مرزا غالب کا ایک نادر خط مرقومہ ۲۹/جون ۱۸۵۶الہ آباد میوزیم کے مخطوطوں کے نوادرات میں محفوظ ہے۔یوں تو اس میں مکتوب الیہ کا ذکر نہیں ہے مگر خلیق احمد نظامی کے مجموعہ خطوط غالب سے اس جانب نشاندہی ہوتی ہے اور اس کے مکتوب الیہ کا نام نواب انور الدولہ سعد الدین خان بہادر شفقؔ قرار پاتا ہے۔
الہ آباد میوزیم ہندوستان کے چار نیشنل میوزیم میں سے ایک ہے۔ یہ منسٹری آف کلچر،انڈیا کے مالی تعاون سے اپنی ثقافتی و ادبی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔صوبے کی گورنر اس کی نگران ہیں۔الہ آباد میں سر ولیم میور نے ۱۸۶۳میں ہی ایک میوزیم قائم کیا تھا مگر کسی وجہ سے ۱۸۸۱میں اسے بند کرنا پڑا۔پنڈت برج موہن ویاس کو ۱۹۲۳میں شہر میں ایک میوزیم کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی اور انھوں نے اس جانب اپنی کوششیں شروع کر دیں ۔ ۱۹۳۱میں پنڈت نہرو اور پنڈت مدن موہن مالویہ کے ایماء پر میونسپل بورڈ کی عمارت میں میوزیم کی بناء ڈالی گئی۔ پنڈت برج موہن ویاس کی کاوش سے یہاں بنگال اسکول آف پینٹنگ کے نادر فن پارے جمع ہو گئے ۔۱۹۴۲میں یہاں ماڈرن پیٹنگ کی بھی ایک گیلری قائم کی گئی ۔وقت گذرنے کے ساتھ جگہ کی قلت ہونے لگی اس لئے ۱۴/دسمبر ۱۹۴۷کو کمپنی باغ میں اس کے لئے ایک مخصوص عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ عمارت بن کر تیار ہوئی تو ۱۹۵۴میں میوزیم کو عوام کے لئے کھول دیا گیا۔۱۹۸۵میں اسے نیشنل میوزیم کے زمرے میں شامل کر لیاگیا۔ (یہ بھی پڑھیں اپنوں کی غربت و فرقت کا قصہ سناتی ’عمارت‘ – پروفیسر صالحہ رشید )
تب سے آج تک اس کی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں اہل ذوق کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہیں۔فی الوقت میوزیم کے ذخیرۂ گراں بہا کی راک آرٹ گیلری میں ما قبل تاریخ کی پینٹنگ کے نمونے موجود ہیں جنھیں ۱۴۰۰۰ ق م سے ۲۰۰۰ ق م تک کا بتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مجسمے، سکے، فرمان، مخطوطے، مختلف پوشاکیں، فوٹو، ڈائریاں اور مشاہیر عالم کے ذاتی استعمال کی چیزیں یہاں موجود ہیں۔ یہ بیش قیمت فن پارے ۱۶ مختلف گیلریوں میں نمائش کے لئے پورے حفاظتی بندو بست کے ساتھ سجائے گئے ہیں۔ انھیں نوادرات میں مرزا غالب کا مذکورہ خط بھی شامل ہے۔ جس کی شروعات میں وہ اپنے مخاطب کو پیر و مرشد لکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ القاب و آداب سے صرف نظر کرتے ہوئے تحریر نہیں بلکہ باتیں کرنا چاہ رہے ہیں۔اس مکتوب میں پکھراج کی قسم اور نگین کا ذکر کیا ہے۔اسی ضمن میں بدر الدین علی خان منشی نادر حسین خان اور امجد علی قلقؔ کا ذکر بھی کر دیا ہے۔یہ مرقومہ یکشنبہ، ۲۹ /جون ۱۸۵۶کا ہے۔مرزا غالب ؔ جیسے نابغۂ روزگار کی نشانی کا الہ آباد میوزیم میں محفوظ ہونا اس کی وقعیت میں اضافہ کرتا ہے اور اہل ذوق کو اس کے دیدار کی دعوت دیتا ہے۔
پروفیسر صالحہ رشید
صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

