شاعری کے انبوہ میں بہت سی آوازیں کھو جاتی ہیںمگر جس میں تخیل اور اظہار کی بے پناہ قوت ہوتی ہے وہ آواز بھیڑ میں بھی اپنا انفراد واعتبار قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ لاکھوں کروڑوں اشعار میں صرف چند شعروں کو ہی اجتماعی حافظے کا حصہ بننے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔ ورنہ بیشتر اشعار دشت فراموشی میں گم ہو جاتے ہیں۔ وکیل اختر ان خوش نصیب شاعروں میں سے ہیں جن کے چند شعر بھیڑ میں بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اکثر موقع ومحل کی مناسبت سے وہ شعر عوام و خواص کی زبان پر بھی آجاتے ہیں :
ٓآپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا
اس شخص کے غم کا کوئی اندازہ لگائے
جس کو کبھی روتے ہوئے دیکھا نہ کسی نے
صرف درسی کتاب پڑھنے سے
آدمی دیدہ ور نہیں ہوتا
یہ اشعار تخلیقی منظر نامے پر وکیل اختر کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں کیوں کہ کبھی کبھی صرف ایک شعر کی وجہ سے شاعر زندہ رہ جاتا ہے۔ راجہ رام نارائن موزوں اپنے صرف اس شعر کی وجہ سے تذکرے اور تاریخ میں محفوظ ہیں:
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پر کیا گزری
جانے کتنی سماعتوں اورکتنے لبوں سے اس شعر کا رشتہ ہے ۔ اس طرح کے شعروںمیں Thermodynamicsہوتی ہے ۔ایسی کئی مثالیں اردو ادب کی تاریخ میں ملتی ہیں جہاں شاعر سے زیادہ شہرت اس کے اشعارکو مل گئی ۔ وکیل اختر کی خوش طالعی ہے کہ ان کے بھی کچھ شعر بہت سے ذہنوں میں محفوظ ہیں اور حوالوں میں بھی شامل ہیں مگر ان کی شومی قسمت کہ وہ افق شعر کا آفتاب نہ بن سکے۔ ان کی شخصیت کو اتنی تابانی نہیں ملی جتنی کہ ان کے کچھ شعروں کو نصیب ہوئی۔ یہ اور بات کہ مقبول اشعار کے علاوہ ان کے اوربہت سے شعروں میں ماہتابی چمک اور آفتابی حدت وحرارت ہے یہی وجہ ہے کہ وکیل اختر کے بہت سے شعر وں میںاتنی مقناطیسی کشش ہے اوروہ اتنے دل کش اور جاذب ہیں کہ اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں کیوں کہ ان شعروں کا ہماری زندگی کے شب و روز اور حسی ماحولیات سے گہرا رشتہ ہے۔ وہی تجربات، وہی حوادث ،وہی واردات، وہی کیفیات جن سے ایک عام انسان گزرتا رہتا ہے ۔ ان کی غزلوں میں وہی تنہائی ،خوف و دہشت، شکستگی، گھٹن، وہی محزونی اور محرومی، افسردگی، آزردگی ہے جو آج کے انسان کا مقدر ہے یعنی وہ تمام موضوعات اور مسائل جو جدید انسان کی حسّیت اور حیات سے جڑے ہوئے ہیں ،وہ وکیل اختر کی شاعری کا غالب حصہ ہیں۔
وکیل اختر کی شاعری حوادث حیات کا نہایت فن کارانہ رد عمل ہے ۔اس میں جہاں ان کی ذات کا عکس ہے وہیں کائنات کا نقش بھی ہے۔ ان کی شاعری ذات کی شکستگی کے ساتھ ساتھ اقدار کی شکست و ریخت کا بیانیہ بھی ہے۔ اس میں اپنے عہد کا درد بھی ہے اور سماج کا کرب بھی ۔ انسانی زندگی جن مسائل ،مشکلات ،صعوبتوں، اذیتوں، مشقتوں ، آزار و آلا م ، جبر و استحصال ،بیگانگی ، اجنبیت، لا تعلقی، بے حسی غیرہ وغیرہ سے گزرتی رہتی ہے۔ وکیل اختر کی شاعری بھی کچھ ایسی ہی پیچیدہ اور پُرخار راہوں سے گزرتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تخلیقی نثر کے فروغ میں جامعہ کا حصّہ – حقانی القاسمی )
وکیل اختر کی شاعری میںدو شہر آباد ہیں ایک شہر ملال ہے تو دوسرا شہر زوال۔ پوری شاعری انہی دو مداروں پر گھومتی ہے:
وہی ہے پیاس ، وہی بے بسی، وہی آنسو
یہ شہر زیست مجھے کربلا دکھائی دے
شہر غم جیسا تھا ویسا ہی رہا
یوں جہاں میں انقلاب آئے بہت
شہر دل جو تھا کبھی شہر نگاراں کی طرح
اب ہے ویران کسی گور غریباں کی طرح
خلوت کدہ دل میں کوئی جھانک کے دیکھے
ناکام تمنائوں کا اک شہر بسا ہے
لاکھوں ہی در و بام نگاہوں میں سجا کر
اک شہر بسایا ہے میری در بدری نے
نہ مرنے ہی دے مجھے چین سے نہ جینے دے
اک ایسے شخص سے اختر ہے واسطہ مجھ کو
عجیب موڑ رہِ زندگی میں آیا ہے
کسی طرف نہ کوئی راستہ دکھائی دے
خستگی بڑھتی ہی جاتی ہے شب وروز اے دوست
زندگی ہے کسی عاشق کے گریباں کی طرح
بجھابھی جائے کوئی آکے آندھیوں کی طرح
کہ جل رہاہوں کئی یگ سے میں دیوں کی طرح
یوم ماتم کی طرح میرا ہر اک دن گزرا
میری ہر رات کٹی ہے شب ہجراں کی طرح
رفتار جہاں دیکھ کے محسوس ہوا ہے
اس درو کا ہر فردوبشر آبلہ پا ہے
وہ آبھی جائے تو اس کو کہاں بٹھائوں گا
میں اپنے گھر میں تو رہتا ہوں بے گھروں کی طرح
زندگی دست تہہ سنگ رہی ہے برسوں
یہ زمیں ہم پہ بہت تنگ رہی ہے برسوں
ان اشعار کا شہر ملال سے گہرا رشتہ ہے کہ ان میں ایک حساس فن کار نے اپنے گہرے معاشرتی شعور کے ساتھ سماجی، ثقافتی سیاق و سباق میں شعر کہے ہیں اوراپنے عہد اور معاشرے کی دل سوز تصویر کھینچی ہے ۔ اس شہر میں درد و غم ، تنہائی، گھٹن، اذیت ، صعوبت ، بیگانگی ہے،لا تعلقی ہے اور یہ شہر ان کی نجی زندگی کے مناظر سے آباد ہے کہ خود وکیل اختر کی زندگی اتنے آزار و آلام سے گزری ہے کہ انھوں نے اپنی ذاتی اور نجی کیفیتوں کو شاعری کے پیکر میں ڈھالا ہے ۔ یہ صرف شاعری نہیں ان کی خود نوشت ہے ، ان کی سوانح حیات ہے، ان کی یاد داشتیں ہیں، ان کی ڈائری ہے۔ اگر وہ اس ذاتی کرب سے نہ گزرتے تو شاید ان کا طرز اظہار و احساس الگ ہوتا۔ شاعری میں جن کیفیات کا بیان ہے وہ تمام کیفیتیں ان پر گزری ہیں۔ اگر زندگی نے یہ زخم نہ دیے ہوتے تو وہ زخموں کو اس طرح زبان نہ دے پاتے۔ زندگی اس شکل سے نہ گزرتی تو شاید یہ شعر بھی وجود میں نہ آتے۔ ان کے دل پہ جو گزری ہے وہ ہو بہو انھوں نے رقم کر دیا ہے ۔ ان اشعار میں ان کا داخلی کرب اور باطنی ہیجان ہے ۔ شایدشکست ِآرزو نے انھیں اتنی قوتِ اظہار عطا کردی ہے کہ وہ اپنے دل کی باتیں بہت سلیقے اور قرینے سے کہنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے فرد کے آئینے میں اجتماع کا عکس دیکھا ہے،اسی لیے ان کا غم ، غم جہاں سے الگ نہیں ہے۔ ان کا درد کرب کائنات سے جدا نہیں ہے ۔ان کی تنہائی صرف اپنی نہیں بلکہ اس میں معاشرے کی تنہائی بھی شامل ہے۔ بھیڑ کی یہ وہ تنہائی ہے جو بہت زیادہ درد انگیز ہوتی ہے۔
وکیل اختر نے اس شہر کا رشتہ کربلا سے جوڑ دیا ہے جو آج کی شاعری کا ایک تخلیقی استعارہ ہے ۔ کربلا کی پیاس ہر اس فرد کی تشنگی ہے جو مظلوم ہے ، مقہور ہے ، بے بس ہے، بے کس ہے ۔ان کی شاعری میں جو شہر ہے وہ غموں سے آباد ہے اور گور غریباں کی طرح ویران ہے۔ یہ شہر دربدری اور ناکام تمنائوں سے بسایا گیا ہے ۔اس شہر کا ہر دن یومِ ماتم اور ہر رات شبِ ہجراں کی طرح ہے۔ ظاہر ہے کہ اس شہر کا رشتہ خارج سے زیادہ باطن سے ہے۔ وکیل اختر کے باطن میں جو شہر ہے مختلف شکلوں اور صورتوں میں سامنے آتا ہے اور اس شہر کو ان کی شکستگی اور شکستہ پائی نے بسایا ہے، اسی لیے ان اشعار میں ذات کی شکستگی کے سارے آثار نمایاں ہیں۔ ان میں سے بیشتر سیلف سچویشن کے اشعار لگتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں دعا کے شہر میں آنسو کی اذان [پروین کماراشک کی شاعری پر ایک نوٹ] – حقانی القاسمی )
وکیل اختر کا دوسرا شہر ’شہرزوال ‘ ہے اور یہ معاشرتی رویہ اور اقدار کے انحطاط سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں لمحہ لمحہ بدلتی دنیا میں بدلتے رویوں اور رشتوں کی نہایت الم ناک کہانی ہے جسے وکیل اختر نے اپنی شاعری کے موثر بیانیے کے ذریعہ پیش کیا ہے ۔ یہ وہ زوال ہے جس نے انسان سے ہر کمال سلب کر لیا ہے اور انسان کھوکھلے وجود میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس میںصارفیت کی وہ سفاکیت ہے جس کے شور نے انسانیت کا شعور چھین لیا ہے ۔اس لیے انسانی رشتوں میں وہ حرارت نہیں رہی بلکہ اجنبیت اور بیگانگی در آئی ہے۔ وکیل اختر معاشرے کے حساس اور با شعور فن کار ہیں ۔ اس لیے انھوں نے زوال کے منظر نامے کو اپنی شاعری کے کیمرے میں اس طرح قید کر لیا ہے کہ آنے والا وقت اس زوال کو آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو کم از کم اپنے شعور کی آنکھ سے ضرور محسوس کر سکے ۔ یہ اشعار اسی زوال وانحطاط اقدار کی شعری حکایتیں ہیں جن میں ہم اپنے عہد کا عکس اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں :
میں ڈھونڈتا ہوں کوئی ایسا شہر اختر
کہ اجنبی جہاں آشنا دکھائی دے
دل نے آج رو رو کے مجھ سے یہ کہا اخترؔ
غم ہی ایک اپنا ہے اور سب پرائے ہیں
نہ غیر بھائے نہ اپنا بھلا لگے مجھ کو
مرے شعور نے کیسا بنا دیا مجھ کو
ہر اک نگاہ میں شعلہ بھرا دکھائی دے
ہر ایک آدمی جلتا ہوا دکھائی دے
یوںتو تنہائی میں گھبرائے بہت
مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت
ایسے لمحے زیست میں آئے بہت
ہم نے دھوکے جان کر کھائے بہت
ہم فراز دار تک تنہا گئے
دو قدم تک لوگ ساتھ آئے بہت
چمن میں یوں تو نشیمن تھے اور بھی لیکن
جو نذرِبرق ہوا میر آشیانہ تھا
جلتا ہوا گھر میرا تو دیکھا تھا سبھی نے
کیا جانیے کیوں شور مچایا نہ کسی نے
اختر سے پوچھتے ہو تو سن لو پتے کی بات
اپنے سوا کوئی کسی کو چاہتا نہیں
یہ وہ معاشرتی حقائق ہیں جنھیں شاعر نے اپنے حساس سینے میں محسوس کیا ہے اور اسے شاعری کے پیکر میں ڈھالاہے۔یہ وہ تجربات و حوادث ہیں جن سے شاعر رو برو ہوا ہے اور انھیں تجربات کو بلا کم و کاست شاعری کی صورت عطا کی ہے اور یہی صورت آج کی صارفی ، صنعتی اور مشینی معاشرت کی حقیقت ہے ۔
وکیل اخترنے اپنی شاعری میں زمینی سچائیوں ، زندگی کی تلخیوں اور ناہمواریوں کو بہت ہی فن کارانہ ہنرمندی سے پیش کیا ہے اور کہیں کہیں اس پیش کش میں طنز کی دھار بھی نظر آتی ہے ، لہجہ یہاں قدرے تیکھا ہو جاتا ہے اور شاد عارفی کی یاد آنے لگتی ہے۔ ذرا کٹیلے پن سے بھر پور یہ اشعار دیکھئے:
گر کوئی راہ بر نہیں ہوتا
کارواں در بدر نہیں ہوتا
میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں
جن کے چہرے پہ سر نہیں ہوتا
آپ کے دور مسیحائی میں
کوئی بیمار نہ اچھا ہوگا
دیکھئے منظر ارتقا دیکھئے
شہر کا شہر جلتا ہوا دیکھئے
قتل و غارت گری جا بجا دیکھئے
بخشش و راہبر و رہنما دیکھئے
ایک احمق نے قائد اسے کہہ دیا
اور وہ سن کے خوش ہو گیا دیکھئے
جو خنجر بکف قتل گاہوں میں تھا
وہی وقت کے سربراہوں میں تھا
جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا
وہی بیش و کم درسگاہوں میں تھا
وہ بھی ادیب و شاعر و ناقد ہے ان دنوں
شعر و ادب سے جس کا کوئی واسطہ نہیں
مانگ کر اردو سے نان و پیرہن
دے رہے ہیں اس کو بدلے میںکفن
معاشرے کی لا سمتی اور قیادت کے بحران پر اس سے گہرا طنز نہیں ہو سکتا کہ دراصل جو راہ بر ہیں وہی گم کردہ ٔراہ ہیں، جو رہنما ہیں ،انھیں ہی منزلوں کا پتا نہیں ۔جن گھروں میں اردو سے رزق کا چراغ روشن ہے وہی اسے موت کا کفن دے رہے ہیں۔ جہاں علم کی شمع روشن ہونی چاہئے ،وہاں بھی جہالت کا اندھیرا ہے۔وکیل اختر کے ان شعروں میں جدید حسیت ہے۔ یہ شعر وہی با شعور شاعر کہہ سکتا ہے جو زمانے کے احوال و حوادث سے با خبر ہو ۔ وکیل اختر کا ایک شعر ہے :
شاعر با شعور اے اختر
حال سے بے خبر نہیں ہوتا
وکیل اختر نے بھی عصری احوال سے آگہی کا پورا ثبوت دیا ہے اور اپنی شاعری میں عصری حقائق کو بہت ہی تخلیقی ہنر مندی سے پیش کیا ہے۔
وکیل اختر کی زندگی بڑی اذیتوں میں گزری ۔ہر گھڑی درد کے پیوند لگتے گئے۔ ان کی ہر شام شامِ غم تھی مگر انھوں نے صبح امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ اسی لیے ان کے یہاں کلبیت اور قنوطیت کے ساتھ ساتھ رجائیت اور رومانیت بھی ملتی ہے۔ ان کی شکستگی میں بھی ایک حوصلہ ہے، ایک عزم ہے، ایک امید ہے،انھوں نے جہاں اس طرح کے شعر کہے ہیں:
ہر ایک شمع تمنا بجھی بجھی سی لگے
ہر ایک خواب سلگتا ہوا دکھائی دے
رہ گزارو زندگی کی کون سی منزل ہے یہ
ہر تصور زندگی کا درد بنتا جائے ہے
تم ہی بتلا دو کہ کوئی کیا کرے
زندگی جب بوجھ بن جائے بہت
پوچھتی پھرتی ہے ہر چوٹ میرا نام و پتہ
میرے ہی جسم میں ہر دردکا گھر ہو جیسے
وہیں رجائیت سے بھر پور یہ شعر بھی وکیل اختر ہی کے ہیں:
ڈوبنا اختر تھا قسمت میں لکھا
ویسے ہم طوفاں سے ٹکرائے بہت
ہم توگرداب کے شکار ہوئے
لوگ ساحل پہ ڈوب جاتے ہیں
بیچ منجدھار میں کسی کے لیے
لوٹ آیا ہوں جاکے ساحل سے
ہے کچھ سبب جو سرِ رہ گذار بیٹھاہوں
سمجھ رہے ہو تو سمجھوشکستہ پا مجھ کو
اس نوع کے بہت سے شعر ان کی شاعری میں موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل ناتواں نے حالات کے جبر سے بہت مقابلہ کیا، زندگی میں بہت سی قیامتیں آئیں پھر بھی سب کو انگیز کیا اور شاید انھیں قیامتوں نے انھیں موت و حیات کے فلسفے سے آشنا کر دیا۔ان کی شاعری میں موت و حیات کا جو تصور ہے ،وہ ان کی المناک ، درد انگیز زندگی کی کیفیتوں سے جڑا ہوا ہے :
ہنس رہا تھا ابھی وہ، ابھی مر گیا
موت اور زیست کا فاصلہ دیکھئے
وہ جو مرنے پہ تلا ہے اختر
اس نے جی کر بھی تودیکھا ہوگا
جانے کیا تھا زیست کا آغاز
جانے کیا ہے زیست کا انجام
زندگی جب موت سی آئے نظر
آدمی کیسے نہ گھبرائے بہت
کسی صور ت کو ئی صورت نکالو
مجھے بے موت مرنے سے بچا لو
وکیل اختر کی شاعری میں عشق ہے ، محبت ہے، رومانیت ہے۔داخلی آنکھ سے دیکھیے تو عشق کے سارے تلازمے اور محبت کے سب استعارے ہیں۔ سوزِعشق ہے، حسنِ معشوق ہے، یادِ جاناں ہے ، ہجرِ محبوب ہے۔انہی کے شعر ہیں:
ازل سے دل میں محبت تھی موجزن اخترؔ
میرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا
فقط تصورِ جاناں رفیق تھا میرا
وگرنہ دشمنِ جاں ہر نفس زمانہ تھا
غمِ دوراں کے ساتھ غم جاناں بھی ان کی شاعری کا ایک اہم عنصر ہے۔ اسی لیے ان کے یہاں رومانی احساسات اور لفظیات کی خوب صورت کہکشاں ملتی ہے ۔یہاں وکیل اختر ایک نئی کیفیت میں نظر آتے ہیں جو انھیں حقیقت سے ماورا تخیل کی خوب صورت دنیا میں لے جاتی ہے اور غمِ جہاں اور شورشِ دوراں سے بے نیاز کر کے تصور جاناں میں اسیر کر دیتی ہے ۔ شاید ایسے ہی خوب صورت لمحوں میں اس شاعری نے جنم لیا ہے جس میں وکیل اختر کا شعر ی کردار المیہ کے بجائے طربیہ میں بدل جاتا ہے ۔ یہ اشعار دیکھئے جہاںمحبت ہی محبت موجزن ہے :
نکہت و رنگ میں ڈوبا ہوا شاداب بدن
موسم گل میں گلستاں کی سحر ہو جیسے
جب بھی اٹھے ہے تری رنگین یادوں کی گھٹا
دل کے ویرانے پہ رنگ و نور برسا جائے ہے
جو میں کہوں تو کس کو یقین آئے گا
کسی کا جسم مہکتا ہے گلشنوں کی طرح
آپ کی تمنا میں کھو دیا سب کچھ
اک دیا جلانے کو سو دیے بجھائے ہیں
اس کی بزم ناز سے اختر اٹھوں ہوں جب کبھی
یوں لگے ہے جیسے دل سینے میں بیٹھا جائے ہے
یاد حسن یار میں اس دل کی کیفیت نہ پوچھ
آبگینہ تندی صہبا سے پگھلاجائے ہے
ادا نرالی تھی، انداز کافرانہ تھا
غضب کا حسن قیامت کا مسکرانہ تھا
کتنے خون تھوکے ہیں کتنے غم اٹھائے ہیں
راز تب محبت کے کچھ سمجھ میں آئے ہیں
میں زمانے کے ہر اک غم سے ملا ہوں یارو!
کوئی غم بھی تو نہیں ہے غمِ جاناں کی طرح
تم کو پانے کے لیے تم کو بھلانے کے لیے
دل میں اور عقل میں اک جنگ رہی ہے برسوں
ہم جلائیں گے ترے ہجر میں یادوں کے چراغ
تیرگی بڑھتے ہوئے جب شب غم دیکھیں گے
وکیل اختر کی شاعری میں ہجر بھی ہے وصال بھی اور عشق و محبت کی وہ ساری کیفیات ہیں جن سے شاعری میں سُکر اور سرشاری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ سالک لکھنوی کی یہ رائے بڑی قیمتی ہے کہ’’ ان کی شاعری میں اگر رجائیت ہے تو محبت کی رجائیت ، غم ہے تو محبت کا غم ۔ ان کی شاعری کا محور واردات قلبی ہے اور واردات قلبی کا محور محبت ہے۔‘‘
وکیل اختر نے جس عہد میں شاعری کا آغاز کیا، وہاں کئی تحریکیں سر گرم تھیں مگر انھوں نے کسی بھی ازم یا تحریک سے اپنا رشتہ قائم نہیں کیا بلکہ ہر تحریک کے صحت مند عناصر سے ان کی تخلیقی فکر کا سلسلہ جڑا رہا ۔سالک لکھنوی کا خیال ہے کہ’’وہ کسی ازم ، کسی رجحان، کسی تحریک سے وابستہ نہیں تھے وہ نہ تو جدید تھے ، نہ ترقی پسند، نہ جدت پسند‘‘مگر ان کے رنگ سخن کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جدیدیت سے ان کی ذہنی نسبت تھی کیوں کہ ان کی شاعری میں بیشتر وہی موضوعات، مسائل (تنہائی، بے گانگی، لاتعلقی، اجنبیت، )ہیں جو جدیدیت کے ہیں۔ ان کا انداز ــ’’نئے چہرے ‘‘والا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ وکیل اختر کا طرز اظہار کلاسکی شاعروں جیسا ہے مگر طرز احساس میں جدیدیت نمایاں ہے ۔ہاں یہ اور بات ہے کہ انھوں نے شاعری کے جمالیاتی کردار کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور ہر اس لہر کی قدر کی جو تخلیق کو صحیح سمت میں لے جاتی ہے ۔ ان کے زمانے میں عصمت و رضیہ کی ترقی پسندی بھی تھی اور شمس الرحمٰن فاروقی کے شب خون کی جدیدیت بھی ۔اس تناظر میں یہ اشعار دیکھیں: (یہ بھی پڑھیں خدا بخش لائبریری پٹنہ – حقانی القاسمی )
عصمت و رضیہ، سجاد کی گمرہی
خبط معصوم راہی رضا دیکھئے
پھر چلی ’شب خون ‘ کی اخترؔ بات
پھر نئے چہروں پہ ہے الزام
ترقی پسندوںکی مخالفت اور جدیدیوں کی حمایت ووکالت صاف صاف وکیل اختر کے ذہنی رشتے اور رویے کی گواہی دیتی ہے۔تنہائی اور اجنبیت والے اشعار بھی جدیدیت سے فکری مناسبت کی شہادت دیتے ہیں۔وکیل اختر کے یہاں احساس کی شدت ہے اور اظہار کی جدت۔ ان کے یہاں تشبیہات و استعارات بھی ہیں اور تلمیحات بھی ۔ان کی شعری زبان زولیدگی سے پاک ہے ، ان کا لفظیاتی نظام کلاسیکی شعریات سے ہم آہنگ ہے، اس لیے ان کی شاعری ترسیل کی ناکامی کے المیے سے محفوظ ہے۔ انھوں نے نہایت ہی سادگی کے ساتھ اپنے جذبات ، احساسات اور تجربات کو شاعری کے پیکر میں ڈھالا ہے کیوں کہ ان کی شاعری کی گفتگو خواص سے زیادہ عوام سے ہے جہاں تکلف اور تصنع سے زیادہ سادگی اور صداقت کی اہمیت ہے۔
وکیل اختر کی عمر نے وفا نہیں کی ۔ انھیں کچھ اور حیات ملتی تو شاید شاعری کو تازہ کونپلیں اور زمینِ شعر کو کچھ اور تازگی اور شادابی نصیب ہوتی۔
haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
What’s up colleagues, pleasant post and pleasant arguments commented at this place, I am in fact enjoying by these.