان و ابلاغ پر کامل دسترس ناگزیر ہے۔

طنز:

کھیت کو زرخیز بنانے کے لیے ہل چلانے کی حاجت ہوتی ہے۔ دھرتی کے سینے کو چیرنے سے کھیت کی زرخیزی عود کر آتی ہے۔اسی طرح طنز و مزاح زندگی میں شادابی کے موجب بنتے ہیں۔باغ میں لہلہاتے پودوں کی تراش خراش ایک بے رحمانہ فعل ہوسکتا ہے لیکن پودوں میں ترتیب، خوشنمائی اور توازن برقرار رکھنے کا یہ مناسب طریقہ ہے اور بے حد اہم بھی۔ طنز ایک طرح کی تنقید ہے لیکن تنقید کی بہ نسبت اس کا دائرہ کافی وسیع اور اصلاحی پہلو نمایاں ہوتا ہے کیوںکہ طنز برائیوں اور خامیوں کو اپنا نشانہ بناتے وقت اقدار و اوصاف کو پیشِ نظر رکھتی ہے، ممکن نہیں شر کے جویا کو خیر کی بات سوجھے۔ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہماری چار سو بے اعتدالیاں، بدنظمیاں، بے انصافیاں، زور و زبردستی، ظلم و ستم، بے ایمانی، فساد و تصادم وغیرہ جو کچھ ہورہاہے،اس کے برملااظہار کا نام طنز ہے۔لیکن ادبی طنز اور عام طنز میں فرق ہے۔ ادبی اور لطیف طنز کے لیے تہذیب، نفاست ونزاکت کے ساتھ ایک شیریں دیوانگی از حد ضروری ہے۔ دراصل جہاں زندگی گزارنے کا جیسا معیار ہوگا، اسی سطح پر وہاں طنز پرورش پاتی ہے۔ لطیف اور ادبی طنز کے لیے پختہ شعور اور تعلیم نہایت ضروری ہے۔ظاہر ہے یہ ترقی یافتہ اقوام میں ہی ممکن ہے۔طنز نگار اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے مبالغہ سے بھی کام لیتا ہے یعنی حقیقت کو گھٹابڑھاکر پیش کرتا ہے۔ مثلاً لمبی ناک والے کی ناک کو تلوار سے تطبیق کرنے اور کسی چھوٹے قد والے کو بونا بناکر پیش کرنا طنز ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اب’’ ان‘‘ کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں: احمد جمال پاشا -. پروفیسر عبدُ البرکات )

طنز ایک قسم کی عملِ جراحی ہے اور طنز نگار ایک سماجی سرجن ہوتا ہے۔طنز نگار نشترزنی کرکے سماج، معاشرہ اور انسانی افعال میں جو فاسد مادہ ہوتا ہے اس کو رفع کرتا ہے۔ اس عملِ جراحی میں کرب بھی ممکن ہے اس لیے وہ مزاح کی غشی آور دوا سے اس شدت کو کم کرتا ہے۔ طنز سے متعلق ڈاکٹر شوکت سبزواری لکھتے ہیں:

’’طنز کے نشتر کسی قدر نوکیلے ہوتے ہیں۔ طنز میں جتنی شدت ہوتی ہے، اتناہی وہ کامیاب اور بھرپور سمجھا جاتاہے لیکن طنز کی یہ شدتِ تیزی، بے دردی اور تلخی ایک اچھے اور بڑے مقصد کے لیے ہوتی ہے۔طنز کی ادب میں اہمیت اس کی مقصدیت کی وجہ سے ہے اور یہی مقصدیت ہے جس کی وجہ سے طنز کی تلخی گوارا کرلی جاتی ہے۔ بقول غالبؔ لب کی شیرینی کا کرشمہ ہے کہ اس کی گالیاں کھاکے ہم بے مزہ نہیں ہوئے۔ لب کی یہ شیرینی طنز کا مقصد ہے۔‘‘۴؎

طنز کا مقصد تخریبی نہیں تعمیری ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں منفی و مثبت رجحان ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہو یا نئے اور پرانے میں شدید تصادم ہو تو طنز کی ضربیں لگاکر ایک ہموار غیرمتصادم اکائی کی طرف بڑھاجاسکتا ہے۔طنز نگاری دودھاری تلوار پر چلنے کا فن ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی سے وار اوچھا بھی ہوسکتا ہے او رالٹا بھی اس لیے طنز کو عملِ سفلی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اگر عمل پورا نہ ہوتو عامل خود اس کا شکار ہوجاتاہے۔ میں ادبی اور غیر ادبی طنز کے درمیان خطِ فاصل کھینچنا نہیں چاہتاکیوںکہ اگر طنز میں ادبیت نہیں تو وہ دوسرے درجے کی چیز ہوجاتی ہے، اسے طنز نہیںکہاجاسکتا۔طنز نگار کو جراثیم شدہ حالات و واقعات کا نشانہ بنانے سے قبل اپنے جذبات کی تربیت اہم ہوجاتی ہے۔حقارت، غصہ، غضب اور نفرت کے جذبات سے پرے ہوکر طنزنگار اپنا وارکرتا ہے، نہیں تو ہجوگو میں شامل ہوجاتاہے۔ اس لیے طنز نگار کو باریک بینی، نزاکت و نفاست، شائستگی اور تہذیب کو شعار بنانا پڑتا ہے۔پھرحصولِ مقصد کے لیے طنز نگار مزاح کا سہارا لیتا ہے۔

طنز نگار ذاتی بغض و عناد اور دشمنی سے اجتناب کرتا ہے۔طنز کا دائرہ کافی وسیع ہوتا ہے۔اس کی جڑیں؛زندگی، معاشرہ اور سماج کے اندر پیوست ہوتی ہیں۔طنز کے موضوعات میں ہمہ گیری اور کافی وسعت ہے۔دراصل یہ طنزنگار کے احساس پر منحصر کرتا ہے۔ معمولی واقعات سے لے کر بڑے سانحات تک کو طنز کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔طنزنگار طعباً ذکی الحس ہوتا ہے اور دردمند دل رکھتا ہے اس لیے اس کے یہاں اصلاح کا مادہ شدت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔

ہجو:

’’ہجوہماری نظم کی ایک خاردار شاخ ہے جس کے پھل سے پھول تک بے لطف بھری ہے اور اپنی زمین اور دہقان دونوں کی کثافتِ طبع پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ ۵؎

ہجو؛ اقسامِ ظرافت میں ایک رَو کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہجو کے لیے نثر سے زیادہ نظم کی زمین راس آتی ہے۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نثر میں اس کا گزر ہی نہیں۔اس سلسلے میں میرجعفر زٹلی کی نثری ہجو کا نمونہ موجود ہے۔ہجو ذاتی بغض و عناد اور دشمنی کے پیشِ نظر معرضِ وجود میں آتی ہے۔افراد، معاشرہ اور زمان ومکاں ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔اس لیے اشخاص کے ساتھ ساتھ وہ بھی ہجو گو کی نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔ہجوگو احساسِ برتری کا شکار ہوتا ہے۔ وہ جس پر استہزاکرتا ہے اس کے عیوب سے اپنے آپ کو مبرا سمجھتا ہے۔ہجوگو؛افراد اور معاشرے کے بے ہنگم، مضحک اور بوالعجبیوں کو دیکھ کر غضب ناک ہوجاتاہے۔ اس کے اندر نفرت، غم و غضہ اور غضب کی چنگاریاں دہکنے لگتی ہیں اور وہ اپنی شعلہ بیانی سے اپنے حریف کو جھلساکر رکھ دیتا ہے۔ گویا ہجو اپنے حریف پر شعلہ افشانی کا نام ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہجو، برائی، بدگوئی اور مذمت سے اپنا دامن چھڑا نہیں سکتی ہے، اس کے اندر مزاح کی تیزی اور انتقامی جذبات شدت سے پائے جاتے ہیں۔

 

پیروڈی:

پیروڈی یونانی لفظ’’پرودیا‘‘ سے مشتق ہے۔ابتدائے آفرینش میں پیروڈی کے معنی ’’جوابی نغمہ‘‘ یا ’’نغمۂ معکوس‘‘ رہا ہے جس کی روشنی میں نہایت سنجیدہ، معروف اور فکر انگیز نغمہ کی سحرانگیزی رفع کرنا تھا۔لیکن بہت جلد ہی پیروڈی اس تنگ اور محدود گلی سے نکل کر وسیع میدان میں آگئی ، جہاں شاعری کے علاوہ نثری صنف بھی اس کی قدم بوس ہوگئی۔اب پیروڈی کے معنی وسیع اور موضوع رنگارنگ ہیں۔عرفِ عام میں پیروڈی ’’نقالی‘‘ سے موسوم کی جاتی ہے۔لفظ’’نقالی‘‘ کے معنی اور دائرۂ کار کافی متنوع ہیں۔درحقیقت یہ اصل کی ایسی نقل ہے جس میں اصل کا شائبہ کارفرماہوتا ہے۔پیروڈی کو کارٹون سے تشبیہ دی جاتی ہے جس میں تصویر کے تمام پہلوؤں کو مضحک طور پر نمایاں کیا جاتا ہے اس لیے:

’’پیروڈی کو طنز و مزاح اور کارٹون کے خاندان کا فرد کہنا درست ہوگا۔اس میں تضحیک سے تنقید کا کام لیا جاتاہے۔مگر اس کا منصب تضحیک ہرگز نہیں۔اسی وجہ سے یہ ایک مشکل فن ہے۔اس کی مزاحیہ تنقید میں اعتدال اور توازن کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کسی سنجیدہ تخلیق کے کوبڑکو پوری فنکاری کے ساتھ پیش کیاجاتاہے۔ اس کا کمال یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کوبڑکو دیکھ کر ہنس پڑتا ہے اور ہنسی میں اصلاح کی صورت بھی نکل آتی ہے۔‘‘ ۶؎

پیروڈی صنفِ ظرافت کی ایک اہم قسم ہے جو کسی مشہور و مقبول تخلیق کے زیرِ سایہ وجود میں آتی ہے۔وہ کسی فن پارے کے طرزِ تحریر کی دلچسپ انداز میں خاکہ اُڑاتی ہے۔ عام یا سطحی قسم کی تخلیق کی پیروڈی ممکن نہیں، ایسی ادبی تخلیق جس میں کچھ فنی و فکری معائب و محاسن ہوں، اس کا محور بنتے ہیں۔ بعض مستند ادبا جن کے یہاں ایسے الفاظ کا مکرر استعمال ، جو فنکار کا تکیہ کلام بن گیا ہویا کسی کلام یا نثری شہ پارے میں ایک ہی طرح کے خیال کا باربار اعادہ کرنا پیروڈی کا محرک ہوتاہے۔

کسی فنونِ لطیفہ یا کلام کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت، متانت اور سنجیدگی کو طنز و مزاح کے وسیلے سے معتدل کرنے کا کام پیروڈی بہ احسن کرتی ہے۔بعض شاہکار تخلیقات میں کچھ مبہم سی کمزوریاں ہوتی ہیں جو عام مشاہدے میں نہیں آتیں یا جن کی غیرمعمولی مقبولیت کی وجہ سے قاری کی نظریں ان پر نہیں ٹھہرتیں لیکن ان پر ظرافت کا عنصر پنہاں رہا ہے تو پیروڈی ان کو نمایاں کرتی ہے۔ان اہم فرائض کی انجام دہی کے لیے جدتِ ادا اور ندرتِ بیان ناگزیر ہے۔ بقول پروفیسر رشید احمد صدیقی:

’’پیروڈی میں جدت اور جودت کا ہونا ضروری ہے۔ اصل کی نقل اس طورپر کرنا یا اس میں ظرافت کا پیوند لگانا کہ تھوڑی دیر کے لیے نقاب یا پیوند کی تفریحی حیثیت کو دبادے، پیروڈی کا ہنر ہے۔‘‘۷؎

پیروڈی سے متعلق ظرافت نویس، پیروڈی نگار اور ناقدین کے یہاں کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔شوکت تھانوی، شفیق الرحمن اور کنہیالال کپور کے خیالات میں زیادہ بُعد نہیں۔

پیروڈی کے تمام ناقدین اسی نکتہ پر متفق نظر آتے ہیں کہ پیروڈی سنجیدہ و شاہکار فن پارے کے کوبڑاور کمزوریوں کو اپنی طنز کا نشانہ بناتی ہے۔اسی روشنی میں یہ تنقید کا فریضہ انجام دیتی ہے۔لیکن عام تنقید کی بہ نسبت پیروڈی ایسی لطیف تنقید ہے جس میں ہمدردی اور تبسم کا عنصر کارفرما ہوتاہے۔وہ غایت درجہ کی سنجیدہ اور ادبی بے راہ روی پر برق بن کر گرتی ہے۔یہ برق جلانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ادبی ضابطے سے منحرف ہونے والے ادیب کو دلچسپ انداز میں انتباہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔کسی بھی تخلیق کی بے راہ روی کو اعتدال پر لانے کا کام انجام دیتی ہے۔ فن اور اسلوب میں پیداشدہ کبیدگی رفع کرتی ہے۔ پیروڈی کے جلو میں ظرافت کے تبسم اور طنز کے نشتر پوشیدہ ہوتے ہیں۔ پیروڈی کا تعلق ادب سے براہِ راست ہے بلکہ:

’’پیروڈی بغیر کسی اور تصنیف یا تخلیق کے وجود میں نہیں آسکتی۔ گویا پیروڈی دو فنکاروںکی دستِ نگر ہے۔ ایک تو وہ جو پہلے کوئی نظم نثر قلم بند کرتا ہے اور دوسرا وہ جو اس کی پیروڈی کرتا ہے۔‘‘۸؎

پیروڈی بیک جنبش دوطرح کا کام انجام دیتی ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سنجیدہ ادب کی کمزوریوں کو طنز کا ہدف بناتے ہوئے اس کے طلسم کو توڑتی ہے تو دوسری طرف تفریح و تفنن کے لیے فضا ہموار کرتی ہے۔اس طرح پیروڈی کا سلسلۂ نسب طنز سے جاملتا ہے۔دونوںکا مقصد تقریباً ایک ہے لیکن وسیلۂ موضوع جداگانہ ہے۔طنز اپنا موضوع موادزندگی،معاشرہ اور سماج سے اخذ کرتی ہے جب کہ پیروڈی کا ماخذ براہِ راست شعر و ادب ہے۔

لیکن طنز کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ۔اعلیٰ پایہ کی پیروڈی اتنی ہی قابلِ قدر ہوتی ہے جتنی وہ تخلیق جس کی پیروڈی کی گئی ہو۔کامیاب پیروڈی اس وقت ممکن ہے جب پیروڈی کے لیے حربہ بنائی گئی تخلیق سے ہمدردی اور اس کے مصنف سے اُنس ہو۔پیروڈی کی جانے والی تخلیق بے حد پسند کی جاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے اور انسانی نفسیات بھی کہ جب کسی محبوب شے پر کثافت کے غلاف دبیز ہوجاتے ہیں، اس جانب لامحالہ اصلاحی نظریں اٹھنے لگتی ہیں۔سفید کپڑے پر معمولی دھبہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ پیروڈی اسی دھبہ کو رفع کرنے کا نام ہے۔ (یہ بھی پڑھیں رپورتاژ اور سفرنامہ کے نظریاتی پہلو – پروفیسر عبدُ البرکات )

پیروڈی نگار عام فنکار سے زیادہ حساس اور زود بیں ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں خردبین کا کام کرتی ہیں۔ وہ ذہانت و ذکاوت سے کام لیتا ہے۔ اس کو شعر و ادب کا عمدہ ذوق اور فنی بصیرت ہوتی ہے۔ پیروڈی نگار کا شعور نہایت پختہ اور ہشت پہلو ہوتا ہے۔ اس کے اسلوب میں بھی رنگارنگی اور وسعت کارفرماہوتی ہے۔ وہ جس فنکار کو اپنے تیر کا ہدف بناتا ہے، اپنے اسلوب اور ذہنی دھارے کو اس کے طرزِ تحریر اور ذہنی رو سے ہم آہنگ کردیتا ہے۔ اس طرح پیروڈی کے قاری کا ذہن اس اصل تخلیق کی طرف فوراً منتقل ہوجاتاہے جس کو پیروڈی نگار اپنا ہدف بناتاہے۔ پیروڈی نگار کے لیے تکنیک یا اسلوب پر قدرت و مہارت اور ظرافت پیدا کرنے کی صلاحیت بہت ضروری ہے۔

پیروڈی کے لیے استعمال کی جانے والی زبان آسان، سادہ، سلیس اور شگفتہ ہوتی ہے۔ کامیاب پیروڈی کا بیشتر انحصار زبان وبیان پر ہوتا ہے۔ اس کے لیے پیرایۂ بیان مبالغہ آمیز ہونا لازمی ہے۔الفاظ، بیان اور خیالات کی ہم آہنگی اور ظرافت کی گل فشانی سے پیروڈی جاذبِ نظر اور دلچسپ بن جاتی ہے۔ لیکن پیروڈی میں اس امر کا بالخصوص خیال رکھنا ناگزیر ہے کہ ہدف بنائی گئی نظم اور نثر کا ’’موڈ‘‘ برقرار رہے۔ جس طرح کی فضا اصل تخلیق میں بنتی ہے وہ مکرر اورمجروح نہ ہو۔ مصنف کا اسلوب، لب ولہجہ اور تیور شگفتہ ہو۔ ورنہ وہ کامیاب پیروڈی نہیں ہوسکتی۔ڈاکٹر وزیر آغاز کی نظر میں:

’’پیروڈی یا تحریف کسی تصنیف یا کلام کی ایک ایسی لفظی نقالی کا نام ہے جس سے اس تصنیف یا کلام کی تضحیک ہوسکے۔‘‘ ۹؎

محض’’لفظی نقالی‘‘ سے شاہکار تحریف منصہ شہود پر نہیں آسکتی۔دراصل پیروڈی تین طرح سے کی جاتی ہے۔ ایک لفظی پیروڈی، جہاں صرف الفاظ کے الٹ پھیر سے ہنسی کی سبیل پیدا کی جاتی ہے۔ظاہر ہے لفظی تبدل میں خونِ جگر کی نہیں ہوش مندی کی حاجت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خونِ جگر صرف کیے بغیر کوئی شاہکار تصنیف معرضِ وجود میں نہیں آسکتی۔ دوسرا طریقۂ کار اسلوب یا اسٹائل کو مزاحیہ صورت میں پیش کرنا ہے۔ اس میں صرف ہیئت و اسلوب کا مذاق اُڑایا جاتاہے۔پیروڈی کی تیسری جہت موضوعاتی ہے۔ پیروڈی کرنے کا تیسرا انداز نہایت اہم اور مناسب ہے۔موضوعاتی پیروڈی سے مراد کسی تخلیق کے عنوان کا مذاق اُڑانا نہیں بلکہ جس واقعہ، حالات اور اشیائ کو اصل مصنف نے اپنا موضوع بنایا ہے، پیروڈی میں اس کو ملحوظ رکھنا ہے لیکن شاہکار پیروڈی وہ ہوگی جس میں تینوں امر کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ پیروڈی کرنے کا گُر بتاتے ہوئے پروفیسر قمر رئیس رقم طراز ہیں:

’’پیروڈی کار کسی خاص اسلوب یا فن پارے کی خارجی ہیئت (Form)کی تقلید کرتے ہوئے اس کے مواد کو حسبِ ضرورت مسخ کرکے یا ایسی مبالغہ آرائی اور ظریفانہ پینترے سے پیش کرے کہ اس کی اصل صورت بگڑکر بھی پہچانی جاسکے۔‘‘ ۱۰؎

پیروڈی کا مقصد اصل تخلیق کا محض مذاق اُڑانا ہوتا ہے اور نہ ہی تخریبی رجحان بلکہ امتدادِ زمانہ کے سبب جب کوئی شاہکار تخلیق اپنے جائز مقام سے دست بردارہوجاتی ہے، پیروڈی دوبارہ اس کا منصب دلانے میں کامیاب ہوتی ہے اور پیروڈی کی لے میں اصل تخلیق کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ وہ اس کو شگفتہ اور ملین بناکر پیش کرتی ہے۔ اس طرح پیروڈی کرنے کے سبب اصل تخلیق از سرِ نو دلوں کو مسخر کرنے لگتی ہے۔پیروڈی کا مقصد مصنف کی طرزِ تحریر اور فنی خامیوںکو نمایاں کرنا بھی ہے۔ مصنف کی ذاتیات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس منزل پر پیروڈی نگار کی نزاکتوں میں اضافہ ہوجاتاہے۔ پیروڈی نگار کی مصنف سے ہمدردی بہت ضروری ہے۔ اس کے دل میں مصنف کے لیے احترام کا جذبہ ہونا چاہیے تب ہی وہ اپنے منصب سے صحیح انصاف کرسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر پیروڈی اپنا مقصد کھودیتی ہے اور وہ ہجو یا ہزل میں منتقل ہوجاتی ہے۔پیروڈی نگار کا مقصد اعلیٰ و ارفع اور تعمیری تخلیق کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے اور مزاح کے لیے فضا بنانا بھی اس کے اوصاف میں شامل ہے۔ مثلاً مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب’’آبِ حیات‘‘  کی پیروڈی جب ابن صفی نے ’’آبِ وفات ‘‘ لکھی تھی تو ابن صفی نے اس سے قبل ایک وضاحتی نوٹ لکھا تھا جس کی ابتدا اس طرح کی تھی:’’مولانا آزاد کے پیروں کی خاک میرے سرپر…اس اضحوکہ کا مقصد ’آبِ حیات‘ کی تضحیک نہیں…‘‘۱۱؎

۱۹۶۰ میں جب ڈاکٹر اعجاز حسین کی کتاب ’’اردو ادب آزادی کے بعد‘‘ شائع ہوئی تو اس میں اس پیروڈی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے نقل بھی کیا گیا تھا۔

اردو ظرافت نگاری میں پیروڈی کا اہم مقام ہے بلکہ دیگر اصنافِ ادب کی طرح پیروڈی میں بھی ہمہ گیری موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایک اچھی پیروڈی سنجیدہ اور معیاری تخلیق کو ادراکِ قاری سے ہم آہنگ کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ وہ اردو ادب میں اپنے منفرد مقام کے حصول کے لیے پرتول رہی ہے۔ اس کی افادیت، مقبولیت اور ہردل عزیزی کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ عنقریب ہی یہ اپنے منفرد مقام کے تعین میں کامیاب ثابت ہوگی۔پیروڈی کے اندر طنز کا عنصر کار فرما ہوتا ہے جو اصل تحقیق کا اشاریہ ہوتا ہے۔ وہ خالق کے مسلک و منشا کی طرف قاری کے ذہن کو رجوع کرتا ہے۔ اس لیے پیروڈی خوش ذوق سے مصنف کے مقصد کی طرف ذہن کو منتقل کردیتی ہے۔ مثلاً فیضؔ کی نظم’’تنہائی‘‘ کی پیروڈی کنہیا لال کپور کی لگائی ہے۔

حواشی:

(۱)      بحوالہ اردو میں خندہ زنی اور اقسامِ ظرافت: غلام احمد فرقت کاکوروی، مشمولہ ماہنامہ ’صبا‘ ص ۲۱، ۲۲

(۲)     اردو ادب میں طنز و مزاح: ڈاکٹر وزیر آغا، مطبوعہ ۱۹۸۱ئ، ص ۴۱،۴۲

(۳)     علی گڑھ میگزن(طنز و ظرافت نمبر)، مرتب ظہیر احمد صدیقی، فروری ۱۹۷۵ئ، ص ۱۵۰

(۴)     ایضاً ص ۳۳

(۵)     آبِ حیات، محمد حسین آزد، مطبوعہ ۱۹۷۶ئ، ص ۱۴۵

(۶)     اسکالرپیروڈی نمبر، مرتب احمد جمال پاشا، علی گڑھ، مارچ ۱۹۵۷ئ

(۷)     کچھ پیروڈی کے بارے میں، رشید احمد صدیقی، بحوالہ اسکالر پیروڈی نمبر، ص ۹

(۸)     نئے ادبی رجحانات، ڈاکٹر اعجاز حسین، مطبوعہ ۱۹۵۷ئ، ص ۳۲۷

(۹)     اردو ادب میں طنز و مزاح، ڈاکٹر وزیر آغا، ص ۴۸

(۱۰)    تلاش و توازن، پروفیسر قمر رئیس، مطبوعہ ۱۹۶۸ئ، ص ۱۵۴

(۱۱)     میں نے لکھنا کیسے شروع کیا؟ ابن صفی(عالمی ادب کی نمائندہ تحریریں) ترتیب و ادارت محمد عارف اقبال، اپریل ۲۰۱۴ئ، ص ۱۱۱

 

 

Correspondence Address :-

Dr. Abdul Barkat

Mehdi Hasan Road,, Qila Chowk,

Near Nadi, P.O. M.I.T., Brahampura

Muzaffarpur-842003 (Bihar)

 

 

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

abdul barkatعبد البرکات
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بہرائچ تاریخ کے آئینہ میں – جنید احمد نور
اگلی پوسٹ
دعائے مغفرت برائے لخت جگر محمد شکیب اکرم – محمد خورشید اکرم سوز

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

اور کتنی سسکیاں گوجتی رہیں گی - فرحین اسرار - Adbi Miras ستمبر 7, 2021 - 7:54 شام

[…] متفرقات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں