الہ آباد یونیورسٹی نے ایک اسپیشل ایکٹ کے تحت ۱۹۲۱ سے آزادانہ طور پر کام کرنا شروع کیا۔ یہاں تک پہونچنے کے لئے اسے تقریباً نصف صدی کا سفر طے کرنا پڑا۔ سر ولیم میور (۲۷ ؍اپریل ۱۸۱۹ ۔۱۱ ؍جولائی ۱۹۰۵) نے اپریل ۱۸۷۲ میں سنٹرل کالج ، الہ آباد کی شروعات کی جو بعد میں میور سنٹرل کالج کے نام سے مشہور ہوا۔ جولائی ۱۸۷۲ میں اس کا پہلا سشن شروع ہوا۔ اس کے پہلے پرنسپل مسٹر اسپلر ہیریسن(۱۸۷۲۔۱۸۸۵)تھے۔اس وقت ان کے ساتھ چار ٹیچرس کا اسٹاف بھی تھا ؎
(۱)مولوی ذکائ اللہ ۔پروفیسر ورناکیولر لٹریچر اینڈ سائنس، (۲)مسٹر ڈبلیو ایچ رائیٹ۔پروفیسر انگریزی (۳)مسٹر جے ۔ایلیٹ۔پروفیسرحساب(۴) پنڈت آدتیہ رام بھٹاچاریہ۔ پروفیسر سنسکرت۔
ـــ’’اگر روشنی نہ ہو تو آنکھیں بے بصارت ہیں ، اگر علم نہ ہو تو دل بے بصیرت ہے‘‘
یہ قول ہے انیسویں صدی کی تعمیری طرز فکر رکھنے والی اس شخصیت کا جنھیں ہم خان بہادر شمس العلمائ مولوی محمد ذکائ اللہ کے نام سے جانتے ہیں ۔ آپ کی ہستی کئی اعتبار سے منفرد ہے اور آپ کے علمی مشاغل حیرت انگیز ہیں ۔ آپ نے اس دنیا میں جب آنکھ کھولی تب ہندوستان کی سیاسی کشمکش عروج پر تھی۔ ہندوستانی معاشرے پر مغربی تہذیب اثرانداز ہو رہی تھی۔ ملک کے سیاسی حالات غیر تھے۔ مادّی ترقی نے اپنے قدم جما لئے تھے۔ پورے سماج میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ پرانے کھنڈہر پر نئی تہذیب و تعلیم کی بنیاد پڑ رہی تھی۔ مولوی ذکا اللہ نے ان پرآشوب حالات کا جائزہ لیا اور اپنے مقصد کی بر آری کے لئے اپنی پوری عمر علم و ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دی۔
ذکا اللہ کی زندگی کے حالات قلم بند کرنے والے سی۔ ایف ۔ اینڈروز نے آپ کی تاریخ پیدائش ۲۰ ؍اپریل ۱۸۳۲لکھی ہے۔ آپ کے اجداد وسط ایشیا کے باشندے تھے۔ مغلیہ دور کی شروعات میں یہ خاندان ہجرت کر کے پنجاب ،لاہور اور پھر دہلی آ گیا۔ اس خاندان کے افراد نسل در نسل مغل شاہزادوں کے اتالیق مقرر ہوتے رہے۔ ذکائ اللہ نے دہلی کے کوچہ بلاقی بیگم کے جس گھر میں آنکھ کھولی ، اس کا ماحول پوری طرح علمی ادبی اور مذہبی تھا ۔ جنگ آزادی کے دوران ان کا گھر منہدم کر دیا گیا تھا، سامان ایک نہ بچا، پورے خاندان کو در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ چھ بھائی بہنوں میں ذکا اللہ سب سے بڑے تھے۔ بچپن سے ہی شاہی گھرانے میں ان کا آنا جانا تھا۔ لہٰذا مغلیہ شان وشوکت اور شاہی روایت سے بخوبی واقف تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے دادا حافظ محمد بقائ اللہ اور والد حافظ محمد ثنائ اللہ سے حاصل کی ۔ چھ برس کی عمر میں ہی عربی و فارسی کی مشکل کتابیں پڑھنی شروع کر دی تھیں ۔ بارہ برس کی عمر میں دہلی کالج میں داخلہ لیا ۔ اس وقت دہلی کالج کا اورینٹل ڈپارٹمنٹ بہت مشہور تھا۔ یہاں نئے علوم کی تعلیم اردو میں دی جا رہی تھی۔لہٰذا لوگ انگریزی اور مغربی علوم سیکھنے کے دیوانے ہو رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ذکائ اللہ کی دلچسپی سائنس کی طرف زیادہ رہی۔ وہ ہر دن نئے تجربات کرتے ، ریاضی کے مسائل پل بھر میں حل کر دیتے۔ سترہ برس کے ہوتے ہوتے انھوںنے ریاضی کی پہلی کتاب اردو میں لکھ ڈالی۔ اس بنائ پر وہ ریاضی کے استاد ماسٹر رام چندر کے چہیتے شاگرد بن گئے۔ فارسی کے استاد مولوی امام بخش صہبائی عربی و فارسی کے ساتھ ساتھ تاریخ میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ مولوی ذکائ اللہ انھیں اپنا آئیڈیل استاد مانتے تھے۔ ذکا اللہ نے دہلی کالج سے بطور ریاضی کے معلم کے اپنی ملازمت کی شروعات کی۔ اس کے بعد آگرہ، بلند شہر، مرادآباد اور الہ آباد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اپنی کتاب تعلیم الاخلاق میں لکھتے ہیں ؎
’’ممالک مغربی و شمالی وپنجاب کے سر رشتہ تعلیم میں میری ساری عمر بسر ہوئی۔ اس کے احسانات عظیم میرے سر پر ایسے ہیں کہ میں کسی طرح ان کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا ۔ اسی نے اپنی گرہ سے روپیہ خرچ کر کے مجھے سکھایا پڑھایا۔ اسی نے چھتیس برس تک اپنا ملازم رکھا۔ معلم، ڈپٹی انسپکٹر ، ہیڈ ماسٹر، پروفیسر فیلو یونیورسٹی بنایا۔ ‘‘
آپ دہلی کالج میں ریاضی پڑھاتے تھے تو آگرہ کالج میں فارسی اور اردو کے استاد رہے۔ نارمل اسکول دہلی کے ہیڈ ماسٹر بنے، ڈپٹی انسپکٹر مدارس ہو کر بلند شہر اور مراداباد گئے۔ پھر آپ کو اورینٹل کالج لاہور کی پرنسپل شپ کا موقعہ ملا لیکن ساتھ ہی میور کالج الہ آباد سے بھی بلاوا آ گیا ۔ الہ آباد کے تقرر کے بارے میں وہ یوں رقم طراز ہیں ؎
’’ ممالک مغربی میں سر ولیم میور نے اپنے عہد لفٹیننٹ گورنری میں میور سنٹرل کالج قائم کیااور یہ تجویز رکھی کہ بڑے بڑے شہروں میں ممالک مغربی کے دس اسکول جاری کئے جائیں اور ان میں عربی و فارسی کی تعلیم ہو اور اس کے ساتھ یوروپین سائنس اور تاریخ و جغرافیہ میں بذریعہ اردو زبان تعلیم دی جائے۔ جب طلباان اسکولوں کی تعلیم سے فارغ ہوں تو میور کالج میں مشرقی زبانوں اور یوروپین سائنس کی اعلیٰ تعلیم پانے کے لئے داخل ہوں۔ چنانچہ بندہ اس کام کے لئے میور سنٹرل کالج میں پروفیسر ورناکیولر سائنس اینڈ لٹریچر مقرر ہوا تھا۔‘‘
میور سنٹرل کالج میں ان کا تقرر اس لئے ہوا تھا کہ وہ مغربی سائنس اردو زبان میں پڑھائیں مگر بعد وہ پروگرام فیل ہو گیااور آپ عربی اور فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنے لگے ۔ ملازمت کے اعتبار سے سب سے زیادہ وقت انھوں نے الہ آباد میں گذارا۔ ان کے قول کے مطابق ۱۶؍ اپریل ۱۸۸۷سے وہ اپنے عزیز میور کالج کی ملازمت سے اپنی خوشی سے جدا ہو گئے۔ وقت سے پہلے پنشن لینے کا سبب پوری لگن کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام انجام دینا تھا۔ ترک ملازمت پر نہ تو انھیں گورنمنٹ نے مجبور کیا تھا اور نہ ہی کوئی جسمانی معذوری تھی۔ انھوں نے میور سنٹرل کالج کے نومبر ۱۸۸۷ میں ہونے والے کانووکیشن میں شرکت کی تھی ۔انھوں نے اپنی ملازمت کے دن پورے اطمینان سے گذارے تھے۔ آپ کی علمی لیاقت کی بدولت ۱۹۰۳ میں جب انجمن ترقی اردو قائم ہوئی تو آپ کو اس کا نائب صدر بنایا گیا۔ ۱۹۰۹میں آپ اسلامی تعلیمی کانفرنس کے صدر انجمن مقرر ہوئے۔ آپ اپنے دور کے ماہر تعلیم جانے جاتے تھے۔ آپ اس وقت عورتوں کی تعلیم کے حامی تھے جس کے لئے ۱۸۶۴ میں آپ کو اعزاز حاصل ہوا۔ ۱۸۷۲ میں جب آپ نے میور سنٹرل کالج کی پروفیسری اختیار کی ،اس وقت آپ ریاضی کی کتاب لکھ چکے تھے۔ اس پر آپ کو ۱۵۰۰؍روپئے کا نقد انعام دیا گیا تھا۔ ۷۳۔ ۱۸۷۲یں پہلی مرتبہ گورنمنٹ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ دیسی زبان میں لکھی گئی عمدہ تصانیف پر انعام دیا جائے گاتو مولوی ذکااللہ کے ریاضی کے چوبیس رسالے اس میں شامل کئے گئے۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔مصنف کا نام ۔منشی ذکا اللہ ، معلم میور کالج الہ آباد ، نام کتاب و مضمون ۔ریاضی کے چوبیس رسالے سلسلہ وار ، زبان۔ اردو۔ گورنمنٹ نے اس انعام کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگر مولوی ذکائ اللہ ریاضی کی طرح دو سرے علوم میں بھی کتابیں لکھیں تو انھیں انعامات و خطابات سے نوازا جائے گا۔ آپ اپنی آخری سانس تک پڑھنے لکھنے سے وابستہ رہے۔ ۱۶ ؍فروری ۱۸۸۷ کو آپ کو جشن قیصری کے موقعہ پر شمس العلماکے خطاب سے نوازا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ کے پچاس سالہ جشن کے موقعہ پر انھیں خان بہادر کا خطاب عطا ہوا۔
ذکا اللہ کی شادی شدہ زندگی پر سکون تھی۔ ان کے چار بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے عطا اللہ کا دل پڑھنے لکھنے میں زیادہ نہیں لگتا تھا ۔ لہٰذا باپ نے ان کو کتابوں کی اشاعت کے کام پر لگا دیا۔ اپنے والد کی زیادہ ترکتابیں عطائ اللہ نے اپنی نگرانی میں ہی شائع کروائیں۔ دوسرے بیٹے عنایت اللہ بے انتہا ذہین تھے۔ اردو زبان سے انھیں خاص دلچسپی تھی۔ تیسرے بیٹے ضیا اللہ کو ریاضی کا شوق اپنے والد سے ملا تھا۔ وہ اس شوق کی بدولت انجینیر بن گئے۔ ان کے چوتھے بیٹے فرحت اللہ تھے جو عیش و عشرت کی زندگی گذارتے تھے اور پیسے لٹاتے تھے۔ انھو ں نے اپنے دو بیٹوں کو تعلیم کی غرض سے الہ آباد میں رکھا تھا ۔ ان میں سے ایک فرحت اللہ تھے۔ جو پڑھائی لکھائی سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ چار بیٹوںمیں فقط ضیا اللہ کی ہی شادی ہوئی تھی۔
ذکا اللہ خالص مشرقی طرز پر زندگی گزارتے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ طور پر انگریزی نہیں پڑھی تھی لیکن انگریزی کتابوں کا مطالعہ کر کے انگریزی زبان پر خاصی مہارت حاصل کر لی تھی مگر انگریزی تہذیب کو اپنے اندر داخل ہونے نہیں دیا تھا۔ وقت کی پابندی بے انتہا کرتے تھے ۔ علمی وادبی کام پورے انہماک سے کرتے تھے۔ اس وقت انھیں کسی کی مداخلت برداشت نہیں ہوتی تھی۔ طلبائ کے لئے رعایت تھی۔ وہ کبھی بھی اپنے علمی و ادبی مسائل لے کر حاضر ہو سکتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی پڑھائی لکھائی سورج کی روشنی میں کی۔ چھ دن بھر پور محنت کرتے اور اتوار کا پورا دن طلبائ کی بہبود کی خاطر وقف ہوتا۔ ان کے مزاج میں شرافت ، ملنساری، انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ وہ کھلے ذہن کے مالک تھے۔ ان کے دوستوں میں ہندو اور عیسائی بھی شامل تھے۔ انھیں خوبیوں کی بدولت سیاسی مذہبی اوردوسرے مسائل پر ان سے مشورے لئے جاتے۔ اہم اداروں کی تشکیل اور دیگر معاملوں میں ان کی سر پرستی قابل فخر سمجھی جاتی۔ انھیں شہرت کی پرواہ تھی نہ ہی نام و نمود کا لالچ ۔ ان کا د ل عام انسان کے لئے دھڑکتا تھا ۔ ان کا خادم منیر جو مرتے دم تک ان کے ساتھ تھا،ان کی تعریف کرتے تھکتا نہیں تھا۔ وہ اپنی خوش مذاقی کے لئے بھی مشہور تھے۔ مشہور شاعر اکبرؔ الہ آبادی نے ان کا ایک واقعہ تحریر کیا ہے۔ ایک دفعہ مولوی صاحب نے کسی کے یہاں جانے کا ارادہ کیا۔ ایک دوست نے کہا آپ کیوں وہاں کا قصد کرتے ہیں۔ وہ تو بہت متکبر آدمی ہیں ۔ مولوی صاحب نے فرمایاذرا دیکھوں گا کیوں کر غرور کرتے ہیں ، انسان کا غرور کرنا ایک اچھا تماشہ ہوگا۔ زندگی کے لئے ان کا نظریہ پر امید تھا۔ مایوس ہونا وہ جانتے ہی نہیں تھے۔ ہندئوں کی کفایت شعاری اور ذہانت کے وہ قائل تھے۔ انکی موسیقی اور علم و ادب کو بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ ایک اچھے اور سچے مسلمان تھے۔ دنیاوی وقار حاصل کرنے کے لئے بھی دینی اور روحانی اقدار کی پاسداری ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق مذہب کا سچا پیرو ہی دنیا کے لئے فخر کا سبب بن سکتا ہے۔ سید محمود کے قول کے مطابق مولوی ذکائ اللہ مسلمانوں میں عاقل ترین اشخاص میں سے تھے۔ وہ نہایت سادہ مزاج اور بے تکلف بزرگ تھے اور نہایت مستقل مزاج اور خدا شناس شخص تھے۔
مولوی ذکا اللہ نے اردو زبان کی ترقی میں عملی کوشش کی ۔ جس طرح ایک طرف اردو نثر فورٹ ولیم کالج کی مرہون منت ہے تو دوسری طرف دہلی کالج انگریزوں کے دست کرم کا دوسرا نادر تحفہ ہے دہلی کالج کا اہم مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی طلبا کو انگریزی میں اور اگر ممکن نہ ہو تو ان کی اپنی زبان میں مغربی علوم و فنون کی تعلیم دی جائے۔ لہٰذا نہ فقط عربی فارسی بلکہ مغربی زبانوں سے بھی اردو میں تراجم ہوئے۔ اس وقت بنگال کی فضا ادبی تھی تو دہلی کی سائنسی ۔ یہاں سب سے پہلے مشرق اور مغرب کا سنگم ہوا۔ ماسٹر رام چندر اس میں پیش پیش تھے۔ ذکا اللہ پر اپنے استاد کی علمی اور ادبی فکر کا گہرا اثر پڑا اور ان کا ذہن ریاضی ، طبیعات ، تاریخ اور جغرافیہ کی جانب مائل ہو گیا ۔ نتیجتاـََ انھوں نے تقریباََ ۸۷؍ کتابیں ریاضی کی تصنیف کر ڈالیں جو بہت مقبول ہوئیں ۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہم مشرقی باشندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس زبان سے غفلت نہ برتنی چاہئے جسے ہم نے اپنی ماں کی گود میں سیکھا ہے ۔ ہمیں اپنی ہی قوم کی اور عملاََ اپنی عورتوں کی نظروں میں غیر ملکی نہ بن جانا چاہئے۔
انھیں عورتوں کی تعلیم کا خاص خیال تھا۔ چونکہ عورت کی گود کو وہ مستقبل کی نسل کا گہوارہ سمجھتے تھے لہٰذا انھوں نے ایسے وقت میں عورت کی تعلیم میں دلچسپی لی جب اس کی پر زور مخالفت ہو رہی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم قوم کے لئے خطرہ ہے کیونکہ عورت کی تعلیم ا سے اپنے مذہب سے بیگانہ بنا دیتی ہے مگر ذکائ اللہ نے عورتوں کی تعلیم کی کھل کر حمایت کی ۔ انھیں تعلیم سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ عورتوں اور مردوں میں تعلیم کو رواج دینا ساتھ ہی فائدہ مند طرز تعلیم کو عام کرنا انھوں نے اپنی زندگی کا مقصدبنا لیا تھا جس پر وہ اپنی آخری سانس تک قائم رہے۔ وہ اپنے شاگردوں سے بڑی محبت کرتے تھے ۔ ان کے شاگرد بھی ایسے استاد پر جان دیتے تھے۔ میور سنٹرل کالج سے جب وہ پنشن لینے کے بعد رخصت ہونے لگے تو انھیں ایک الوداعی پارٹی دی گئی۔ ان کے شاگردوں نے ایک سپاسنامہ انھیں پیش کیاجس کا ایک ایک لفظ ان کے شاگردوں کے ان سے جذباتی لگائو کی عکاسی کرتا ہے ؎
’’آپ کا طلباکے ساتھ محبت آمیز اور روادارانہ برتائو ، ان کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور ہر کام میں جو ان کی اخلاقی اور ذہنی بہبود سے تعلق رکھتا تھا ، آپ کی مکمل وابستگی ، ہمیں ہمیشہ یاد رہے گی۔ ٹیچر کی حیثیت سے اور سچے دوست اور رہنما کی حیثیت سے ہمیں ہمیشہ آپ پر کامل اعتماد رہا ہے اور ہمیں اس امر کا پورا یقین تھا کہ آپ ہمارے لئے اپنی انتہائی کوشش فرمائیں گے اور ہمارے بہترین مفاد کو ترقی دیں گے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے کالج سے آپ کی جدائی ہم سب کے لئے سخت نقصان کا باعث ہے۔ ‘‘ (یہ بھی پڑھیں مرزا غالب ؔ کا ایک نادر خط ،الہ آباد میوزیم میں محفوظ – پروفیسر صالحہ رشید )
ذکا اللہ کو ریاضی سے قدرتی لگائو تھا۔ ان کی ریاضی کی تصانیف کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیااور انعامات سے بھی نوازا گیا۔ ان کی لکھی ہوئی ریاضی اور فزکس کی کتابیں بہت عرصے تک الہ آباد یونیورسٹی اور پنجاب کے نصاب میں شامل رہیں ۔ یہ کتابیں اردو زبان میں تھیں اور الہ آباد میںوہ اسی زبان کے ذریعہ تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کے اس عمل سے اردو علم و ادب کو بڑی توانائی ملی اور اردو زبان میں وہ وسعت پیدا ہو گئی کہ یہ زبان دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل ہو گئی۔
مولوی ذکا اللہ کا میدان یوں تو سائنس اور ریاضی تھا لیکن انھوں نے اردو تاریخ نگاری کی بھی بنیاد ڈالی۔ ریاضی میں انھوں نے اگر ماسٹر رام چندر کا اثر قبول کیا تھا تو تاریخ نویسی میں مولانا امام بخش صہبائی کا ۔ بچپن میں مغلیہ دربار میں ان کا آنا جانا تھا۔ ہوش سنبھالا تو ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کا مشاہدہ کیا۔بدلتے ہوئے ماحول کا آپ مستقل جائزہ لے رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تاریخ کو اشوک ، اکبر اور ملکہ وکٹوریہ تین خانوں میں بانٹا ہے۔ تاریخی تسلسل کی رو سے دیکھیں تو پہلا دور ہندوئوں کی تاریخ کا تو دوسرا اسلامی دور اور تیسرا انگریزوں کا دور نظر آتا ہے۔ ہندوئوں نے تاریخی واقعات لکھنے کی طرف کبھی توجہ نہیں دی ۔ مولوی ذکائ اللہ کے الفاظ میں ؎
’’اہل ہنود نے کبھی واقعات تاریخی لکھنے کے لئے قلم کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ ہمیشہ تصورات و خیالات کے لکھنے میںمصروف رہے۔ اگر اتفاق سے کسی نے تاریخ لکھنے کا ارادہ کیا بھی تو اس کو تصورات و توہمات کا لباس پہنا دیا۔ غرض انھوں نے جو سوچا وہ لکھا جو کیا وہ نہیں لکھا۔ ‘‘
عہد مغلیہ کی تاریخ لکھتے وقت اصل فارسی کتابیں ان کے سامنے ہوتی تھیں ۔ یہ تاریخ انھوں نے دو بار لکھی ۔ پہلے اس کی ایک جلد تین حصوں میں تھی مگر دوسری بار لکھی تو وہ دس حصوں میں ہو گئی ۔ اس کے بارے میں وہ خود کہتے ہیں ۔۔تالیف اول کے وقت میں میور سنٹرل کالج الہ آباد میں پروفیسر ورناکیولر سائنس اینڈ لٹریچر تھا۔ دو کام مجھے کرنے پڑتے تھے ، ایک تعلیم کا دوسرا تالیف و تصنیف کا، اس لئے دوسرے کام کے لئے فرصت ایسی نصیب نہ تھی جیسی کہ اب ہے کہ پنشن خوار ہوں ۔ ان کی نگاہ میں ایک مورخ کی خصوصیات اس طرح ہیں ۔ (۱) وہ سالم العقیدہ اور پاک مذہب ہو (۲) صاف گو اور وسیع النظر ہوجو بھی بیان کرے وہ حقیقت پر مبنی ہو ۔ فضول باتوں میں وقت برباد نہ کرے (۳) خوشامدی نہ ہو ۔ مورخ جتنی سچائی سے کام لے گا اتنا ہی کامیاب ہوگا (۴) اس کی تحریریں تکلفات سے پر نہ ہوں تاکہ ہر کس و ناکس لطف اندوز ہو سکے ۔ دیانتدار اور صدق گفتار ہو جس سے اس پر اعتماد کیا جا سکے۔ اس کی بات حرف آخر بن جائے۔
تاریخ ہندوستان کی جلد اول میں لکھتے ہیں کہ تاریخ کی کنجی سائنس ہے ۔ سلطنت اسلامیہ کے ذکر کے تحت فرماتے ہیں ؎
’’ سلطان سکندر لودی جس کی سلطنت ۱۵۱۰میں مستحکم ہو چکی تھی ، سلطان سکندر کے عہد سے پیشتر مسلمان بادشاہوں کے عہد میں ہندوئوں میں فارسی پڑھنے کا رواج نہ تھا ۔ جب سلطان کو نوکری کے لئے فارسی خوان ہندوئوں کی ضرورت ہوئی تو اس نے فرمایاکہ کدام ہندو بچہ ایست کہ فارسی داند؟ جواب ملا کوئی نہیں تو اول اس نے برہمنوں کو بلا کر فارسی پڑھنے کی درخواست کی۔ برہمنوں نے یہ عرض کیا کہ مہاراج ہم کو اپنے دھرم کرم ودیا سے کہاں فرصت ہے جو فارسی پڑھیں ، پھر چھتریوں سے یہی کہا گیا تو انھوں نے کہا ہم اہل سیف ہیں ، اہل قلم بننا نہیں چاہتے ۔ پھر ویشیہ سے یہی کہا تو انھوں نے کہا ہم تجارت پیشہ ہیں ، اپنے پیشے کو چھوڑ کر دوسرا پیشہ کیوں کر اختیار کر سکتے ہیں ۔ پھر شودروں میں سے ۔۔کایستھوں سے جو پہلے سے سنسکرت کی لکھائی کی اجرت سے اوقات بسر کرتے تھے ، یہ کہا تو انھوں نے بسر و چشم قبول کیا۔ اپنے حاکموں کی زبان دانی کے سبب سے مسلمانوں کے عہد سلطنت میں ان کا پہلے سے زیادہ عروج ہو گیا ۔تھوڑے ہی دنوں میں ہندوئوں کو مسلمانوں کے علوم سے ایسی آگاہی ہو گئی کہ وہ ان علوم کا درس دینے لگے ۔ پنڈت ڈونگر مل تو شاعر بھی ہو گئے۔ ایک مطلع۔
دل خوں نشدے چشم تو خنجر نشدے گر رہ گم نشدے زلف تو ابتر نشدے گر
بادشاہ کو تصنیفات کا ایسا شوق تھا کہ وہ ہر علم میں کتابیں علمائ سے تصنیف کراتا ۔ اس نے امر گرمہا ویدک کا ترجمہ سنسکرت سے فارسی زبان میںکروایا۔ اس نے خراسان اور ہندوستان کے طبیبوں کو جمع کیا۔ دونوں طرح کی طب کی کتابوں سے مضامین کو اس نے انتخاب کرایا اور اس کا نام طب سکندری رکھا جو ایک معتبر کتاب علم طب میں سمجھی گئی ۔
تاریخ ہندوستان کی نویں اور دسویں جلد ایک میں ہے۔ اس میں الہ آباد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؎
’’بعد ان فتوحات کے احمد خان نے اودھ اور الہ آباد کو نائب صوبوں سے خالی پایا تو ان کے لینے کا ارادہ کیا اور بے حساب فوج لے کر الہ آباد پر حملہ کیا ۔ یہاں صفدر جنگ کے رفقائ بقائ اللہ خان اور علی قلی نے قلعہ میں پناہ لی۔ اس نے قلعہ کا محاصرہ کیا ۔ خلد آباد سے لے کر قلعہ تک سارے شہر میں آگ لگا دی اور اسے لوٹ لیا۔ صرف دریاآباد کو جس میں افغان رہتے تھے ،چھوڑ دیا ۔ شیخ افضل الہ آبادی کے دائرے کو بھی مقدس سمجھ کر ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘
مولوی ذکا اللہ سے پہلے اردو میں اتنی مبسوط تاریخ باقاعدہ طور پر نہیں لکھی گئی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد ان کی توجہ انگریزوں کی جانب ہوئی ۔ اس عہد کی تاریخ انھوں نے سلطنت انگلیشیہ کے نام سے لکھی ہے۔ تاریخی نقطئہ نظر سے ان کی تاریخ بغاوت ہند کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اس میں تحریک آزادی کے بارے میں تفصیل موجود ہے خاص طور سے اس وقت کے دہلی کے کچھ ایسے حالات درج ہیں جن کا ذکر کہیں اور نہیں ملتا۔ انگریزوں نے عیسائی مذہب کے فروغ کے لئے جو ہتھکنڈے اپنائے تھے ان کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے جن کے سبب ہندوستانی فوجیں اور عوام بغاوت پر اترے ۔ تاریخ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؎
’’تاریخ ایک آئینہ بنا کر ہماری آنکھوں کے سامنے رکھ دیتی ہے جس میں ہم اپنے تئیں پہچان سکتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور اپنی سچی رغبت دلی سے کیا کرنا چاہتے ہیں، تاریخ دنیا کی ایک کتاب بنا کر مطالعہ کے لئے پیش کرتی ہیں کہ جس کے اوراق میں ہم بے شمار اوضاع و اطوار ، قوانین ، رسم و رواج ، عادات ، قومیں ، فرقے، غور و خوض کے ساتھ مطالعہ کر کے اپنی اصلاح و درستی کر سکتے ہیں۔ ‘‘
مولوی ذکا اللہ کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی تھیں۔ ان کے علاوہ انھوں نے بہت سے دلچسپ اور مفید مضامین بھی لکھے۔ چھوٹے چھوٹے موضوعات جو بطاہر معمولی نظر آتے تھے، ان میں آپ نے بڑے بڑے نکتے تلاش کئے۔ وہ ادب کو زندگی کا راہبر مانتے تھے۔ ان کی تحریریں زندگی سے فرار کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ وہ زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتی ہیں ۔ وہ نئی روشنی کا خیر مقدم کرتے ہیںمگر مذہب کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ وہ مذہب کو روحانی سکون کا ذریعہ تسلیم کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں ایمان کی نا پختگی اور مذہب سے بیزاری بھی انسانی بے سکونی کا سبب بنتی ہے۔ خدا اور بندے کا رشتہ اٹوٹ ہے لیکن آج کا انسان خدا سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی یہ فکر ان کے اس جملے سے عیاں ہے ؎
’’اہل دنیا زبان سے خدا کا اقرار کرتے ہیں مگر کام وہ کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا سے انکار رکھتے ہیں ۔ ‘‘
ان کے مضامین سے انسان دوستی ، وطن پرستی اور اصلاح پسندی کا جذبہ جھلکتا ہے۔ انھوں نے مفید نئی قدروں کو اپنانے اور فرسودہ روایات کو چھوڑنے کی تلقین کی ہے۔ لکھتے ہیں ؎
’’زمانہ حال میں سائنس کی ترقی بڑی لمبی لمبی ذقندیں لگا رہی ہے ۔ سائنس انسانوں میں یگانگی پیدا کر رہی ہے۔ اس نے سفر کرنا اور ایک ملک سے دوسرے ملک جانا بہت جلد اور آسان کر دیا ہے۔ اب سفر سقر نہیں رہا بلکہ وسیلہ ظفر ہے۔ ‘‘
ان کی زیادہ تر کتابیں ان کے بیٹے کی نگرانی میں دہلی سے چھپیں ۔ جب تک وہ الہ آباد میں رہے ان کا تالیف کا کام رکا نہیں ۔ اپنے ایک رسالے علم سکون کے خاتمے پر لکھتے ہیں ؎
’’۱۰ ؍جنوری ۱۸۸۰ بروز چہار شنبہ الہ آباد میں ختم ہوا۔ ان کی کتاب حکمت المیزان ، نامی پریس الہ آباد سے ۱۸۷۶ میں اور مڈل کورس اردو انوار احمدی پریس الہ آباد سے جلال الدین احمد کی نگرانی میں نویں مرتبہ چھپی۔ ان کی کئی کتابیں الہ آباد یونیورسٹی کی لائیبریری میں موجود ہیں ۔رائے بہادر لالا سانول داس نے اپنے مضمون Muir Central Cpllege 1873میں لکھا ہے ؎
"Munshi Zakaullah, the well known Persian Professor was almost as good as Mr. Harrison. Always kind and helpful, he was highly respected by his pupils . He was regular in his morning walks and agter finishing his walk everyday he devoted himself to writing books, of which there is a large number.”
ان کے ایک شاگرد نے A History oh Muir Central College میں لکھا ہے ؎
"Maulvi Zakaullah Saheb was our professor of Arabic and Persian. He was a gentleman of good manners and of wide knowledge and of culture. He was sympathetic to his pupils and they respected him.”
یہی نہیں ہندی کے بزرگ عالم آچاریہ مہاویر پرساد دویدی جی نے مولوی ذکائ اللہ کو خراج پیش کرتے ہوئے لکھا کہ بھگوان سے پرارتھنا ہے کہ وہ ایک آدھا اتنی اچھی تخلیقات پیش کرنے والا پروفیسر ہندی میں بھی پیدا کر کے ہندی پر دیا کرے یا موجودہ پروفیسروں کا رجحان ہندی کی طرف کر دے۔
منشی پریم چند بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں نواب رائے کے نام سے تنقیدی مضامین لکھ رہے تھے ۔ انھوں نے مولوی ذکا اللہ کی دو کتابوں آئینہ قیصری اور محاربات عظیم پر تنقیدی مضامین لکھے جو ماہنامہ زمانہ کے ۱۹۰۵ کے شمارے میں شائع ہوئے۔زمانہ کے ہی اگست کے شمارے میں مولوی مذکور کی ’سوانح عمری ملکہ مظمہ وکٹوریہ ‘ پر ان کا اگلا تنقیدی مضمون شائع ہوا۔اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مولوی ذکا اللہ کی نگارشات نے بہت جلد پریم چند جیسے اہل قلم کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ (یہ بھی پڑھیں اپنوں کی غربت و فرقت کا قصہ سناتی ’عمارت‘ – پروفیسر صالحہ رشید )
الہ آباد کے قیام کے دوران ہی آپ کو شمس العلمائ اور خان بہادر کے خطابات سے نوازا گیا۔۱۹۸۵ تک ان کی قد آدم تصویر میور کالج کے وجیا نگرم حال میں آویزاں تھی۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ تصویر ان کے جملے دہرا رہی ہے ؎
’’علم وہ ارتقاہے جس کی انتہا نہیں ، وہ عمق ہے جس کی تھاہ نہیں ، وہ راہ ہے جس کا انجام نہیں وہ دائرہ ہے جو سب پر محیط ہے مگر اس کا خود احاطہ محدود نہیں ۔ انھوں نے علم کے اس لا محدود دائرے میں خود کو گم کر دیا تھا اور با لآخر تاریخ اسلام کی آخری جلد ادھوری چھوڑ کر ۷؍نومبر۱۹۱۰کی صبح وہ دیوانہ علم و ادب ، مجسمہ فہم و ذکا ۷۸؍ سال ۷؍ ما ہ کی عمر میں راہی ملک بقا ہوا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

